آخری پناہ گاہ غار اصحاب کہف۔۔۔

23

جب سے وطن عزیز پر وزیر اعظم شہباز شریف کی موجودہ متحدہ حکومت آئی ہے ملک ایک کے بعد ایک نئے بحران کا شکار ہے اور ان سے نمٹنے کی حکومت کی تمام کوششیں مٹھی میں ریت کی طرح ثابت ہو رہی ہیں۔ ملک میں سیاسی عدم استحکام عروج پر ہے، امن و امان عنقا اور ہر طرف افرا تفری کا راج ہے، بجلی گیس نایاب ہے، معیشت تباہ حال ہے، مہنگائی آسمان سے باتیں کر رہی ہے اور ایٹمی قوت ہوتے ہوئے بھی حالیہ پاور بریک ڈاؤن پر ہماری حکومت کی بے بسی نے تو ملکی دفاع پر بھی سوالیہ نشان لگا دیے ہیں۔ ملک 24 گھنٹے مکمل تاریکی میں ڈوبا رہا اور خدانخواستہ اس دوران دشمن چاہتا تو کیا کچھ نہیں ہو سکتا تھا۔ اتنے بڑے سانحہ کے بعد وزیر اعظم شہباز شریف نے صرف معذرت پر گزارہ کیا۔ آج تک ذمہ داران کے خلاف کارروائی تو کیا ذمہ داران کا تعین بھی نہ کیا جا سکا۔ مہنگائی اپنی انتہائی حدود کو چھو رہی ہے اور وزیر اعظم آئی ایم ایف کے توسط سے مزید مہنگائی کا مژدہ سنا رہے ہیں۔ حکومت کے پاس مسائل کا واحد حل یہ ہے کہ قیمتیں آسمان پر لے جائیں اور اپنی ناکامی پر پردہ ڈالنے کے لیے منی بجٹ پر منی بجٹ لے آئیں اور سیاسی منظر نامے پر سارا ملبہ سابق حکومت پر ڈال دیں یا سیاسی مخالفین کو گرفتار کر کے اصل مسائل سے وقتی طور پر توجہ ہٹائیں۔ لیکن اب عوام بے وقوف نہیں بنیں گے۔ اسحاق ڈار کی جادوگری بھی نہیں چل رہی اور حالات دن بدن قابو سے باہر ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ لگتا ہے ڈار صاحب کے لیے ملکی معیشت کے بجائے مفتاح اسماعیل اور شاہد خاقان عباسی کی مخالفت زیادہ پریشان کن ہے۔ یہ واحد حکومت ہے جس نے اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمتیں مادر پدر آزاد کر دی ہیں اور انٹر بنک ریٹس الگ ہیں۔ ایک اور منی بجٹ سے عوام کی زندگی اجیرن کرنے کی تیاری ہے۔ رہی سہی کسر نگران حکومت نے پوری کر دی اور یہ بھی غیر جانبدار رہنے کے بجائے وفاق کی حماقتیں چھپانے کے لیے ان کی سہولت کار بن گئی ہے۔ نگران سیٹ اپ کا آئین میں درج مقصد مقررہ مدت میں شفاف انتخابات کرانا ہے لیکن سیاسی مخالفین کے خلاف ان کے حالیہ اقدامات سے الیکشن کی شفافیت ہی مشکوک ہو چکی ہے اور لگ رہا ہے کہ ہم بنانا ریپبلک میں رہ رہے ہیں۔
ہمارے ذرائع بتاتے ہیں کہ وفاقی اور پنجاب کی نگران حکومت نے سیاسی مخالفین پر کریک ڈاو¿ن کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس عمل میں صرف سیاستدان نہیں کچھ صحافی اور تجزیہ نگار اور بلاگر بھی زد میں آئیں گے۔ اگر شہباز شریف حکومت یہ سمجھتی ہے کہ کچھ مخصوص سیاستدانوں یا صحافیوں کو رستے سے ہٹا کر کہ سب اچھا ہو جائے گا تو یہ ان کی غلط فہمی ہے ایسے اقدامات سے حالات مزید خراب ہوں گے۔
میڈیا ٹائیکون محسن نقوی کے پنجاب کے نگران وزیر اعلیٰ کی تقرری سے لگا تھا کہ کم از کم پنجاب میں سیاسی حالات میں کچھ بہتری آئے گی لیکن ان کی طرف سے ان کے شریکوں اور سیاسی مخالفین ماموں سسر چودھری پرویز الٰہی کے خاندان
پر مقدمات سے لگ رہا کہ ان کے ارادے کچھ اور ہی ہیں۔ لیکن محسن نقوی کے قریبی ذرائع یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ اقدامات ان سے بالا ہی بالا اٹھائے جا رہے ہیں۔ اب اللہ ہی جانے کون بشر ہے۔ اس کے ساتھ ہی سوشل میڈیا پر نگران وزیر اعلیٰ محسن نقوی کی چیف آف آرمی سٹاف کے ہمراہ حجاز مقدس میں عمرہ کی ادائیگی کی ویڈیو پر بھی غیر ضروری تبصرے کیے جا رہے ہیں۔ ہر کوئی اس مذہبی فریضے کی ادائیگی کو غیر ضروری معنی پہنا رہا ہے۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے اور یقینا مذہبی معاملات میں سیاست کو نہیں گھسیٹنا چاہیے لیکن اس بات میں بھی وزن ہے کہ اداروں یا ان کے سربراہوں کو بھی غیر جانبدار رہنا چاہیے اور ان کے کسی عمل سے یہ نہ لگے کہ ان کا جھکاؤ کسی طرف ہے۔
فواد چودھری کی گرفتاری پر لاہور ہائی کورٹ نے پولیس کو انہیں عدالت میں پیش کرنے کا بار بار حکم دیا ہے لیکن نگران حکومت کی ہدایت پر اس حوالے سے عدالت سے جو آنکھ مچولی کھیلی جا رہی ہے وہ بھی قابل مذمت ہے۔ لاہور ہائی کورٹ نے تین بار فواد چودھری کو طلب کیا لیکن پنجاب انتظامیہ نے یہ احکامات ہوا میں اڑا دیئے اور عدالتی حکم کے باوجود انہیں پیش کرنے سے قاصر ہے۔ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ سیاستدان چاہے مخالفین کا احترام نہ کریں لیکن وہ عدالتی حکم کی عدم تعمیل کا سوچ بھی نہیں سکتے اور فواد چودھری کو عدالتی حکم کے باوجود پیش نہ کرنے سے لگ رہا ہے کہ معاملات نگرانوں کے ”نگران“ چلا رہے ہیں۔ سیاسی گرفتاریاں ماضی میں بھی ہوتی رہی ہیں لیکن اس طرح ہائی کورٹ کے احکامات کے ساتھ کھیلنے کی مثالیں بھی کم ہی ملتی ہیں۔
وفاقی حکومت کی چھتر چھایا میں قائم پنجاب کی نگران حکومت کے قیام کے چند دن بعد ہی سیاسی مخالفین کے خلاف انتقامی کارروائیوں کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نام نہاد نگران سیٹ اپ کا ایجنڈا کیا ہے اور لگ رہا ہے کہ یہ سیٹ اپ سب کچھ کرے گا سوائے غیر جانبدار رہنے کے۔
اب عمران خان کی ممکنہ گرفتاری کا شوشہ چھوڑا جا رہا ہے۔ فواد چودھری اور ان کے بھائی فراز چودھری کی گرفتاری، سابق وزیر اعلیٰ چودھری پرویز الٰہی کے بیٹے مونس الٰہی، کزن موسیٰ الٰہی اور دیگر رشتے داروں پر مضحکہ خیز مقدمات کے علاوہ عامل صحافی شاہد اسلم پر مقدمات فی الحال دستیاب مثالیں ہیں اور لگ رہا ہے کہ آنیوالے وقت میں یہ انتقامی کارروائیاں اور بڑھیں گی۔ اگر ایسے اقدامات سے پاکستان کو درپیش مسائل حل ہو سکتے ہیں تو فبہا لیکن سب جانتے ہیں کہ ایسا نہیں ہے۔
اسٹیبلشمنٹ کے حامی صحافیوں کی طرف سے منظم طریقے سے یہ بات پھیلائی جا رہی ہے کہ موجودہ نگران سیٹ اپ محض تین ماہ کے لیے نہیں آیا۔ اللہ کرے یہ پروپیگینڈہ غلط ہو لیکن اداروں کو یہ تاثر پھیلانے والوں کا نوٹس بھی لینا چاہیے۔ حالیہ پکڑ دھکڑ کو مکافات عمل سے بھی جوڑا جا رہا ہے اس لیے سیاستدانوں سے بھی دست بدستہ عرض ہے کہ وہ سیاسی کھیل کے ایسے ضوابط کار بنا دیں کہ کل کسی کو انتقامی کارروائی کا نشانہ نہ بنایا جا سکے۔ لیکن اس کی کنجی سیاستدانوں کے پاس ہی ہے۔
ملک کے موجودہ بد ترین سیاسی، معاشی و معاشرتی حالات اور حکومت کی ان سے نمٹنے کی ناکامی دیکھ کر نورالہدیٰ شاہ کی طرح جی چاہتا ہے اصحاب کہف کے ساتھ جا کر سو جاؤں۔ اس حوالے سے نور الہدیٰ شاہ کی ایک تحریر پیش خدمت ہے۔
دل چاہتا ہے
غارِ اصحابِ کہف میں جا کر سو جاؤں
جب نیند سے اٹھوں
میرا زمانہ گزر چکا ہو
میرے سکّے کھوٹے ہو چکے ہوں
میری بات کوئی نہ سمجھتا ہو
مجھے کوئی نہ جانتا ہو
رب سے پوچھوں بتا
اب کہاں جاؤں
رب کہے
تیرے زمانے اب نہیں رہے
انسان سبھی مر چکے ہیں
صرف ہجوم زندہ ہے
جنون زندہ ہے
تو لوٹ جا
غارِ اصحابِ کہف میں
پھر سے جا کر سو جا
قارئین کالم بارے اپنی رائے 0300-4741474 پر وٹس ایپ کر سکتے ہیں۔

تبصرے بند ہیں.