کرپشن اور دو ٹوک موقف

8

قرآن کے مطالعہ کے بعد ایک حقیقت روز روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ اللہ کی اس الہامی کتاب میں جتنی بھی قوموں پر آنے والے عذابوں کا ذکر آیا توان سب کا common سبب یہی تھا کہ ” گناہ کو گناہ برائی کو برائی “ سمجھنا چھوڑ دیا گیا تھا۔ جب حقوق العباد یا پھر اللہ کی حدود کی پامالی کے معاملات اس نہج پر پہنچتے تھے تو اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا فیصلہ آتا تھا ۔قحط اور پیداوار میں کمی کا عذاب، کسی پر پتھروں کی بارش ، کسی کو زمین میں دھنسا یا گیا، کسی کو آگ ، کسی کو پانی و سمندرمیں غرقابی کا عذاب،تو کسی کو تیز وتند ہوا کے عذاب کا مزہ چکھایا گیا۔ قرآن مجید میں ان عذابوں کا ذکر قصے کہانیوں کے طور پر نہیں بلکہ عبرت پکڑنے کے لیے بیان کیئے گے ۔ تاکہ امت مسلمہ کسی بھی ایسی سرکشی یا نافرمانی کرنے سے قبل ان واقعات اور ان کے نتیجے میں ہونے والے عذاب الٰہی کو پیش نظر رکھے۔
اس کے باجود حیران کن طور پر مملکت اسلامیہ پاکستان میں کرپشن یعنی مال حرام کو برائی نہیں سمجھا جارہا , بلکہ اس کو status symbol کے طور پر لیا جاتا ہے ۔ سب سے پہلے قوم کو سمجھنا ہو گا کہ کرپشن کیا ہے ؟ کرپشن سے مراد چوری جو اللہ کی حدوں میں سے ایک حد ہے ۔ ہمیں سب سے پہلے اپنی نسلوں کے اذہان میں یہ بات اچھی طرح بٹھا دینی چاہیے کہ کرپشن یعنی مال حرام سب سے پہلے لاقانونیت کو جنم دیتی ہے ۔ پھر اس لا قانونیت سے وطن فروش، ملت فروش، ایمان و دین فروش، عدل فروش، علم فروش اور قانون فروش جنم لیتے ہیں ۔ جو بہرحال معاشروں ، ملکوں ، ریاستوں اور سلطنتوں کی تباہی
وبربادی کا سبب بنتے ہیں ۔ میڈیا کے ذریعے یہ المناک خبریں سننے کو مل رہی ہیں کہ کچھ ملکی اداروں اور اثاثوں کو فروخت کرنے کا فیصلہ کیا جارہا ہے ۔ راقم کا پوری قوم سے ایک سوال ہے کہ ان قومی اداروں و اثاثوں کی بجائے کیوں نا اس کرپٹ مافیا سے جو مختلف اداروں، حلقوں اور طبقوں سے ہیں ۔ ان کی نسلوں سمیت ان کے اثاثوں کو ان ہی کے آقاﺅں کے ہاتھوں بیچ دیا جائے ۔
راقم جب بھی کرپٹ مافیا یا عناصر پر کھل کر تنقید کرتا ہے تو بہت سے دوست، احباب و بزرگ اور چاہنے والے جو مختلف سیاسی جماعتوں سے وابستہ ہوتے ہیں وہ اس غلط فہمی میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ شاہد ان کی سیاسی لیڈر شپ کو ہدف تنقید بنا رہا ہے ۔ راقم تو پچھلے ایک سال سے ہر پلیٹ فارم پر ببانگ دہل کہہ رہا ہے کہ کرپٹ مافیا شیطان کا دوسرا روپ ،شیطان کے چیلے ہیں ۔ خواں ان کا تعلق جوڈیشلری ، سیاست، میڈیا، سیکورٹی اداروں، تاجر و کاروباری برادری، مذہبی و دینی حلقوں ، بیورکریسی ، تعلیمی اداروں یا پھر کسی بھی شعبہ ہائے زندگی سے ہے ۔ جس نے بھی کرپشن کی ہے وہ انسانیت کا دشمن ہے ، پاکستانی قوم کا دشمن ہے ، نظریاتی وجغرافیائی سرحدوں کا دشمن ہے ۔ راقم کا کل بھی یہی مﺅقف تھا اور آج بھی یہی مﺅقف ہے ۔اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کرپشن ایک ارب، ایک کروڑ، ایک لاکھ، یا پھر ایک روپے کی ہو ۔ کیونکہ کرپشن حرام ، حرام ہی ہے۔ مسلم معاشرے میں کینسر کی طرح سرایت کر جانے والے اس فعل حرام پر دینی ومذہبی قیادتوں کے خاموش لب قیامت کے دن اللہ کی عدالت میں کیا جواب دیں گے؟ ۔
کسی بھی حکومت یا سیاسی لیڈروں کے جھوٹ ، u-turn اور ان کی عملی پالیسیوں کو مانپنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ان کے بیانات کو اہمیت دینے کی بنائے یہ دیکھا جائے کہ وہ عملی طور پر اپنے وعدوں پر کتنے پورے اترے ہیں۔ بیانات سیاسی بھی ہوتے ہیں، ڈپلومیٹک بھی ہوتے ہیں ۔ الا ماشاءاللہ ، ہمارا سیاسی ڈھانچہ جھوٹ، منافقت اور کرپشن پر استوار ہے ،جو گذشتہ پچاس ساٹھ سالوں سے” روٹی ، کپڑا اور مکان سے شروع ہوتا ہوا ووٹ کو عزت دوسے لیکر سائفرمعاملہ ختم ہو چکا“ پے آکر ختم ہو گیا۔
ایک دفعہ پھر دہرا رہا ہوں کہ خدارا سیاسی تقلید سے باہر نکلیں کیونکہ دین اسلام کی بنیاد سچائی اور عدل پر ہے ۔ مملکت اسلامیہ پاکستان کی بنیاد بھی کلمہ طیبہ پر ہے ۔ کلمہ طیبہ جس کا پہلا حرف ” لا “ ہے ، جس کے معانی” انکار“ کے ہے۔جو دنیا بھر کے باطل نظاموں،نظریات اور سوچ وافکار سے عملی طور پر ہر کلمہ گو سے انکار کرنے کا بنیادی تقاضا کرتا ہے۔ اسی لیے ہمیں انفرادی اور اجتماعی طور پر اپنی زندگیوں میں سچائی اور عدل کو اپنانا ہو گا۔جب بھی ووٹ کے استعمال کا وقت آئے تو اس وقت یہ دیکھنا ہو گا کہ ہمارے سامنے کون کھڑا ہے ؟ اس کو صرف اور صرف سچائی اور عدل کے پیمانے پر ماپنا ہوگا ، مملکت اسلامیہ پاکستان اور اپنی نسلوں کی سلامتی کو ملحوظ خاطر رکھنا ہو گا ۔ تب جا کر مملکت اسلامیہ پاکستان اس کرپشن اور شیطانی چیلوں کی دلدل سے باہر نکلے گا۔ مت بھولیں کہ کرپشن ، سچائی کی ضد ہے اور سچائی اللہ سبحانہ و تعالیٰ اورمجاہد اعظم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات میں سے ایک صفت ہے۔

تبصرے بند ہیں.