ریاست یوٹوپیا یا کنگلا دیش۔۔۔۔۔

15

ریاست یوٹوپیا کو خداوند تعالیٰ نے بے پناہ نعمتوں اور قدرتی وسائل سے نوازا لیکن اپنے قیام سے لے کر آج تک اس ریاست نے ترقی معکوس ہی کی۔ ریاست کے خالق نے ایک علیحدہ ریاست تو بنا دی لیکن ان کے بعد آنے والے اپنی ریشہ دوانیوں کے باعث ریاست کو سنبھال نہیں سکے۔ اس پر حکومت کرنے والے طبقات محلات، کاروبار اور جائیدادوں کے مالک بنتے گئے جبکہ ریاست کمزور ہوتی گئی۔ یہی نہیں اس مملکت کی سپاہ، عدلیہ اور نوکر شاہی کی دولت میں ہوشربا اضافہ ہوتا چلا گیا اور عوام روٹی کے نوالے کو بھی ترستے رہے۔ انہی کی بدنیتی کی وجہ سے ریاست یوٹوپیا کنگلا دیش بن گئی اور اس کے حکمران اور طاقتور حلقے کشکول لے کر دیگر ریاستوں سے قرض اور بھیک مانگنے لگ گئے۔ حیف ہے کہ نظام درست کرنے اور اپنے وسائل پیدا کرنے کے بجائے یہ بھیک و قرض پر گزارے کو ترجیح دیتے اور اپنی سب سے بڑی کامیابی یہ سمجھتے کہ کس نے کتنا قرض اور بھیک اکٹھی کی جس کی وجہ سے ریاست بیرونی قرض کی دلدل میں دھنستی چلی گئی۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ سب کچھ عوام اور ملک کی بہتری کے نام پر کیا جاتا تھا لیکن ریاست و عوام اس سے کم ہی مستفید ہوئے اور ہمیشہ طاقتور طبقہ ہی نے جھولیاں بھریں۔
ریاست یوٹوپیا کی اصل بربادی کے ذمہ داران میں اس دور کے سیاستدان بھی پیش پیش تھے۔ ان کی ہر حکومت نے صرف اپنی تجوریاں بھریں اور وطن کے لیے کھربوں کے قرضوں کے سوا کچھ نہ چھوڑا۔ عوام کے لیے بنیادی سہولتیں بشمول تعلیم، صحت و دیگر ناپید تھیں۔ جب احتساب کا وقت آیا تو خود کو قانون سازی کے ذریعے اس احتساب سے مبرا کر لیا جس سے بدعنوانی کو فروغ ملا اور اس قانون سازی کی آڑ میں ہر بدعنوان نے ہاتھ دھوئے۔
ریاستہائے یوٹوپیا میں روزانہ ایک نیا پُتلی تماشا ہوتا تھا لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ ہمیشہ بازی گر ریاست کا سپہ سالار ہی ہوتا تھا جو ہر پُتلی کو اپنی منشا کے مطابق چلاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ طاقت کے منبع یعنی ریاست کے لشکر کا سربراہ ہے اور تمام سپہ اس کے ماتحت ہوتی ہے۔ سپاہ کے لیے آلات حرب اور دیگر
اخراجات سلطنت ادا کرتی ہے لیکن کسی کی جرا¿ت نہیں کہ وہ ان سے اخراجات کا حساب لے سکے۔ اگر کوئی حکومت یا دیوانے یہ جرا¿ت کر بھی لیں تو اسے خوفناک نتائج کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ عام آدمی کی بات ہی کیا کرنی سپہ خود کو ریاست کے ہر جزو بشمول ملاں، قاضی، دانشور، سرمایہ دار، تاجر غرض ہر طبقہ زندگی سے برتر گردانتا ہے اور خود پر تنقید گناہ سمجھتا ہے۔ جس طرح میر جفر و میر صادق ہر معاشرے کا حصہ ہوتے ہیں اسی طرح ہر طبقہ زندگی سے کچھ لوگ اس طاقتور حلقے کے زیر اثر ہوتے ہیں جو باقاعدہ ان کے گن گاتے ہیں۔ گو کہ مملکت یوٹوپیا میں ہر کوئی اپنی سپہ سے پیار کرتا ہے اور ایک بھی ایسا نہیں جو سپہ کے خلاف ہو لیکن یہ سب چاہتے ہیں کہ وہ اقتدار کے کھیل اور اس کی کھینچا تانیوں میں حصہ لینے کے بجائے اپنے ذمے مخصوص ذمہ داریاں ہی ادا کریں لیکن یہ شاید انہیں قبول نہ تھا۔ ریاست میں سب پر تنقید ہو سکتی تھی لیکن سالار اور سپہ پر نہیں اور مزے کی بات یہ ہے کہ ریاست یوٹوپیا کے سابقہ سالار بارے بھی اگر کوئی سوال کرے تو وہ بھی پابند سلاسل ٹھہرتا ہے۔ ریاست کا ہر طبقہ اپنے مسائل کا ذمہ دار ان ہی کو ٹھہراتا ہے لیکن ریاستی امور چلانے والے سیاستدان ان کے در پر سربسجود ہوتے ہیں جس کی وجہ سے سیاسی نظام اور حکومتیں مزید کمزور اور سپہ کی امور مملکت میں مداخلت مزید طاقتور ہوتی ہے۔
جہاں تک ریاست یوٹوپیا کے نظام انصاف کا تعلق ہے تو یہ بھی اقتدار اور طاقتور طبقے کی لونڈی تھا اور ریاست کی بربادی میں برابر کا حصہ دار ٹھہرا۔ عام آدمی کو انصاف خریدے بغیر نہیں ملتا تھا اور ظلم دیکھیں کئی بے گناہوں کو تختہ دار پر چڑھنے کے بعد بری کیا جاتا۔ ریاست یوٹوپیا کے نظام عدل اور قاضیوں کو بے پناہ اختیارات حاصل تھے اور ان پر تنقید کرنا بھی سنگین جرم تھا۔ جہاں یوٹوپیا کی عدالتیں مراعات کے حوالے سے پہلے نمبروں پر جبکہ انصاف کی فراہمی میں دیگر ریاستوں کی نسبت 100 ویں درجے سے بھی کہیں نیچے تھیں۔ ریاست کی عدلیہ میں قاضیوں کی بھرتیوں کا بھی اپنا نظام تھا اس پر عدالتی معاونین سمیت کئی حلقوں سے بارہا انگلیاں اٹھائی جاتی رہیں لیکن بے سود۔ جس معاشرے کے نظام انصاف پر ہی سوالیہ نشان ہوں وہاں ترقی معکوس ہی کی توقع کی جا سکتی ہے۔
انصاف کی فراہمی اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے کسی بھی ریاست میں کوتوالی نظام ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ لیکن یوٹوپیا کا کوتوالی نظام بھی اپنے اصل کام کی جگہ ظلم کی ایک داستان رکھتا تھا۔ ریاست کے باقی شعبوں کی طرح یہ بھی طاقتور حلقوں اور حکومت کے زیر اثر غیر قانونی حرکات بارے شہرت رکھتا تھا۔ ریاست کے حکمران کوتوالی نظام کو مخالفین کو کچلنے کے لیے استعمال کرتے تھے جس کی وجہ سے خلق خدا کا اس ادارے پر سے بھی اعتماد اٹھ گیا۔
نظام انصاف کی طرح ریاست یوٹوپیا کا احتساب کا نام بھی نرالا تھا۔ اگر دیکھا جائے تو یہ بدعنوانی کو فروغ دیتا تھا جہاں قومی خزانے سے لوٹی گئی اربوں کی رقم کا ایک چھوٹا حصہ ادا کر کے بدعنوانوں کو کلین چٹ دی جاتی تھی۔ اس پر سیاستدانوں نے قانون سازی کر کے بدعنوانی کو ایک طرح کا تحفظ دیا ہے یہ کہنا بجا ہو گا کہ اس نئی قانون سازی سے بدعنوانی کو فروغ ملا۔
مملکت یوٹوپیا کی بدحالی میں بہت بڑا حصہ اس کی نوکر شاہی کا بھی تھا۔ کسی بھی ریاست کی نوکر شاہی کا اس ملک اور عوام کی ترقی میں بنیادی کردار ہوتا ہے لیکن یہاں بھی آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ کسی بھی سلطنت کی نوکر شاہی اپنے مسائل کے حل کو اولیت دیتی ہے لیکن ریاست یوٹوپیا کی نوکر شاہی پہلے مسائل پیدا کرتی ہے اور پھر ان کے حل کی طرف جاتی ہے جس سے وقت اور وسائل کا زیاں ہوتا ہے۔ میں اس سے اتفاق نہیں کرتا کہ صرف نوکر شاہی اگر مخلص ہو تو اس ریاست کی قسمت سنور جاتی ہے اس کے لیے تمام متعلقہ طبقات کا ایک پیج پر ہونا ضروری ہے۔
قارئین کے لیے عرض ہے کہ ریاست یوٹوپیا ایک تصوراتی ریاست کا نام ہے اور کسی بھی قسم کی مماثلت محض اتفاقیہ ہو گی۔ سر تھامس مور نے یہ نظریہ اپنی 1516 کی کتاب ”یوٹوپیا“ میں تحریر کیا تھا جس میں دنیا میں ایک افسانوی ملک بارے بیان کیا گیا۔
قارئین کالم بارے اپنی رائے 03004741474 پر وٹس ایپ کر سکتے ہیں۔

تبصرے بند ہیں.