ارباب اختیار کو گلستان سعدی کی ضرورت ہے

22

آج سے تقریباّ آٹھ سو سال قبل لکھی جانے والی”گلستان سعدی “اپنے دور کی ایک لازوال اور آنے والے زمانوں کے لیے ایک ایسی زندہ و جاوید کتاب ہے جو اپنی مثال آپ ہے۔اس کے مصنف حضرت شیخ شرف الدین مصلح سعدی شیرازی المعروف ” شیخ سعدی“ ہیں، جن کا سن پیدائش 1210 اور سال وفات 1291/1292 عیسوی ہے۔ آپ ایران کے شہر شیراز میںپیداہوئے۔اُس وقت ملک ابتری اور طوائف الملوکی کا شکار تھا اور ہر طرف جنگوں کا ایک لامتناہی سلسلہ جاری تھا۔۔۔! اپنے حالات و واقعات سے نبرد آزما ہوتے، انکی زندگی کا سفر جاری و ساری رہا۔سیروسیاحت آپ کی گھٹی میں پڑی تھی۔ ۔۔۔! بے شمار علماءسے فیض حاصل کیا جن میں علامہ ابو الفرج عبدالرحمن بن جوزی بھی شامل ہیں۔ علامہ ابن جوزی کی شخصیت نے ان پر بہت گہرے اثرات مرتب کیے جو اُن کے افکار و کردار سے خوب ظاہر ہیں۔۔ لوگوں کے اخلاق و کردار کی درستی اور بہتری کے حوالہ سے آپ نے دلچسپ حکایات کا سہارا لے کر فارسی زبان و ادب میں ایک ایسے ذخیرے کا اضافہ کیا جس کو صدیوں بعد آج بھی اُسی طرح سے پڑھا اور سمجھا جا رہا ہے۔۔۔!
گلستان سعدی اُن چند ایک کتابوں میں سے ہے جو زمان و مکاں کی پابندیوں سے آزاد ایک سدا بہار دلکشی کی حامل کتاب ہے۔اس کی حکایات ، زبان و بیان ، تشبیہ و استعارات اور اثر آفرینی اپنے نفس مضمون کے اعتبار سے لافانی ہے۔گلستان کے ساتھ ساتھ” بوستان“ کے نام سے ان کی ایک اور مشہور زمانہ منظوم کتاب بھی ایسی ہی حیثیت کی حامل ہے ۔یہ کتابیں فارسی ادب کا لازوال خزانہ ہیں۔بے شمار زبانوں میں اُن کی اِن کے تراجم ہوئے جن کا سلسلہ تاحال جاری ہے ۔اُن کی زندگی میں ہی اُن کی جادو بیانی اور فصاحت و بلاغت کا شہرہ ایران، ترکستان، تا تار اور ہندوستان جیسے کئی ممالک میں پھیل چکا تھا۔۔۔۔!
گلستان کے آغاز میں ہی اُن کی مشہور زمانہ اور زبان زد عام رباعی قرن در قرن ، منبر ومسجد، قلب و نظر ، تنہائی و محفل میں صدا در صدا گونج رہی ہے اورتا قیامت گونجتی رہے گی۔۔۔!
بلغ العلیٰ بکمالہ کشف الدّجیٰ بجمالہ
حسنت جمیعُ خصالہ صلّو علیہ و آلہ
سو سے زائد حکایات اور جابجا اشعار پر مشتمل گلستانِ سعدی محض پندونصائح کی کتاب نہیں بلکہ ایک ضابطہ حیات بھی ہے۔حکایات و واقعات کی صورت انسانی کردار کے اخلاقی، سیاسی، سماجی اور تہذیبی وثقافتی پہلوﺅں کا جائزہ لیا گیاہے۔اس کتاب کی ایک ایک حکایت اپنے اندر علم وعرفان اور معرفت کے کئی ابواب رکھتی ہے۔
کہنے کو یہ کتاب آج سے تقریباً آٹھ سو سال قبل لکھی گئی مگر انسانی اخلاق و کردارکے حوالے سے یہ آج بھی انسانی معاشرت کے جملہ پہلوﺅں کا احاطہ کرتی ہے۔انسانیت،روحانیت،حقانیت،نکتہ آفرینی،ندرت خیال،سادگی بیان اور حلاوت واثرپزیری اس کی نمایاں خصوصیات میں شامل ہے۔
گلستان میں شامل ایک حکایت ”اپنا محاسبہ آپ“ کے بیان میں لکھتے ہیں :”ایک مسافرجو اتفاقاًاللہ کے نیک بندوں کی محفل میں پہنچ گیااور اس محفل کی برکت سے اس کی بہت سی بُری عادتیں چھوٹ گئیں۔لیکن اُس کے بد خواہ اُسے طعن و ملامت کرتے رہے کہ نیکی کی طرف اس کا راغب ہونامحض دکھاواہے۔وہ اپنے مرشد کی خدمت میں حاضرہوااور سارا ماجرا کہہ سنایا، انہوں نے فرمایا کہ تجھے ہرگز پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، اللہ کا شکر ہے کہ تیرے مخالف تجھے جیسا بتاتے ہیںتو ویسا نہیں ہے۔صدمے کی بات تویہ ہوتی کہ تو اصلاً برا ہوتا اور لوگ تجھے نیک اور شریف بتاتے۔۔۔!“
اسی طرح ” سچی بادشاہت “کے ضمن میں لکھتے ہیں :”اے بادشاہ لاﺅ لشکراور دنیاوی سازوسامان میںبے شک توہم سے زیادہ ہے لیکن آرام اور طمانیت قلب میں ہم تجھ سے بڑھے ہوئے ہیں۔موت ہم سب کو برابر کردے گی اور انشاءاللہ قیامت کے دن ہمارا حال تجھ سے بہتر ہوگا۔۔۔!“
ایک اور جگہ” علم کی عظمت“ کا اظہار ان الفاظ میں کرتے ہیں :” بیان کیا جاتا ہے ،ملک مصر میںدو امیر زادے رہتے تھے۔ایک نے دنیاوی علوم و فنون حاصل کیے اور ملک کا حاکم ِ اعلیٰ بن گیا۔دوسرے نے علم دین کی طرف رغبت کی اور عالم بن گیا۔ جو بھائی حاکم تھا وہ دوسرے بھائی کوہمیشہ حقارت کی نظر سے دیکھا کرتا تھا۔ایک دن ملاقات ہوئی تو کہنے لگا، اگر توبھی میری پیروی کرتا تو ایسی پست حالت میں نہ ہوتا۔مجھے دیکھ ،کیسی عزت اور شان کا مالک ہوں۔ ۔۔! دوسرا بھائی بولا،اے برادر۔۔! یہ تیری غلط فہمی ہے کہ حکومت حاصل کرکے تو زیادہ عزت کا مالک بن گیاہے۔خُدا کا شکر ہے عزت اور اطمینان کے معاملے میں میں تجھ سے بڑھا ہوا ہوںکہ پیغمبروں کی میراث علم کا مالک ہوں اور تو فرعون اور ہامان کا وارث بنا ہے۔۔۔!“
الغرض اسی طرح کے نصیحت آمیز حکایات پر مشتمل ،عالمگیر اخلاقی و روحانی اقدار کی حامل ،معاشرتی نا ہمواریوں پر خوب نشتر زنی کرتی ہوئی یہ کتاب اپنی ہر حکایت ، سبق اور نصیحت کے ساتھ لوگوں کے انفرادی و اجتماعی ضمیر جھنجھوڑ کر انہیں غور و فکر پر آمادہ کرکے ان کی کردار سازی کا کام کر رہی ہے۔گویا کہ ” گلستان سعدی“ آج بھی پورے جوبن پر لہلہا رہا ہے اور لوگ بلا تفریق رنگ و نسل اس سے فیض یاب ہو رہے ہیں۔۔۔۔!
اس لیے ہمارے ارباب اختیار کو بھی اس کے مطالعے کی اشد ضرورت ہے ،شاید اسی طور کوئی بات یا حکایت ان کے دل میں اتر جائے اور وہ بھی احسن گفتار و عمل کی کوئی راہ پالیں، جس سے نہ صرف ان کا اپنا بھلا ممکن ہے بلکہ اور بھی بہت سے معاملات میں بہتری کے وسیع تر امکانات روشن ہیں۔۔۔!

تبصرے بند ہیں.