اب کیا ہوگا؟

14

پنجاب اسمبلی سے متعلق جو ایک شور برپا تھا اور ہر شخص کی نظر پنجاب اسمبلی پر تھی تو اب ایسا ہوا کہ پنجاب اسمبلی آخرکار ہفتے کے روز تحلیل ہو گئی۔ وزیراعلیٰ پرویز الٰہی نے گورنر پنجاب کو سمری بھجوائی تھی اور امکانات بھی یہی تھے کہ گورنر پنجاب اسمبلی کی تحلیل کی سمری پر دستخط کر دیں گے اور اگر گورنر دستخط نہیں کرتے تو اس سے پی ٹی آئی کو فرق نہیں پڑنا تھا کیونکہ اسمبلی تو تحلیل ہو ہی جانی تھی۔ اس سارے معاملے کو دیکھیں تو جیسے پنجاب میں اسمبلی تحلیل ہوئی ہے بظاہر ایسے لگ رہا ہے کہ پنجاب میں مسلم لیگ ن کی سیاست بھی تحلیل ہو رہی ہے۔ حکومت پنجاب میں مسلم لیگ ق اور پی ٹی آئی کی ٹوٹی ہے مگر امیدیں درحقیقت ن لیگ کی ٹوٹی ہیں۔ پنجاب اسمبلی میں اعتماد کے ووٹ سے پہلے لیگی رہنماؤں نے بڑے بلند و بالا دعوے کیے، ان کے حوصلے دیکھنے میں تو آسمان کو چھو رہے تھے اس وجہ سے ماحول کچھ ایسا بنا رکھا تھا کہ پنجاب ایک بار پھر ن لیگ ناقابل تسخیر قلعہ بن چکا ہے، پرویزالٰہی اکثریت کو چکے ہیں اور وہ اعتماد کا ووٹ نہیں لے سکیں گے، اب بس تخت لاہور پر شیر کا راج ہو گا لیکن جب وقت آیا تو یہ ساری باتیں ن لیگی رہنماؤں گیدڑ بھبکیاں ثابت ہوئیں۔ بیرون ملک بیٹھی ن لیگ کی اعلیٰ قیادت چین کی بانسری بجاتی رہی اعلیٰ حکومتی عہدوں پر فائز فوج ظفر موج بس پریس کانفرنس اور ٹاک شو کرتے رہے اور عمران خان نے میدان مار لیا۔ وہ پچیس سے تیس ارکان جن کے بارے میں دعویٰ تھا مسلم لیگ نون کی حمایت کریں گے انہوں نے اپنا ووٹ پرویزالٰہی کو دے دیا۔ میں سمجھتی ہوں کہ عمران خان اور پرویز الٰہی نے حکومت کو ایسا دھوبی پٹکا کر دیا کہ شیر صرف زخمی ہی نہیں بلکہ بے ہوش ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
اس سارے معاملے سے پہلے مسلم لیگ ن کے بیانات کی مثال ہی نہیں ملتی۔ وہ ان بیانات سے
اور بھی زیادہ پُر امید دکھائی دے رہے تھے۔ مریم نواز کا ایک پریس کانفرنس میں کہنا تھا کہ الیکشن کی تاریخ مانگنے کے بجائے توڑیں پنجاب اسمبلی توڑیں کے پی کے اسمبلی۔ رانا ثنا اللہ کا بھی کہنا تھا کہ ان کے پاس نمبرز پورے نہیں ہیں لہٰذا پی ٹی آئی کبھی اعتماد کا ووٹ حاصل نہیں کر سکے گی اور پنجاب میں جلد شیر دھاڑے گا۔ طلال چودھری کا یہی کہنا تھا کہ اسمبلی توڑتے کیوں نہیں ہیں اسمبلی توڑیں اور قانون کا سامنا کریں۔ دوسری جانب مریم اورنگزیب کہتی تھی کہ اسمبلی توڑنے کے لیے تاریخیں نہیں دینا پڑتی حوصلہ کرنا پڑتا ہے۔ پی ٹی آئی صرف جھوٹ بولتی ہے یہ کبھی اسمبلی نہیں توڑ سکتے ہیں، یہ صرف تاریخوں پر تاریخ دینا بند کریں۔ مسلم لیگ ن کے عطا تارڑ تو اتنے جذباتی ہو گئے کہ انہوں نے کہا کہ اگر یہ اسمبلیاں توڑ دیں تو میں سیاست ہی چھوڑ دوں گا۔ اسمبلیاں ٹوٹ گئیں مگر ابھی تک ان کا سیاست سے علیحدگی کا بیان نہیں آیا اور کبھی نہیں آئے گا۔ یہ سب نون لیگ کے صفحہ اول کے قائدین کے بیانات ہیں ان سب کا کہنا تھا کہ اسمبلیاں ٹوٹیں گی نہ ہی اعتماد کا ووٹ حاصل کر سکیں گے۔
پنجاب میں پی ٹی آئی اور ق لیگ نے اپنی برتری ثابت کر دی ہے۔ پنجاب جسے کسی زمانے میں مسلم لیگ ن کا بڑا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا تھا اب شریف خاندان کی مٹھی سے ریت کی طرح نکلتا دکھائی دے رہا ہے اور میاں نواز شریف سمیت سارا خاندان یہ سارا معاملہ سکون سے ہوتا ہوا لندن میں بیٹھا دیکھ رہا ہے۔ اگر یہاں شہباز شریف کی بات کریں تو وزیراعظم بن کر ان کی حسرت تو پوری ہو گئی ہے اب پارٹی کے ساتھ جو مرضی ہوتا رہے ان کی بلا سے، پارٹی جانے اور رانا ثنا اللہ جانیں جنہیں غالباً پارٹی نے مسلم لیگ ن پٹے پر دے رکھی ہے۔ اگر دیکھیں تو پرویز مشرف کے چند برس کو چھوڑ کر گزشتہ تیس سال میں اب مسلم لیگ ن اپنی کمزور ترین سطح پر ہے، یہ سب اس وقت ہو رہا ہے جب وفاق میں ان کی اپنی حکومت ہے۔
سوشل میڈیا پر مسلم بھی مسلم لیگ ن کے حامیوں نے اپنے رہنماؤں کے لاتعلقی پر مبنی رویے کے خلاف کھل کر احتجاج کیا ہے۔ کسی زمانے میں پاکستان کی بڑی مضبوط سمجھی جانے والی پارٹی زوال کی راہ پر گامزن ہے۔ میرے چند سوالات ہیں، اگر یہ سارا معاملہ تھا تو مسلم لیگ ن کے بڑے بڑے رہنماؤں کو اعتماد کے ووٹ سے متعلق بڑے بڑے دعوے کی کیا ضرورت تھی؟ دوسری بات یہ کہ نواز شریف پنجاب کی پارلیمانی پارٹی سے اب کیوں ناراض ہیں، اب کیا فائدہ؟ تیسرا یہ کہ نواز شریف اور مریم نواز اس اہم موقع پر لندن میں کیوں بیٹھے ہیں؟ جب کہ اس وقت دونوں قائدین کو پارٹی کے سر پر موجود ہونا چاہیے تھا۔ کیا اس چیز کا شریف خاندان کو احساس ہے کہ وہ اگر لندن میں ہیں تو انکی پارٹی کو کیا نقصان ہو رہا ہے؟ یہ سب چیزیں اگر ہم دیکھیں تو بڑی حیرانگی ہوتی ہے کہ سب اتنے خاموش کیوں ہیں۔ ن لیگ اپنی کم ہوتی ہوئی اکثریت پر بے بس ہے یا خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ اس وقت پاکستان کے حالات بھی بہت نازک ہیں حکومت بھی ان کی ہے مگر پھر بھی سب چپ کیوں ہیں؟
خیر اب بہت جلد پی ٹی آئی نے کے پی کے اسمبلی تحلیل کرنے کا بھی کہہ دیا ہے تو دیکھتے ہیں اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔ کیا الیکشن وقت سے پہلے ہوں گے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ عمران خان سے مشاورت کے بعد صدر مملکت وزیراعظم شہبازشریف کو قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے کا کہیں گے، مگر حکومت کہتی ہے کہ ہم عمران خان کے ہاتھوں بلیک میل نہیں ہوں گے۔ اس وقت پاکستان بڑے مشکل حالات کا شکار ہے یہ سب سیاستدانوں کو سوچنا ہو گا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آگے ہو گا کیا؟

تبصرے بند ہیں.