مٹھائیاں بٹنے کے دن سر پر آ پہنچے

21

میرے خیال میں رجیم چینج کا پہلا ہدف پاکستان کا سیاسی، سماجی اور معاشی استحکام تھا اور اب تک کے نتائج سے ثابت ہوتا ہے کہ کم از کم پہلا ہدف تو حاصل کر لیا گیا ہے۔ یہ بھی ممکن ہے دوسرا ہدف ریاست کو مزید کمزور اور عوام کو مزید مفلوج کرنا ہو۔ پاکستان کی تاریخ سے ثابت ہوتا ہے کہ جمہوریت اور مارشل لا دونوں نے ملک یا عوام کو فائدہ دینے کے بجائے ہمیشہ مقتدر طبقے کو ہی فائدہ پہنچایا ہے۔ آج کل پھر اسی سیاسی انجینئرنگ کا رونا پیٹنا سننے میں آ رہا ہے جس کے بغیر پاکستان میں الیکشن کا رواج نہیں ہے۔ البتہ فرق صرف اتنا ہے کہ آج پولیٹیکل انجینئرنگ کے ٹولز پرانے اور اسے ایکسپوز کرنے کا نظام نیا ہے۔ اس وقت سوشل میڈیا نے انجینئرز کو ناکوں چنے چبوا کے رکھ دیے ہیں اور انہیں سمجھ نہیں آ رہی کہ اس کا سد ِ باب کیسے کریں۔ انجینئرز کے پاس تگڑی پراپیگنڈا مشینری ہونے کے باوجود اور وسائل کی بھرمار کے باوجود سوشل میڈیا کی چھاو¿ں میں پل کر جوان ہونے والی نسل کا مقابلہ کرنا ان کے لیے مشکل ہی نہیں ناممکن نظر آ رہا ہے۔ الٹا دوسری طرف سے حکومتی اداروں کی ایسی ایسی کمزوریاں پیش کی جا رہی ہیں کہ
”ہنستے ہنستے آنکھ میں آنسو آ جاتے ہیں“
ذوالفقار علی بھٹو کے وقت بھی پاکستان کے ساتھ یہی کچھ کیا گیا تھا۔ اس وقت بھی پاکستان کو انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ کے چنگل سے نکالنے کی کوشش کی گئی تھی اور قومی اتحاد کے نام سے پورے ملک کی جماعتوں کا الائنس بھٹو کی مخالفت میں سامنے لایا گیا تھا لیکن اس وقت بھٹو کے مقبول ترین عوامی لیڈر
ہونے کے باوجود لوگ بھٹو کو بچانے کے لیے اس طرح کبھی نہیں نکلے تھے جیسے آج صرف عمران خان کی گرفتاری کی کوشش کے خدشے پر صرف ایک ٹویٹ ہونے پر نکل آتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بھٹو کے فالوورز آج کے فالوورز سے زیادہ نظریاتی، زیادہ میچوئر اور زیادہ فدائی تھے لیکن اس وقت مقتدر قوتوں کو سوشل میڈیا کا سامنا نہیں تھا۔ چند اخبارات اور قومی ٹی وی، ریڈیو کو داڑھ کے نیچے دبا کے رکھنا اسٹیبلشمنٹ کے لیے چنداں مشکل نہیں تھا نہ ہی بھٹو کے مقابل کھڑی جماعتوں کے حالات اتنے پتلے تھے جتنے آج ہیں۔ آج گزشتہ تیس سال سے اقتدار اقتدار کھیلنے والی سیاسی جماعتیں بشمول اپنے لیڈرز کے جس بُری طرح بے نقاب ہوئی ہیں ان کو شاید خود اندازہ نہیں۔ پاکستان کی ترقی، خوشحالی اور استحکام کے دعووں کے پیچھے چھپی اقتدار پرستی بچے بچے کو سمجھ آ چکی ہیں۔ ہر حال میں اقتدار میں شمولیت کے لیے کچھ بھی کر گزرنے والے لیڈرز کو اندازہ ہی نہیں کہ بائیس کروڑ عوام کے دل بے بسی، غم و غصے اور نفرت سے بھر چکے ہیں۔ جس کا مظاہرہ ہمیں اس وقت دیکھنے کو ملتا ہے جب ان میں سے کوئی بھی گھروں سے باہر نکل کر عوام میں جانے کی کوشش کرتا ہے۔ ایون فیلڈ لندن کے باہر شریف فیملی کی روزانہ کی بنیاد پر ہونے والی درگت ہم آئے دن دیکھتے رہتے ہیں۔ بلاول، حمزہ اور مریم نواز کا جو امیج پاکستانی عوام کے ذہنوں پر نقش ہو چکا ہے اگر ان کو اندازہ ہو جائے تو اتنا بے حس ہونے کے باوجود یہ اگلے جہان سدھارنے کا سوچنے لگیں۔ اس پہ مزید یہ کہ اقتدار میں گزرنے والا ان کا ایک ایک لمحہ لوگوں کے دلوں میں ان کے خلاف نفرت کی آگ کو تیز سے تیز تر کرتا جا رہا ہے۔ گزشتہ دس بارہ مہینے جتنے پاکستان اور پاکستانی عوام پر بھاری پڑے ہیں، ملک کے ساتھ ساتھ بچا ان کے پلے بھی کچھ نہیں۔ آصف علی زرداری کو پیپلز پارٹی کی قیادت حادثے میں ملی اور ساری پارٹی حادثے کا شکار ہو گئی۔ جوڑ توڑ کے ماہر ہونے کا تاثر تو ان کا بن گیا لیکن عوامی سیاستدان ہونے کا کبھی نہیں بن پایا۔ اور بن بھی کیسے سکتا ہے کہ جس پارٹی کی بنیاد نظریے پر رکھی گئی ہو اور جسے ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بینظیر جیسے لیڈر ملے ہوں جن کی سچائی کی گواہی ان کی شہادتوں نے دی ہو، آصف علی زرداری جیسے مزاج کا آدمی اس پارٹی پر گرفت پا کر بھی ورکرز کے دلوں میں جگہ نہیں بنا سکتا۔ نوازشریف کی بدقسمتی دیکھئے کہ ایک مقبول عوامی لیڈر کا مقام بھی ملا، بار بار وزارت عظمیٰ بھی ملی لیکن آج دو کوڑی کی پوزیشن نہیں بھی رہ گئی۔ بار بار اسٹیبلشمنٹ سے ڈسے جانے کے باوجود آج پھر انہیں کے مرہون منت بنا دیے گئے ہیں۔ دنیا بھر میں کہیں بھی چلے جائیں سڑک پر نکلنے کے قابل نہیں رہ گئے۔ اسٹیبلشمنٹ کا حال ان سے بھی بُرا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ کسی طرف سے نہ تو اس صورت حال کے درست اندازہ اور تجزیہ کر پانے کا احساس ہو رہا ہے اور نہ ہی ان کو یہ شعور آتا دکھائی دے رہا ہے کہ اقتدار سے چمٹے رہ کر گزارا جانے والا ایک ایک دن ان کو ان کی سیاسی قبروں کی طرف گھسیٹتا لے جا رہا ہے۔ اگر پاکستان کی مملکت اور عوام عذاب کی دہلیز پر پہنچ چکے ہیں تو حالات ان کی سیاست کے بھی مختلف نہیں اور ادھر مٹھائیاں بٹنے کے دن سر پر پہنچ گئے ہیں۔

تبصرے بند ہیں.