ملک کے تمام صوبوں کے تعلیمی نصاب میں یکسانیت لانے کی تجویز پیش

13

پشاور: (محمد اعجازآفریدی) نیشنل کریکولم آف پاکستان اور وزارت تعلیم نے ملک کے تمام صوبوں کے تعلیمی نصاب میں یکسانیت لانے کی تجویز پیش کی ہے جس پر صوبوں سے مشاورت طلب کرلی ہے ۔

 

اس سلسلے میں وزارت تعلیم نے صوبائی حکومتوں سے رابطہ کیا ہے اور کہا ہے کہ کہ نصابی کتابوں کا جائزہ لینے کے لئے بین الصوبائی مربوطہ طریقہ کار ہونا چاہیے ، اس وقت صوبوں میں نصابی کتب معیاری نہیں ہے جن کی معیار بہتر بنانے کے لئے وزارت تعلیم اپنا کردار ادا کرنے کے لئے پُرعزم ہے ۔

 

18 ویں آئینی ترمیم کے بعد تمام صوبے اپنا نصاب خود ترتیب دیتے ہیں اور پبلشر بھی بڑے صوبوں کو فوقیت دیتے ہیں جبکہ بلوچستان کے طلبہ کو اس وقت گلگت اور دیگرصوبوں کے نصابی کتب پڑھائے جاتے ہیں کیونکہ نصابی کتب کی تعداد کم ہونے کی وجہ سے بلوچستان پبلشر کی ترجیح میں شامل نہیں ہے ۔

 

اسکے علاوہ مختلف نصابی کتب کی وجہ سے پبلشر کتابوں کی ترسیل بروقت نہیں کرسکتے جس کی وجہ سے تعلیمی سال شروع ہونے کے باوجود طلبہ کے پاس کتابین نہیں ہوتی اور اسوقت صوبوں میں جو نصاب پڑھایا جاتا ہے وہ انتہائی غیر معیاری ہے جس کا معیار بہتر بنانے کی ضرورت ہے ۔ دستاویزات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ 18 ویں آئینی ترمیم کا اخترام کرتے ہوئے ایک بین الصوبائی نظام ترتیب دینے کی ضرورت ہے جو نصابی کتب کی منظوری اور جائزہ لینے کا کام کرے گی تاکہ نصاب کے ذریعے موجودہ فرسودہ نظام تعلیم میں اصلاحات لائی جاسکے ۔

 

 

 

 

 

تبصرے بند ہیں.