محسن نقوی نگران وزیر اعلیٰ مگر!

26

شفاف انتخابات کرانا، نگران حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے، اس کے لیے ایسے افراد کا انتخاب کیا جاتا ہے جو غیر متنازع ہوں، اس لیے اس بار نگران وزارت اعلیٰ کے لیے قرعہ سینئر صحافی اور نجی چینل کے مالک سید محسن نقوی کے نام کا نکلا ہے۔ اس سے پہلے کے اگر نگران وزرائے اعلیٰ پنجاب کی بات کریں تو 1993ء میں پہلی بار نگران وزیر اعلیٰ پنجاب کا قیام عمل میں لایا گیا اور یہ ذمہ داری پہلی بار شیخ منظور کو ملی، اْس کے بعد 1996ء میں یہ ذمہ داری محمد افضل کو دی گئی۔ جبکہ 2007ء میں مشرف حکومت کے بعد نگران وزیرا علیٰ کی ذمہ داری اعجاز ناصر کو دی گئی، جو بعض ناگزیر وجوہات کی بنا پر 145دن تک نگران وزیر اعلیٰ کے عہدے پر فائز رہے۔ اس کے بعد یہ ذمہ داری 2013ء میں نجم سیٹھی اور 2018ء میں اس اہم ذمہ داری کے لئے حسن عسکری رضوی کو چنا گیا۔ ان تمام کیئر ٹیکر وزرائے اعلیٰ پر مختلف قسم کے الزامات بھی لگے اور اب جبکہ محسن نقوی جو کہ صحافی بھی ہیں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ کیسے اپنادامن بچا کر شفاف انتخابات کرانے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ ویسے تو اْن پر تحریک انصاف کے چوٹی کے رہنماؤں اور ق لیگ نے عدم اعتماد کا اظہار کر دیا ہے اور کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کی طرف سے منتخب کردہ نگران وزیر اعلیٰ کے خلاف وہ سپریم کورٹ جائیں گے۔ اْمید ہے سپریم کورٹ اس حوالے سے پہلے کی طرح ضرور ”رہنمائی“ کرے گی۔
لیکن اگر محسن نقوی ہی پنجاب کے وزیر اعلیٰ رہتے ہیں اور اْنہی کی زیر نگرانی الیکشن ہوتے ہیں تو میری ناقص رائے میں اْنہیں تمام سٹیک ہولڈرز کو ساتھ لے کر چلنا چاہیے۔ اور ویسے بھی وہ سب کو ساتھ لے کر چلنے والے ہیں، کیوں کہ اْن کے ساتھ کام کرنے والا ہر شخص اْنہیں جانتا ہے کہ وہ کام میں جت جانے والی شخصیت ہیں۔ وہ 1978 میں لاہور میں پیدا ہوئے، آبائی تعلق جھنگ سے ہے سید گھرانے کے اس چشم و چراغ نے اپنی ابتدائی تعلیم کریسنٹ ماڈل سکول لاہور سے حاصل کی۔ کریسنٹ ماڈل سکول سے فراغت کے بعد سید محسن نقوی نے گورنمنٹ کالج لاہور میں داخلہ لیا اور یہیں سے گریجوایشن کرنے کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لیے
امریکہ کی ریاست میامی کی اہائیو یونیورسٹی میں چلے گئے جہاں انہوں نے صحافت میں نہ صرف ڈگری مکمل کی بلکہ دوران تعلیم ہی دنیا کے سب سے بڑے اور مقبول نیوز ادارے سی این این میں انٹرن شپ کی، دوران انٹرن شپ ہی سی این این انتظامیہ نے محنت لگن اور ٹیلنٹ کو دیکھتے ہوئے جاب آفر کی اور یوں وہ ایک بڑے ادارے کے پلیٹ فارم سے عملی زندگی میں داخل ہوئے، اپنی جاب کے دوران انہیں بطور سنیئر پروڈیوسر ساؤتھ ایشیا اور پھر ریجنل ہیڈ بنا دیا گیا۔
اپنی صحافت کے دوران انہوں نے افغان وار کی دلیرانہ کوریج کی اور اپنے ادارے سے تعریفی سرٹیفکیٹ بھی حاصل کیا اور ترقی بھی۔ جب محترمہ بے نظیر بھٹو انتخابی مہم کے لیے پاکستان آرہی تھیں تو سی این این کی جانب سے سید محسن نقوی نے ہی وہ آخری انٹرویو کیا جس میں محترمہ نے پاکستان میں اْن کی جان کو لاحق خطرات کا ذکر کیا یہ انٹرویو تہلکہ خیز رہا۔ دوران ملازمت ہی سید محسن نقوی نے پاکستان میں میڈیا کے روایتی انداز صحافت کو للکارنے کا فیصلہ کیا اور پاکستان میں پہلی مرتبہ سٹی جرنلزم کا آغاز کیا اور سٹی نیوز نیٹ ورک کے نام سے 2008 میں صرف تیس سال کی عمر میں بنیاد رکھی، یہ ایک نئی طرز صحافت تھی لاہور کے ٹیلی فون کوڈ 042 سے”فورٹی ٹو“کے نام سے نیوز چینل کا آغاز کیا قومی سطح کی صحافت کے دلدادہ شہریوں کے لیے صحافت کی یہ جہت اجنبی سی تھی جس میں صرف ایک شہر کی خبریں تھی نہ اسلام آباد کا شور نہ کراچی کا احوال یہ چینل اور اس کا سی ای او سید محسن نقوی نامساعدحالات میں بھی اپنے سلوگن”شہر کی سب باتیں“ پر ڈٹے رہے۔
سید محسن نقوی کی شادی سیاست کے ایک بڑے چودھری ظہور الٰہی خاندان میں ہوئی ان کی اہلیہ ڈاکٹر ہیں جو پنجاب پولیس کے بہادر سپوت شہید اشرف مارتھ کی صاحبزادی ہیں اور ان کے بطن سے اللہ پاک نے سید محسن نقوی کو تین بیٹیاں اور ایک بیٹا عطا فرمائے۔ سٹی نیوز نیٹ ورک کے حوالے سے ایک دلچسپ واقعہ پاکستان مسلم لیگ ق کے صدر سابق وزیر اعظم چودھری شجاعت حسین نے روہی چینل کی لانچنگ پر سنایا جو کچھ یوں ہے کہ جب محسن نقوی سٹی فورٹی ٹو کا آغاز کرنے لگے تھے تو انہوں نے بتایا کہ وہ ایک ایسا چینل لا رہے ہیں جو صرف شہر کی خبریں دے گا جس پر میں نے محسن سے کہا کہ کیا اس میں اشتہار دہی بھلے والا اور لڈو بیچنے والا دے گا لیکن اس کی محنت کا اللہ نے بھرپور صلہ دیا“۔
سید محسن رضا نقوی ٹیم مین کے طور پر ابھرے ا ن کی بنائی ٹیم میں تجربے اور نوجوانی کے جذبے کا ایسا امتزاج تھا جس نے اس ٹیم کو باقی اداروں سے الگ شناخت دے دی خود چیف ایگزیکٹیو نے دفتر کے ماحول کو ایسا دوستانہ ٹچ دیا کہ گیٹ پر کھڑے محافظ سے لیکر ڈائریکٹر نیوز تک کے تمام کارکن اس چینل کے مالک سے ہر وقت مل سکتے ہیں،ایسا دوستانہ ماحول اور مالک کی شفقت میسر ہو تو کون ہے جو چھوڑ کر جانا چاہے گا، سید محسن رضا نقوی نے صرف صحافت کو ہی نئی جہت نہیں دی بلکہ کارکن صحافیوں کے لیے ویلفیئر اور تعریف و توصیف کی بھی نئی روایات کو جنم دیا اور میڈیا انڈسٹری میں پہلی مرتبہ ایوارڈ شو کا باقائدہ آغاز کیا جس میں سٹی نیوز نیٹ ورک کے کارکنان کو ہر شعبے میں اعلیٰ کارکردگی کی بنیاد پر ایوارڈ بمعہ نقد رقوم دیا جانے لگا اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے، ادارے نے ہیلتھ انشورنس اور رسک انشورنس کا بھی اہتمام کیا۔
یہ تمام تعریفیں ایک طرف مگر صوبائی سطح پر کام کرنا ان اداروں کو چلانے سے ذرا ہٹ کر ہوگا۔ اْنہیں یقینا بہت سے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے، اْنہیں ایک طرف ن لیگ، دوسری طرف تحریک انصاف تیسری طرف ق لیگ اور چوتھی طرف زرداری صاحب کی پیپلزپارٹی جبکہ محسن نقوی کے سر پر مقتدر قوتوں کا سایہ رہے گا۔ جو کسی بھی بولڈ فیصلہ کرنے کی صورت میں اْنہیں پکڑ کر روک لیں گے۔ اس لیے یہ سیٹ یقینا پھولوں کی سیج نہیں بلکہ کانٹوں کا بستر ثابت ہوگی۔ جس پر آرام کرنا تو دور کی بات ٹک کر بیٹھنا بھی محال ہو گا۔ لہٰذامحسن نقوی صاحب اگر سیاست میں کود پڑے ہیں تو اپنے آپ کو متنازع بنانے کے بجائے پنجاب میں ایسا شفاف الیکشن کرا دیں کہ تاریخ میں اْنہیں یاد رکھا جائے۔ میری رائے میں اگر ایسا ہو جاتا ہے تو پنجاب کے آدھے سے زائد مسائل حل ہوجائیں گے۔ ورنہ ہم ایک بار پھر غلط قیادت کے ہاتھوں میں چلے جائیں گے! جہاں سے واپسی ممکن نہیں ہوگی۔

تبصرے بند ہیں.