عمران خان کے دور میں پاکستان میں 41 صحافی قتل ہوئے ، صرف ایک قاتل گرفتار ہوا

5

 

اسلام آباد (سردار شیراز خان) سینیٹ کو بتایا گیا کہ گزشتہ چار سال 42 صحافی قتل ہوئے۔ 41 صحافی عمران خان جبکہ ایک صحافی (ارشد شریف) شہبازشریف کے دور میں قتل ہوئے ۔ پنجاب میں پندرہ ، سندھ میں گیارہ  کے پی کے تیرہ اور بلوچستان میں تین صحافی قتل ہوئے ہیں ۔وزیر پارلیمانی امور  مرتضی جاوید عباسی نے بتایا کہ  صحافیوں کے قتل میں صرف ایک قاتل گرفتار ہوا ہے ۔

 

سینیٹ اجلاس کی صدارت چئیرمین صادق سنجرانی نے کی ۔ سینیٹر مشاق نے کہا کہ حملوں میں ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی اور اگر ان تمام صحافیوں کے ملزم پکڑے جاتے تو ارشد شریف شہید نہ ہوتے۔

 

انہوں نے کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت صحافیوں کو تحفط دینے میں ناکام ہے، اس پر وزیر پارلیمانی امورمرتصی جاوید عباسی کہا کہ صحافیوں کا شہید ہونا تشویشناک ہے، وزرات داخلہ اور اطلاعات صحافیوں کے حوالے سے رپورٹ ایوان میں پیش کرے۔

 

ان کا کہنا تھا میں بھی حیران ہوں کہ 50 فیصد صحافیوں کے قاتل نہیں پکڑے گے۔صحافی حق اور سچ کی تلاش میں اپنی جان گوا دیتا ہے، کامران مرتضیٰ نے کہا کہ جو صحافی شہید ہوئے وہ کن کے خلاف سرگرم تھے جب معلوم ہوگا تو قاتل بھی پکڑے جائیں گے۔

 

وزیر مملکت برائے قانون شہادت اعوان نے بتایا کہ ایم ایل ون منصوبہ 9.8 ارب ڈالر لاگت آۓ گی اور منصوبے کو مکمل ہونے کیلئے دس نو سال کا دورانیہ مقرر کیا گیا ہے۔

 

وزیر مملکت برائے داخلہ عبدالرحمن کانجو نے اجوان کو بتایا کہ نادرا میں ملازمین اور افسران کو ترقیاں دی گئی ہیں۔نادرا میں ایک طریقہ کار طے ہے اُس کے تحت ترقیاں کی جاتی ہیں ۔انکوں نے بتایا کہ افغانیوں کے پاکستان میں شناختی کارڈ بنے ہیں  جاری شدہ شناختی کارڈ کی تصدیق کا عمل جاری ہے۔

تبصرے بند ہیں.