پرویز الٰہی اور اْن کے ساتھ جْڑے ہوئے لوگ۔۔

25

چودھری پرویز الٰہی کی سیاست سے اختلاف کی اچھی خاصی گْنجائش نکل سکتی ہے مگر اْن کی کچھ انسانی و اخلاقی خوبیوں سے اختلاف کی ذرا گْنجائش نہیں نکلتی، اگلے روز جناب مجیب الرحمان شامی بتا رہے تھے کچھ روز پہلے وہ اپنے بیٹے عمر مجیب شامی اور اْن کے چھ سات سالہ صاحبزادے یعنی اپنے پوتے کے ساتھ وزیراعلیٰ پرویز الٰہی سے ملنے گئے، ڈرائنگ رْوم میں گپ شپ کے بعد وہ جب رخصت ہونے لگے شامی صاحب کے پوتے نے وزیراعلیٰ کے ساتھ تصویر بنوانے کی خواہش ظاہر کی، پرویز الٰہی بولے ”تصویر ایسے نہیں بنے گی“ وہ اْس بچے کی اْنگلی پکڑ کر اْسے اپنے ساتھ لے کر اپنے دفتر آگئے وہاں اْسے اپنی کْرسی پر بیٹھایا اور خود پیچھے کھڑے ہو کر تصویر بنوائی۔۔ یہ اْن کی اعلیٰ ظرفی کی کوئی پہلی مثال نہیں ہے، ایسی کئی مثالیں اْنہوں نے قائم کیں، ایک واقعہ میرے ساتھ بھی پیش آیا، جنرل مشرف کے دور میں وہ جب وزیراعلیٰ پنجاب تھے مونس الٰہی کے بارے میں لکھا ہوا میرا ایک کالم اْنہیں بہت ناگوار گزرا، چودھری پرویز الٰہی کی اپنے صاحبزادے مونس الہٰی کے ساتھ محبت کا یہ عالم ہے وہ اپنے خلاف لکھی یا کہی جانے والی کوئی بات بڑی آسانی سے ہضم کر سکتے ہیں مونس الٰہی کے خلاف لکھا یا بولے جانے والے الفاظ اْن کے لئے بہت تکلیف دہ ہوتے ہیں، اْنہیں اتنی آسانی سے وہ ہضم نہیں کرتے، اس کالم پر وہ مجھ سے ناراض ہوگئے اور اپنی روایت سے ہٹ کر کچھ ایسے اقدامات کیے جو میرے لئے اچھے خاصے تکلیف دہ تھے، میرا خیال تھا وہ اب مجھ سے کبھی راضی نہیں ہوں گے، کچھ دنوں بعد اْنہوں نے لاہور میں صحافی کالونی کی بنیاد رکھی، وہاں تقریباًتمام کالم نویسوں کو پلاٹ الاٹ کئے، میرا نام اْن میں شامل نہیں تھا نہ مجھے اس کی کوئی توقع یا خواہش تھی، یہ پلاٹ مفت میں الاٹ نہیں کئے جا رہے تھے، ابتداء میں اس کا ایک ریٹ مقرر کیا گیا اور صحافیوں کو یہ سہولت دی گئی وہ یہ رقم آسان قسطوں میں ادا کر دیں، یہ رقم پلاٹ کی ویلیو کے مطابق بہت کم تھی، ایک روز مجھے اْن کے میڈیا ایڈوائزر چودھری محمد اقبال کی کال آئی کہنے لگے”وزیراعلیٰ پرویز الٰہی آپ سے ملنا چاہتے ہیں آپ ابھی 7 کلب روڈ تشریف لے آئیں، میں وہاں پہنچا تو ایک فائل میرے ہاتھ میں تھماتے ہوئے وہ بولے ”یہ میں نے آپ کو پلاٹ الاٹ کیا ہے“۔۔ مجھے بڑی حیرت ہوئی کہ یہ تو مجھ سے اچھے خاصے ناراض تھے مجھے کیسے پلاٹ الاٹ کر دیا؟ میں نے اْن کا شکریہ ادا کرتے ہوئے عرض کیا ”میرے مرحوم دوست دلدار پرویز بھٹی کی بیوہ کے پاس سر چْھپانے کی کوئی جگہ نہیں وہ ابھی تک ایک سرکاری مکان میں رہ رہی ہیں ہر دو تین ماہ بعد حکومت کی طرف سے اْنہیں یہ مکان خالی کرنے کا نوٹس مل جاتا ہے آپ یہ پلاٹ اْنہیں الاٹ کر دیں“۔۔ وہ بولے ”نہیں یہ پلاٹ تو آپ کو ہی الاٹ کیا ہے اْن کے لئے میں یہ بندوبست کرتا ہوں آئندہ اْنہیں سرکاری مکان خالی کرنے کا کوئی نوٹس نہیں ملے گا“ اْس کے بعد جب تک پرویز الٰہی وزیراعلیٰ رہے بیگم دلدار پرویز بھٹی کو مکان خالی کرنے کا کوئی نوٹس نہیں ملا، اس میں ایک بڑا کردار جی ایم سکندر کا بھی تھا، اْنہیں ریٹائرڈ ہوئے کئی برس بیت گئے، ہمارے ہاں عمومی روایت یہ ہے ریٹائرمنٹ کے بعد کسی افسر کو اْس کے گھر والے بھی منہ نہیں لگاتے، جی ایم سکندر آج بھی ہمارے دلوں میں بستے ہیں، اس کی بنیادی وجہ یہ ہے وہ جب بڑے بڑے عہدوں پر تھے خصوصاًوہ جب وزیراعلیٰ غلام حیدر وائیں اور وزیراعلیٰ پرویز الٰہی کے پرنسپل سیکریٹری تھے ایسی عاجزی اْنہوں نے اختیار کئے رکھی جو اس لیول کا کوئی بیوروکریٹ نہیں کرتا، کسی کو تنگ نہیں کیا، کسی کا کام اگر نہ ہونے والا ہوتا اْس کے لئے بھی کوئی نہ کوئی راستہ نکالنے کی وہ کوشش کرتے، اگلے روز میرے بیٹے کی شادی پر اتنے لوگ بڑے بڑے حاضر سروس افسران کے ارد گرد نہیں تھے جتنے جی ایم سکندر کے ارد گرد تھے۔۔ پرویز الٰہی کیساتھ جْڑے ہوئے محمد خان بھٹی بھی انتہائی کْھلے دل سے لوگوں کے کام آتے ہیں، ایسے ہی اتنے نچلے مقام سے اْٹھ کر اتنے اعلیٰ مقام پر وہ نہیں پہنچ گئے، کچھ لوگ کچھ حوالوں سے اْن پر تنقید بھی کرتے ہیں مگر میرے ذاتی تجربے کے مطابق وہ ایک انتہائی ہمدرد انسان ہیں، میں نے جب بھی کسی مستحق کی مدد کے لئے اْن سے کہا اْنہوں نے ذرا سْستی نہیں دیکھائی، ابھی پچھلے ہفتے میں چار مستحق لوگوں کو لے کر اْن کے پاس گیا، میرا خیال تھا ایک آدھ کا کام وہ کر دیں گے باقیوں کو ٹال مٹول کے”کہوہ کھاتے“ میں ڈال دیں گے، یقین کریں جب تک اْن چاروں مستحقین کے اْنہوں نے مسائل حل نہیں کر دئیے مجھے اپنے دفتر سے نہیں جانے دیا، اْس روز میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا جو کوئی اپنا مسئلہ لے کر اْن کے پاس آیا کْھلے دل سے اْنہوں نے اْس کا مسلۂ حل کیا، کسی کو”ناں“ نہیں کی، مجھے اْس موقع پر اپنے مرحوم دوست دلدار پرویز بھٹی یاد آگئے، ایک روز اْس وقت کے ایک انتہائی عظیم اور نفیس سیکریٹری ایجوکیشن قاضی آفاق حسین سے اْنہوں نے کہا ”قاضی صاحب آپ تو کسی کو”ناں“ ہی نہیں کرتے، آپ کا بچپن تو اچھی خاصی تکلیف میں گزرا ہوگا“۔۔ اگلے روز مجھے محمد خان بھٹی کا فون آیا فرمانے لگے ”کل ہماری وزارت اعلیٰ کا آخری روز ہے کوئی مزید ہمارے لائق حکم ہو تو ابھی بتا دیں ابھی حل ہو جائے گا“۔۔ میں نے اْن کا شکریہ ادا کیا اور کہا”آپ کا اقتدار سدا بہار ہے، آپ اقتدار میں نہ بھی ہوں آپ کے کام نہیں رْکتے“۔۔ پرویز الٰہی کے ساتھ جْڑے ہوئے ایسے ہی ایک اور شخص کو چودھری محمد اقبال کہتے ہیں، وہ اْن کے میڈیا ایڈوائزر ہیں، اْن کے ساتھ میرا تعلق بہت پْرانا ہے، اْن کے ایک برادر نسبتی چودھری محمد شفیق سید میٹھا بازار لاہور میں ہمارے ہمسائے ماں جائے تھے، چودھری محمد اقبال نے چودھری پرویز الٰہی کے لئے اپنی خدمات کو اپنی صحافی برادری کے حق میں جس طرح کیش کروایا اْس کی مثال نہیں ملتی، جرنلسٹ کالونی کبھی نہ بنتی اگر چودھری محمد اقبال وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی کو اس کار خیر پر مائل یا قائل نہ کرتے، آج بے شمار مستحق صحافیوں کے پاس سر چْھپانے کی جگہ اگر ہے اس کا کریڈٹ چودھری محمد اقبال کو جاتا ہے، اْنہوں نے اہل صحافت کے ساتھ اپنی محبت کا حق جس طرح ادا کیا کوئی نہیں کرتا۔۔ میں سوچ رہا تھا ایسے ہی لوگوں کی وجہ سے چودھری پرویز الٰہی کو زندگی میں ایسی ایسی زبردست کامیابیاں ملیں جن کا لوگ تصور نہیں کر سکتے تھے اور ایسے ہی لوگوں کی وجہ سے ہمیں یقین ہے آئندہ اقتدار یا سیاست میں بھی چودھری پرویز الٰہی کا کردار زندہ رہے گا۔۔

تبصرے بند ہیں.