میری نظرمیں پی ٹی آئی چیئرمین آئندہ الیکشن میں نا اہل ہوں گے، آئندہ الیکشن میں پی ٹی آئی نہ چیئرمین پی ٹی آئی نظر آرہے ہیں:فیصل واوڈا

258

کراچی: سابق پی ٹی آئی رہنما فیصل واوڈا نے کہاکہ ارشد شریف کا لیپ ٹاپ چھپانے والے بھی نہیں بچیں گے۔فیصل واوڈا نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے کہاکہ ا رشد شریف کا لیپ ٹاپ چھپانے والے بھی نہیں بچیں گے،شہید ارشد شریف کے قتل سے شہزاد اکبر کے تانے بانے ملتے ہیں۔

 

فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ ارشد شریف کو جس دن دبئی سے نکلنا تھا اس دن شہزاد اکبر سپین سے دبئی آیا تھا، شہید ارشد شریف کے خون کا حساب ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ بڑے لوگ جیلوں میں ہوں گے ۔ ارشد شریف کا لیپ ٹاپ چھپانے والے، روپوش ہونے والے بھی نہیں بچیں گے سب سامنے آئیں گے۔

 

انہوں نے شہزا داکبر کےحوالے سے بات کرتے ہوئے کہاکہ این سی اے کیس سے تعلق نہیں تھا تو معاملہ کابینہ میں کیوں لائے تھے ۔

 

لین دین سے تعلق نہیں تھا تو پیسہ حکومت کے خزانے میں آتا۔این سی اے کا معاملہ کابینہ کے ایجنڈے کا حصہ ہی نہیں تھا۔ وزیر اعظم کی صوابدید ہوتی ہے کہ ایجنڈا کوئی بھی لاسکتے ہیں ۔ اجلاس سے ایک دن پہلے بھی این سی اے معاملے پربحث ہوئی تھی۔ میری نظرمیں پی ٹی آئی چیئرمین آئندہ الیکشن میں نا اہل ہوں گے۔ آئندہ الیکشن میں پی ٹی آئی نہ چیئرمین پی ٹی آئی نظر آرہے ہیں۔

 

اجلاس میں لفافہ پیش کیاگیا کہ اس کوکھول نہیں سکتے منظوری دے دیں۔ فواد نے معاملے پر اعتراض اٹھایا ، شیریں مزاری کو شٹ اپ کال ملی۔ چکوال میں سوئی گیس کاایجنڈا بھی ڈنڈے کے زور پر منظور کرایاگیا۔ کابینہ کے منٹس شہزاد اکبر کے پاس ہونا بھی جرم ہے۔ منٹس شہزاد اکبر کے پاس ہیں تو اس کا مطلب بہت ثبوت لے گئے ہیں۔ موجودہ حکومت مدت پوری کرلے گی اور نگران حکومت آئے گی

فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ اس وقت کے وزیراعظم پی ٹی آئی چیئرمین نے 190 ملین پاؤنڈز کے معاملے کو ایجنڈے کا حصہ بنایا تھا، اجلاس میں شہزاد اکبر سے میری بہت تو تو میں میں ہوئی تھی، دوسرے دن اجلاس میں یہ معاملہ ایجنڈے میں شامل نہیں تھا۔ شہزاد اکبر ملک سے باہر کیوں ہیں یہاں آئیں اور اپنی سچائی پیش کریں، شہزاد اکبر بتائیں ان کو ملک سے باہر بھجوانے والا کون ہے؟

فیصل واوڈا نے شہزاد اکبر پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ارشد شریف کو جب دبئی سے نکالا جا رہا تھا یہ جھوٹا شخص دبئی میں موجود تھا۔ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی کرپشن کی بات کرتے ہیں تو ہم بھی کچھ کم نہیں رہے۔

سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ مجھ سمیت ہر کاروباری ہزار روپے لینے کیلئے خوشی سے 100 روپے دے دیتا ہے، ایک کمپنی کو الیکٹرک کاروں کیلئے اربوں روپے کا فائدہ دیا گیا۔

تبصرے بند ہیں.