کشمیریوں کو دوسرے درجے کا شہری بنانے کی سازش

12

غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیرمیں کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما اور ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی کے چیئرمین شبیر احمد شاہ نے نئی دہلی کی تہاڑ جیل سے اپنے ایک پیغام میں جموں و کشمیر کے متنازع علاقے میں قابض حکام کی طرف سے مسلمانوں کی زمینوں اور جائیدادوں کو ضبط کرنے کی شدید مذمت کی ہے اور کہا کہ کشمیری مسلمانوں کی جبری بے دخلی اور زمینوں اور جائیدادوں پر غیر قانونی قبضہ انہیں دوسرے درجے کے شہری بنانے کی بی جے پی حکومت کی پالیسی کا حصہ ہے۔
مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی قابض فوج نے تحریک آزادی کو دبانے کے اپنے تمام حربو ںمیں ناکامی کے بعد کشمیریوں کو اقتصادی طور پر کمزور کرنے کے مذموم منصوبہ پر عمل شروع کرتے ہوئے زرعی زمینوں پر قبضے کرنا شروع کردئیے ہیں۔ ان زرعی زمینوں پر زبردستی قبضہ کرکے فوجی کیمپس قائم کئے جارہے ہیں۔ اسی منصوبے کے تحت امیرحزب المجاہدین اور متحدہ جہاد کونسل کے چیئرمین سید صلاح الدین کے آبائی علاقے سویہ بگ بڈگام میں قابض فوج نے لوگوں کی زرعی اراضی پر زبردستی قبضہ کرکے وہاں فوجی کیمپ قائم کیا جب لوگوں کو اس کی اطلاع ملی تو لوگ گھروںسے باہر آئے اور انہوں نے اپنی زمینوں پر قبضہ کرنے پر بھارتی فو ج کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے۔
سابق بھارتی فوجیوں کیلئے پہلی کالونی کی تعمیر کے لئے بڈگام میں25ایکڑ اراضی کی نشاندہی کر لی گئی، ایک سینئر کشمیری حکومتی عہدیدار نے بتایا سابق فوجیوں اور انکے خاندانوں کو آباد کرنے کے لئے یہاں پہلی کا لونی بنا رہے ہیں۔بیورو کریٹک پراسیس مکمل کرنے کے بعد ٹرانسفر کا عمل شروع ہو گا۔وادی میں انتخابی حلقوںکی حد بندی میں ایک سازش کے تحت ردوبدل کر کے وادی کشمیر کے مسلم اکثریتی شناخت کو تبدیل کرنا ہے۔ مسلم اکثریتی حلقوں کو تقسیم کیا جائے گا اور نئی حلقہ بندی میں ہندو آبادی کو شامل کیا جائیگا اور ان کی اکثریت ثابت کرنے کی کوشش کی جائے گی اور جن علاقوں میں ہندو اکثریت نہیں ہوگی وہاں نئے ووٹر بنا کر نئی بستیاں بنائی جائیں گی۔ اس نئی سازش کے تحت مقبوضہ کشمیر میں مسلم اکثریتی علاقوں کو کانٹ چھانٹ کر ان کی حیثیت کو تبدیل کرنے کا عمل سرفہرست ہے۔ بھارت کے اس مذموم منصوبے کی کشمیری عوام کی طرف سے شدید مذمت اور مزاحمت کا سلسلہ پہلے سے جاری ہے۔ بھارت کے اس طرزعمل سے وادی کشمیر میں ہندو اور مسلم کشمیریوں کے درمیان قائم روایتی بھائی چارے کی فضا ختم ہوسکتی ہے۔ کشمیری کسی بھی قیمت پر اپنی اکثریت اور ثقافت کو ختم کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
بھارت کے زیرقبضہ جموں کشمیر میں سرینگر ہوائی اڈے سے ملحقہ علاقوں کے لوگوں نے احتجاج کرتے ہوئے بھارتی فضائیہ اور ہوائی اڈے کے حکام سے ان کی زمینیں خالی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔سرینگر کے علاقوں نارو ، اچھگام اور گڈسوتھ سے تعلق رکھنے والے سیکڑوں لوگ پریس انکلیو سری نگر میں جمع ہوئے اور اپنے مطالبات کے حق میں نعرے بازی کی۔
کشمیریوں کا کہنا ہے کہ یہ زمینیں کریوا ڈمڈور کے علاقے میں آتی ہیں جو مجموعی طور پر 168کنال ہے اور 1947ءسے بھارتی فضائیہ اور سرینگر ہوائی اڈے کے حکام کے قبضے میں ہے اور ہمیں صرف 155 روپے فی کنال مل رہے ہیں۔ بھارتی فضائیہ اور ایئرپورٹ کے زیراستعمال ان کی زمین کا حساب نہیں لیا جا رہا ہے۔ہم اس سلسلے میں حکام کو لکھتے رہے ہیں لیکن ہمیں کوئی جواب نہیں ملا۔ یہ ایک مذاق ہے کہ ہمیں ماہانہ 155 روپے دیے جاتے ہیں اور وہ بھی کئی مہینوں کی تاخیر کے بعد ملتے ہیں۔ انہیں 155 روپے کی جو معمولی رقم ملتی ہے وہ بھی 7ماہ کے عرصے کے بعد جاری کر دی جاتی ہے اور رقم جاری کرانے کے لئے انہیں اپنی جیب سے پیسے خرچ کرنا پڑتے ہیں۔ زمین کے مالکان نے مطالبہ کیا کہ ہمیں زمین واپس دی جائے۔ ہم کسی بھی طرح کا معاوضہ نہیں چاہتے۔
اگر مقبوضہ کشمیر کی بات کریں توحالیہ دنوں بھارتی فورسز کا گھناﺅنا منصوبہ سامنے آیا ہے۔وادی میں آبادی کے قریب توپخانہ نصب کر دیا گیا جس کی وجہ سے مقامی آبادی نے نقل مکانی شروع کر دی۔بھارتی سرکار کا تو مقصد ہی یہی ہے کہ کسی طرح کشمیری اپنا گھر بار چھوڑ کر چلے جائیں اور وہ غیر کشمیریوں کو یہاں آباد کر سکے۔
کسی نہ کسی بہانے مسلمانوں کو تنگ کرنے کی بی جے پی کی ایک گھناؤنی تاریخ ہے۔ جبکہ بھارتی فوج، پولیس اور پیراملٹری فورسز نے جموں خطے اور وادی کشمیر کے مختلف علاقوں میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔راجوری، پونچھ اور ریاستی اضلاع کے مختلف علاقوں میں بھارتی فوج اور سنیٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کی طرف سے محاصرے اور تلاشی کی کارروائیاں آج 18 ویں روز بھی جاری ہیں۔
نیشنل کانفرنس کے صدر فاوق عبداللہ نے کہا ہے کہ تنازع کشمیر اس وقت تک ختم نہیں ہو گا جب تک بھارت پاکستان سے بات نہیں کرتا اور کئی دہائیوں سے جاری تنازع کشمیر کا کوئی حقیقی حل تلاش نہیں کرتا۔

تبصرے بند ہیں.