پی ٹی آئی کا محسن نقوی کی بطور نگران وزیراعلیٰ پنجاب تعیناتی چیلنج کرنے کا فیصلہ، کل سے احتجاج کا اعلان

2

لاہور: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے نگران وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی کی تعیناتی کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے تعیناتی کے خلاف کل سے احتجاج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ عمران خان کا کہنا ہے کہ محسن نقوی آصف علی زرداری کا فرنٹ مین ہے اور ہم اس نگران وزیراعلیٰ کو نہیں مانتے۔ 
عمران خان کی زیر صدارت پارٹی کے سینئر رہنماو¿ں کا اجلاس ختم ہو گیا ہے جس میں نگران وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی کی تعیناتی کو چیلنج کرنے کافیصلہ کرتے ہوئے کل سے اس تعیناتی کے خلاف احتجاج کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔ عمران خان نے محسن نقوی کی تعیناتی کو اعلیٰ عدلیہ میں چیلنج کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ محسن نقوی کی تعیناتی نے الیکشن کمیشن کی غیر جانبداری کا پول کھول دیا، پلی بارگین کرنے والے کو پنجاب کا نگران وزیراعلیٰ تعینات کیا گیا ہے۔ 
اجلاس کے بعد ویڈیو لنک سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ کل سے احتجاج کیلئے پرامن مظاہرے شروع کریں گے اور میری طرف سے دعوت ہے کہ ملک کو بچانے کیلئے ہمارے ساتھ احتجاج کریں، 35 لاکھ کی چوری کرنے والے شخص کو پنجاب کا نگران وزیراعلیٰ بنا دیا گیا، ہم اس نگران وزیراعلیٰ کو بالکل نہیں مانتے اور اسے ہٹانے کیلئے ہدالت سے رجوع کریں گے۔ ملک کو بچانا ہے تو شفاف الیکشن کرائے جائیں، مجھے ان لوگوں سے خوف آ رہا ہے، انہوں نے ملک میں سقوط ڈھاکہ جیسے حالات پیدا کئے ہوئے ہیں۔ 
عمران خان نے کہا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کی جانب سے نگران وزیراعلیٰ پنجاب کا اعلان کیا گیا اور محسن نقوی کو تعینات کر دیا گیا، جمہوریت کی بنیاد اخلاقیات پر رکھی جاتی ہے، جمہوریت میں اخلاقی معیار ہوتا ہے جس پر وہ کھڑی ہوتی ہے مگر پاکستان میں اخلاقیات اتنی گر چکی ہیں کہ نگران سیٹ اپ کی ضرورت ہوتی ہے، نگران حکومت بنانے کی بنیادی وجہ شفاف الیکشن کرانا ہوتا ہے اور ہم نے نگران وزیراعلیٰ کیلئے وہ نام دئیے جو غیر جانبدار تھے۔ 
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے ناصر کھوسہ کا نام منتخب کیا جو نواز شریف کے پرنسپل سیکرٹری رہ چکے ہیں، دوسرا نام احمد نواز سکھیرا کا منتخب کیا جو اس وقت کابینہ سیکرٹری ہیں، ہم نے سوچا کہ احمد نواز سکھیرا پر کوئی اعتراض نہیں کرے گا کیونکہ وہ غیرجانبدار ہیں، نوید چیمہ کا نام بھی منتخب کیا جو شہباز شریف کے چیف سیکرٹری رہ چکے ہیں مگر ہمارے ناموں کو مسترد کر دیا گیا اور محسن نقوی کو نگران وزیراعلیٰ پنجاب منتخب کر لیا گیا، موجودہ بددیانت الیکشن کمیشن زندگی میں کبھی نہیں دیکھا جس کا ہر فیصلہ ہمارے خلاف آتا ہے، ہم الیکشن کمیشن کے فیصلوں کے خلاف عدالت گئے۔ 
چیئرمین پی ٹی آئی نے مزید کہا کہ عدالت 8 سے 9 مرتبہ الیکشن کمیشن کے فیصلے مسترد کر چکی ہے، فنڈنگ کیس میں الیکشن کمیشن نے فیصلہ کر کے ایک پیراگراف شامل کر لیا حالانکہ اس پیراگراف کا کیس کے فیصلے سے کوئی تعلق ہی نہیں تھا جبکہ توشہ خانہ کیس بہت بڑا مذاق ہے اور اس کیس میں موجودہ حکومت کہتی ہے تفصیلات خفیہ ہیں بتا نہیں سکتے، موجودہ حکومت نے میرے خلاف توشہ خانہ سے متعلق سب کچھ بتا دیا لیکن جب عدالت نے تمام توشہ خانہ تحائف کی تفصیل مانگی تو مہتے ہیں بتا نہیں سکتے، نواز شریف اور آصف زرداری نے توشہ خانہ سے گاڑیاں لیں، اس لئے نہیں بتا سکتے۔ 
سابق وزیراعظم نے کہا کہ رجیم چینج سازش میں ہمارے پاس آئی بی کی باقاعدہ رپورٹس آتی تھیں، محسن نقوی نے ہماری حکومت گرانے کی سب سے زیادہ کوشش کی، محسن نقوی آصف زرداری کے پیغامات لے کر نواز شریف کے پاس جاتا تھا، ہر جگہ محسن نقوی کا نام آتا تھا جس نے رجیم چینج سازش کی بھرپور کوشش کی، محسن نقوی سابق آرمی چیف سے بھی ملتا تھا جو اصل ماسٹر مائیڈ تھا، سب کو پتہ ہے قمر باجوہ نے ان سب کو این آر او ٹو دیا ہے جبکہ محسن نقوی وہ شخص نے جس نے پلی بارگین کر کے نیب کو رقم واپس کی، محسن نقوی پاکستان تحریک انصاف کا بدترین دشمن ہے اور اس کے پیچھے وہ لوگ ہیں جنہوں نے عمران خان پر کراس لگایا ہے۔ 

تبصرے بند ہیں.