……آٹا چاہئے

19

یہ تو معلوم نہیں کہ اُن بچوں کا کیا حال ہے جنہوں نے روٹی کی غرض سے والد کو سستا آٹا لینے کے لئے بھیجا مگر انھیں کیا پتہ تھا کہ مزدوری پر نہ جانے والا ملک عدم روانہ ہو جائے گا، اس قدر اذیت سے موت کے منہ میں جانا پڑے گا۔اس کاجرم ہجوم سے بچ کر آٹا لینا تھا، مگر اس کاوش میں وہ زندگی کی بازی ہارگیا، اسے کیا معلوم جس آئین پاکستان میں اس کے بنیادی حقوق رقم ہیں اسکی پچاسویں سالگرہ منانے کی تیاری ہو رہی ہیں، مرنے والا اسی غم میں غلطاں تھا کہ اس کا تعلق زرعی ملک سے ہے جہاں ہر سو لہلاتے کھیت ہیں، ہریالی اسکی خوشحالی کاپتہ دیتی ہے،اس کا دہقان محنت سے مٹی کو سونابناتا ہے، اسکی بدقسمتی وہ اس کے باوجود بھی منوں مٹی کے تلے ابدی نیند سو گیا۔
اسکی وفات پر دکھ میں مبتلا بچوں کو جب کھانا کھلایا گیا نجانے انکی کیا کیفیت ہو گی، وہ حلق سے کیسے چپاتی اُتار رہے ہوں گے کہ اسی روٹی کے لئے انکے باپ نے بھاری قیمت ادا کی ہے،اس رسمی کھانے کے بعد کون انھیں آٹا لا کر دے گا، وہ بھی اس خوف میں مبتلا رہ کر سستا آٹا لانے کی کاوش نہیں کریں گے جس کا انجام موت ہو سکتا ہے، آئین کے خالق کی سیاسی جماعت کو یہ زُعم بھی ہے کہ وہ مزدروں کی پارٹی ہے اسی کے عہد میں ایک مزدور روٹی، کپڑا، مکان کے منشور کی تاب نہ لا سکا اور مر گیا، ہمارا گمان ہے کہ اسکی موت کے بعد اس کے بچے مکان اور کپڑا سے بھی محروم رہیں گے، اسکی المناک موت پر چند دن تاسف کیا جائے گا، تعزیتی پیغامات،مراسلے زیر گردش رہیں گے، کچھ سیاسی شخصیا ت انکے گھر قدم رنجہ فرمائیں گی، بچوں پردست شفقت رکھا جائے گا، اللہ کی رضا کہا جائے گا، سوشل میڈیا پر چند دن دھول اڑے گی، پھر لمبی خاموشی ہوگی، ہمارے ہاں یہی روایت پختہ ہوتی جارہی ہے۔
مرنے والا اتنا طاقتور بھی نہیں تھا کہ عدلیہ از خود نوٹس لے اس کا در تو صرف صاحب ثروت کے لئے کھلتا ہے، انتظامیہ بھی اس کا ملبہ دوسرے شعبہ جات پر ڈال کر ذمہ داری سے بری الذمہ ہو گی، پہاڑ جیسی زندگی کیسے بسر ہو گی یہ تو وہی جانتے ہیں جنہوں نے والد کے بغیر ساری حیاتی گذارنی ہے۔ نہ ریاست ان کا بوجھ اٹھائے گی، نہ صوبائی سرکار اپنی غلطی کا کفارا ادا کرے گی، نہ ہی شعبہ جات اس بد انتظامی کا بار اپنے پاؤں پر پڑنے دیں گے۔
وفاق کے ذمہ دار یہ کہہ کر بری الذمہ ہو رہے ہیں کہ انھوں نے تو گندم درآمد کروائی ہے تاکہ کوئی شہری روٹی کے بغیر بھوکا نہ سوئے یہ لاپرواہی تو صوبائی حکومتوں کی ہے کہ جنہوں نے بروقت آٹے کی فراہمی کا اہتمام نہ کیا، مرحو م اگر ایلیٹ کلاس سے تعلق رکھتا تو پارلیمنٹ میں ضرور یہ سانحہ زیر بحث آتا،قصور اِسی کا ہے جو ایسے گھرانہ میں پیدا جس کی معاشرہ میں کوئی قدرو قیمت ہی نہیں، اپنی کل حیاتی
میں مرنے والا یہ اندازہ کیوں نہ کر سکا کہ یہاں وقعت، تکریم صرف اُس ملتی ہے جو دولت کے ساتھ ساتھ اپنا خاص ا سٹیٹس رکھتا ہے، ایک مزدور کی سماج میں کیا اوقات ہے؟
ارباب اختیار کے نزدیک اس کی اہمیت بس اتنی ہے کہ مرحوم اِس ملک کا شہری تھا، وہ کن نامساعد حالات میں وقت گذار کر گیا، بچے کس مصیبت سے دو چار ہیں انھیں اس سے کوئی سرو کار نہیں، یہ معاملہ صرف مرنے والے مزدور تک محدود نہیں، ہر مزدور اسی کرب سے گزر رہا ہے۔اس لئے بھی کہ یہ فلاحی نہیں سیکورٹی ریاست ہے۔
ارض پاک کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جو وسیع رقبہ رکھتے ہیں، جن کی آبادی کا 40 فیصد زراعت سے وابستہ ہے اور دیہاتوں میں مقیم ہے، یہاں سال بھر کے لئے گندم سٹاک رکھنے کی روایت پختہ ہے، کٹائی کے موسم میں بہت سے مزدور بھی دیہی علاقوں کا رخ کرتے ہیں کہ وہ اناج جمع کر سکیں، معاشرے کی مڈل کلاس جو شہروں میں مقیم ہے وہ بھی اپنے ہاں باقاعدہ گندم سٹور کرنے کا انتظام کرتی ہے،جو تعداد بچ جاتی ہے وہ اتنی قلیل ہے کہ بہتر انتظام سے اسے آٹا دیا جا سکتا ہے۔
امسال گندم کے نرخ تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہیں، بازار میں نان،روٹی کی قیمت بھی شہریوں کی پہنچ سے باہر ہورہی ہے، کوئی قصبہ، شہر ایسا نہیں جہاں پر عوام سراپا احتجاج نہ ہوں، واقفان حال کہتے ہیں کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد عوام کے نان و نفقہ کی ذمہ داری صوبائی حکومتوں کو ادا کرنا تھی،جو ادائیگی میں بری طرح ناکام رہے ہیں،بعض ماہرین کہتے کہ گندم کی بین الالصوبائی نقل و حرکت پر پابندی بھی آٹا کی بروقت فراہمی میں ایک رکاوٹ ہے، اسی کا ہی یہ فیض ہے کہ کوئٹہ سے 70سالہ بوڑھی عورت کو بھی قطار میں کھڑے ہو کر گھر کے افراد کے لئے آٹا لینا پڑ ا ہے مزدوری چھوڑ کر آٹا لینے کے محاذ پر دن بھر برا جمان رہتے مزدور شام کو ناکام لوٹ جاتے ہیں، بعض کی رائے یہ ہے کہ آٹا کی عدم دستیابی کی بڑی وجہ بد انتظامی بھی ہے۔ آپ ساٹھ کی دہائی کے اخبارات اٹھا کر دیکھ لیں تو عوام ڈپو کے سامنے آٹا، چینی کی قطارمیں کھڑے نظر آئیں گے۔2023 میں بھی صورت حال مختلف نہیں ہے، گوورننس کا کیا کمال ہے کہ ارباب اختیار تاحال عوام کو باعزت طور پر روٹی جیسی بنیادی ضرورت عطا نہیں کر سکے، اُس درو میں بھی مافیاز سرگرم ہوتے تھے،مگر نواب آف کالا باغ کی ایک بھڑک اِنکے دل ہلا دیتی تھی، اب بھاری بھر عہدے رکھنے والے افسران کے چھاپے بھی مافیاز کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔
پورا ملک آٹے کے بحران میں مبتلا ہے، صوبائی حکومتیں سیاست چمکانے میں مصروف عمل ہیں،عوام کی رسوائی میڈیا کی آنکھ سے پورا عالم دیکھ رہا ہے،پھر بھی بات بیانات سے آگے نہیں بڑھ سکی ہے، وہ قومی ادارہ جات جن کے ناتواں کندھوں پر اعدادو شمار جمع کرنا مستقبل کی منصوبہ بندی کرنا لازم قرار پایا ہے وہ خواب خرگوش کا مزہ اُس وقت کیوں لیتے رہے، جب گندم کی پیدوار کم ہونے کا بگل بجا دیا گیا تھا، ماہرین کی رائے یہ بھی ہے کہ آٹے کے مسئلہ کا تعلق سپلائی چین سے ہے،تاہم بعض درد مند حلقے کہتے ہیں کہ بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ نئی زمین کی زرخیزی پر کوئی توجہ دی ہی نہیں جارہی ہے، لاکھوں ہیکٹر رقبہ بے کار ہے،اس کو آباد کر نے کے لئے پانی درکار ہے، اس کی منصوبہ بندی میں ہماراقومی رویہ روایتی اور واجبی ہی رہا ہے، جس کی کوکھ سے بہت سے بحران جنم لے چکے ہیں۔
المیہ یہ بھی ہے کہ گندم کی سٹوریج کے لئے معقول انتظام نہیں ہے حالیہ سیلاب میں لاکھوں ٹن گندم بہہ چکی ہے،،وقت کرتا ہے پرورش برسوں، حادثہ ایک دم نہیں ہوتا والا معاملہ اس قوم کو درپیش ہے۔
سستے آٹے کا حصول مزدورکی جان لے رہا ہے، مگرمیر پو رخاص سندھ میں ”بھٹو“ پھر بھی زندہ ہے روٹی، کپڑا، مکان کا نعرہ ان بچوں کا منہ چڑا رہا ہے، جو اس سانحہ کی بدولت گھر بیٹھے بٹھائے یتیم ہو گئے ہیں۔مجید لاہوری کا شعر مرحوم کی بے بسی کی شہادت دے رہا ہے۔
چیختے ہیں مفلس نادار آٹا چاہئے
لکھ رہے ملک کے اخبار آٹا چاہئے

تبصرے بند ہیں.