فتنہ دجال

45

فتنوں کا ظہور قربِ قیامت کی نشانی ہے۔ موجودہ دور میں بھی بہت زیادہ فتنے رونما ہو رہے ہیں، ایک لحاظ سے پوری انسانیت کو ان فتنوں نے اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ فتنہ دجال تاریخ انسانی کی ابتدا سے لے کر انتہا تک کے تمام فتنوں سے بڑا اور خطرناک ہے، جس کی بڑائی اور شدت کا اندازہ حضرت انس بن مالکؓ کی اس روایت سے لگایا جا سکتا ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ہر نبی نے اپنی امت کو کانے کذاب سے خبردار کیا ہے اور سنو! وہ بلاشبہ کانا ہو گا اور تمہارا رب کانا نہیں اس (دجال) کی دو آنکھوں کے درمیان ک ف ر (کافر) لکھا ہوا ہو گا۔ حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ دجال مدینہ طیبہ کے پاس آئے گا اور فرشتوں کو اس کی حفاظت کرتے ہوئے پائے گا پس نہ تو طاعون مدینہ طیبہ میں آئے گی اور نہ ہی دجال۔ حضرت ثوبان ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا میری امت کے دو گروہوں کو اللہ تعالیٰ دوزخ کی آگ سے محفوظ رکھے گا، ایک وہ گروہ جو ہندوستان سے غزوہ میں شریک رہے گا، دوسرا وہ جو (دجال کے مقابلہ) حضرت عیسیٰ ابنِ مریمؑ کے ساتھ ہو گا۔ دجال کے نکلنے سے تین سال پہلے ہی دنیا میں عام قحط پھیل جائے گا، پہلے سال آسمان ایک تہائی بارش اور زمین ایک تہائی پیداوار روک لے گی، دوسرے سال آسمان دو تہائی جبکہ تیسرے سال آسمان تمام بارش اور زمین تمام پیداوار روک لے گی یہاں تک کہ آسمان شیشے کا اور زمین تانبے کی ہو جائے گی، تمام چوپائے ہلاک ہو جائیں گے، فتنے اور قتل و غارت عام ہو گی تب دجال مشرق کی سمت ایک خراسان نامی شہر سے نکلے گا۔ قیامت کے قریب حضرت عیسیٰ ؑ کے نزول سے کچھ پہلے آئے گا، دجال اپنے آپ کو سب سے پہلے نبی کہے گا، پھر خدائی کا دعویٰ کرے گا۔ اپنے پیدا کردہ زبردست شکوک و شبہات میں انسانیت کو پھانستا
چلا جائے گا، خود کو خدا کہے گا۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا فتنوں کے درمیان سب سے زیادہ خوش نصیب وہ ہو گا جو چھپا رہے اور پاک صاف رہے۔ اگر سامنے آئے تو کوئی اسے پہچان نا سکے اور اگر سامنے نا ہو تو کوئی اس کا حال احوال نہ پوچھے۔ لوگوں میں سب سے زیادہ بد نصیب وہ خطیب ہو گا جو بلند آواز میں فصیح و بلیغ خطبہ دے گا۔ وہ سوار ہو گا جو سواری کو تیز دوڑنے پر مجبور کرے گا۔ ان فتنوں کے شر سے وہی نجات پائے گا جو سمندر میں ڈوبنے والے کی طرح خلوص سے دعا مانگے گا۔ ایک وقت آئے گا مسلمان کا بہترین مال وہ بھیڑ بکریاں ہوں گی جن کو لے کر وہ پہاڑ کی چوٹی اور بارش کے مقامات پر چلا جائے گا تا کہ اپنے دین کو لے کر فتنوں سے بھاگ جائے۔ دجال کے خاتمے کے بعد حضرت عیسیٰ ؑ اسی حال میں ہوں گے کہ اچانک اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے پاس یہ وہی آئے گی کہ میں نے ایسے بندے پیدا کیے ہیں جن سے لڑنے کی قدرت و طاقت کوئی نہیں رکھتا۔ تم میرے بندوں کو جمع کر کے کوہ طور کی طرف لے جاو¿ اور ان کی حفاظت کرو، پھر مالکِ کائنات یاجوج ماجوج کو ظاہر کرے گا جو ہر بلند کو پھلانگتے ہوئے اتریں گے، ان کی تعداد اتنی زیادہ ہو گی کہ جب ان کی سب سے پہلی جماعت بحر طبریہ میں سے گزرے گی تو اس کا سارے کا سارا پانی پی جائے گی۔ پھر اس جماعت کے بعد آنے والی جماعت وہاں سے گزرے گی تو بحر طبریہ کو خالی دیکھ کر کہے گی کہ اس میں بھی کبھی پانی تھا، اس کے بعد یاجوج ماجوج آگے بڑھیں گے یہاں تک کہ بیت المقدس کے ایک پہاڑ جبل خمر تک پہنچ جائیں گے اور ظلم و غارت گری، اذیت رسانی اور لوگوں کو پکڑ کر قید کرنے میں مشغول ہو جائیں گے کہ ہم نے زمین والوں کو ختم کر دیا، چلو اب آسمان والوں کا خاتمہ کر دیں، چنانچہ وہ آسمان کی طرف اپنے تیر پھینکیں گے اور اللہ تعالیٰ ان کے تیروں کو خون آلود کر کے لوٹا دے گا تا کہ وہ اس بھرم میں رہیں کہ ہمارے تیر واقعتا ً آسمان والوں کا کام تمام کر کے واپس آئے ہیں، گویا اللہ تعالیٰ کی طرف سے انہیں ڈھیل دی جائے گی۔ دجال کا فتنہ صرف زمین تک ہی محدود نہیں رہے گا بلکہ آسمان تک پھیل جائے گا۔ اس تمام عرصے میں حضرت عیسی ٰ ؑ اور ان کے ساتھی جو کوہ طور پر روکے رکھے جائیں گے ان پر اسباب اور معیشت کی تنگی و قلت اس درجہ کو پہنچ جائے گی کہ ان کے لیے بیل کا سر تمہارے آج کے ستر دیناروں سے بہتر ہو گا۔ ان حالات میں جب اللہ کے نبی ؑ اور ان کے ساتھی یاجوج ماجوج کی ہلاکت کی دعا فرمائیں گے تو اللہ تعالیٰ ان کی گردنوں میں کیڑے پڑ جانے کی بیماری بھیجے گا جس سے وہ سب یک بارگی اس طرح مر جائیں گے جس طرح کوئی ایک شخص مر جاتا ہے۔ جب حضرت عیسیٰ ؑ اور ان کے ساتھی اس بات سے آگاہ ہو کر زمین پر واپس اتریں گے تو انہیں زمین پر ایک بالشت برابر ٹکڑا بھی ایسا نہیں ملے گا جو یاجوج ماجوج کی چربی اور بدبو سے خالی ہو گا۔ اس مصیبت سے چھٹکارے کے لیے حضرت عیسیٰ ؑ اور ان کے ساتھی اللہ تعالیٰ سے دعا کریں گے۔ تب اللہ تعالیٰ اونٹ کی گردن جیسی لمبی گردنوں والے پرندوں کو بھیجے گا جو یاجوج ماجوج کی لاشوں کو اٹھا کر ایک گڑھے میں پھینک دیں گے۔ پھر زمین اللہ تعالیٰ کے حکم سے پھل پیدا کرے گی، زمین کی پیداوار اس وقت اس قدر بابرکت اور باافراط ہو گی کہ دس سے لے کر چالیس آدمیوں تک پوری جماعت ایک انار کے پھل سے سیراب ہو جائے گی اور اس انار کے چھلکے سے لوگ سایہ حاصل کریں گے۔ اس طرح لوگ خوشحال اور امن اور چین کی زندگی گزار رہے ہوں گے کہ ایک خوشبو دار ہوا آئے گی جس سے ان کے جسموں میں درد پیدا ہو گا اور پھر وہ ہوا ہر مومن اور ہر مسلمان کی روح قبض کر لے گی، یوں صرف بدکار اور شریر لوگ دنیا میں باقی رہ جائیں گے اور ان ہی لوگوں پر قیامت قائم ہو گی۔

تبصرے بند ہیں.