دور جدید کے فنون لطیفہ!!

31

ہم فنون لطیفہ کی بات کر رہے تھے۔ پچھلے دو کالمز میں ہم نے اسلامی اور ماقبل تہذیبوں میں رائج مختلف فنون لطیفہ کا مختصر جائزہ پیش کیا تھا، آج ہم دور جدید میں رائج کچھ فنون لطیفہ کے حوالے سے بات کو آگے بڑھائیں گے۔ دور جدید کے اہم فنون لطیفہ میں فلم، ڈرامہ اور موسیقی سر فہرست ہیں اور یہ تینوں فنون ٹیکنالوجی کے بغیر اندھے اور گونگے ہیں۔ ان تینوں فنون کی سماج پر اثر اندازی اور نوجوان نسل کی کردار سازی کے حوالے سے ہم آگے چل کر بات کریں گے سر دست کچھ بنیادی باتوں کا تذکرہ ضروری ہے۔ علامہ محمد اقبالؒ فلم اور ڈرامہ سازی کے خلاف تھے اور اسے انسانیت کی توہین سمجھتے تھے۔ ایک دفعہ کسی نے ان سے دریافت کیا کہ وجہ ہے اسلامی تاریخ میں دیگر فنون لطیفہ کے ساتھ ڈرامہ کا رجحان پروان نہیں چڑھا اور من حیث المجموع اسلامی تہذیب نے ڈرامے کو پذیرائی نہیں بخشی۔ اقبالؒ کی شاعری کا بنیادی اور مرکزی موضوع فلسفہ¿ خودی تھا چنانچہ یہاں بھی انہوں نے یہی جواب دیا کہ ڈرامے میں ایکٹر خود کو کسی غیر کے روپ میں پیش کرتا ہے، اپنی اصل اور پہچان کو چھوڑ کر فرضی کردار ادا کرتا ہے اور یہ اس کی شخصیت اور انسانیت کی توہین ہے۔ انسان کو اپنی اصلیت، اپنی پہچان اور اپنی خودی پر سمجھوتا نہیں کرنا چاہئے یہی وجہ ہے کہ اسلامی تہذیب میں اس طرح کی لغویات نہیں پنپ سکیں۔
علامہ اقبالؒ کے اس جواب سے اختلاف یا اتفاق سے قطع نظر میں آپ کو دو سال پیچھے لے جانا چاہتا ہوں۔ آپ کو یاد ہو گا آج سے تقریباً دو سال قبل مولانا طارق جمیل نے احساس ٹیلی تھون کی لائیو ٹرانسمشن میں کہہ دیا تھا کہ میڈیا جھوٹ اور دھوکے پر چلتا ہے۔ مولانا کی مراد ٹی وی چینلز تھے جو ڈرامہ، فلم، ٹاک شوز اور مارننگ شوز وغیرہ پر چلتے ہیں۔ مولانا کے اس بیان پر بہت لے دے ہوئی، سوشل میڈیا پر مولانا کو بُرا بھلا کہا گیا، ٹی وی چینلز کی طرف سے مولانا کو معافی مانگنے پر مجبور کیا گیا اور مولانا نے معروف صحافی حامد میر کے شو میں معافی بھی مانگ لی۔ کیا مولانا نے غلط کہا تھا اور کیا میڈیا (ٹی وی چینلز) جھوٹ اور دھوکے کی بنیاد پر نہیں چلتا اور کیا فلم، ڈرامہ، موسیقی پروگرامز، مارننگ شوز اور ٹاک شوز میں جھوٹ اور دھوکے کا سہارا نہیں لیا جاتا؟ ان سب سوالات کو بھی ہم کچھ دیر کے لیے سائیڈ پر رکھ دیتے ہیں۔ اس سے پہلے میں آپ کو برصغیر پاک و ہند میں فلم اور ڈرامے کی شروعات اور دور حاضر تک اس کے ارتقا کے بارے میں مختصر بتانا چاہتا ہوں۔
برصغیر میں فلم سازی کی شروعات 1896 میں ہوئی۔ فرانس کے لومیئر برادرز نے برطانوی حکومت کی اجازت سے ممبئی کے ایک ہوٹل میں مختصر فلموں کی نمائش کی۔ ممبئی کے لوگوں کے لیے پردے پر چلتے پھرتے انسان محیر العقول واقعہ تھا اور اس واقعے کو دیکھنے کے لیے پورا ممبئی اُمڈ آیا۔ فرانسیسی فلم سازوں کی کامیابی کو دیکھتے ہوئے یورپ کے دیگر ممالک کے فلم سازوں نے بھی برصغیر کا رخ کیا جن میں اٹلی کے فلم ساز خاموش فلموں کے ساتھ سر فہرست تھے۔ اس طرح سن انیس سوکی آخری دھائی میں بمبئی، کلکتہ اور مدراس میں یورپی فلموں کی نمائش شروع ہوئی۔ یورپی فلم سازوں کو دیکھتے ہوئے مقامی ہندوستانیوں نے بھی فلم سازی کے میدان میں قسمت آزمانے کا فیصلہ کیا، ممبئی کے فوٹوگرافر ہریش چندر سکھارام بھٹواڈیکر پہلے ہندوستانی تھے جنہوں نے فلمی دنیا میں قدم رکھا۔ انہوں نے لندن سے موشن کیمرہ منگوا کر 1899 میںہندوستانی پہلوانوں کی کشتی کے مقابلے کو فلما کر دکھایا۔ ہریش چندر نے اس کے بعد بھی طویل مدت تک مختصر دورانیے کی فلمیں بنائیں۔ مقامی فلم سازوں میں دوسرا نام بنگال کے ہیرا لال سین کا ہے، ہیرا لال سین نے کلکتہ کے تھیٹروں کو ہدف بنا کر فلم سازی شروع کی۔ ہندوستان میں باقاعدہ فلم سازی کا آغاز دادا صاحب پھالکے نے کیا۔ دادا صاحب پھالکے اپنی اہلیہ کے زیور گروی رکھ کر لندن گئے، وہاں سے ایک موشن کیمرہ خریدا اور 1913 کو ہندوستان کی پہلی طویل دورانیے کی فیچر فلم ”راجہ ہریش چندر“ بنا کر پیش کر دی۔ یہاں سے فیچر فلموں کا وہ دور شروع ہوا جو آج تک جاری ہے۔ تقسیم کے وقت فلم سازی کے سارے مراکز جن میں بمبئی، کلکتہ، مدراس اور دلی شامل تھے ہندوستان کے حصے میں آ گئے۔ پاکستان میں فلم سازی کا آغاز بہت بعد میں شروع ہوا۔ انیس سو چونسٹھ میں پاکستان ٹیلی ویژن کی شروعات ہوئی تو اس کے بعد پہلے ڈرامہ سازی اور بعد ازاں فلم سازی کا رجحان پروان چڑھا۔
ہم واپس آتے ہیں اپنے بنیادی سوالات کی طرف، علامہ اقبال ؒ نے ڈرامہ کے متعلق جو کچھ کہا تھا مولانا طارق جمیل نے بھی اس سے ملتی جلتی بات کہی تھی کہ میڈیا (ٹی وی چینلز) جھوٹ اور دھوکے کی بنیاد پر چلتے ہیں۔ یہ جھوٹ اور دھوکا کیسے ہیں اس کا ایک جواب تو علامہ اقبال ؒ نے دیا تھا کہ اس میں انسان خود کو غیر خود کے روپ میں ڈھالتا ہے، غیر کا کردار ادا کرتا ہے اور اپنی ذات اور شخصیت کی نفی کرتا ہے اور علامہ اقبال کے فلسفہ¿ خودی کے تناظر میں یہ سراسر جھوٹ، دھوکہ اور انسانیت کی توہین ہے۔ اس کا دوسرا جواب یہ ہے کہ فلم، ڈرامہ سازی، موسیقی پروگرامز، مارننگ شوز اور ٹاک شوز کیسے تیار ہوتے ہیں، ان کی پری پروڈکشن سے، ریکارڈنگ اور پوسٹ پروڈکشن کے تمام مراحل اگر عام انسان کو بتلائے جائیں تو وہ چیخ اٹھے کہ یہ تو سراسر دھوکا اور جھوٹ ہے۔ مثلاً ہم فلم سازی کی بات کر لیتے ہیں، ایک فلم جو تیار ہو کر سینما گھروں میں نمائش کے لیے پیش کی جاتی ہے اس کی تیاری میں کتنا جھوٹ، کتنا دھوکا، کتنا پیسا، کتنی بناوٹ، کتنی مصنوعیت اور کتنی جعلسازی ہوتی ہے اس کے کچھ مظاہر میں آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔ فلم سازی کا سب سے پہلا مرحلہ آئیڈیا کی تخلیق ہوتا ہے، یہ آئیڈیا کسی کتاب، ناول، کسی ملک کی صورتحال، کسی سچے واقعے یا کسی ذہن کی ذاتی تخلیق ہو سکتا ہے۔ آئیڈیے کی تخلیق کے بعدکسی ایسے رائٹراور لکھاری کو تلاش کیا جاتا ہے جو اس آئیڈیے کے مطابق فلمی سکرپٹ تیار کر سکے۔ یہ رائٹر پہلے اس سکرپٹ کا خلاصہ پیش کرتا ہے، اس کے مطابق کرداروں کی فہرست تیار کرتا ہے، جہاں فلم کی عکس بندی کرنا ہوتی ہے وہ مناظر تخلیق کرتا ہے اور یہ سارا خاکہ فلم ساز کمپنی اور ہدایت کار کے ساتھ شیئر کرتا ہے۔ حتمی منظوری کے بعد فلمی کرداروں کی تلاش شروع ہوتی ہے، کسی فلم میں کس ایکٹر یا ایکٹریس کو لینا ہے، فلم میں کتنے کردار ہوں گے، کس کردار نے کون سا رول پلے کرنا ہے اور انہیں کتنا معاوضہ دینا ہے وغیرہ ۔ اس کے بعد فلم سازی کی ذمہ داریوں کو مختلف یونٹس میں تقسیم کیا جاتا ہے، مثلاً فلم سازی میں جو ایکیوپمنٹ (کیمرہ، مائیک، لائٹس) استعمال ہوتے ہیں ان کو ہائیر کرنے کے لیے الگ یونٹ بنایا جاتا ہے، ان ایکیوپمنٹ کو چلانے کے لیے عملہ بھرتی کیا جاتا ہے۔ سکرپٹ کے مطابق فلم کی عکس بندی کے لیے مناظر اور مقامات تلاش کیے جاتے ہیں۔ فلم میں کردار ادا کرنے والے فنکاروں کی ڈریسنگ کے لیے الگ یونٹ بنایا جاتا ہے۔ ایک اہم ذمہ داری سیٹ ڈیزائن کرنے کی ہوتی ہے، سیٹ ڈیزائن سے مراد وہ سٹیج، سٹوڈیو یا خود ساختہ ماحول تخلیق کرنا ہوتا ہے جہاں کوئی سین ریکارڈ کرنا ہوتا اور فنکاروں نے ڈائیلاگ ریکارڈ کرانا ہوتے ہیں۔ آپ یہ جان کر حیران ہوں گے کہ ایک سیٹ کی تیاری میں لاکھوں کروڑوں روپے خرچ کر دیے جاتے ہیں۔ یہ لاکھوں کروڑوں روپے کس لیے خرچ کیے جاتے ہیں؟ محض ایک بناوٹی اور مصنوعی منظرنامہ تخلیق کرنے کے لیے، تو کیا یہ سب دھوکہ اور جھوٹ نہیں؟؟؟ بات ابھی ادھوری ہے ہم اسے اگلے کالم میں پورا کرنے کی کوشش کریں گے۔

تبصرے بند ہیں.