!….جاڑوں کے وہ دن

46

ایک قومی معاصر کے اداراتی صفحے پر ملکی و قومی معاملات و مسائل کے حوالے سے لکھنے کی بجائے ذاتی یادوں یا یادداشتوں پر مشتمل کالم (اور وہ بھی کئی اقساط میں) لکھنا شائید زیادہ مناسب بات نہیں سمجھی جاسکتی تاہم اس کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے کہ میرے احباب اور قارئین (جن کا حلقہ شائید اتنا وسیع نہیں) وہ میری اس طرح کی تحریروں کو زیادہ پذیرائی بخشتے ہیں۔ اسی سے حوصلہ پا کر میں کبھی کبھار اس طرح کے موضوعات پر خامہ فرسائی کرلیتا ہوں۔”نئی بات“ کے اداراتی عملے کا ممنون ہوں کہ وہ میری اس طرح کی جسارت کو گوارا کئے چلے آ رہے ہیں۔ہاں تو ذکر گاؤں سے پنڈی تک کے سفر کاہو رہا تھا کہ تقریباََ چھ عشرے میں گاؤں سے پنڈی آنا جانا شروع ہوا تو اس میں کئی طرح کی مشکلات کا سامنا ہی نہیں کرنا پڑتا تھا بلکہ یہ سفر ایک طرح کا ایڈونچر بھی ہوتا تھا۔
اس دور کی کچی پکی سڑک پر دو اہم جگہوں ”چیر پڑوں“ اور ”گھنیری کسّی“ کا کئی بار ذکر آ چکا ہے۔ ”گھنیری کسّی“ کی اس سے قبل وضاحت ہو چکی ہے۔ آج ”چیر پڑوں“ کا تذکرہ کر لیتے ہیں۔ یہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ ”چیر پڑوں“ کے پتھریلے چٹانی سلسلے سے ایک حیران کُن اور کسی حد تک نا قابلِ یقین روایت بھی وابستہ ہے۔
”چیر پڑ“ میں چیر کا لفظ اردو میں مستعمل ہے۔ جس کا مطلب چِرے ہوئے ہونے یا پھٹے ہوئے ہونے کا ہے۔” پڑ” پوٹھوہار کے علاقے میں زمین میں جمے بڑے بڑے پتھروں یا پتھریلی چٹانوں کو کہتے ہیں۔ پنڈی کے جنوب مغرب میں تیرہ چودہ کلومیٹر کے فاصلے پر شرقاً غرباً تقریباً چار، پانچ کلومیٹر لمبا کم اونچی چٹانوں کا ایک سلسلہ ہے جسے اس کے چِرے یا کٹے پھٹے پتھروں کی بنا پر ”چیر پڑ“ کہہ کر پکارتے ہیں۔ سیاہی مائل یہ چٹانیں یا پڑ زیادہ اونچے نہیں اور ایسے ایستادہ ہیں کہ لگتا ہے جیسے کوئی گھڑ سوار اور پیدل ملا جلا لشکر کسی مہم پر جا رہا تھا اور اچانک اسے روک کر سل پتھر کر دیا گیا۔ ان پڑوں یا پتھریلی چٹانوں کو دیکھے ہوئے اب عرصہ ہو چکا ہے کہ گاؤں آنے جانے کے لیے اس پرانے راستے (کچی سڑک) پر اب گزر نہیں ہوتا۔ تاہم ان ” چیر پڑوں ” کے بارے میں کب سے سنی ہوئی ایک روایت میرے ذہن میں موجود ہے جس کا
تعلق راجا رسالو اور رانی کیتکی یا کونکلا ں سے جوڑا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ جو چری پڑی سیاہی مائل کم اونچی چٹانیں کھڑی ہیں یہ دراصل راجا رسالو کا تین چار کلومیٹر تک پھیلا ہوا لشکر تھا جسے کسی معصیت کی بنا پر سل پتھر کر دیا گیا۔ اس روایت میں کتنی حقیقت ہے یا نہیں اس سے قطع نظر راجا رسالو اور اس کی ایک رانی کا ذکر پرانے کتبوں میں ضرور ملتا ہے۔ یہ سطور لکھتے ہوئے میں نے اس بارے میں کچھ مزید جاننے کے لیے محبی مکرم و متحرم جبار مرزا سے جو ایک بڑے کالم نگار، معروف مصنف، خوب صورت شاعر، مستند مورخ اور سوانح نگار کے طور پر جانے جاتے ہیں اور خطہ پوٹھوہار کے بارے میں ان کی تحریریں ایک سند کا درجہ رکھتی ہیں سے رابطہ کیا تو انھوں نے راجا رسالو کے بارے میں تاریخی کتاب کا جو تحریری کلپ بھیجا وہ کچھ اس طرح ہے۔
"راجا رسالو دوسری صدی عیسوی کا ایک گجر بادشاہ تھا جو راجا سالباہن کا بیٹا تھا۔ یہ گجر پنوار خاندان سے تعلق رکھتا تھا۔ بھاٹوں کے لکھے ہوئے کتبوں کے مطابق یہ بکرماجیت (مشہور ہندو مہاراجا جس کے عہد سے بکرمی سال (دیسی سال) کا آغاز ہوتا ہے۔ جنوری 2023کے تیسرے ہفتے میں جب یہ سطور لکھی جا رہی ہیں تو بکرمی سال کا سن 2079 اور ماگھ کا مہینہ بنتا ہے) کے خاندان سے تھا۔جیسے باٹھوں کے شجروں میں گجر لکھا گیا ہے۔ راجا رسالو کی ماں کا نام رانی لونا ں تھا۔ راجا رسالو گندھارا تہذیب کا ایک نامور کردار ہے جس کی حکومت سیالکوٹ سے راولپنڈی (کے علاقوں) تک تھی۔ ” محترم جبار مرزا کے راجا رسالو کے بارے میں بھیجے گئے کلپ میں مزید لکھا ہوا ہے "ایک دن راجا رسالو میدان جوعیہ میں تھا۔ اس کی غیر حاضری میں اس کی بیوی)رانی کونکلاں یا کیتکی(گند کر (ہری پورکا مشہور پہاڑی سلسلہ) میں تھی اورایک دیو (راکشس) سے محبت جتا رہی تھی۔ رانی کی مینا اور طوطا بھی پاس ہی تھے۔ مینا کو رانی کی حرکات پسند نہ آئیں ا ور اس نے رانی کو ملامت کیا تورانی نے گردن مروڑ کر مینا کو مار دیا۔ طوطا وہاں سے اڑ گیا۔ طوطے نے رجوعیہ پہنچ کر دریائے دوڑ میں اپنے پر ڈبو کر راجا رسالو کے منہ پر پانی ڈالا۔ راجا کو جگا کر طوطے نے رانی کی بے وفائی کی داستان سنائی۔ یہ قصہ سن کر راجا سیدھا گندکر پہنچا۔ اس کے گھوڑے کے سموں کے نشان آج بھی ناڑا (نزدکھلابٹ) کے نالہ میں موجود ہیں۔ اس نے بیوی (رانی) اور دیو کو پیار محبت کرتے دیکھ لیا۔ بیوی کو وہیں قتل کر دیا لیکن دیو بھاگ کر غار کے اندر چلا گیا۔ راجا نے ایک بڑے پتھر سے غار کا منہ بند کر دیا۔ جب کبھی بھی وہ دیو باہر آنے کی کوشش کرتا تو پتھر دیکھ کر شور کرتے ہوئے واپس غار کے اندر چلا جاتا۔ لوگ روایت کرتے ہیں کہ بہت مدت تک گند کر پہاڑ سے ایک خوفناک آواز وقفے سے سنائی دیتی تھی۔”
میں محترم جبار مرزا کی طرف سے راجا رسالو کے بارے میں بھیجی گئی معلومات کے لیے ان کا مشکور ہوں ان سے اگر چہ یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ راجا رسالو اور ہمارے چٹانی سلسلے ”چیرپڑ“ میں کوئی تعلق جوڑتا ہے لیکن اتنی بات ضرور سامنے آتی ہے کہ راجا رسالو کوئی تاریخی کردار تھا اور اس کی رانی کا نام کیتکی یا کونکلاں تھا۔
خیر جیسے بھی ہو اس روایت کو میری بچپن کی سُنی ہوئی ایک اور روایت سے تقویت ملتی ہے۔ جس کی تفصیل کچھ ایسے ہے۔
”چیر پڑوں“ کے چٹانی سلسلے کے جنوب مغرب میں تقریباََ آٹھ دس کلو میٹر کے فاصلے پر اُونچے نیچے ٹبوں، ٹیلوں اور کسّیوں کا ایک سلسلہ بھی ہے۔ جسے”ٹونگی“ کہہ کر پکارا جاتا ہے۔اس میں خود رو جھاڑیاں،کیکر اور پھلاہی کے درخت وغیرہ بکثرت پائے جاتے ہیں۔ اس کا ہمارے گاؤ ں سے دریائے سواں کے پار جانب ِ شمال تقریباََ سات آٹھ کلو میٹر فاصلہ ہو گا۔ ہم چھوٹے چھوٹے تھے تو ٹبوں، ٹیلوں اور کسّیوں کے اس سلسلے کے دور سے دکھائی دینے والے مقابلتاََ دو اُونچے ٹیلوں کی طرف اشارہ کر کے بتایا جاتا کہ یہ راکشسوں (دیوؤں) کی ماں کا چولہا ہے۔جہاں دیوؤں کی ماں ہاتھ لمبا کر کے چار پانچ کلو میٹر دور بہنے والے دریائے سواں سے اپنے چلوؤں میں پانی بھر کر آٹا گوندھنے کے بعد روٹیاں پکایا کرتی تھی۔ مجھے یاد ہے کہ میں دیوؤں کی ماں کے چولہے سے منسوب اس جگہ یا ٹیلوں کو قریب سے دیکھنے کے لئے پنڈی جانے کے لئے آگے میرا خورد کے مقام سے بس پکڑنے کے لئے اپنے والد گرامی محترم لالہ جی مرحوم و مغفور کے ساتھ ایک بار پیدل یہاں سے گزرا تھا۔ خیر اس سے ہٹ کر دیوؤں کی ماں چولہے کی اس روایت اور ”چیر پڑوں“ کے حوالے سے راجہ رسالو کی روایت کو سامنے رکھا جائے تو ان کا باہم تعلق جُڑتا نظر آتا ہے۔ (ختم شد)

تبصرے بند ہیں.