عمران خان کی فتح: ایک نئے سیاسی انتشار کی شروعات

14

عمران خان کا بیانیہ کامیاب ہوتا نظر آ رہا ہے چودھری پرویز الٰہی جو پی ٹی آئی کے اتحادی وزیراعلیٰ پنجاب ہیں، جیسے کیسے بھی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے میں کامیاب ہو گئے اور پھر حسب وعدہ پنجاب اسمبلی کی تحلیل کی ایڈوائس، گورنر پنجاب کو بھجوا دی آئین و قوانین کے مطابق اب اسمبلی نہیں رہی اور ایک ایسی نگران حکومت کے قیام کی گنتی شروع ہو چکی ہے جو انتخابات کی نگرانی کرے گی۔ اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز شریف کے ساتھ پرویز الٰہی مشاورت کرنے کے بعد نگران سیٹ اپ ترتیب دیں گے اور پھر انتخابات ہوں گے۔ ان انتخابات کے نتیجے میں جو صوبائی اسمبلی قائم ہو گی اس کی مدت 5 سال ہو گی۔ ایسا ہی معاملہ کے پی کے اسمبلی کے ساتھ ہونے جا رہا ہے گویا پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب اور خیبر پختونخوا میں ”عام انتخابات“ہونے جا رہے ہیں۔ عمران خان اپریل 2022 میں اپنے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد سے مسلسل فوری انتخابات کا مطالبہ لے کر سڑکوں پر ہیں حد یہ ہے کہ اپنی ٹانگ زخمی کرانے کے بعد بھی انہوں نے اپنا احتجاجی رویہ ترک نہیں کیا ہے۔ وہ مسلسل انتخابات کے ذریعے فریش مینڈیٹ کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے خود ضمنی انتخابات میں گیارہ نشستوں میں سے 9 جیت کر ایک ریکارڈ قائم کیا۔ انہوں نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ انہیں عوامی مقبولیت حاصل ہے۔
ماہرین کہتے پائے گئے ہیں کہ مقبولیت اور شے ہے جبکہ انتخابات میں سیٹیں جیتنا بالکل اور سائنس ہے اور عمران خان کیونکہ منجھے ہوئے اور زیرک سیاستدان نہیں ہیں اس لئے عوامی مقبولیت کو انتخابی کامیابی میں بدلنا شاید ان کے بس میں نہیں ہو گا۔ اس دفعہ کیونکہ انہیں مقتدر حلقوں کی سرپرستی بھی حاصل نہیں ہے اور ہاں جہانگیر ترین جیسے پائلٹ اور علیم خان جیسے سرمایہ دار بھی میسر نہیں ہوں گے اس لئے ان کی عوامی مقبولیت کیا نتائج پیدا کرے گی؟ اس بارے میں ماہرین سردست یکسو نظر نہیں آتے ہیں۔
سیاسی تجزیہ نگاروں اور پنڈتوں کی آرا اپنی جگہ پر قابل غور ہوں گی لیکن ایک بات طے شدہ ہے کہ عمران خان اپنے بیان کردہ ہدف ”فوری انتخابات“ کی طرف 9 ماہ سے مسلسل پیش قدمی کرتے نظر آ رہے ہیں انہوں نے گزرے 9 ماہ کے دوران ایک لمحے کے لئے بھی اپنی نظریں اپنے ہدف سے ہرگز نہیں ہٹائیں ان کی احتجاجی سیاست میں رتی برابر بھی ٹھہراؤ نہیں آیا انہوں نے جنرل باجوہ کو ایک دن کے لئے بھی نہیں بھلایا۔ دشنام اور بہتان کی سیاست جاری رکھی۔ شریف، زرداری اور دیگر سیاستدانوں پر تنقید کے نشتر چلاتے رہے انہوں نے ایک دن بھی ضائع نہیں کیا کہ جب وہ شہباز شریف کی قیادت میں قائم اتحادی حکومت کو ناکام اور نامراد بنانے کی کاوشیں نہ کرتے رہے ہوں۔ انہوں نے حکومت کو ناکام بنانے کے لئے
سیاسی عدم استحکام کو جاری و ساری رکھا ان کے بیانیے کا مرکز و محور حکومت کو ناکام اور غیرنمائندہ ثابت کرنارہا ہے گزرے 9 ماہ کے دوران حکومت کی بالعموم اور ن لیگ کی بالخصوص عوامی پذیرائی میں خاصی کمی واقع ہوئی ہے کیونکہ عمران خان کی نااہلیوں اور ناکامیوں کا بوجھ اٹھاتے اٹھاتے شہباز شریف حکومت عوام پر معاشی بوجھ بڑھاتی چلی جا رہی ہے۔ آئی ایم ایف کو مناتے مناتے، ان کی شرائط پر عمل درآمد کرتے کرتے عوامی معیشت کا کباڑہ ہو چکا ہے۔ مہنگائی کا طوفان سونامی کی شکل اختیار کر چکا ہے اشیا ضروریہ کی قیمتوں میں حیرت ناک اضافہ اور اس پر ان کی رسد میں مشکلات نے معاملات کو سنگین تر کر دیا ہے قومی میڈیا آٹے، دال، روٹی، نان، چینی کی قیمتوں اور دستیابی میں حائل مشکلات بارے رطب اللسان ہیں کسی کو حقیقی قومی و بین الاقوامی مسائل پر کہنے سننے کی فرصت ہی نہیں ہے۔ عوامی سطح پر بے چینی و اضطراب بڑھتا چلا جا رہا ہے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے میں حکومتی رٹ کہیں نظر نہیں آ رہی ہے صوبے کا چیف ایگزیکٹو اپنی وزارت اعلیٰ اور اسمبلی بچانے میں سرگرم عمل رہا ہے مرکز کو نیچا دکھانے اور اپنے مفادات کے تحفظ میں مصروف رہنے کے باعث گورننس کے معاملات بگڑتے چلے گئے ہیں جس کے باعث عوامی مسائل میں اضافہ ہوتا چلا گیا ہے۔ ن لیگ اور ان کی اتحادی جماعتیں اور ان کی قیادتیں عوام کو اس حوالے سے مطمئن کرنے میں قطعاً ناکام رہی ہیں۔ کارکردگی کیونکہ کبھی بھی عمران خان کا ایشو نہیں رہا ہے۔ بیانیے بنانے اور ان پر زور دینے اور دیتے ہی چلے جانے کی پالیسی اختیار کئے رکھنے کے باعث عمران خان بڑی مستعدی سے سیاسی انارکی پھیلانے میں مصروف رہے ہیں اور وہ اب اس میں خاصی حد تک کامیاب بھی ہو چکے ہیں۔ حکومت نے 9 مہینوں کے دوران سفارتی اور معاشی میدان میں جو تھوڑی بہت کامیابیاں حاصل کی ہیں ان کے ثمرات حاصل ہونے سے پہلے ہی عمران خان دو اسمبلیوں کی تحلیل کے ذریعے ایک نئے سیاسی بحران کو پیدا کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔
سیاسی تجزیہ نگار ایک نقطے پر متفق ہوتے نظر آنے لگے ہیں کہ اب شاید پورے ملک میں عام انتخابات کرائے بغیر سیاسی استحکام نہیں آ سکتا ہے عمران خان تو 9 مہینے سے ایسا کہتے چلے آ رہے ہیں کہ سیاسی عدم استحکام دور کرنے اور معاشی استحکام لانے کے لئے مشکل فیصلے کرنا ہوں گے اور ایسے فیصلے ایک مستحکم سیاسی حکومت ہی کر سکتی ہے اس لئے انتخابات کے ذریعے فریش مینڈیٹ حاصل کر کے ایسی ہی مستحکم حکومت قائم کرنے کی ضرورت ہے جو ڈٹ کر فیصلے کر سکے۔ اب دو اسمبلیوں کی تحلیل کے ذریعے عمران خان مرکزی حکومت پر دباؤ ڈالنے اور بڑھانے میں کامیاب ہوتے نظر آ رہے ہیں۔ چودھری پرویز الٰہی کی ووٹ آف کانفیڈنس حاصل کرنے میں کامیابی اس بات کی دلیل ہے کہ عمران خان کے بیانیے کو بڑی حد تک عوامی تائید حاصل ہے اور موجودہ حکمران اتحاد عوامی نمائندگی کا حق نہیں رکھتا ہے۔
تمام باتیں اپنی اپنی جگہ درست ہوں گی لیکن ایک بات حقیقت تامہ بن کر سامنے آ گئی ہے کہ پاکستان میں ایک بڑا سیاسی بحران پیدا ہو گیا ہے حکمران اتحاد اور عمران خان و اتحادی ایک دوسرے کے سامنے اس طرح صف آرا ہو چکے ہیں کہ کسی بھی فریق کے لئے اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنا اس کی سیاسی موت ثابت ہو سکتا ہے۔ سردست عمران خان بڑی کامیابی کے ساتھ سیاسی افتراق و انتشار پھیلانے اور بڑھانے میں مصروف ہیں سیاسی عدم استحکام کے باعث معاشی بہتری کا تاثر بھی زائل ہو جائے گا اور حکومت کی معاشی شعبے میں معمولی کامیابی بھی ناکامی میں بدل جائے گی۔ پاکستان معاشی تباہی اور بربادی کا شکار ہو جائے گا۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی قوتیں اور دیگر سٹیک ہولڈرز مل جل کر بیٹھیں اور اتحاد و اتفاق سے کوئی بھی ایسا لائحہ عمل اختیار کریں جو سیاسی استحکام لائے اور قوم کو معاشی بدحالی سے باہر نکالے۔

تبصرے بند ہیں.