سفیر پاکستان کو ڈاکٹر مارٹن لوتھر کنگ جونیئر لیگیسی ایوارڈ برائے سفارت کاری و بین الاقوامی خدمات سے نوازا گیا

10

نیویارک: امریکہ میں پاکستانی سفیر مسعود خان کو ڈاکٹر مارٹن لوتھر کنگ جونیئر لیگیسی ایوارڈ برائے سفارت کاری و بین الاقوامی خدمات سے نوازا گیا۔ یہ ایوارڈ ان کی قائدانہ صلاحیتیوں، عزم اور خدمات کے اعتراف میں دیا گیا ہے۔

 

سفیر پاکستان کو یہ ایوارڈ ڈاکٹر مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کی زندگی اور میراث کے حوالے سے منعقدہ 31ویں بین الاقوامی سلوٹ تقریب کے موقع پر دیا گیا۔ تقریب کا اہتمام انسٹی ٹیوٹ برائے ایڈوانسمنٹ آف ملٹی کلچرل اینڈ مائینارٹی میڈیسن کی جانب سے گیا گیا۔ تقریب میں امریکی سینیٹرز، قانون سازوں، سفارت کاروں، کاروباری شخصیات، کمیونٹی لیڈرز اور ماہرین تعلیم سمیت 150 سے زائد شرکاء نے شرکت کی ۔

 

اس موقع پر سفیر پاکستان مسعود خان کو مارٹن لوتھر کنگ انٹرنیشنل سیلوٹ کا اعزازی چیئرمین بھی نامزد کیا گیا۔ رواں سال مارٹن لوتھر کنگ لیگیسی ایوارڈ وصول کرنے والی دیگر شخصیات میں میری لینڈ کے سینیٹر کرس وان ہولن، میری لینڈ کے سیکرٹری آف سٹیٹ جان ووبین سمتھ، السیک نامی تنظیم /سینٹ جوڈ چلڈرن ریسرچ ہسپتال کے صدر اور سی ای او رچرڈ شیڈیئیک، اور سینئر ڈائریکٹر پبلک افیئرز، کارپوریٹ سٹیزن شپ گیلیڈ سائنسز شینیل ایل میک گوئے شامل ہیں ۔

 

ایوارڈ دینے پر سفیر پاکستان نے انسٹی ٹیوٹ فار دی ایڈوانسمنٹ آف ملٹی کلچرل اینڈ مینارٹی میڈیسن کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کی معروف شخصیت اور ان کے مشن سے وابستہ ہونا ان کے لیے بہت بڑا اعزاز ہے۔ مسعود خان نے کہا کہ ان کو عزت دیے جانا پاکستان اور پاکستان کی عوام کو عزت دیے جانا ہے۔

 

سفیر پاکستان نے کوویڈ کے بعد سے ڈاکٹر مارٹن لوتھر کنگ کی زندگی اور خدمات کی یاد میں تقریب کے انعقاد پر صدر اور سی ای او مارٹن لوتھر کنگ جونیئر انٹرنیشنل سلوٹ میڈیلین لاسن کا شکریہ ادا کیا۔

 

مسعود خان نے کہا کہ سفارتکاروں کو سیلوٹ کے ساتھ منسلک کرکے تنظیم نے تمام اقوام اور انکی عوام تک رسائی حاصل کی ہے۔

 

قبل ازیں بطور چیئرمین اپنے کلمات میں سفیر پاکستان مسعود خان نے عظیم امریکی رہنما کو شاندار خراج عقیدت پیش کیا۔ سفیر پاکستان نے کہا کہ ڈاکٹر مارٹن لوتھر کنگ ایک بہادر رہنما تھے جنہوں نے ساری زندگی تنوع اور انسانی وقار کے لیے جبر اور بدکرداری کا مقابلہ کیا۔ ڈاکٹر مارٹن لوتھر کنگ کی میراث کا خلاصہ آزادی، مساوات، اور سب کے لئے یکساں انصاف میں کیا جا سکتا ہے۔

 

تبصرے بند ہیں.