پاکستان کا معاشی زلزلہ اور کاروباری طبقے کی بے زاری

6

امریکہ میں ایک اوور سیز پاکستانی نے ترک ایمبیسی جا کر 3 کروڑ ڈالر کا چیک زلزلہ زدہ بھائیوں کے لئے پیش کیا۔ اس پاکستانی نے ترک سفیر سے ایک ہی درخواست کی کہ اس کا نام نہ ظاہر کیا جائے۔ یہ کہہ کر گمنام ہیرو ایمبیسی سے باہر نکل گیا۔ حکومتیں اور لوگ ترکیہ کی مدد اس لئے کرنا چاہ رہے ہیں کہ انھیں معلوم ہے کہ وہاں ایک نظام موجود ہے۔ یہ امداد عام آدمی تک پہنچے گی۔ کہیں راستے میں خورد برد نہیں ہو گی۔ دنیا اگر ترکیہ کی مدد نہ بھی کرے تو ان کے نظام میں اتنی سکت ہے کہ وہ لوگ اس قابل ہیں کہ اپنے پیروں پر خود کھڑے ہوسکیں۔دوسری جانب اسوقت اگر ہم اپنے اندر جھانکیں تو پاکستانیوں کی حالت بھی ان زلزلہ زدگان سے بھی خراب ہے۔ جو شدید مہنگائی اور بے روزگاری اور گذشتہ برس کے سیلاب کے باعث بے سرو سامانی کی حالت میں ہیں۔ معاشی ڈیڈ لاک کی وجہ سے معاشی بحران شدید سے شدید تر ہوتا جا رہا ہے۔ ہمارے سابقہ معاملات کے باعث حالات اس قدر گھمبیر ہوچکے ہیں کہ تباہ کن سیلاب کے با وجود بھی دنیا ہماری مدد کرنے سے قاصر ہے۔ اربوں ڈالر کی امداد کے وعدے ضرور کئے گئے لیکن ایک ڈالر امداد بھی نہیں دی گئی۔ اس کی سب بڑی وجہ یہاں کا کرپٹ سسٹم ہے۔ دنیا ہم پر اعتماد کر نے کے تیار نہیں ہے۔ ہمارے سابقہ رویوں کی وجہ سے آج کوئی بھی ہم پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں۔ 2010 کے سیلاب کے دوران پاکستان کے رئیل سٹیٹ کنگ ملک ریاض حسین نے سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے اپنے 75 فیصد اثاثے پاکستانیوں کے مدد کے لئے پیش کئے تھے۔ ان کی مالیت اس وقت 2 ارب ڈالر تھی۔ یہ ایک غیرمعمولی رقم تھی۔ لیکن ملک ریاض نے صاف کہا کہ وہ یہ رقم حکومت کو نہیں دیں گے۔ کیونکہ پاکستان میں امداد تقسیم کرنے کا نظام کرپشن زدہ ہے۔ حکومت کے ذریعے دی جانے والی امداد 50 فیصد سے بھی کم متاثرین تک پہنچ پاتی ہے۔
کئی بار آپ نے ٹی وی پر دیکھا ہو گا ایم این اے اور ایم پی ایز کے گھر سے امدادی سامان برآمد ہوا۔ اس وقت ملک ریاض نے کہا تھا کہ اگر پاکستان کے 140 امیر لوگوں کو بلا کر مدد کی درخواست کی جائے تو پاکستان کو کسی بھی بیرونی مدد کی ضرورت نہیں ہو گی۔ ان کی یہ بات بالکل درست تھی۔یہ بات میں اپنے گذشتہ کالمز میں بھی عرض کر چکا ہوں۔ کہ اگر حکومت پاکستان کی 100 امیر ترین ٹیکس دینے والے کاروباری شخصیات کو بلائے اور ان کو بھرپور اعتماد میں لے کرپاکستا ن کی معاشی ڈویلپمنٹ کا پلان مانگے تو وہ بخوشی دیں گے۔ آج بھی اگر حکومت ایک شفاف نظام بنا لے تو پاکستان میں ملک ریاض سمیت بہت سے لوگ ہیں جو پاکستان کے لوگوں کی مدد کرنا چاہتے ہیں۔ آج بھی پاکستان کا درد رکھنے والے مقامی تاجر پاکستان کی اربوں ڈالرز سے مدد کر سکتے ہیں۔ ان کے دل میں پاکستان کا درد ہے۔ لیکن وہ خاموش ہیں۔ وہ وزیراعظم، وزیر خزانہ سے مل کر تصویریں نہیں بنواتے۔ اور نہ ہی انھیں اس طرح کے فوٹو سیشنز کی ضرورت ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے ہمارے چیمبرز آف کامرسز میں ان لوگوں کا غلبہ ہے جو دن رات صرف فوٹو سیشنز کراتے ہیں۔ ان کی خواہش ہوتی ہے کہ وزیراعظم، وزیراعلیٰ یا کسی بڑے عہدیدار کے ساتھ اخبار میں تصویر لگ جائے۔ اس بات پر جھگڑا ہو رہا ہوتا ہے کہ اگلی لائن میں کون کھڑا ہو گا۔ یہ کاروباری طبقے حقیقی نمائندے نہیں ہیں۔ اصل کاروباری طبقہ تو ان چیمبروں سے باہر بیٹھا ہے۔ وہ یہاں آتا ہی نہیں۔ حکومت کو چاہیئے کہ ان لوگوں سے رابط کرے۔ پاکستان کے 100 بڑے بزنس مینوں کو ایک ٹیبل پر بٹھائے۔ ان پر مشتمل ایک معاشی کونسل بنائی جائے۔ انھیں پاکستان میں کاروبار کے حقیقی فروغ کا اختیار دیا جائے۔ کوئی معاشی فیصلہ اس معاشی کونسل سے ہٹ کو نہ کیا جائے۔ حکومت انھیں ٹیکس جمع کرنے کے ٹارگٹ کے ساتھ پاورز دے۔ پھرآپ دیکھیں گے کہ یہ ایک سال میں ملک کو اس اونچائی پر لاکھڑا کریں گے جہاں ہمارے اہل سیاست 75 برسوں میں نہیں پہنچا سکے۔ آج پاکستان کی بزنس کمیونٹی حکومتی پالیسیوں میں عدم تسلسل ، سہولیات کے فقدان ، رشوت اور کک بیکس کی وجہ سے شدید بد اعتمادی کا شکار ہے۔ پاکستان کا نظام صرف پانچ لوگوں کے ہاتھ میں ہے۔ گورنر سٹیٹ بینک، سیکرٹری خزانہ، چیئرمین ایف بی آر ، وزیر خزانہ اور وزیر اعظم اس کے علاوہ چھٹا بندہ کوئی نہیں ہے جسے پتہ ہو کہ ملک میں کیا ہو رہا ہے۔ سابقہ دور میں پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا قرض لیا گیا۔ یہ کہاں پر خرچ ہوا کوئی نہیں جانتا۔ میں نے کئی اہم پارلیمانی اور بیورو کریسی کے لوگوں سے پوچھا کہ یہ پیسہ کہاں خرچ ہوا؟ کوئی نئی سڑک ، نیا پل ، کوئی پراجیکٹ لگایا ہو، سوائے لنگر خانوں اور پناہ گاہوں کے۔ جواب نفی میں ہی تھا۔ کورونا کے دوران پسندیدہ امیر صنعتکاروں کو450 ارب بلا سود قرض دیا جو کہ ادھر ا±دھر کر دیا گیا۔ یہ پیسہ ملک و قوم کی امانت تھا۔ اگر درمیانی صنعتوں اورنچلی سطح کا کاروبار پر لگایا جاتا تو لاکھوں لوگوں کا روزگار پیدا ہوتا۔ کوئی بتا سکتا ہے کہ یہ پیسہ کہاں گیا؟ حکومت ایک جانب تو رونا روتی ہے کہ ان کے پاس ملک چلانے کے لئے پیسے نہیں ہیں۔ دوسری جانب حکومت کی عیاشیاں رکنے کا نام نہیں لے رہیں۔ ایک ایک وزیر ، بیورو کریٹ ، جج اور جرنیل کی گاڑیاں اور پروٹوکول دیکھ لیں۔ ایئر کنڈیشنڈدفتر ،گھر ، گاڑیاں، ہوائی سفراور علاج سب مفت ہے۔ جبکہ عام آدمی لائن میں لگ کر آٹا بھی نہیں لے سکتا۔ کیا ایسے ریاست چل سکتی ہے؟ بالکل نہیں۔ میں 2012 میں عرفان قیصر شیخ مرحوم کی قیادت میں لاہور چیمبر کے ایک وفد کے ساتھ برطانیہ گیا تو لندن میں ہماری میزبانی برطانیہ میں مقیم پاکستانی طیب رضا نے کی۔ہیتھرو ائر پورٹ پر مرسڈیز کا کانوائے ہمارا منتظر تھا۔ ان کا لندن کے نواح میں بہت بڑا فارم ہاؤس تھا۔ انھوں نے شاندار دعوت کا اہتمام کر رکھا تھا۔ طیب رضا کا شیف سے لے کر سارا عملہ مقامی گوروں پر مشتمل تھا۔لیکن کھانوں سے لگ رہا تھا ہم پاکستان میں ہیں۔ میں نے طیب صاحب سے کہا کہ آپ کا شما ر برطانیہ کے امیرترین افراد میں ہوتا ہے۔ آپ پاکستان میں بھی انوسٹمنٹ کریں۔ انھوں نے کہا میں جب لندن آیا تو خالی جیب تھا۔ لیکن محنت کی اور یہاں کے نظام سے فائدہ اٹھایا آج نتیجہ آپ کے سامنے ہے۔ ہمیں حکومت پاکستان اس بات کا یقین دلا دے کہ وہاں ہمارا جان و مال محفوظ ہے۔ میں آج سارا پیسہ پاکستان منتقل کر دوں گا۔ میرے پاس اس کا کوئی جواب نہیں تھا۔ اگلے دن برمنگھم میں پاکستان کے کمرشل سنٹر نے ایک بزنس لنچ کا اہتمام کر رکھا تھا۔ وہاں ایک انگریز بزنس مین نے یہ بتا کر حیران کر دیا کہ پاکستان دنیا میں سب سے زیادہ منافع کی شرح دینے والا ملک ہے۔ میں نے پوچھا کہ تو پھر آپ انوسٹمنٹ کیوں نہیں کرتے۔ اس کا جواب بھی وہی تھا کہ پاکستان کا سسٹم اور لاءاینڈ آرڈر انوسٹمنٹ فرینڈلی نہیں ہے۔ یہ ایک لنچ تھا جس میں کوئی بزنس نہیں تھا۔ میں مسلسل ایک بات سوچتا ہوں کہ ہمارا یہ سسٹم کیسے ٹھیک ہوگا۔ ہم بزنس فرینڈلی انوائرمنٹ کیوں نہیں بنا سکے۔ ملک چلانے والے کیا واقعی اس ریاست سے مخلص ہیں۔ اگر ہیں تو پھر یہ لاءاینڈ آرڈر کیوں ٹھیک نہیں کرتے ؟ یہ کاروبار دوست ماحول بنا کر اندر اور باہر سے انوسٹمنٹ کیوں نہیں کراتے؟ جدید چین کے معمارصدر ڈینگ ڑیاو¿پنگ نے آج سے 42 سال پہلے ایک پالیسی بنائی تھی۔ وہ مہینے میں ایک بار ملک کی حقیقی بزنس کمیونٹی سے ملاقات کرتے تھے۔ تمام متعلقہ محکموں کے وزیر اور بیوروکریٹ وہاں موجود ہوتے تھے۔ صبح سے شام تک ان کے مسائل موقع پر حل کر دیئے جاتے۔ آج چین دنیا کی سب سے بڑی معیشت بن چکا ہے۔ ڈینگ سیاؤ پنگ کاروباری طبقے کو لاءاینڈ آرڈر کی گارنٹی اور ان کے تمام مسائل ون ونڈو آپریشن کے ذریعے حل کئے۔ کاروباری طبقے نے چین دنیا کی معاشی سپر پاور بنا دیا۔ ہماری بیورو کریسی ملکی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ جب تک ملک سے سرخ فیتے کا نظام ختم کر کرکے ون ونڈو آپریشن شروع نہیں کیا جا تا اس وقت تک یہ ملک معاشی طور پر ترقی نہیں کر سکتا۔ کاروباری لوگ اس ملک کے گمنام ہیروز ہیں۔ جو پاکستان کو معاشی زلزے سے بچا سکتے ہیں۔ ہمیں بس ان کا اعتماد بحال کرنا ہے۔

تبصرے بند ہیں.