جمہوریت کو ڈی ریل کرنے والے کردار

23

اچھی خاصی جمہوریت پٹری پر آ گئی تھی کہ تین کرداروں نے اس کو ڈی ریل کرنے کے لیے اپنے اپنے حصے کا کام کیا۔ سیاستدانوں نے میثاق جمہوریت کیا اور پھر اس پر عمل کر کے بھی دکھایا۔ یہ الگ بات ہے کہ کئی مہم جو چاہتے تھے کہ میاں نوازشریف پیپلزپارٹی کے خلاف محاذ آرائی کریں مگر انہوں نے صاف انکار کر دیا اور آئندہ انتخابات کا انتظار کیا۔ وہ وزیراعظم بنے مگر اپنی ٹرم پوری نہ کر سکے۔ وہ ہمیشہ آسیب زدہ رہتے ہیں اور فوجی بوٹ انہیں باہر کرنے کی کوشش شروع کر دیتے ہیں۔ ایک عرصہ بعد میثاق جمہوریت اس لیے یاد آیا ہے کہ سیاستدان تھوڑی سی قربانی اور جھوٹی انا کو پیچھے کر لیں تو بہت سے سمجھوتے ہو سکتے ہیں۔ ایک دوسرے کے خلاف سیاست کرنے والے نوازشریف اور بینظیر بھٹو باہر بیٹھ کر معاہدہ کرتے ہیں اور ان حالات میں کرتے ہیں کہ دونوں جلاوطن ہیں۔ واپس آتے ہیں سیاست کرتے ہیں اور دونوں جماعتیں ایک دوسرے کے مینڈیٹ کا احترام کرتی ہیں۔ اس وقت یہی محسوس ہو رہا تھا کہ شاید اب جمہوریت اسی طرح چلتی رہے گی۔ اَے بَسا آرزو کہ خاک شْدَہ۔
میں تین کرداروں کی بات کر رہا تھا۔ نوزائیدہ جمہوریت پر نقب لگانے کے لیے جنرل قمر جاوید باجوہ، جنرل ظہیر الاسلام اور چیف جسٹس ثاقب نثار نے اپنے اپنے حصے کا کام کیا۔ عمران پروجیکٹ کے معماروں میں اور بہت سے نام بھی شامل ہیں کہ یہ منصوبہ 2010 میں شروع ہوا تھا۔ پاکستان میں جمہوریت کا برا حال کیوں ہے بس ان کرداروں کو سمجھ لیں اور ان کی جگہ دوسرے نام فٹ کر لیں۔ جس دور میں بھی جمہوریت پر شب خون مارا گیا یہی تین کردار شریک جرم رہے۔ بدقسمتی سے اس ملک میں سزا اور جزا کا کوئی نظام موجود نہیں ورنہ ایک بار جمہوریت کو لپیٹنے، آئین کو تاراج کرنے اور عوامی مینڈیٹ کی توہین کرنے والے کو سزا ہوتی تو شاید مستقبل میں ہم ایک مضبوط جمہوریت بن جاتے مگر ایسا نہیں ہوا۔ فوج اور عدلیہ ہمیشہ مقدس ادارے کے طور پر سمجھے جاتے ہیں لیکن افسوس پاکستان کے مسائل کو بڑھانے میں ان دو اداروں نے اپنا بھرپور حصہ ڈالا ہے۔ جنرل باجوہ کے اعتراف گناہ کے بعد کیا یہ ضروری نہیں تھا کہ محاسبے کا عمل شروع ہوتا اور یہ سوال کیا جاتا کہ آخر فوج کو عمرانی پروجیکٹ شروع کرنے کا اختیار کہاں سے ملا؟ ادارے نے فیصلہ کیا کہ عمران خان کو لایا جائے۔ پاکستان کی جمہوریت اور حکومت کے فیصلے کا اختیار ادارے کے پاس کیسے پہنچ گیا؟
تاریخ نے ثابت کیا ہے کہ فوج زدہ جمہوریت کبھی بھی ثمر آور نہیں ہوئی بلکہ اس نے نظام کو پہلے سے بھی زیادہ خراب کیا ہے۔ فوج اور عدلیہ اپنے آئینی اختیارات سے تجاوز کریں تو آئین کا حلیہ بگڑ جاتا ہے۔ بدقسمتی سے آئین کی تشریح کا اختیار عدلیہ
کے پاس ہے تو اس نے بعض دفعہ ایسی تشریح کی جو آئین بنانے والوں کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھی۔ سیاستدان اپنے اختیارات سے تجاوز کریں تو انہیں اس کہ سزا ملتی ہے مگر ثاقب نثار اور قمر جاوید باجوہ آئین سے تجاوز کریں تو انہیں باعزت رخصت کیا جاتا ہے۔ انہیں کٹہرے میں لانے کا بندوبست کرنے کا کوئی نظام وضع کیوں نہیں ہوتا۔ ادارے نے سیاست سے کنارہ کش ہونے کا فیصلہ کیا بہت اچھا کیا۔ چلیں ماضی کو دفن کر دیں آگے بڑھیں لیکن اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ سارا عمل نہیں دہرایا جائے گا۔
عمران خان کسی لیبارٹری میں کیا جانے والا وہ تجربہ ہے جو ناکام ہو گیا اور اس نے عفریت کا روپ دھار کر معاشرے کو تہس نہس کرنا شروع کر دیا۔ اس کے معمار تو ہاتھ جھاڑ کر ایک طرف ہو گئے اور اس کا خمیازہ ملک اور قوم کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ اس ناکام تجربے کی بساند پورے معاشرے میں پھیلی ہوئی ہے اور لوگوں نے ناک پر ہاتھ رکھ لیے ہیں۔ قیام پاکستان سے لے کر سیاست میں مداخلت کے جتنے بھی تجربے کیے گئے وہ بری طرح ناکام ہوئے اور انہیں تجربات کے نتیجہ میں ہم آدھا ملک گنوا چکے ہیں اور یہ سلسلہ آگے بڑھا تو ملک کسی اورسانحہ سے دوچار ہو جائے گا۔
آج سلیمان شہباز کو ایف آئی اے نے تمام الزامات سے بری کر دیا ہے لیکن کوئی یہ نہیں پوچھے گا کہ سیاسی مقاصد کے لیے جھوٹے مقدمات بنانے والے کے لیے کوئی سزا ہونی چاہیے یا نہیں۔ کیا یہاں اپنے سیاسی مخالفین کو جان بوجھ کر جھوٹے مقدمات میں الجھایا جاتا رہا ہے۔ سابق چیئرمین نیب بلیک میل ہو کر عمران خان کے مخالفین کو اندر کرتے رہے۔ کتنے مقدمات تھے جو جھوٹے ثابت ہوئے۔ لمبی فہرست ہے جسے یہاں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ایف آئی اے کی جانب سے عدالت میں دیے گئے بیان میں کہا گیا کہ سلیمان شہباز کے خلاف منی لانڈرنگ اور کسی قسم کے کک بیکس کے ثبوت بھی نہیں ملے۔ایف آئی اے نے نومبر 2020 میں شہباز شریف اور ان کے بیٹوں حمزہ شہباز اور سلیمان شہباز کے خلاف انسداد بدعنوانی ایکٹ کی دفعہ 419، 420، 468، 471، 34 اور 109 اور اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کی دفعہ 3/4 کے تحت مقدمہ درج کیا تھا، سلیمان شہباز برطانیہ میں تھے اس لیے انہیں مفرور قرار دے دیا گیا تھا۔
اب بات کرتے ہیں قاسم علی شاہ کی۔ اچھا خاصا کاروبار چل رہا تھا اور ان کا خیال تھا کہ وہ باتوں سے عمران خان کو فتح کر لیں گے لیکن وہ تو اس سے بھی بڑا فنکار نکلا۔ موصوف آج کل سوشل میڈیا پر معافی مانگ رہے ہیں اور اپنے الفاظ کے درست معانی بیان کر رہے ہیں۔ خود کو موٹیویشنل سپیکر کہلانے والا آج خود موٹیویشن ڈھونڈ رہا ہے۔ ظفر اقبال کا شعر یاد آ رہا ہے
جھوٹ بولا ہے ظفر تو اس پہ قائم بھی رہو
آدمی کو صاحب کردار ہونا چاہیے
ان کے ساتھ مسٹر خپل جیسی ہو رہی ہے۔ باتوں سے راتوں رات محل بنانے والے کردار ہر معاشرے میں موجود ہوتے ہیں سو قاسم علی شاہ اپنے کام تک رہتے تو قابل قبول تھے انہوں نے سیاست کے چھتے میں ہاتھ کیا ڈالا کہ ہر طرف سے لعن طعن شروع ہو گئی۔ وہ معافیاں اس لیے مانگ رہے ہیں کہ ان کا سارا کاروبار ہی سوشل میڈیا کے ذریعے چلتا ہے اور سوشل میڈیا پر عمران خان کی اجارہ داری ہے۔ مجھے قاسم علی شاہ سے ہمدردی ہے حالانکہ میں ان کا فین ہوں نہ ان کی موٹیویشنل تقریروں کا رسیا ہوں۔ ان کو علم ہونا چاہیے تھا کہ اگر سوشل میڈیا پر کاروبار کرنا ہے تو ان کی مرضی اور منشا سے۔ شاہ جی اپنی ریاست بچانے کے لیے تمام تر جتن کر رہے ہیں تاہم ان کے خلاف تحریک انصاف کی مہم زوروشور سے جاری ہے۔ کردار سازی کرنے والے شاہ جی کا خود کردار یہ ہے کہ وہ اپنے الفاظ پر بھی قائم نہیں رہ سکے۔ آج وہ لوگوں کو بتا رہے ہیں کہ میرا مطلب کچھ اور تھا۔ عمران خان کا بھی یہ دعوی ہے کہ وہ قوم کی تربیت کر رہے ہیں اور شاہ صاحب بھی قوم کی تربیت کا فریضہ سر انجام دے رہے ہیں اور دونوں نے جو قوم تیار کی ہے وہ آج ہمیں سوشل میڈیا پر نظر ا رہی ہے۔ الحفیظ الامان۔

تبصرے بند ہیں.