……با جی شمع اور برفی کے دشمن

21

شمع باجی نے سب بچوں پر طائرانہ نظر ڈالی اور چہرے پر سنجیدگی طاری کر لی (جیسے آنکھوں آنکھوں میں پوچھ رہی ہوں ……”سب تیار ہوناں“)۔

"آگئے…… آگئے…… مہمان آگئے“…… عدنان نے سعدی کے کان میں کہا ……

سعدی نے کھسر پھسر کے انداز میں لائبہ کو بتایا ”کھا گئے ……کھا گئے…… سب کچھ کھا گئے؟“

”کون……؟“ لائبہ نے آہستہ سے پوچھا……

صاف ظاہر ہے چو ہے ہی ہوں گے……

اب کیا ہوگا…… لائبہ نے پھر پوچھا……

بند ہ ایسے موقع پر تو کمینے بچوں والا کام نہ کرے…… سعدی نے غصے میں کہا ……

السلام علیکم ……السلام علیکم……

”ہیں ……؟“

”یہ کیا……؟ وہ تو اچانک آدھمکے……“ شمع باجی غصے میں بڑ بڑا ئیں ……

(بچے ادھر ادھر دبک گئے)

پھر سب بچے اپنی اپنی پوزیشن سے ہٹ گئے …… ادھر ادھر جا کے کھڑے ہو گئے…… اس کا مطلب ”جاسوسی کا نظام“ فیل ہو گیا…… اب سب کی شامت آئے گی شمع باجی کے ہاتھوں …… عدنان نے دل ہی دل میں سوچا۔

ڈرے ڈرے سہمے سہمے سب بچے ادب سے جائے نمازوں والی الماری کے پاس بیٹھ گئے…… جیسے کسی کے منہ میں زبان نہ ہو…… ہر طرف ”چپ“ کا دور دورہ تھا۔

سعدی، شمع باجی کے حکم پر مہمانوں کے آگے سے گزرا اور نہایت بے شرم انسان کی طرح مہمانوں کے چہرے دیکھتا ہوا…… گزر گیا……

”لڑ کے کا بھائی تو بھینگا ہے……“ سعدی نے عدنان کے کان میں بتایا……

”بھینگی خالہ کی طرح؟“ عدنان نے حیرت سے پوری آنکھیں کھول کے دیکھتے ہوئے پوچھا۔

”اوہ نہیں“……بھینگی خالہ تو تقریباً پندرہ فیصد تھیں یہ تو تقریباً ساٹھ فیصد بھینگا ہے……

بھائی سنا ہے بھینگے بڑے خوش قسمت ہوتے ہیں؟ سعدی نے پو چھا۔

جبھی بھینگی خالہ کا چالیس ہزار والا پرائز بانڈ نکلا…… مگر بانڈ چور لے گئے ……اور خالہ کو محض نمبریا درہ گیا……

”لڑکے کا بھائی بھینگا ہے“ عدنان نے لائبہ کے کان میں بتایا اور اس نے ارجو کے کان میں کھسر پھسر کی……

”لڑکے کی بہن کا بیکار سا لہنگا ہے……؟“ ارجو نے سینہ تانے…… بات باورچی خانے میں موجود شمع باجی کو جا کر بتائی اور واپس آکر اپنی جگہ پر بیٹھ گیا۔ شمع باجی نے…… امی کو بتایا تو انہوں نے غصے سے شمع با جی کو ڈانٹ دیا۔ بیکار

باتیں بتاتے ہیں تیرے یہ جاسوس ……لڑکے کی بہن نے تو جینز پہن رکھی ہے…… یہ لہنگا کہاں سے آگیا بیچ میں ……

”ہائیں ……“ شمع باجی کے منہ سے نکلا۔ (تقریباً تقریباًوہ شرمندہ سی ہو گئیں ……)

”تین سموسے“……ارجو نے مہمانوں کو کھاتے دیکھا اور چپکے سے آکر جائے نمازوں والی الماری کے پاس بیٹھ کر لائبہ کو بتا یا ……

لائبہ نے سعدی کے کان میں کہا…… ”تین سموسے“ سعدی نے عدنان کے کان میں بولا…… کھسر پھسر کے انداز میں …… تینوں موٹے“ عدنان بھاگ کے باورچی خانے میں گیا…… شمع باجی وہاں نہ تھیں …… وہاں سے وہ سیدھا سنگھار میز کی طرف لپکا جہاں شمع با جی میک اپ کرنے میں محو تھیں …… ”تینوں موٹے“ عدنان نے باجی کے کان میں کہا۔

تو باجی اچھلیں اورلپ اسٹک ہونٹ پر سلپ ہونے کے بجائے ”ناک میں جا گھسی“

”شمع بیٹی تارہ کو لے کر آجاؤ…… مہمانوں کے پاس“ امی کی آواز سنائی دی۔ ادھر ہونٹوں سے ناک تک اورنج کلر کی لپ اسٹک نے گند مچارکھا تھا ادھر تارہ کو لے کر مہمانوں کے سامنے جانا تھا…… ٹشو پیپر تلاش کیا پتہ نہیں یہ کدھر گیا……

”ارجو“…… ”بندر“……

سب جو ڈیڑھ گھنٹہ سے ہنسی ضبط کیے بیٹھے تھے اک ساتھ زور سے ہنسے…… ارجو کی نئی چھیڑ ڈال دی شمع باجی نے ”بندر“……

”بندرو…… کرتی ہوں میں تمہاری ہنسی کا علاج“ شمع باجی آپے سے باہر ہو گئیں ……

اصل میں طے یہ پایا تھا کہ شمع باجی چونکہ بازار سے ٹشو پیپر کا ڈبہ لانا بھول گئی تھیں اس لیے چونکہ وقت کم تھا اور پورے گھر میں صرف ٹشو پیپر کا ایک ہی ڈبہ تھا…… ارجو جب مہمانوں کی تواضع ہو جائے گی تو وہ ڈبہ اٹھا کر لے آئے گا اور میز پر رکھ دے گا تا کہ شمع با جی اور تارہ کے کام آئے…… میک اپ کرتے ہوئے۔

رات ستمبر کے مہینے میں شمع باجی چونکہ پنکھا چلا کے سو گئی تھیں اس لیے ٹھنڈ لگنے کے باعث ان کی ناک بہت زیادہ بہنے لگی تھی…… انہوں نے چونکہ تارہ کو مہمانوں کے سامنے لے کر جانا تھا اس لیے ہونٹ (اوپر والے سے) سے ناک تک ایک تولپ اسٹک بکھر گئی اوپر سے ناک بہہ نکلی…… یہ منظر بالکل دیکھنے کے لائق نہ تھا…… وقت تھوڑا مقابلہ سخت تھا اس لیے شمع باجی نے بکھری لپ اسٹک بہتی ناک ہونٹوں کا پھلاؤ کنٹرول کرنے کے لیے اپنے گرتے دوپٹے کے پلو سے سب کو اک ساتھ صاف کرنے کے چکر میں جو پھیرا…… تو یہ سب مسکچر شمع باجی کی پھیلی ٹھوڑی پر بکھر گیا۔ تارہ خود ہی باورچی خانے سے باہر نکل آئی…… چلو شمع با جی ……؟

گھبرانا تارہ کو تھامگر یہاں شمع باجی نروس ہوگئی…… (یہ موقع ایسا ہوتا ہے جہاں بڑے بڑوں کی طبیعت خراب ہو جاتی ہے)……

ایک دم سے شمع باجی کی نظر تارہ کے کھلے دانتوں پر پڑی…… تو نے پودینہ چٹنی کے ساتھ کیا کھایا ہے……؟ وہ غصے سے بولیں ……آدھا سموسہ پڑا تھا…… میں نے سوچا بچے ہو سکتا ہے مہمانوں کے جانے کے بعد چٹ کر جا ئیں …… میں پودینہ چٹنی میں ڈبو کر چٹ کرگئی……مگر آپ نے کیسے اندازہ لگایا وہ تو اب تک میرے معدے میں بھی اتر چکا ہے……؟ تارہ نے حیرت سے وضاحت کرتے ہوئے پوچھا……

تمہارے دانتوں میں پودینہ چٹنی جو پھنسی رہ گئی چل ”کلی“ کر لے جلدی سے…… امتحان کا وقت ہو چکا ہے……؟  ”امتحان کا وقت“ سب بچوں کا اک ساتھ قہقہہ بلند ہوا۔

اس دوران…… شمع باجی تارہ کو لے کر مہمانوں کے سامنے پیش ہو چکی تھیں۔ لڑکے کی بہن نے جو تارہ کو دیکھا تو اک دم سے اٹھی (ہنستے ہوئے) ”چر“ کی آواز آئی۔ ہمسایوں کے گھر سے جو کرسی منگوائی تھی اس میں سے نکلی کیل لگنے سے بیچاری کا دوپٹہ آدھے سے زیادہ پھٹ گیا……

امی خالدہ بھابھی سے دو پٹہ ادھار لے کر آئی تھی …… ان کو جا کر کیا جواب دوں گی……؟ لڑ کے کی بہن نے روتے ہوئے کہا…… وہ بھول گئی کہ وہ تو بھائی کے رشتہ کے لیے لڑکی دیکھنے آئی ہوئی ہے)۔ اس دوران لڑکی کے امی تارہ سے بغل گیر ہو چکی تھیں …… یہ تو گھر کی بیٹی نکل آئی۔ ہاں امی …… ”روتی“ ہوئی لڑکی نے اپنا رونا ضبط کر کے مسکراتے ہوئے کہا۔

”وہ تو دونوں تارہ اورلڑکے کی بہن کلاس فیلو نکل آئیں اور رشتہ طے پا گیاور نہ تم نے تو کوئی کسر نہ چھوڑی تھی رشتہ گنوانے اور ہمیں ذلیل کرانے میں ……“ شمع باجی نے قطار میں لگے بہن بھائیوں پر چھڑی ہاتھ میں پکڑے رعب ڈالتے ہوئے کہا……

رہی بات جاسوسی کی تو اس میں بھی تم سب زیرو ہو صفر ہے کار کردگی تم سب کی…… عدنان نے مہمانوں کی آمد کی اطلاع دینا تھی مگر اس نے ڈرتے ڈرتے پیغام دیا جوالٹ سمجھ لیا گیا۔ ”آگئے گئے…… آ گئے“ کو ”کھا گئے…… کھا گئے“ سمجھ لیا گیا۔

ارجو نے بتانا چاہا کہ لڑکے کی امی یعنی خالہ جان نے اک دم سے پلیٹ میں اکٹھے ”تین سموئے“ ڈال لیے ہیں جبکہ پیغام ”تین سموسے“ کے بجائے ”تینوں موٹے“ بن کر پیش کر دیا گیا۔ سب سے بری بات کہ صبر کا دامن پھر سب نے چھوڑ دیا۔ جب مہمانوں کے سامنے برفی کی پلیٹ پر سے رومال اٹھایا گیا تو سب سے بڑی پلیٹ میں صرف اک ڈلی برفی کی ادھر ادھر گھوم رہی تھی اور…… اور وہ بھی مہمانوں کے بجائے شمع با جی آپ نے منہ میں ڈال لی ……ارجو نے سنجیدگی سے کہا۔

اور سب…… زور زور سے ہنسنے لگے۔

تبصرے بند ہیں.