مرگی قابل علاج ہے۔۔۔ٹوٹکے نقصان دہ ہوسکتے ہیں

10

کئی مرتبہ دیکھا گیا ہے کہ جب کسی شخص کو مرگی کا دورہ پڑ ے یا جھٹکے لگ رہے ہوں تو لوگ اسکوجوتی سنگھانا شروع ہو جاتے ہیں یا پھر اسکو کسی پیر فقیر کی درگاہ لیجایا جاتا ہے۔ کوئی اسکو جنات کا حملہ قرار دیتا ہے تو کسی کے مطابق بدروحیں انسانی جسم میں سرایت کر گئی ہیں۔ کئی کئی سال ان مریضوں کو ڈاکٹروں کے کلینک میں لیجایا ہی نہیں جاتا اور انہی بابوں اور پیروں فقیروں کے چنگل میں پھنس کر مریض کا قیمتی ٹائم ضائع کر دیا جاتا ہے۔ اگر ان مریضوں کا بروقت علاج کروا لیا جاتا اور جدیدمیڈیکل سائینس کے مطابق اسکو دوا دی جاتی تو نہ صرف یہ مریض نارمل زندگی گزارتا بلکہ اپنے اور خاندان والوں پر بوجھ بننے کی بجائے ایک کارآمد شخص کے طور پر اپنے فرائض نبھاتا۔ میڈیکل سائنس کی زبان میں اس بیماری کو مرگی کہتے ہیں۔دیگر بیماریوں کی طرح یہ بھی قابل علاج مرض ہے، اور اب تو ہر قسم کی مرگی کیلئے شافعی علاج موجود ہے۔ پھر بھی ہمارا معاشرہ تواہمات سے اٹا ہوا ہے، اتنی ترقی کے باوجود ہم ان فرسودہ خیالات سے باہر آنے کو تیار ہی نہیں
مرگی کے مریضوں میں نصف میں تو اسکی کوئی وجہ معلوم ہی نہیں ہو پاتی، بعض اوقات یہ مرض خاندانوں میں بھی چل سکتاہے، اسلئے کہ جنیاتی طور
پر کچھ افراد میں مرگی کا دورہ باآسانی پڑ جاتا ہے۔مرگی کامرض کسی بھی عمر میں لاحق ہو سکتا ہے لیکن عمومی طور پر یہ مرض بچوں کواور بڑی عمر کے افراد میں زیادہ دیکھا جاتا ہے۔ ایسے بچے جنکو پانچ سال کی عمر سے پہلے بخار کے ساتھ جھٹکے پڑتے رہے ہوں انمیں مرگی کا مرض زیادہ دیکھا جاتا ہے۔ایسے بچوں میں عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ مرگی کا مرض زیادہ ہوسکتا ہے۔ بعض دفعہ بڑی عمر کے افراد مرگی کا شکار ہو کر ایک ہی سوال کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ جب ہمیں ساری عمر یہ مسئلہ درپیش نہیں رہا تو آخر اس عمر میں مرگی کیسے ہو سکتی ہے۔ یاد رکھیں کہ مرگی کا مرض کسی کو بھی اور کسی بھی عمر میں ہو سکتا ہے، اسکے لیئے کسی عمر اور جنس کی قید نہیں۔ اگر کسی بھی شخص کو ایک بار جسم میں جھٹکا پڑے تو اسے مرگی نہیں کہا جاتا لیکن اگر کسی شخص کو 42 گھنٹے سے زیادہ وقفہ سے کم از کم دو مرتبہ جسم کو جھٹکے لگیں تو مرگی کے حوالے سے لازمی سوچنا چایئے۔ کچھ مریضوں میں مرگی کا مرض کچھ عرصہ کے بعد ختم ہو جاتا ہے لیکن اکثر مریضوں کو تمام عمر مرگی کنٹرول کیلئے ادویات کا استعمال کرنا پڑتاہے۔ بسا اوقات سر پر چوٹ لگنا بھی مرگی کا باعث بن سکتا ہے۔ اگر کسی مریض کے دماغ میں رسولیاں ہوں یا اسکے دماغ کی شریانوں میں
مسائل پیش آ رہے ہوں ، یا پھر اسکو ماضی قریب میں فالج کا حملہ ہوا ہو تو بھی مرگی کا مرض لاحق ہو سکتا ہے۔ اگر پیدائش کے دوران بچے کو بر وقت سانس نہ آئے اور اس کو سانس آنے میں دقت ہوئی ہو تو وہ بھی آگے چل کر مرگی کا باعث بن سکتا ہے۔ بسا اوقات ذہنی نقائص بھی مرگی کا باعث بن سکتے ہیں۔ بعض خاندانوں میں بھی مرگی کا مرض دیکھا جاتا ہے۔ عمر کے ساتھ ساتھ دماغ میں تبدیلیاں آنا شروع ہو جاتی ہیں انکے بعد بھی مرگی کا مسئلہ ہو سکتا ہے۔۔ گردن توڑ بخار بھی مرگی کی ایک بڑی وجہ بن سکتا ہے۔
مرگی کی تشخیص بے حد آسان ہے، اگر کسی کو بخار کے بغیر جھٹکے لگ رہے ہوں ، اور ان جھٹکوں کے دوران مریض بے ہوش ہو جائے ، یا اس کے جسم کے مختلف حصوں میں جھٹکے لگیں،یا پھر اسکے منہ سے جھاگ نکلنا شروع ہو جائے۔ مرگی کا یہ جھٹکا اتنا شدید بھی ہو سکتا ہے کہ زبان منہ میں آکر کٹ جائے یا دانتوں میں آکر زخمی ہو جائے۔ کبھی کبھار قریب پڑے سامان یا کسی دیوار سے ٹکرا کر انسان کو چوٹ بھی لگ سکتی ہے۔
مرگی کے دورہ کے دوران سب سے اہم بات یہ ہے کہ مریض کے کپڑے ڈھیلے کر دیئے جائیں تاکہ سانس باآسانی چلتا رہے۔ دانتوں کے درمیان کوئی پنسل یا چمچہ دے دیا جائے تاکہ زبان دانتوں میں آ کر زخمی نہ ہو جائے، مریض کو ایک کروٹ لٹا دیا جائے تاکہ تھوک یا کوئی اور زخم سے نکلنے والا خون اسکی سانس نہ روک سکے۔ ایسے مریضوں کو پانی پلانے یا کوئی بھی چیز کھلانے کی کوشش نہ کریں اسلئے کہ یہ اسکی سانس کی نالی میں جا سکتی ہے اور اس سے اسکا سانس خراب بھی ہو سکتا ہے، یہاں تک کہ سانس میں رکاوٹ آ کر موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔ مرگی کا حملہ ہونے کے بعد کپڑوں کو ڈھیلا کر دیا جائے اور اسکو کسی ہوادار جگہ منتقل کیا جائے، کوشش کی جائے کہ اس مریض کے ارد گرد گھیرا نہ بنایا جائے تاکہ ریکوری میں آسانی ہو ۔ مرگی کا دورہ محدورد دورانیہ کیلئے ہوتا ہے، اسکے بعد از خود ختم ہو جاتا ہے۔
مرگی کا مرض کئی قسم کاہو سکتا ہے، کچھ دورانیہ کیلئے کنفیوڑن کا شکار ہونا، کسی چیز کو مسلسل گھورنا، ، پٹھوں کا اکڑ جانا، بازو یا ٹانگوں میں جھٹکوں کا لگنا، غنودگی طاری ہونا اور بے ہوش ہو جانا بھی مرگی کی وجہ سے ہو سکتا ہے۔ مرگی کی وجہ سے کچھ نفسیاتی مسائل بھی ہو سکتے ہیں، مثلا خوف طاری ہوجانا۔
مریض کے جسم کے کسی ایک حصہ میں بھی مرگی کا دورہ پڑ سکتا ہے یا بسا اوقات تمام کا تمام جسم دورہ کا شکار ہو سکتا ہے۔ جب مرگی کا حملہ کسی ایک حصہ پر ہو تو عمومی طور پو غنودگی طاری نہیں ہوتی، اسکا زیادہ اثر نفسیات پر ہوتا ہے مثلا، کانوں میں شائیں شائیں کی آوازوں کا آنا، روشنیوں کا محسوس ہونا، بیلینس کا آﺅٹ ہونا بھی مرگی کی علامات ہو سکتی ہین۔
کچھ قسم کی مرگی تمام جسم کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ بسا اوقات وہ مریض فضا کی جانب دیکھ رہا ہوتا ہے اور چند سیکنڈ تک وہ بالکل ساکت ہو جاتا ہے،بعض اوقات دن میں100 مرتبہ یا پھر اس سے بھی زیادہ مرتبہ ایسا ہو سکتا ہے۔ مرگی میں بعض اوقات جسم کا پٹھا اکڑ جاتا ہے جیسے کمر کا ، گردن کا یا کسی اور حصہ کا ،ایسے میں مریض زمین پر بھی گر سکتا ہے۔ کبھی کبھار جسم میں پٹھوں میں نرمی کی وجہ سے مریض زمین پر گر پڑتا ہے۔ کبی کبھار گردن، چہرہ یا بازوؤں میں جھٹکوں کی صورت میں دورہ پڑ سکتا ہے۔
عمومی طور پر مرگی کے ایک مریض کو ایک ہی طرح کی علامات بار بار ہو سکتی ہیں اور اس طرح ہمیں مرض کا علم ہو جاتا ہے۔ چند صورتوں میں ہمیں فوری طورپر ڈاکٹر سے رابطہ کرنا چاہیے مثلا اگر جھٹکوں کا دورانیہ پانچ منٹ سے زیادہ ہو، اگر جھٹکا ختم ہونے کے باوجود مریض کی بے ہوشی ٹھیک نہ ہو رہی ہو، ایک دورہ کے فوری بعد دوسرا دورہ پڑ جائے، اگر مریض حاملہ ہو، یا ذیابیظس کا شکار ہو، یا پھر ادویات کے استعمال کے باوجود مریض کو بار بار مرگی کا دورہ پڑ رہا ہو۔
مرگی کے دورہ کے دوران یا اسکے بعد کافی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں، کبھی کبھار مرگی کے دورہ کے دوران مریض گرکر اپنی ہڈیاں تڑوا بیٹھتا ہے۔ اگر مرگی کا مریض سوئمنگ کرتا رہے تو اسمیں عام شخص کی نسبت 31 سے91 گنا ڈوبنے کا امکان ہوتا ہے۔ مرگی کے مریض کو گاڑی نہیں چلانا چاہیے اسلئے کہ دوران ڈرائیونگ مرگی کا دورہ پڑنے سے کار حادثہ کا شکار ہو سکتی ہے۔ مرگی کا شکار عورتوں میں حمل کے دوران اسکو اور اسکے ہونے والے بچے کو نقصان ہو سکتا ہے اور اگر دوران حمل مرگی کی ادویات کا استعمال کی جائیں تو بچے میں ذہنی اور دماغی نقائص پیدا ہو سکتے ہیں۔ مرگی کے شکار افراد میں ذہنی اور نفسیاتی مسائل بھی زیادہ دیکھے جاتے ہیں، اسلئے ا ن میں ڈپریشن، یہاں تک کہ خود کشی کرنے کے امکانات بھی بہت زیادہ ہوتے ہیں۔
مرگی کا دورہ اگر پانچ منٹ سے زیادہ پڑ جائے یا دو دوروں کے درمیان مکمل طور پر ہوش نہ آ جائے تو بھی خطرناک ہو سکتا ہے اسکو status epileticus کہا جاتا ہے اور اسکے دوران مریض کے دماغ میں مزید نقصان ہو سکتا ہے۔ مرگی کے مریضوں میں بسا اوقات اچانک موت واقع ہو جاتی ہے۔

تبصرے بند ہیں.