ووٹ نہیں ووٹر بچاؤ

9

یونانی اپنے اپاہج بچے پہاڑ سے گرا کر ہلاک کردیتے تھے کیونکہ اُن کا خیال تھا کہ یہ بچے سماج پر بوجھ ہوں گے اور ایک طویل اور تکلیف دہ زندگی گزاریں گے۔ یونانیوں کے اس عمل کو آج کی”مہذب دنیا“ نفرت سے دیکھتی ہے گو کہ گزشتہ اکیس سال میں امریکہ اور اُس کے اتحادیوں نے دنیا بھر کے حسین اور تندرست بچوں پر وہ بم بھی چلا دئیے جن کا بوجھ آسمان سے باتیں کرنے والے پہاڑ بھی نہیں اٹھا سکتے تھے۔جن ریاستوں سے اِن عالمی اتحادیوں کا گزر ہوا ہے وہاں لوگوں کو چنگیز،ہلاکو، تیمور اور ہٹلر بھی اچھے دکھائی دینا شرو ع ہو چکے ہیں۔عالمی معیشت کے جادوگروں نے اپنی معاشی اجارہ کیلئے انسانی خواہشات اور امن کو چھو منتر کردیا ہے۔ جن ریاستوں سے اِن تاتاریوں کا گزرہوا ہے وہاں اب صرف درد کے افسانے، اجڑی ہوئی کوکھیں، بچوں کے قبرستان، نقل مکانی کے دکھ اوربھوک کا دیوناچ رہا ہے۔ وہاں بالا اورپست دونوں طبقات ایک جیسے قتل ہوئے ہیں۔ پاکستان کی ریاست کو کرپٹ سیاستدانوں اور جرنیلوں نے اپنے گھروں میں دیوالی منانے کیلئے دیوالیہ کرکے رکھ دیا ہے۔ بے یقینی اورخوف کی فضا ہے کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ آلودہ ہوتی جا رہی ہے۔ سیاستدانوں کے کھیل تماشے ختم ہونے کا نام نہیں لے رہے۔کسی کے پاس اسمبلی میں کم وو ٹ ہیں اورکسی کے پاس زیادہ لیکن جنہوں نے ووٹ دیئے ہیں اُن کیلئے کسی کے پاس کچھ بھی نہیں ہے اورکبھی نہیں تھا۔ عمران خان نے اپنے اقتدار میں ہروہ کام کیا جس کی وہ اپوزیشن میں مخالفت کرتا تھا۔آئی ایم ایف سے قرض لینے کے بجائے خود کشی کرنا تھی لیکن پاکستانیوں کے نصیب اتنے اچھے کہاں!ایک کروڑ نوکریاں دینا تھیں لیکن کئی لاکھ بیروزگارہو گئے!پچاس لاکھ گھر تعمیر ہونے تھے لیکن منصوبہ بندی پچاس لاکھ قبروں کی دکھائی دینا شروع ہوچکی تھی! دو سوارب مراد سعید نے لاکر سو ارب ایم ایف کے منہ پر مارناتھے اور سو ارب سے اپنی معیشت بہتر کرنا تھی لیکن وہ ارشد شریف مقتول کا لیپ ٹاپ لے کر فرار ہے اور تا دم تحریر مطلوب ہے!۔ شہداء ماڈل ٹاؤن کے ملزمان کو سزا دینا تھی لیکن عمران خان اپنے دورحکومت میں بطور وزیراعظم سانحہ ساہیوال کے ملزموں کا کچھ نہ بگاڑ سکا! زلفی بخاری، شہزاد اکبر، سیف اللہ نیازی، عامر کیانی اور سرور خان کے سکینڈل چھپتے رہے لیکن عمران خان نے بطوروزیر اعظم اُن کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی! بزدار نے ڈیرہ غازی خان سے بزدار جونئیرز بلوا کر انہیں وزیراعلیٰ کے اختیارات تفویض کر دیئے مگر وزیر اعظم پاکستان خاموش رہے! پاکستان کی سیاسی کرپشن میں گوگیوں، پنکیوں، بزداروں اور مانیکاؤں کا نام گونجتا رہا لیکن عمران خان نے حرا م ہے اُن کے خلاف ایک لفظ بھی سنا ہو!۔ ایک حیرت ہے! کہ آج تک ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی جب آئی ایس آئی چیف نے گوگی، پنکی اوربزدارکی کرپشن کا پلندہ وزیراعظم عمران خان نے سامنے رکھا توعمران خان نے اُسے ذاتی مسئلہ قرار دیتے ہوئے آئی ایس آئی چیف جن کی تعیناتی کو ابھی 8 ماہ ہوئے
تھے،اپنے دوست، رہنما اور سہولت کار سابق آرمی چیف قمر جاوید باجوہ کوکہہ کر انہیں عہدہ سے ہٹا دیا لیکن عمران نیازی نہیں جانتے تھے کہ جس آئی ایس آئی چیف کووہ کرپشن کی شکایت کرنے پر اُس کے عہدے سے ہٹا رہے ہیں وہ آنے والے وقت میں آرمی چیف بن رہے ہیں کیونکہ عمران خان کے منصوبے میں موجودہ آرمی چیف کی گنجائش تھی ہی نہیں اور اس واقعہ کے بعد عمران خان آرمی چیف کی تعیناتی سے پہلے جتنا گند پھیلا سکتے تھے انہوں نے اپنی بساط سے زیادہ پھیلایا۔ وزیراعظم کے عہدے سے ہٹنے اور زخمی ہونے کے بعد اب عمران خان کا موجودہ آرمی چیف کو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا درس دینا میرے لئے حیرت اور عمران خان کیلئے باعث شرم ہونا چاہیے۔ یہ سیاست دان قوم کے سامنے ننگے ہوں یا نہ ہوں لیکن یہ جرنیلوں اور جرنیل ان کے سامنے ایک جیسے ہوتے ہیں۔قمر جاوید باجوہ اور عمران خان اپنے اپنے گھروں کو جا چکے لیکن اُن کی بری پالیسیوں کا نتیجہ آج عوام کو ایک بے رحم موت کی طرف لے جا رہا ہے۔ کالم لکھ رہا تھا کہ عمران خان کے خطاب کا سائرن بجنا شروع ہو گیا اور میں جانتا تھا کہ وہ کیا کہے گا۔خدا کا شکر ہے کہ اُس نے اپنی کہانی وہیں سے شروع کی جہاں سے مجھے امید تھی کہ اِس”آخری امید“نے موجودہ گورنمنٹ کو سیلاب زدگان کیلئے ملنے والی امداد کے بعد دنیا کو بتانا ہے کہ ہم نے 80 ء کی دہائی میں کیسے دہشتگرد تیار کیے اور صدی بدلتے ساتھ ہی ہم نے اُن کے ساتھ جنگ کرکے کتنی بڑی غلطی کی۔ عمران خان پاکستان میں طالبان کا ترجمان ہے لیکن وہ کبھی اٹک تک افغان علاقہ بتانے والوں کو کوئی جواب نہیں دیتا۔ عمران نیازی کا فو ج بارے رویہ باجوہ سے مدد لینے کے باوجود نہیں بدلا۔وہ کل بھی یہی کہتا تھا کہ”آج مذاکرات کی گنجائش ہے لیکن اگر افواج پاکستان کو طالبان نے شکست دے دی تو پھر یہ گنجائش بھی نہیں رہے گی۔“ یہ الفاظ ہیں اُس شخص کہ جسے قمر جاوید باجوہ نے اِن الفاظ کے بعدبھی پاکستان کا وزیراعظم بنایا، مجھے قمر جاوید باجوہ پر بھی افسوس ہے کہ ایسے شخص پر انہوں نے کیسے ہاتھ رکھ دیا۔
مجھے یاد ہے کہ عمران خان وزیر اعظم بننے سے بہت پہلے ایم۔ کیو۔ ایم کے ورکروں کے بارے میں کہتا تھا کہ یہ کیسے بیوقوف لوگ ہیں جو ایک شخص کو ویڈیو پر سننے کیلئے لاکھوں کی تعداد میں اکھٹے ہو جاتے ہیں؟ ایم کیو ایم عمران خان کے نزدیک ایک دہشتگرد تنظیم تھی لیکن عمران خان نے اُن کو نہ صرف اپنی حکومت کا حصہ بنایا بلکہ مرکز میں اُن کا وزیر قانون بھی لیا،حکومت ختم ہونے اور موجود ہ اتحادی حکومت کا حصہ بننے کے بعد ایم کیو ایم پھر دہشتگرد بن چکی ہے لیکن عمران خا ن کو آج یہ ضرور سوچنا چاہیے کہ الطاف حسین کے ویڈیو جلوسوں میں لاکھوں کی تعداد میں لوگ اپنے لیڈر کی جلاوطنی میں بھی آ جاتے تھے لیکن لبرٹی چوک میں آپ کا بیان سننے کیلئے پنجاب حکومت کو پوری مشینری، آپ کے صوبائی وزراء اور ایم این ایز مل کربھی کوئی ایسا کارنامہ کرنے میں ناکام رہے۔تحریک انصاف میں غیرت مند،خاندانی، باعزت اور باوقار شخص کی گنجائش بالکل ختم ہو کر رہ گئی ہے۔اب یہ کچرا عمران خان کی نظر نہ آنے والی قیادت میں کیا گُل کھلاتا ہے اس کا فیصلہ تو آنے والا وقت کرے گا لیکن میں انتہائی ذمہ داری سے لکھ رہا ہوں کہ 2018ء کے عمران خان پر کوئی ثابت شدہ الزام نہیں تھا۔ سابق آرمی چیف قمر جاوید باجوہ اُسے مروجہ پاکستانی سیاست کا وضو کرا کر اقتدار میں لایا تھا تاکہ عمران خان کے تبدیلی کے بیانیے سے ہو ا نکل سکے اوراب اگر انتخابات 2023ء میں،ہو بھی گئے تو عمران خان کے سابق ہارے اور جیتے ہوئے امیدواروں کو سب سے بڑی مشکل کا سامنا اپنے انتخابی حلقوں میں کرنا پڑے گا کیونکہ انہوں نے اقتدار کے دنوں میں عمران خان کے ورکروں کی طرف پلٹ کر بھی نہیں دیکھا، جس سے وہ اپنے گھروں میں ہی رسوا ہو کر رہ گئے ہیں۔سواب وہ کسی پرانے امیدوار کیلئے لوگوں سے ووٹ مانگنے کے قابل بھی نہیں رہے۔پاکستان کے سیاستدانوں اورجرنیلوں کے کھیل تماشے میں پاکستان میں بسنے والے غیر محفوظ ہو چکے ہیں اوراگر یہ ”سیاسی منڈوے“ بند نہ ہوئے تو ہمارے پاس بچانے کیلئے کچھ بھی نہیں بچے گا اور آنے والا مورخ ہمیں یونانیوں سے زیادہ بے رحم لکھے گا کہ ہم نے اپنے تندرست اور توانا بچے ایک بے رحم سیاست کے سپرد کرکے ہلاک کردیئے اور شاید یہی عمران خان کا اگلا پاکستان ہے۔

تبصرے بند ہیں.