اس وقت تو یوں لگتا ہے اب کچھ بھی نہیں ہے

42

جناب مختار مسعود مرحوم نے اپنی شہرہ آفاق تصنیف آوازِ دوست میں تحریک ِ آزادی اور تخلیقِ پاکستان کے اہم رُکن راجہ صاحب محمود آباد کے ساتھ اپنی ایک گفتگو کی روداد بیان کی ہے، شیخ منظور الٰہی بھی شریک گفتگو تھے۔ یہ بھی اہم بات ہے کہ راجہ صاحب محمود آباد نے تخلیق پاکستان میں تو بھرپور کردار ادا کیا مگر تعمیر پاکستان میں وہ کردار ادا نہ کیا جس کی اُن سے توقع تھی۔ راجہ صاحب تقسیم کے وقت مسلمان تاجروں کی حرصِ زر اور مسلمان افسروں کی حرصِ جاہ منصب پر گفتگو فرما رہے تھے۔ آج بھی جب ہم وطنِ عزیز کی سیاسی، معاشی اور سماجی حالت کو دیکھتے ہیں تو کون ہے جو یہ کہنے سے قاصر ہے کہ موجودہ صورتحال نتیجہ ہے حرصِ اقتدار میں مبتلا اور کسی سیاسی نظریے سے بے بہرہ سیاستدانوں، سول و ملٹری بیوروکریسی کی بادشاہ گری کی خواہش، تاجروں اور صنعت کاروں کی مزید سے مزید منافع کی حِرص اور مذہبی طبقے کی مصلحت پسندی کا۔
ایسے وقت میں جب ملک پر ڈیفالٹ کی تلوار لٹک رہی ہے، خزانہ حسبِ روایت خالی ہے، سیاسی چپقلش عروج پر ہے اور بدقسمتی سے یہ چپلقش نظریات کی نہیں بلکہ ذاتیات کے گرد گھوم رہی ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ عاقبت نا اندیشوں نے آڈیو اور ویڈیو لیک کا وہ سلسلہ شروع کیا ہے کہ خاندان کے افراد کے ساتھ ٹی وی دیکھنا ممکن نہیں رہا۔ ایسی نازک صورت حال کا تقاضا تو یہ ہے کہ ملک کی سیاست سے بے یقینی کا خاتمہ ہو اور سیاست اور معیشت کو استحکام حاصل ہو۔ مگر کیا، کیا جائے کہ اس حوالے سے جتنی کوششیں کی جا رہی ہیں ان کا معاملہ بقول غالبؔ وہ ہی ہوتا ہے کہ:
ہر قدم دورئی منزل ہے نمایاں مجھ سے
میری رفتار سے بھاگے ہیں، بیاباں مجھ سے
پنجاب اسمبلی از خود تحلیل ہو چکی اور خیبر پختونخوا کی اسمبلی بھی شاید یہ سطور شائع ہونے تک تحلیل ہو چکی ہو۔ نگران حکومت کی تشکیل، پھر نوے روز میں
نئے انتخابات کا انعقاد ایک مشکل ترین مرحلہ ہے، جب کہ عام انتخابات اکتوبر 2023 میں منعقد ہونا ہیں۔ جس طرح سیاستدانوں نے آج بھی قومی مفادات پر اپنے جماعتی مفادات کو ترجیح دے رکھی اگر آئندہ انتخابات تک یہ ہی صورت حال رہی تو وہ انتخابات بھی متنازع ہونگے جس کے قومی معیشت اور تجارت پر نہایت سنگین نتائج مُرتب ہوں گے اور عوام پر مزید مہنگائی اور بے روزگاری آج کے مقابلے میں کہیں زیادہ تناسب سے مسلط ہو گی۔ اس صورتِ حال کے حوالے سے معروف شعراء کرام کے اشعار موجودہ حالات کے عین مطابق محسوس ہوئے تو سوچا آپ کو بھی شریک کروں۔ شمسی مینائی کے اشعار ہیں:
سب کچھ ہے اپنے دیس میں روٹی نہیں تو کیا
وعدہ لپیٹ لو، جو لنگوٹی نہیں تو کیا
عالم بڑے بڑے ہیں، تو لیڈر گلی گلی
بارش ہے افسروں کی، تو دفتر گلی گلی
شاعر ادیب اور سخنور گلی گلی
سقراط در بدر ہیں، سکندر گلی گلی
سب کچھ ہے اپنے دیس میں روٹی نہیں تو کیا
وعدہ لپیٹ لو، جو لنگوٹی نہیں تو کیا
حاکم ہیں ایسے کہ دیش کا قانون توڑ دیں
رشوت ملے تو قتل کے مجرم بھی چھوڑ دیں
نگراں، جو ملزمان کی آنکھیں بھی پھوڑ دیں
سرجن ہیں ایسے، پیٹ میں اوزار چھوڑ دیں
سب کچھ ہے اپنے دیس میں روٹی نہیں تو کیا
وعدہ لپیٹ لو، جو لنگوٹی نہیں تو کیا
ہر قسم کی جدید عمارت ہے ہمارے پاس
ہر ایک پردہ دار تجارت ہمارے پاس
اپنوں کو لوٹنے کی جسارت ہمارے پاس
کھیلوں میں ہارنے کی مہارت ہمارے پاس
سب کچھ ہے اپنے دیس میں روٹی نہیں تو کیا
وعدہ لپیٹ لو، جو لنگوٹی نہیں تو کیا
ہر کام چل رہا ہے یہاں ہر بیان سے
سرکار کے ستون تو رہتے ہیں شان سے
قرضہ تو مل رہا ہے ہمیں ہر دُکان سے
خیرات آ رہی بڑی آن بان سے
سب کچھ ہے اپنے دیس میں روٹی نہیں تو کیا
وعدہ لپیٹ لو، جو لنگوٹی نہیں تو کیا
یہ نور کا نہیں تو سیاہی کا طور ہے
ہر جھوٹ ہر گناہ کا ہم کو شعور ہے
دنیا کے اور دیسوں کو دھن پر غرور ہے
فنِ گداگری پر ہمیں بھی عبور ہے
جنتا سے کہہ دو شور مچانا فضول ہے
تکلیف کا بیان سنانا فضول ہے
شاہانِ قوم کو تو ستانا فضول ہے
سوتے ہیں سُکھ کی نیند جگانا فضول ہے
سب کچھ ہے اپنے دیس میں روٹی نہیں تو کیا
وعدہ لپیٹ لو، جو لنگوٹی نہیں تو کیا
احمد ندیم قاسمی کے یہ اشعار کہ:
خیر ہو دشت نوردانِ محبت کی، کہ اب
شہر بستے چلے جاتے ہیں بیابانوں میں
مال چوری کا جو تقسیم کیا چوروں نے
نصف تو بٹ گیا بستی کے نگہبانوں میں
کون تاریخ کے اس صدق کو جھٹلائے گا
خیر و شر دونوں مقید رہے زندانوں میں
جستجو کا کوئی انجام تو ظاہر ہو ندیمؔ
اِک مسلماں تو نظر آئے مسلمانوں میں
اور فیض صاحب کے ان اشعار کا کیا کہنا کہ:
اس وقت تو یوں لگتا ہے اب کچھ بھی نہیں ہے
مہتاب نہ سُورج، نہ اندھیرا نہ سویرا
آنکھوں کے دریچوں پہ کسی حُسن کی چِلمن
اور دل کی پناہوں میں کسی درد کا ڈیرا
ممکن ہے کوئی وہم تھا، ممکن ہے سنا ہو
گلیوں میں کسی چاپ کا اِک آخری پھیرا
شاخوں میں خیالوں کے گھنے پیڑ کی شاید
اب آ کے کرے گا نہ کوئی خواب بسیرا
اِک بَیر، نہ اِک مہر، نہ اِک ربط نہ رشتہ
تیرا کوئی اپنا، نہ پرایا کوئی میرا
مانا کہ یہ سُنسان گھڑی سخت کڑی ہے
لیکن مرے دل یہ تو فقط ایک گھڑی ہے
ہمّت کرو، جینے کو تو اِک عمر پڑی ہے

تبصرے بند ہیں.