ڈاکٹرز ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔خدا نہ بنیں

11

ہسپتال سے واپس آتے ہی وہ بسترسے ایسے لگے کہ پھرکبھی اٹھ ہی نہ سکے۔اسے ایک دو دن یا ہفتوں اور مہینوں نہیں سالہا سال سے کوئی خطرناک بیماری تھی لیکن وہ عام اورصحت مندانسانوں کی طرح زندگی کے سارے اموربخوبی وآسانی کے ساتھ سرانجام دے رہے تھے لیکن جس دن اسے ڈاکٹرنے اس کے جسم میں چھپی اس خطرناک بیماری کے بارے میں بتایاوہ چنددنوں میں اس قدر کمزور ہو گئے کہ پھراٹھنابیٹھنااورچلناپھرناتودورجگہ سے ہلنابھی اس کے لئے ممکن نہ رہا۔ بالآخر اسی بسترپرمہینے،ہفتے اورگھنٹے گنتے گنتے وہ اس دنیاسے رخصت ہو گئے۔ ہمیں ڈاکٹروں کی صلاحیتوں، علم، تجربے اورپیشہ ورانہ مہارت پرکوئی اعتراض ہے اورنہ کوئی شک لیکن جوڈاکٹرزندگی بچانے اورصحت کی بھیک مانگنے کے لئے اپنے ہسپتالوں اورکلینک پر آنے والے مریضوں کوڈائریکٹ موت کی ڈیڈلائن دیتے یابتاتے ہیں ہمیں ان پراعتراض بھی ہے اوران کے انسان ہونے پرشک بھی۔کہتے ہیں جوگڑسے مر رہا ہو اسے زہرسے مارنے کی کوشش نہ کیا جائے۔ جو بندہ کینسر،ٹی بی، ایڈز یا کسی اور خطرناک بیماری اور موذی مرض کے باعث مر رہا ہو اسے اضافی ٹینشن، پریشانی اور تکلیف میں مبتلاکرکے مارنے کی کیا ضرورت ہے۔؟ موت اٹل حقیقت ہے اوراس سے کوئی انکار نہیں۔ ہرانسان پیداہی مرنے کے لئے ہوتا ہے۔ مرنا ہم سب نے ہے لیکن کب۔؟ کہاں۔؟ اور کیسے مرناہے۔؟ اس کاعلم صرف اور صرف خداکے پاس ہے اورکسی کے پاس نہیں۔ ماناکہ بعض نہیں بلکہ اکثر ڈاکٹر بڑے باصلاحیت، ماہر اور تجربہ کار ہوتے ہیں وہ مریض کودیکھتے ہی فائنل نتیجے پرپہنچ جاتے ہیں اوربعض ڈاکٹرجیساکہتے ہیں ویسا ہوتا بھی ہے لیکن اس کایہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ ڈاکٹر مسیحاکی بجائے نعوذبااللہ خدابن کرلوگوں کو موت کی ڈیڈلائنیں دیتے پھریں۔ ڈاکٹر مسیحاہوتے ہیں اللہ نے ان کے ہاتھوں میں شفا ضروررکھی ہے لیکن ڈاکٹروں کے ہاتھوں اورزبان میں کسی کومارنے یازندہ کرنے کاکوئی اختیارنہیں ۔یہ اختیارپہلے بھی صرف اللہ کے پاس تھا،اب بھی اللہ کے پاس ہے اور تاقیامت اللہ صرف اللہ ہی کے پاس رہے گا۔ ہم نے اس مٹی پرایسے ایک دونہیں ہزاروں مریضوں کو سالہا سال جیتے دیکھاہے جن کو ڈاکٹروں نے مرنے کے لئے چنددنوں ،ہفتوں
یامہینوں کی ڈیڈلائنیں دے رکھی تھیں۔ایسے کئی لوگ اورمریض بھی ہماری نظروں سے گزرے ہیں کہ جنہیں درداورتکلیف پرڈاکٹروں نے عام دوائیاں دے کراپنے ہسپتالوں اورکلینک سے یہ کہتے ہوئے واپس کیاکہ کوئی خاص بیماری یامسئلہ نہیں اوروہ پھر چندگھنٹوں یادنوں میں دنیاسے ہی رخصت ہوئے۔اس لئے یہ کہنایاسمجھناکہ موت کے بارے میں ڈاکٹرجو کہیں گے وہی سچ اورآخری ہو گا یہ غلط بہت غلط ہے۔ جو ڈاکٹر مہارت ،قابلیت اورتجربے کی روشنی میں ڈیڈلائنوں کایہ چورن بیچ رہے ہیں وہ نہ صرف غلط بلکہ دکھی انسانیت پربہت بڑاظلم بھی کررہے ہیں۔ڈاکٹرزمسیحاہوتے ہیں ۔لوگ اپنے رستے زخموں پرمرہم رکھنے و لگانے کی خاطران کے پاس جاتے ہیں۔مسیحاوہی ہوتاہے جوزخموں پرمرہم رکھے،زخموں پرنمک چھڑکنے والے کولوگ قصائی کہتے ہیں مسیحانہیں ۔ڈاکٹرزتوسارے مسیحاہوتے ہیں لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ اس وقت اس ملک اور معاشرے میں بہت سے ڈاکٹروں نے قصائیوں والاروپ دھاراہواہے۔یہ ڈاکٹرعوام کو لوٹنے، کنگالنے اورجیتے جی مارنے کاکوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ان ڈاکٹروں کومریض اورانسانیت کی کوئی فکرنہیں ہوتی ان کاکام بس صرف پیسہ لوٹنا ہوتا ہے۔ مریض مرتا ہے یا جیتا۔؟ ٹھیک ہوتاہے یانہیں۔؟سکون میں رہتاہے یا پریشانیوں میں ایڑھیاں رگڑکرشب وروز گزارتا ہے۔؟ان چیزوں اورباتوں سے اس قبیل سے تعلق رکھنے والے ان ڈاکٹروں کاکوئی لینا دینا نہیں۔ ان کاکام توبس بھاری فیسیں لیکرسارے ہسپتال اورپورے کلینک میں یہ اعلان کرانا ہے کہ اس مریض کے دن اب تھوڑے رہ گئے ہیں یہ بس چند دنوں کا مہمان ہے۔ ڈاکٹروں کاایک ایک لفظ قیمتی ہونے کے ساتھ بھاری بہت بھاری بھی ہوتا ہے۔ ڈاکٹرکے منہ اورزبان سے جب ”آپ کے دن تھوڑے رہ گئے ہیں“ یا ”آپ چنددنوں کے مہمان ہیں“ جیسے الفاظ اورجملے ایک صحت مند، موٹا اور پہلوان قسم کاانسان بھی سنتاہے توپھرچین اورسکون سے وہ بھی نہیں رہتا۔ اسی لئے توکہاجاتاہے کہ ڈاکٹرکے دوپیارے بول سے مریض کی آدھی بیماری خودبخود دور اور ختم ہو جاتی ہے۔ ڈاکٹر نثار ہمارے قریبی رشتہ دارہیں یہ خیبرپختونخواکے ایک پسماندہ ضلع بٹگرام میں اس وقت دکھی انسانیت کی خدمت کر رہے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ کسی بھی مریض کے علاج کے لئے سب سے پہلے اسے ہمت اور حوصلے کے ڈوزدینے ضروری ہیں، آپ اگر مریض کواس کولاحق ہونے والے مرض کے خلاف ہمت وحوصلہ دینے کے بجائے صرف اس بیماری سے ڈرائیں گے توپھرآپ دنیاجہان کی قیمتی اورمہنگی دوائیاں اس پراستعمال کیوں نہ کرائیں وہ آسانی کے ساتھ کبھی ٹھیک نہیں ہوگا۔ڈاکٹرنثارسے ہٹ کربھی ہم نے بارہا دیکھا ہے کہ حقیقی معنوں میں دل کے اندر انسانیت کی تڑپ رکھنے والے ڈاکٹر مریضوں کے لئے دوائیوں سے زیادہ ہمت اور حوصلے پرزوردیتے ہیں ویسے بھی ڈاکٹرکافرض ہے کہ وہ ادویات سے زیادہ مریض کواپنی باتوں اور قیمتی مشوروں سے اس قدرہمت وحوصلہ دیں کہ چارپائی پر آنے والامریض بھی پھراپنے پاﺅں پرجانے کی ضد کرے۔ ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہرشعبے اورمیدان کی طرح ہماراصحت سے متعلق اہم شعبہ وپیشہ بھی قصائی نماڈاکٹروں کے ہتھے چڑھنے لگاہے۔چنددن پہلے ایک قاری نے واٹس ایپ پربتایاکہ میرے والدصاحب ایک ڈاکٹرسے چیک اپ کے لئے گئے جس نے اس کوڈائریکٹ بتایاکہ آپ کوکینسرہے اوراس کااب کوئی علاج نہیں۔اس کے بعدسے والدصاحب کی طبیعت اورحالت ٹھیک نہیں۔ یہ کونساطریقہ ہے کہ آپ گڑسے مرنے والے کوزہرسے مارنے پرتل جائیں۔؟آپ اگرکسی کاعلاج نہیں کراسکتے۔؟کسی کے رستے زخم پرمرہم رکھ نہیں سکتے۔؟توخدارااس زخم پرنمک تونہ چھڑکیں۔ایک ڈاکٹرکے لئے کسی کویہ کہناکہ آپ کامرض لاعلاج ہے یاآپ کابچناممکن نہیں بہت آسان ہے لیکن کیا۔؟کسی ڈاکٹرنے کبھی یہ سوچاہے کہ ان کے اس طرح کے دوکالے بول سے سننے والے پرپھرمرتے دم تک کیاگزرتی اور کیا بیتی ہے۔؟ ماناکہ کینسر،ٹی بی ،ایڈزاوردیگرکچھ مہلک بیماریوں میں مبتلا ایسے بہت سے مریض ہونگے جو لاعلاج ہوں گے،میڈیکل کی دنیامیں ان کاکوئی علاج نہیں ہوگااورڈاکٹرکے علم وتجربے کے مطابق ان کابچنابھی ممکن نہیں ہوگالیکن یہ کوئی طریقہ نہیں کہ ڈاکٹراپنامنہ شریف ایسے مریضوں کے کان کے قریب کرکے انہیں یہ خوشخبری سنائیں کہ آپ کاٹائم پوراہوچکاہے، بس اب آپ اس دنیاسے جانے والے ہیں۔ہم پھرکہتے ہیں کہ انسانوں کا یہ آنا اور جانا یہ اللہ کی قدرت اور اختیار میں ہے کسی ڈاکٹراورحکیم کے بس اوروس میں نہیں۔ اس لئے ڈاکٹرمسیحاہیں تومسیحاہی رہیںخدا نہ بنیں۔کیونکہ ڈاکٹروں کے اس طرز عمل سے پھر دکھ اوردرد کے مارے انسانوں کو تکلیف بہت تکلیف پہنچتی ہے۔

تبصرے بند ہیں.