مقبولیت کی حقیقت کھل گئی

21

پنجاب اور خیبر پختونخوا کی اسمبلیاں تحلیل ہو چکی ہیں اور اب نگران سیٹ اپ کا انتظار ہے لیکن آج ہمارا موضوع کچھ اور ہے۔ تحریک انصاف نے جب لانگ مارچ کا اعلان کیا تو کہا گیا کہ پورا لاہور امڈ کر آ جائے گا نتیجہ یہ نکلا کہ جنھوں نے آنا تھا وہ بھی یہ سوچ کر نہیں آئے کہ جب پورے لاہور نے آہی جانا ہے تو ہمیں جانے کی کیا ضرورت ہے اور لاکھوں کا مجمع کیا ہونا تھا الٹا لانگ مارچ کو جاری رکھنا مشکل ہو گیا اور پھر لانگ مارچ کے نام پر ہر روز شام کے وقت جلسہ جلسہ کھیل کر کام چلایا گیا۔ راولپنڈی میں آخری جلسے کی بات آئی تو 25تیس لاکھ سے کم پر تو بات ہی نہیں ہوتی تھی لیکن جب دیکھا کہ پچیس 30ہزار بندے بھی نہیں آئے تو دھرنا پروگرام کو ختم کر دیا گیا اور آخری کارڈ پنجاب اور خیبر پختونخوا کی صوبائی اسمبلیاں کو تحلیل کرنے پر بات ختم ہوئی۔تحریک انصاف کی قیادت کے دعووں اور حقیقت میں کتنا فرق ہے اس کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ جب بھی عوامی مقبولیت کی بات ہوتی ہے تو دو تہائی اکثریت سے کم پر کچھ کہنا اپنی شان کے خلاف سمجھا جاتا ہے لیکن سندھ میں ہونے والے بلدیاتی الیکشن کے فیز 2کے نتائج نے مقبولیت کے ان تمام دعوؤں کو ایک ہی ہلے میں زمیں بوس کر دیا ہے۔ 2018کے انتخابات میں تحریک انصاف کو کراچی کی 21میں سے 14نشستیں ملی تھیں لیکن بلدیاتی انتخابات میں شکست فاش کاسامنا کرنا پڑا۔کراچی میں کل 246میں سے235نشستوں پر انتخابات ہوئے جبکہ گیارہ پر امیدواروں کے انتقال کی وجہ سے الیکشن ملتوی ہو گئے تھے۔تحریک انصاف ان میں سے صرف 40سیٹوں پر کامیابی حاصل کر سکی جبکہ جماعت اسلامی 88 سیٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر اور پاکستان پیپلز پارٹی 91 سیٹوں کے ساتھ سب سے بڑی جماعت کے طور پر سامنے آئی ہے۔ جو نتائج آئے ہیں ان پر ہر جماعت اپنے انداز سے تبصرے اور تجزیے کر رہی ہے لیکن کوئی کچھ بھی کہے ان نتائج نے ایک بات تو بہر حال ثابت کر دی کہ پورے پاکستان سے عمران خان کی نام نہاد مقبولیت کے ڈھول پیٹ کر جس دو تہائی اکثریت کے دعوے کئے جا رہے تھے ان کی حقیقت کھل کر سامنے آ گئی ہے اور مقبولیت کا جو بھرم تھا وہ کراچی کے بیچ چوراہے میں ٹوٹ کر چکنا چور ہو چکا ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کی اندرون سندھ کامیابی کو جو لوگ ہمیشہ دھونس دھاندلی سے تعبیر کرتے تھے ان کے لئے سندھ کے شہروں کراچی اور حیدر آباد میں کامیابی کو ہضم کرنا مشکل ہو رہا ہے اور انھیں سمجھ نہیں آ رہی کہ اس پر دل کے پھپھولے کس طرح پھوڑیں کیونکہ اندرون سندھ تو اس جماعت کی کامیابی کا سہرا تو وڈیرہ شاہی کی دھونس دھمکی کے نام کر دیا جاتا تھا لیکن اب شہروں میں تو وڈیرے نہیں ہوتے لہٰذا جمہوری اقدار و اخلاقیات کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ سمجھ نہیں آتی لوگوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کو ووٹ کس وجہ سے دیئے ہیں۔ جب ضمنی الیکشن میں تحریک انصاف نے بیس میں سے پندرہ سیٹیں اور پھر آٹھ میں سے چھ سیٹیں جیتی تھی اس وقت ان لوگوں کو یہ بات یاد نہیں آئی کہ خان صاحب نے اپنے چار سالہ وزارت عظمیٰ کے دور میں کیا تیر مار لئے تھے کہ لوگ انھیں ووٹ دے کر جتوا رہے ہیں۔ انتخابات نے جہاں تحریک انصاف کی نام نہاد مقبولیت کے دعوؤں کی حقیقت کھول کر سامنے رکھ دی ہے تو وہیں پر سیلاب متاثرین کے حوالے سے سندھ حکومت پر جو کیچڑ اچھالا جاتا تھا اس کی بھی نفی کر دی ہے۔حد تو یہ ہے کہ الیکشن سے پہلے جب بات کی جاتی تھی تو یہی لوگ انتہائی نخوت سے کہتے تھے کہ مقابلہ تو جماعت اسلامی اور تحریک انصاف میں ہے۔ اب نتائج آ چکے
ہیں اور دیکھنا یہ ہے کہ کراچی کا مئیر کس جماعت سے بنتا ہے فی الحال تو کسی جماعت کے پاس اکثریت نہیں ہے لیکن کس کے پاس کتنی عددی اکثریت ہے اس کا پتا مخصوص نشستوں کے انتخابات کے بعد چلے گا اور اس کے بعد ہی مئیر کراچی کے حوالے سے کوئی یقینی بات کی جا سکتی ہے۔ کراچی سے بلدیاتی انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی نے پہلی مرتبہ کامیابی حاصل نہیں کی بلکہ جنرل ضیاء کے دور میں 1979کے بلدیاتی انتخابات میں بھی پاکستان پیپلز پارٹی نے اکثریت حاصل کی تھی لیکن دھونس دھاندلی سے جماعت اسلامی کے مئیر عبد الستار افغانی کو مئیر کراچی بنایا گیا جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے عبد الخالق اللہ والا ڈپٹی مئیر بنے۔
کچھ جماعتیں نتائج میں تاخیر کو لے کر دھاندلی کا کہہ رہی ہیں اور اس بات کو بھول جاتی ہیں کہ اس مرتبہ تمام نتائج تیس گھنٹوں میں آ چکے تھے جبکہ 2015میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے نتائج کو مکمل ہونے میں تین دن لگ گئے تھے اور یہ بات بھی بھول جاتے ہیں کہ 2018کے الیکشن میں کراچی کے حلقوں کے نتائج کتنی دیر میں آئے تھے۔ آج جماعت اسلامی اگر ان نتائج پر احتجاج کر رہی ہے تو سوال یہ ہے کہ 2018کے الیکشن میں جماعت اسلامی کو کتنی نشستیں ملی تھیں تو اس وقت احتجاج کیوں نہیں کیا گیا بہر حال پر امن احتجاج ہر جماعت کا آئینی اور جمہوری حق ہے لیکن اس میں اتنا ضرور سوچنا چاہئے کہ شہر قائد میں بڑے عرصہ بعد ایک مختلف قیادت ملی ہے اوراسے بھی موقع ملنا چاہئے کہ وہ کراچی کے مسائل سے کس طرح نمٹتی ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ موقع احتجاج کی نذر ہو جائے اور تحریک انصاف اگر دھاندلی کی بات کرتی ہے تو اسے بات کرنے سے پہلے لیاری سے اپنے رکن اسمبلی سے پوچھنا چاہئے کہ ضمنی انتخابات سے پہلے استعفیٰ واپس کیوں لیا گیا تھا اس لئے کہ اگر وہاں سے تحریک انصاف کے جیتنے کے امکانات ہوتے تو وہ کبھی اپنا استعفیٰ واپس نہ لیتے اور پھر ملیر کی سیٹ پر خود عمران خان الیکشن لڑ رہے تھے لیکن انھیں ایک بڑے مارجن سے شکست ہوئی تھی۔کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر اور ملک کا معاشی حب ہے اس لئے یقینا ان انتخابات کی اپنی ایک اہمیت ہے۔ اگر تو کراچی کا مئیر پاکستان پیپلز پارٹی کا ہوا تو گذشتہ پینتیس سال سے کراچی کی قیادت اور سندھ حکومت کے درمیان وسائل کی جنگ اور چپقلش کا جو ماحول تھا وہ ختم ہو جائے گا اور یہی صورت حال حیدر آباد میں ہو گی کہ جہاں تاریخ میں پہلی مرتبہ پاکستان پیپلز پارٹی کا مئیر بننے جا رہا ہے اور امید ہے کہ اس سے کراچی اور حیدر آباد کے مسائل کے حل اوران دونوں شہروں کی ترقی کی راہیں بھی کھلیں گی لیکن ان انتخابی نتائج کا اثر صرف کراچی یا سندھ تک محدود نہیں رہے گا بلکہ نوے دن بعد پنجاب اور خیبر پختون خوا میں ہونے والے انتخابات پر بھی پڑے گا اور خان صاحب کی نام نہاد مقبولیت کے بل بوتے پر جس دو تہائی اکثریت کا پروپیگنڈا کیا جا رہا تھا کراچی کے انتخابی نتائج نے اس دو تہائی اکثریت کے خواب کو چکنا چور کر دیا ہے اور الیکٹرانک میڈیا کے ہمارے کچھ دوست جو دو تہائی اکثریت کے پروپیگنڈا کے قائل ہو رہے تھے انھیں بھی ان نتائج سے سمجھ آ جانی چاہئے کہ لاکھ کوشش کے باوجود بھی خان صاحب کی موجودگی میں جب لانگ مارچ میں دو ڈھائی ہزار سے زیادہ بندے نہیں آ سکے تو دو تہائی اکثریت کی باتیں دیوانے کا خواب تو ہو سکتی ہیں لیکن حقیقت نہیں بن سکتیں۔

تبصرے بند ہیں.