ہکیا ایمان باالغیب…… اندھا یقین Blind Faith

0

ہمارے کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کا 1990 کا بیچ بڑا زرخیز اذہان پر مشتمل تھا۔ طبی شعبے میں اپنی اپنی افتادِ طبع کے مطابق ہر کسی نے مختلف شعبہ جات میں اختصاص بھی حاصل کیا، یعنی بیشتر نے سپیشلائزیشن بھی کی اور تقریباً نوے فیصد کلاس اس وقت امریکہ میں آباد ہے…… شاد ہو نہ ہو، آباد ضرور ہے۔ طبی شعبے کے علاوہ بھی ہمارے کلاس فیلوز میں بیشتر نادرِ روزگار صلاحیتوں سے مزین تھے، ان میں شاعر بھی تھے، مصور بھی، دانشور اور فلسفی بھی اور موسیقار بھی۔ ڈاکٹر انجم جلال سے لے کر مہدی بلوچ تک…… کس کس کے کیا گُن گنگنائے جائیں۔ اللہ ان سب کی توفیقات میں اضافہ کرے، اور انہیں مخلوقِ خدا کے لیے منفعت بخش ہونے کی عزت و سعادت سے بہرہ ور کرے۔ کچھ برس قبل مہدی بلوچ نے کہ ہمہ صفت قسم کا بوقلموں آدمی ہے، ہر شعبہ حیات سے متعلق شخص کے ساتھ رابطے میں رہتا ہے، سیاستدانوں سے لے کر ہم ایسے گوشہ نشینوں تک، ہر کسی کے ساتھ وقت رابطے میں ہوتا ہے، ایک واٹس ایپ گروپ تشکیل دیا جس میں پرانے لوگ نت نئی باتیں کرتے رہتے ہیں۔ ایسے میں ڈاکٹر ناصر رضا اعوان کہ نیورو سرجری میں کمالات دکھاتے ہیں، انہیں کیا سوجھی کہ اپنے ہم جماعتوں میں چند فلسفی نما لوگوں کو پہچان کر ایک نیا گروپ تشکیل دے دیا، جس کا عنوان رکھا ”پُٹھے سوال……“ الٹے سیدھے سوال سے مراد یہ ہے کہ یہاں وہ سوال ہوں گے جو عام عوام کے درمیان نہیں کیے جا سکتے۔ نیت اچھی ہے، وہ یہاں اپنے اندر چھپے ہوئے فلسفی کو باہر لانا چاہتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ ان کا مدعا یہ بھی ہے کہ دینی نظریات کو دانشورانہ پلیٹ فارم مہیا کیا جائے۔ ہمارے لیے تو یہاں کیے جانے والا کوئی سوال بھی نیا اور اچھوتا نہیں۔ بحمد للہ! ہم نے اپنے مرشد قبلہ واصف علی واصفؒ کی محفل میں اشفاق احمد، بانو قدسیہ، ڈاکٹر اجمل نیازی، حنیف رامے اور ثاقب رحیم صاحب کو انتہائی بے رحمانہ قسم کے ”پٹھے سوالات“ کرتے دیکھا ہے، وہ سوالات اگر کسی مولوی کے سامنے کیے جاتے تو وہ ان سب کے سر اتارنے کا فتویٰ جاری کر کے اپنا کام تمام کر چکا ہوتا، لیکن کمال ہمت اور حوصلہ ہے فقیر لوگوں کا، آپؒ وہ تمام سوالات بڑے حوصلے سے سنتے اور ایسا باکمال جواب مہیا کرتے کہ سوال کرنے والا اس سوال کے حوالے سے ہمیشہ کے لیے سیراب ہو جاتا۔
اس گروپ میں گزشتہ دنوں اس موضوع پر بات ہو رہی تھی کہ کیا انسان کے ہاں مذہب کا تصور اس کی خوف کی جبلت کے سبب پیدا ہوا ہے؟ مثلاً جب وہ بادل کی گرج چمک سے خوفزدہ ہوا تو اس نے بادل اور بجلی کو دیوتا سمجھ لیا …… علیٰ ھٰذا القیاس! یہ بڑا گھسا پٹا سا نظریہ ہے، اس کا شافی جواب ڈاکٹر انجم جلال نے بڑے خوب صورت پیرائے میں دیا، خلاصہ کلام یہ تھا کہ انسان کے پاس صرف خوف ہی نہیں بلکہ محبت، ہمدردی، تلاش اور جستجو جیسے جذبات بھی موجود ہیں جو انسان کو کسی ماورا ہستی کی تلاش پر مجبور کرتے ہیں۔ دراصل مذہب سے خوف زدہ مستشرقین اسی فکر پر کاربند ہیں اور پھر اس فکر کو ہمارے ہاں کے متشکک دانشور ہاتھوں ہاتھ لیتے ہیں اور حسبِ منشا اپنے مقالات مکمل کرتے رہتے ہیں۔ انسان کا دل جس خیال کو قبول کر لے، دماغ اس کے تحفظ کے لیے دلائل کا انبار لگا دیتا ہے۔ عقل کا بنیادی وظیفہ ہی یہ ہے کہ دل جسے قبول کرے، اس کے حق میں کیس تیار کرے، ایک تھیسس مکمل کرے…… اور جہاں سے دل اکھڑ جائے وہاں رد و قدح کرے اور دلائل کے ترکش سے ایسے تیر چلائے کہ اپنے مخالف کے چھکے چھڑا دے۔ بہرطور Darwinian Thought سے نکل کا Divine Thought میں قیام پذیر ہونا کوئی آسان کام نہیں ہوتا۔ دین کا تعلق اگر خوف سے ہوتا تو دین کے بنیادی اصولوں میں ”لااکراہ فی الدین“ (دین میں کوئی جبر نہیں) کا کلیہ نہ ہوتا۔ دین میں کوئی جبر ہے، اور نہ یہ جبر سے پھیلتا ہے، بلکہ دین تو خوف اور حزن کو دور کرنے کی تدبیر کرتا ہے…… دین پر چلنے والوں کا منتہائے کمال یہ ہوتا ہے کہ وہ ”لاخوف علھیم ولا ھم یحزنون“ کی منزل پر پہنچ جائیں۔
عمر کے اس حصے میں ایسے ماورائی سوالوں کی طرف متوجہ ہونا ایک لازمی امر ہے۔ جب زندگی کی شام ہونے لگتی ہے تو اگلے دن، یعنی اگلی زندگی کی صبح، کے بارے میں متفکر ہونا ایک مفکر ذہن کے لیے عین قدرتی بات ہے۔ انسان کی شعوری زندگی میں جلد یا بدیر ایسا مرحلہ ضرور آتا ہے جب اسے شعوری طور پر بھی کلمہ پڑھنا ہوتا ہے…… اسے کسی کے ہاتھ پر کلمہ پڑھنا ہوتا ہے…… سوچ سمجھ کر شعوری طور اسے ایمان لانے یا نہ لانے کا فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔ یہ عمر رسیدگی جس قدر بھی جلد نازل ہو جائے بہتر ہے۔ درجوانی توبہ کردن شیوہ پیغمبری۔اسی دانشورانہ بحث میں کسی نے ایمان بالغیب کو اندھا یقین Blin Faith لکھا۔ دراصل ایمان بالغیب پر دانشورانہ خیال آرائی بالعموم اسی نتیجے تک پہنچتی ہے۔ غیب کے عالَم کے بارے کئی عالِم بھی خاموش ہیں۔ شہود اور غیب دو الگ الگ عالَم ہیں۔ یہ ایک دوسرے اس طرح الگ ہیں جیسے دن اور رات الگ الگ ہیں۔ جہاں یہ دونوں عالم ملتے ہیں وہاں جھٹپٹے کے عالم میں کچھ قیاس آرائیاں تو ہو سکتی ہیں، لیکن دن اور رات کی طرح ہر عالم کا منظر الگ ہے، قانون جدا ہیں، یہاں تک مقنین اور شاہدین بھی الگ ہیں۔ جس طرح کچھ لوگ دن کی دنیا کے مسافر ہوتے ہیں اور کچھ رات کے، اسی طرح یہ کچھ شعور عالَم شہود کے عالِم ہوتے ہیں اور کچھ غیب کے۔ عالمِ شہود میں پلنے بڑھنے والا عالِم عین ممکن ہے غیب کے عالَم کے متعلق بے خبر ہو۔ غیب اور شہود کے عالَم ایک دوسرے ہیئت اور تعریف کے اعتبار کے ایک دوسرے سے اس طرح جدا ہیں کہ شہود کی مثالیں بھی غیب پر صادق نہیں آ سکتیں۔ عام طور لوگ غیب کی مثال یوں دیتے ہیں کہ ایک شخص کے لیے کوئی واقعہ غیب ہے اور دوسرے کے لیے وہ واقعہ ظاہر…… جیسے مریض اور لواحقین کے لیے کسی مرض کا حتمی انجام غیب ہے لیکن ڈاکٹر کے لیے وہ انجام غیب میں نہیں ہوتا۔ یہ مثال اس لیے ناقص اور درجہ ثقاہت سے گر جاتی ہے کہ مریض، مرض اور مرض کے حتمی نتائج سب چیزوں کا تعلق عالمِ شہود سے ہے۔ کوئی بھی شخص اپنے مطالعے اور ذہنی استعداد میں اضافے کے ساتھ معالج کے ممکنہ ”علمِ غیب“ کا ہم پلہ ہو سکتا ہے، جبکہ عالمِ غیب کے متعلق ایسی بات نہیں کی جا سکتی۔ کوئی اُمتی اپنی عبادت، ریاضت اور عقلی صلاحیت کے ساتھ خدا اور فرشتوں سے ہمکلام نہیں ہو سکتا، کوئی امتی حاملِ وحی نہیں ہو سکتا۔ ذاتِ نبیؐ پر ایمان لانے کے بعد عالمِ غیب میں امتی کی رسائی فقط رویائے صادقہ، کشف، وجدان، القا اور الہام کی حد تک ہوتی ہے…… لیکن یہاں بھی وہ تعبیر اور معبر کا محتاج ہوتا ہے۔
عالم شہود میں کسی بھی قسم کی معلومات کے لیے بنیادی طور پر ہم اپنے حواسِ خمسہ کے محتاج ہوتے ہیں، اور ان حواس کی مدد سے ہم اسباب اور نتائج کی کڑیاں جوڑتے ہوئے کسی واقعے کی تہہ تک پہنچتے ہیں۔ یہاں ہمیں کسی شخص پر ایمان لانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اگر محسوسات، معلومات اور ذہنی استعداد مشترک ہوں تو اخذ شدہ نتائج بھی مشترک ہوتے ہیں۔ عالم شہود میں اسباب اور نتائج میں ربط پیدا کرنے اور سمجھنے کے لیے ایک اہم چیز وقت ہے۔ یہاں ”پہلے اور بعد“ اہم ہے، یہاں وقت فیصلہ کرتا ہے کہ کسی واقعے میں کیا چیز سبب ہے اور کیا نتیجہ …… اگر وقت کی ڈوری درمیان سے کھینچ لی جائے تو اسباب و نتائج کی بنیاد پر کھڑی کی گئی علم کی عمارت پل بھر میں زمین بوس ہو جاتی ہے۔
عالمِ شہود کے برعکس عالمِ غیب میں وقت نہیں ہوتا…… وہاں ماضی، حال اور مستقبل ایک ہی زمانہ ہے۔ اس لیے سبب اور نتیجے کی سائنس اچانک غیر اہم ہو جاتی ہے۔ غیب کا عالم وہ عالم (جہاں) ہے جہاں تک ہمیں ہمارے حواسِ خمسہ اور ان حواس کی صلاحیت اور رینج کو تیز کرنے والے تمام سائنسی گیجٹ (عام کیمرے سے لیکر کر انفراریڈ، مائیکرو سکوپ سے لے کر جیمز ویب کی ٹیلی سکوپ تک) رسائی نہیں دیتے۔ یہاں تک کہ ان حواس خمسہ اور ترقی یافتہ گیجٹ سے حاصل کی ہوئی معلومات کو ہمارے ذہن رسا کی مدد بھی کوئی فائدہ نہیں دیتی۔ اگر حواسِ خمسہ کی معلومات اور عقلی صلاحیت غیب تک رسائی کے لیے کافی ہوتی تو ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں کی بعثت عبث قرار پاتی۔ اللہ، فرشتے، جنت، دوزخ، پل صراط، میزان اور روز محشر کا تعلق عالم غیب سے ہے۔ ان تک معلومات کی حد تک رسائی پانے کے لیے بھی ہمیں ان ہستیوں کی ضرورت ہے جن کا تعارف نبی اور رسول کے نام سے ہے۔ غیب کے متعلق ہماری عقلی صلاحیت کی حیثیت سفید چھڑی پکڑے ہوئے ٹٹول ٹٹول کر راستہ لینے والے کسی مادر زاد اندھے سے زیادہ ہرگز نہیں۔ وہ آواز سن کر اپنا راستہ سیدھا تو کر سکتا ہے لیکن رنگ اور منظر دیکھنے سے محروم ہے۔ اپنے راہنما کی نصیحت پر اس طرح اندھے اور بہرے بن کر نہیں گزر جانا چاہیے۔
راہنما کون ہے؟ راہنما وہی ہے جو عالمِ غیب سے متعلق ہے۔ یہ انبیائے کرام ہیں، انہوں نے خود کو پیغام بر کہا، ان ہی کا دعویٰ ہے کہ ہمارے پاس تمہارے لیے غیب کی خبریں موجود ہیں۔ یہ بشارات اور انذار کی شکل میں دین کی بنیادی تعلیمات میں موجود ہیں۔ عالمِ غیب تک رسائی کے لیے جس ایمان بالغیب کی ضرورت ہے اسی کا دوسرا نام ”ایمان باالرسول“ ہے۔ رسالت کے اقرار کے بغیر توحید کا اقرار کچھ فائدہ نہیں دیتا۔ مجرد خیال کو ٹھوس حقیقی دنیا میں لانے اور پھر دائرہ علم و عمل میں نافذ کرنے کے لیے ہمیں ذاتِ رسولؐ پر یقین کی ضرورت ہوتی ہے…… اسی یقین کا نام ایمان ہے۔ یہ یقین علمی، عینی اور حقی بھی…… یعنی یہ یقین اپنی ابتدائی شکل میں عقلی ”ایمان“ یعنی اسلام ہے، اور اپنی اعلیٰ و ارفع شکل میں کشفی و وجدانی…… عینی یقین ہے…… عین ایمان ہے……!! صاحبانِ اسلام علم الیقین کے درجے پر ہیں، صاحبانِ ایمان و احسان عین الیقین کے درجے پر…… اور …… حق کے ساتھ متحقق ہو کر حق ہونے والے حق الیقین کے درجے پر!!
لفظ ”نبی“ کے لغوی معنی ہیں ”خبر دینے والا“ اور اصطلاحی معنی ہیں ”عالمِ غیب کی خبر دینے والا ……“ پس لغوی معنوں سے حقیقی معنوں تک رسائی مل جائے تو انسان فکری لغو سے بچ سکتا ہے…… نہیں تو نہیں!!

ہمارے کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کا 1990 کا بیچ بڑا زرخیز اذہان پر مشتمل تھا۔ طبی شعبے میں اپنی اپنی افتادِ طبع کے مطابق ہر کسی نے مختلف شعبہ جات میں اختصاص بھی حاصل کیا، یعنی بیشتر نے سپیشلائزیشن بھی کی اور تقریباً نوے فیصد کلاس اس وقت امریکہ میں آباد ہے…… شاد ہو نہ ہو، آباد ضرور ہے۔ طبی شعبے کے علاوہ بھی ہمارے کلاس فیلوز میں بیشتر نادرِ روزگار صلاحیتوں سے مزین تھے، ان میں شاعر بھی تھے، مصور بھی، دانشور اور فلسفی بھی اور موسیقار بھی۔ ڈاکٹر انجم جلال سے لے کر مہدی بلوچ تک…… کس کس کے کیا گُن گنگنائے جائیں۔ اللہ ان سب کی توفیقات میں اضافہ کرے، اور انہیں مخلوقِ خدا کے لیے منفعت بخش ہونے کی عزت و سعادت سے بہرہ ور کرے۔ کچھ برس قبل مہدی بلوچ نے کہ ہمہ صفت قسم کا بوقلموں آدمی ہے، ہر شعبہ حیات سے متعلق شخص کے ساتھ رابطے میں رہتا ہے، سیاستدانوں سے لے کر ہم ایسے گوشہ نشینوں تک، ہر کسی کے ساتھ وقت رابطے میں ہوتا ہے، ایک واٹس ایپ گروپ تشکیل دیا جس میں پرانے لوگ نت نئی باتیں کرتے رہتے ہیں۔ ایسے میں ڈاکٹر ناصر رضا اعوان کہ نیورو سرجری میں کمالات دکھاتے ہیں، انہیں کیا سوجھی کہ اپنے ہم جماعتوں میں چند فلسفی نما لوگوں کو پہچان کر ایک نیا گروپ تشکیل دے دیا، جس کا عنوان رکھا ”پُٹھے سوال……“ الٹے سیدھے سوال سے مراد یہ ہے کہ یہاں وہ سوال ہوں گے جو عام عوام کے درمیان نہیں کیے جا سکتے۔ نیت اچھی ہے، وہ یہاں اپنے اندر چھپے ہوئے فلسفی کو باہر لانا چاہتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ ان کا مدعا یہ بھی ہے کہ دینی نظریات کو دانشورانہ پلیٹ فارم مہیا کیا جائے۔ ہمارے لیے تو یہاں کیے جانے والا کوئی سوال بھی نیا اور اچھوتا نہیں۔ بحمد للہ! ہم نے اپنے مرشد قبلہ واصف علی واصفؒ کی محفل میں اشفاق احمد، بانو قدسیہ، ڈاکٹر اجمل نیازی، حنیف رامے اور ثاقب رحیم صاحب کو انتہائی بے رحمانہ قسم کے ”پٹھے سوالات“ کرتے دیکھا ہے، وہ سوالات اگر کسی مولوی کے سامنے کیے جاتے تو وہ ان سب کے سر اتارنے کا فتویٰ جاری کر کے اپنا کام تمام کر چکا ہوتا، لیکن کمال ہمت اور حوصلہ ہے فقیر لوگوں کا، آپؒ وہ تمام سوالات بڑے حوصلے سے سنتے اور ایسا باکمال جواب مہیا کرتے کہ سوال کرنے والا اس سوال کے حوالے سے ہمیشہ کے لیے سیراب ہو جاتا۔
اس گروپ میں گزشتہ دنوں اس موضوع پر بات ہو رہی تھی کہ کیا انسان کے ہاں مذہب کا تصور اس کی خوف کی جبلت کے سبب پیدا ہوا ہے؟ مثلاً جب وہ بادل کی گرج چمک سے خوفزدہ ہوا تو اس نے بادل اور بجلی کو دیوتا سمجھ لیا …… علیٰ ھٰذا القیاس! یہ بڑا گھسا پٹا سا نظریہ ہے، اس کا شافی جواب ڈاکٹر انجم جلال نے بڑے خوب صورت پیرائے میں دیا، خلاصہ کلام یہ تھا کہ انسان کے پاس صرف خوف ہی نہیں بلکہ محبت، ہمدردی، تلاش اور جستجو جیسے جذبات بھی موجود ہیں جو انسان کو کسی ماورا ہستی کی تلاش پر مجبور کرتے ہیں۔ دراصل مذہب سے خوف زدہ مستشرقین اسی فکر پر کاربند ہیں اور پھر اس فکر کو ہمارے ہاں کے متشکک دانشور ہاتھوں ہاتھ لیتے ہیں اور حسبِ منشا اپنے مقالات مکمل کرتے رہتے ہیں۔ انسان کا دل جس خیال کو قبول کر لے، دماغ اس کے تحفظ کے لیے دلائل کا انبار لگا دیتا ہے۔ عقل کا بنیادی وظیفہ ہی یہ ہے کہ دل جسے قبول کرے، اس کے حق میں کیس تیار کرے، ایک تھیسس مکمل کرے…… اور جہاں سے دل اکھڑ جائے وہاں رد و قدح کرے اور دلائل کے ترکش سے ایسے تیر چلائے کہ اپنے مخالف کے چھکے چھڑا دے۔ بہرطور Darwinian Thought سے نکل کا Divine Thought میں قیام پذیر ہونا کوئی آسان کام نہیں ہوتا۔ دین کا تعلق اگر خوف سے ہوتا تو دین کے بنیادی اصولوں میں ”لااکراہ فی الدین“ (دین میں کوئی جبر نہیں) کا کلیہ نہ ہوتا۔ دین میں کوئی جبر ہے، اور نہ یہ جبر سے پھیلتا ہے، بلکہ دین تو خوف اور حزن کو دور کرنے کی تدبیر کرتا ہے…… دین پر چلنے والوں کا منتہائے کمال یہ ہوتا ہے کہ وہ ”لاخوف علھیم ولا ھم یحزنون“ کی منزل پر پہنچ جائیں۔
عمر کے اس حصے میں ایسے ماورائی سوالوں کی طرف متوجہ ہونا ایک لازمی امر ہے۔ جب زندگی کی شام ہونے لگتی ہے تو اگلے دن، یعنی اگلی زندگی کی صبح، کے بارے میں متفکر ہونا ایک مفکر ذہن کے لیے عین قدرتی بات ہے۔ انسان کی شعوری زندگی میں جلد یا بدیر ایسا مرحلہ ضرور آتا ہے جب اسے شعوری طور پر بھی کلمہ پڑھنا ہوتا ہے…… اسے کسی کے ہاتھ پر کلمہ پڑھنا ہوتا ہے…… سوچ سمجھ کر شعوری طور اسے ایمان لانے یا نہ لانے کا فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔ یہ عمر رسیدگی جس قدر بھی جلد نازل ہو جائے بہتر ہے۔ درجوانی توبہ کردن شیوہ پیغمبری۔اسی دانشورانہ بحث میں کسی نے ایمان بالغیب کو اندھا یقین Blin Faith لکھا۔ دراصل ایمان بالغیب پر دانشورانہ خیال آرائی بالعموم اسی نتیجے تک پہنچتی ہے۔ غیب کے عالَم کے بارے کئی عالِم بھی خاموش ہیں۔ شہود اور غیب دو الگ الگ عالَم ہیں۔ یہ ایک دوسرے اس طرح الگ ہیں جیسے دن اور رات الگ الگ ہیں۔ جہاں یہ دونوں عالم ملتے ہیں وہاں جھٹپٹے کے عالم میں کچھ قیاس آرائیاں تو ہو سکتی ہیں، لیکن دن اور رات کی طرح ہر عالم کا منظر الگ ہے، قانون جدا ہیں، یہاں تک مقنین اور شاہدین بھی الگ ہیں۔ جس طرح کچھ لوگ دن کی دنیا کے مسافر ہوتے ہیں اور کچھ رات کے، اسی طرح یہ کچھ شعور عالَم شہود کے عالِم ہوتے ہیں اور کچھ غیب کے۔ عالمِ شہود میں پلنے بڑھنے والا عالِم عین ممکن ہے غیب کے عالَم کے متعلق بے خبر ہو۔ غیب اور شہود کے عالَم ایک دوسرے ہیئت اور تعریف کے اعتبار کے ایک دوسرے سے اس طرح جدا ہیں کہ شہود کی مثالیں بھی غیب پر صادق نہیں آ سکتیں۔ عام طور لوگ غیب کی مثال یوں دیتے ہیں کہ ایک شخص کے لیے کوئی واقعہ غیب ہے اور دوسرے کے لیے وہ واقعہ ظاہر…… جیسے مریض اور لواحقین کے لیے کسی مرض کا حتمی انجام غیب ہے لیکن ڈاکٹر کے لیے وہ انجام غیب میں نہیں ہوتا۔ یہ مثال اس لیے ناقص اور درجہ ثقاہت سے گر جاتی ہے کہ مریض، مرض اور مرض کے حتمی نتائج سب چیزوں کا تعلق عالمِ شہود سے ہے۔ کوئی بھی شخص اپنے مطالعے اور ذہنی استعداد میں اضافے کے ساتھ معالج کے ممکنہ ”علمِ غیب“ کا ہم پلہ ہو سکتا ہے، جبکہ عالمِ غیب کے متعلق ایسی بات نہیں کی جا سکتی۔ کوئی اُمتی اپنی عبادت، ریاضت اور عقلی صلاحیت کے ساتھ خدا اور فرشتوں سے ہمکلام نہیں ہو سکتا، کوئی امتی حاملِ وحی نہیں ہو سکتا۔ ذاتِ نبیؐ پر ایمان لانے کے بعد عالمِ غیب میں امتی کی رسائی فقط رویائے صادقہ، کشف، وجدان، القا اور الہام کی حد تک ہوتی ہے…… لیکن یہاں بھی وہ تعبیر اور معبر کا محتاج ہوتا ہے۔
عالم شہود میں کسی بھی قسم کی معلومات کے لیے بنیادی طور پر ہم اپنے حواسِ خمسہ کے محتاج ہوتے ہیں، اور ان حواس کی مدد سے ہم اسباب اور نتائج کی کڑیاں جوڑتے ہوئے کسی واقعے کی تہہ تک پہنچتے ہیں۔ یہاں ہمیں کسی شخص پر ایمان لانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اگر محسوسات، معلومات اور ذہنی استعداد مشترک ہوں تو اخذ شدہ نتائج بھی مشترک ہوتے ہیں۔ عالم شہود میں اسباب اور نتائج میں ربط پیدا کرنے اور سمجھنے کے لیے ایک اہم چیز وقت ہے۔ یہاں ”پہلے اور بعد“ اہم ہے، یہاں وقت فیصلہ کرتا ہے کہ کسی واقعے میں کیا چیز سبب ہے اور کیا نتیجہ …… اگر وقت کی ڈوری درمیان سے کھینچ لی جائے تو اسباب و نتائج کی بنیاد پر کھڑی کی گئی علم کی عمارت پل بھر میں زمین بوس ہو جاتی ہے۔
عالمِ شہود کے برعکس عالمِ غیب میں وقت نہیں ہوتا…… وہاں ماضی، حال اور مستقبل ایک ہی زمانہ ہے۔ اس لیے سبب اور نتیجے کی سائنس اچانک غیر اہم ہو جاتی ہے۔ غیب کا عالم وہ عالم (جہاں) ہے جہاں تک ہمیں ہمارے حواسِ خمسہ اور ان حواس کی صلاحیت اور رینج کو تیز کرنے والے تمام سائنسی گیجٹ (عام کیمرے سے لیکر کر انفراریڈ، مائیکرو سکوپ سے لے کر جیمز ویب کی ٹیلی سکوپ تک) رسائی نہیں دیتے۔ یہاں تک کہ ان حواس خمسہ اور ترقی یافتہ گیجٹ سے حاصل کی ہوئی معلومات کو ہمارے ذہن رسا کی مدد بھی کوئی فائدہ نہیں دیتی۔ اگر حواسِ خمسہ کی معلومات اور عقلی صلاحیت غیب تک رسائی کے لیے کافی ہوتی تو ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں کی بعثت عبث قرار پاتی۔ اللہ، فرشتے، جنت، دوزخ، پل صراط، میزان اور روز محشر کا تعلق عالم غیب سے ہے۔ ان تک معلومات کی حد تک رسائی پانے کے لیے بھی ہمیں ان ہستیوں کی ضرورت ہے جن کا تعارف نبی اور رسول کے نام سے ہے۔ غیب کے متعلق ہماری عقلی صلاحیت کی حیثیت سفید چھڑی پکڑے ہوئے ٹٹول ٹٹول کر راستہ لینے والے کسی مادر زاد اندھے سے زیادہ ہرگز نہیں۔ وہ آواز سن کر اپنا راستہ سیدھا تو کر سکتا ہے لیکن رنگ اور منظر دیکھنے سے محروم ہے۔ اپنے راہنما کی نصیحت پر اس طرح اندھے اور بہرے بن کر نہیں گزر جانا چاہیے۔
راہنما کون ہے؟ راہنما وہی ہے جو عالمِ غیب سے متعلق ہے۔ یہ انبیائے کرام ہیں، انہوں نے خود کو پیغام بر کہا، ان ہی کا دعویٰ ہے کہ ہمارے پاس تمہارے لیے غیب کی خبریں موجود ہیں۔ یہ بشارات اور انذار کی شکل میں دین کی بنیادی تعلیمات میں موجود ہیں۔ عالمِ غیب تک رسائی کے لیے جس ایمان بالغیب کی ضرورت ہے اسی کا دوسرا نام ”ایمان باالرسول“ ہے۔ رسالت کے اقرار کے بغیر توحید کا اقرار کچھ فائدہ نہیں دیتا۔ مجرد خیال کو ٹھوس حقیقی دنیا میں لانے اور پھر دائرہ علم و عمل میں نافذ کرنے کے لیے ہمیں ذاتِ رسولؐ پر یقین کی ضرورت ہوتی ہے…… اسی یقین کا نام ایمان ہے۔ یہ یقین علمی، عینی اور حقی بھی…… یعنی یہ یقین اپنی ابتدائی شکل میں عقلی ”ایمان“ یعنی اسلام ہے، اور اپنی اعلیٰ و ارفع شکل میں کشفی و وجدانی…… عینی یقین ہے…… عین ایمان ہے……!! صاحبانِ اسلام علم الیقین کے درجے پر ہیں، صاحبانِ ایمان و احسان عین الیقین کے درجے پر…… اور …… حق کے ساتھ متحقق ہو کر حق ہونے والے حق الیقین کے درجے پر!!
لفظ ”نبی“ کے لغوی معنی ہیں ”خبر دینے والا“ اور اصطلاحی معنی ہیں ”عالمِ غیب کی خبر دینے والا ……“ پس لغوی معنوں سے حقیقی معنوں تک رسائی مل جائے تو انسان فکری لغو سے بچ سکتا ہے…… نہیں تو نہیں!!

ہمارے کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کا 1990 کا بیچ بڑا زرخیز اذہان پر مشتمل تھا۔ طبی شعبے میں اپنی اپنی افتادِ طبع کے مطابق ہر کسی نے مختلف شعبہ جات میں اختصاص بھی حاصل کیا، یعنی بیشتر نے سپیشلائزیشن بھی کی اور تقریباً نوے فیصد کلاس اس وقت امریکہ میں آباد ہے…… شاد ہو نہ ہو، آباد ضرور ہے۔ طبی شعبے کے علاوہ بھی ہمارے کلاس فیلوز میں بیشتر نادرِ روزگار صلاحیتوں سے مزین تھے، ان میں شاعر بھی تھے، مصور بھی، دانشور اور فلسفی بھی اور موسیقار بھی۔ ڈاکٹر انجم جلال سے لے کر مہدی بلوچ تک…… کس کس کے کیا گُن گنگنائے جائیں۔ اللہ ان سب کی توفیقات میں اضافہ کرے، اور انہیں مخلوقِ خدا کے لیے منفعت بخش ہونے کی عزت و سعادت سے بہرہ ور کرے۔ کچھ برس قبل مہدی بلوچ نے کہ ہمہ صفت قسم کا بوقلموں آدمی ہے، ہر شعبہ حیات سے متعلق شخص کے ساتھ رابطے میں رہتا ہے، سیاستدانوں سے لے کر ہم ایسے گوشہ نشینوں تک، ہر کسی کے ساتھ وقت رابطے میں ہوتا ہے، ایک واٹس ایپ گروپ تشکیل دیا جس میں پرانے لوگ نت نئی باتیں کرتے رہتے ہیں۔ ایسے میں ڈاکٹر ناصر رضا اعوان کہ نیورو سرجری میں کمالات دکھاتے ہیں، انہیں کیا سوجھی کہ اپنے ہم جماعتوں میں چند فلسفی نما لوگوں کو پہچان کر ایک نیا گروپ تشکیل دے دیا، جس کا عنوان رکھا ”پُٹھے سوال……“ الٹے سیدھے سوال سے مراد یہ ہے کہ یہاں وہ سوال ہوں گے جو عام عوام کے درمیان نہیں کیے جا سکتے۔ نیت اچھی ہے، وہ یہاں اپنے اندر چھپے ہوئے فلسفی کو باہر لانا چاہتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ ان کا مدعا یہ بھی ہے کہ دینی نظریات کو دانشورانہ پلیٹ فارم مہیا کیا جائے۔ ہمارے لیے تو یہاں کیے جانے والا کوئی سوال بھی نیا اور اچھوتا نہیں۔ بحمد للہ! ہم نے اپنے مرشد قبلہ واصف علی واصفؒ کی محفل میں اشفاق احمد، بانو قدسیہ، ڈاکٹر اجمل نیازی، حنیف رامے اور ثاقب رحیم صاحب کو انتہائی بے رحمانہ قسم کے ”پٹھے سوالات“ کرتے دیکھا ہے، وہ سوالات اگر کسی مولوی کے سامنے کیے جاتے تو وہ ان سب کے سر اتارنے کا فتویٰ جاری کر کے اپنا کام تمام کر چکا ہوتا، لیکن کمال ہمت اور حوصلہ ہے فقیر لوگوں کا، آپؒ وہ تمام سوالات بڑے حوصلے سے سنتے اور ایسا باکمال جواب مہیا کرتے کہ سوال کرنے والا اس سوال کے حوالے سے ہمیشہ کے لیے سیراب ہو جاتا۔
اس گروپ میں گزشتہ دنوں اس موضوع پر بات ہو رہی تھی کہ کیا انسان کے ہاں مذہب کا تصور اس کی خوف کی جبلت کے سبب پیدا ہوا ہے؟ مثلاً جب وہ بادل کی گرج چمک سے خوفزدہ ہوا تو اس نے بادل اور بجلی کو دیوتا سمجھ لیا …… علیٰ ھٰذا القیاس! یہ بڑا گھسا پٹا سا نظریہ ہے، اس کا شافی جواب ڈاکٹر انجم جلال نے بڑے خوب صورت پیرائے میں دیا، خلاصہ کلام یہ تھا کہ انسان کے پاس صرف خوف ہی نہیں بلکہ محبت، ہمدردی، تلاش اور جستجو جیسے جذبات بھی موجود ہیں جو انسان کو کسی ماورا ہستی کی تلاش پر مجبور کرتے ہیں۔ دراصل مذہب سے خوف زدہ مستشرقین اسی فکر پر کاربند ہیں اور پھر اس فکر کو ہمارے ہاں کے متشکک دانشور ہاتھوں ہاتھ لیتے ہیں اور حسبِ منشا اپنے مقالات مکمل کرتے رہتے ہیں۔ انسان کا دل جس خیال کو قبول کر لے، دماغ اس کے تحفظ کے لیے دلائل کا انبار لگا دیتا ہے۔ عقل کا بنیادی وظیفہ ہی یہ ہے کہ دل جسے قبول کرے، اس کے حق میں کیس تیار کرے، ایک تھیسس مکمل کرے…… اور جہاں سے دل اکھڑ جائے وہاں رد و قدح کرے اور دلائل کے ترکش سے ایسے تیر چلائے کہ اپنے مخالف کے چھکے چھڑا دے۔ بہرطور Darwinian Thought سے نکل کا Divine Thought میں قیام پذیر ہونا کوئی آسان کام نہیں ہوتا۔ دین کا تعلق اگر خوف سے ہوتا تو دین کے بنیادی اصولوں میں ”لااکراہ فی الدین“ (دین میں کوئی جبر نہیں) کا کلیہ نہ ہوتا۔ دین میں کوئی جبر ہے، اور نہ یہ جبر سے پھیلتا ہے، بلکہ دین تو خوف اور حزن کو دور کرنے کی تدبیر کرتا ہے…… دین پر چلنے والوں کا منتہائے کمال یہ ہوتا ہے کہ وہ ”لاخوف علھیم ولا ھم یحزنون“ کی منزل پر پہنچ جائیں۔
عمر کے اس حصے میں ایسے ماورائی سوالوں کی طرف متوجہ ہونا ایک لازمی امر ہے۔ جب زندگی کی شام ہونے لگتی ہے تو اگلے دن، یعنی اگلی زندگی کی صبح، کے بارے میں متفکر ہونا ایک مفکر ذہن کے لیے عین قدرتی بات ہے۔ انسان کی شعوری زندگی میں جلد یا بدیر ایسا مرحلہ ضرور آتا ہے جب اسے شعوری طور پر بھی کلمہ پڑھنا ہوتا ہے…… اسے کسی کے ہاتھ پر کلمہ پڑھنا ہوتا ہے…… سوچ سمجھ کر شعوری طور اسے ایمان لانے یا نہ لانے کا فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔ یہ عمر رسیدگی جس قدر بھی جلد نازل ہو جائے بہتر ہے۔ درجوانی توبہ کردن شیوہ پیغمبری۔اسی دانشورانہ بحث میں کسی نے ایمان بالغیب کو اندھا یقین Blin Faith لکھا۔ دراصل ایمان بالغیب پر دانشورانہ خیال آرائی بالعموم اسی نتیجے تک پہنچتی ہے۔ غیب کے عالَم کے بارے کئی عالِم بھی خاموش ہیں۔ شہود اور غیب دو الگ الگ عالَم ہیں۔ یہ ایک دوسرے اس طرح الگ ہیں جیسے دن اور رات الگ الگ ہیں۔ جہاں یہ دونوں عالم ملتے ہیں وہاں جھٹپٹے کے عالم میں کچھ قیاس آرائیاں تو ہو سکتی ہیں، لیکن دن اور رات کی طرح ہر عالم کا منظر الگ ہے، قانون جدا ہیں، یہاں تک مقنین اور شاہدین بھی الگ ہیں۔ جس طرح کچھ لوگ دن کی دنیا کے مسافر ہوتے ہیں اور کچھ رات کے، اسی طرح یہ کچھ شعور عالَم شہود کے عالِم ہوتے ہیں اور کچھ غیب کے۔ عالمِ شہود میں پلنے بڑھنے والا عالِم عین ممکن ہے غیب کے عالَم کے متعلق بے خبر ہو۔ غیب اور شہود کے عالَم ایک دوسرے ہیئت اور تعریف کے اعتبار کے ایک دوسرے سے اس طرح جدا ہیں کہ شہود کی مثالیں بھی غیب پر صادق نہیں آ سکتیں۔ عام طور لوگ غیب کی مثال یوں دیتے ہیں کہ ایک شخص کے لیے کوئی واقعہ غیب ہے اور دوسرے کے لیے وہ واقعہ ظاہر…… جیسے مریض اور لواحقین کے لیے کسی مرض کا حتمی انجام غیب ہے لیکن ڈاکٹر کے لیے وہ انجام غیب میں نہیں ہوتا۔ یہ مثال اس لیے ناقص اور درجہ ثقاہت سے گر جاتی ہے کہ مریض، مرض اور مرض کے حتمی نتائج سب چیزوں کا تعلق عالمِ شہود سے ہے۔ کوئی بھی شخص اپنے مطالعے اور ذہنی استعداد میں اضافے کے ساتھ معالج کے ممکنہ ”علمِ غیب“ کا ہم پلہ ہو سکتا ہے، جبکہ عالمِ غیب کے متعلق ایسی بات نہیں کی جا سکتی۔ کوئی اُمتی اپنی عبادت، ریاضت اور عقلی صلاحیت کے ساتھ خدا اور فرشتوں سے ہمکلام نہیں ہو سکتا، کوئی امتی حاملِ وحی نہیں ہو سکتا۔ ذاتِ نبیؐ پر ایمان لانے کے بعد عالمِ غیب میں امتی کی رسائی فقط رویائے صادقہ، کشف، وجدان، القا اور الہام کی حد تک ہوتی ہے…… لیکن یہاں بھی وہ تعبیر اور معبر کا محتاج ہوتا ہے۔
عالم شہود میں کسی بھی قسم کی معلومات کے لیے بنیادی طور پر ہم اپنے حواسِ خمسہ کے محتاج ہوتے ہیں، اور ان حواس کی مدد سے ہم اسباب اور نتائج کی کڑیاں جوڑتے ہوئے کسی واقعے کی تہہ تک پہنچتے ہیں۔ یہاں ہمیں کسی شخص پر ایمان لانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اگر محسوسات، معلومات اور ذہنی استعداد مشترک ہوں تو اخذ شدہ نتائج بھی مشترک ہوتے ہیں۔ عالم شہود میں اسباب اور نتائج میں ربط پیدا کرنے اور سمجھنے کے لیے ایک اہم چیز وقت ہے۔ یہاں ”پہلے اور بعد“ اہم ہے، یہاں وقت فیصلہ کرتا ہے کہ کسی واقعے میں کیا چیز سبب ہے اور کیا نتیجہ …… اگر وقت کی ڈوری درمیان سے کھینچ لی جائے تو اسباب و نتائج کی بنیاد پر کھڑی کی گئی علم کی عمارت پل بھر میں زمین بوس ہو جاتی ہے۔
عالمِ شہود کے برعکس عالمِ غیب میں وقت نہیں ہوتا…… وہاں ماضی، حال اور مستقبل ایک ہی زمانہ ہے۔ اس لیے سبب اور نتیجے کی سائنس اچانک غیر اہم ہو جاتی ہے۔ غیب کا عالم وہ عالم (جہاں) ہے جہاں تک ہمیں ہمارے حواسِ خمسہ اور ان حواس کی صلاحیت اور رینج کو تیز کرنے والے تمام سائنسی گیجٹ (عام کیمرے سے لیکر کر انفراریڈ، مائیکرو سکوپ سے لے کر جیمز ویب کی ٹیلی سکوپ تک) رسائی نہیں دیتے۔ یہاں تک کہ ان حواس خمسہ اور ترقی یافتہ گیجٹ سے حاصل کی ہوئی معلومات کو ہمارے ذہن رسا کی مدد بھی کوئی فائدہ نہیں دیتی۔ اگر حواسِ خمسہ کی معلومات اور عقلی صلاحیت غیب تک رسائی کے لیے کافی ہوتی تو ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں کی بعثت عبث قرار پاتی۔ اللہ، فرشتے، جنت، دوزخ، پل صراط، میزان اور روز محشر کا تعلق عالم غیب سے ہے۔ ان تک معلومات کی حد تک رسائی پانے کے لیے بھی ہمیں ان ہستیوں کی ضرورت ہے جن کا تعارف نبی اور رسول کے نام سے ہے۔ غیب کے متعلق ہماری عقلی صلاحیت کی حیثیت سفید چھڑی پکڑے ہوئے ٹٹول ٹٹول کر راستہ لینے والے کسی مادر زاد اندھے سے زیادہ ہرگز نہیں۔ وہ آواز سن کر اپنا راستہ سیدھا تو کر سکتا ہے لیکن رنگ اور منظر دیکھنے سے محروم ہے۔ اپنے راہنما کی نصیحت پر اس طرح اندھے اور بہرے بن کر نہیں گزر جانا چاہیے۔
راہنما کون ہے؟ راہنما وہی ہے جو عالمِ غیب سے متعلق ہے۔ یہ انبیائے کرام ہیں، انہوں نے خود کو پیغام بر کہا، ان ہی کا دعویٰ ہے کہ ہمارے پاس تمہارے لیے غیب کی خبریں موجود ہیں۔ یہ بشارات اور انذار کی شکل میں دین کی بنیادی تعلیمات میں موجود ہیں۔ عالمِ غیب تک رسائی کے لیے جس ایمان بالغیب کی ضرورت ہے اسی کا دوسرا نام ”ایمان باالرسول“ ہے۔ رسالت کے اقرار کے بغیر توحید کا اقرار کچھ فائدہ نہیں دیتا۔ مجرد خیال کو ٹھوس حقیقی دنیا میں لانے اور پھر دائرہ علم و عمل میں نافذ کرنے کے لیے ہمیں ذاتِ رسولؐ پر یقین کی ضرورت ہوتی ہے…… اسی یقین کا نام ایمان ہے۔ یہ یقین علمی، عینی اور حقی بھی…… یعنی یہ یقین اپنی ابتدائی شکل میں عقلی ”ایمان“ یعنی اسلام ہے، اور اپنی اعلیٰ و ارفع شکل میں کشفی و وجدانی…… عینی یقین ہے…… عین ایمان ہے……!! صاحبانِ اسلام علم الیقین کے درجے پر ہیں، صاحبانِ ایمان و احسان عین الیقین کے درجے پر…… اور …… حق کے ساتھ متحقق ہو کر حق ہونے والے حق الیقین کے درجے پر!!
لفظ ”نبی“ کے لغوی معنی ہیں ”خبر دینے والا“ اور اصطلاحی معنی ہیں ”عالمِ غیب کی خبر دینے والا ……“ پس لغوی معنوں سے حقیقی معنوں تک رسائی مل جائے تو انسان فکری لغو سے بچ سکتا ہے…… نہیں تو نہیں!!

ہمارے کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کا 1990 کا بیچ بڑا زرخیز اذہان پر مشتمل تھا۔ طبی شعبے میں اپنی اپنی افتادِ طبع کے مطابق ہر کسی نے مختلف شعبہ جات میں اختصاص بھی حاصل کیا، یعنی بیشتر نے سپیشلائزیشن بھی کی اور تقریباً نوے فیصد کلاس اس وقت امریکہ میں آباد ہے…… شاد ہو نہ ہو، آباد ضرور ہے۔ طبی شعبے کے علاوہ بھی ہمارے کلاس فیلوز میں بیشتر نادرِ روزگار صلاحیتوں سے مزین تھے، ان میں شاعر بھی تھے، مصور بھی، دانشور اور فلسفی بھی اور موسیقار بھی۔ ڈاکٹر انجم جلال سے لے کر مہدی بلوچ تک…… کس کس کے کیا گُن گنگنائے جائیں۔ اللہ ان سب کی توفیقات میں اضافہ کرے، اور انہیں مخلوقِ خدا کے لیے منفعت بخش ہونے کی عزت و سعادت سے بہرہ ور کرے۔ کچھ برس قبل مہدی بلوچ نے کہ ہمہ صفت قسم کا بوقلموں آدمی ہے، ہر شعبہ حیات سے متعلق شخص کے ساتھ رابطے میں رہتا ہے، سیاستدانوں سے لے کر ہم ایسے گوشہ نشینوں تک، ہر کسی کے ساتھ وقت رابطے میں ہوتا ہے، ایک واٹس ایپ گروپ تشکیل دیا جس میں پرانے لوگ نت نئی باتیں کرتے رہتے ہیں۔ ایسے میں ڈاکٹر ناصر رضا اعوان کہ نیورو سرجری میں کمالات دکھاتے ہیں، انہیں کیا سوجھی کہ اپنے ہم جماعتوں میں چند فلسفی نما لوگوں کو پہچان کر ایک نیا گروپ تشکیل دے دیا، جس کا عنوان رکھا ”پُٹھے سوال……“ الٹے سیدھے سوال سے مراد یہ ہے کہ یہاں وہ سوال ہوں گے جو عام عوام کے درمیان نہیں کیے جا سکتے۔ نیت اچھی ہے، وہ یہاں اپنے اندر چھپے ہوئے فلسفی کو باہر لانا چاہتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ ان کا مدعا یہ بھی ہے کہ دینی نظریات کو دانشورانہ پلیٹ فارم مہیا کیا جائے۔ ہمارے لیے تو یہاں کیے جانے والا کوئی سوال بھی نیا اور اچھوتا نہیں۔ بحمد للہ! ہم نے اپنے مرشد قبلہ واصف علی واصفؒ کی محفل میں اشفاق احمد، بانو قدسیہ، ڈاکٹر اجمل نیازی، حنیف رامے اور ثاقب رحیم صاحب کو انتہائی بے رحمانہ قسم کے ”پٹھے سوالات“ کرتے دیکھا ہے، وہ سوالات اگر کسی مولوی کے سامنے کیے جاتے تو وہ ان سب کے سر اتارنے کا فتویٰ جاری کر کے اپنا کام تمام کر چکا ہوتا، لیکن کمال ہمت اور حوصلہ ہے فقیر لوگوں کا، آپؒ وہ تمام سوالات بڑے حوصلے سے سنتے اور ایسا باکمال جواب مہیا کرتے کہ سوال کرنے والا اس سوال کے حوالے سے ہمیشہ کے لیے سیراب ہو جاتا۔
اس گروپ میں گزشتہ دنوں اس موضوع پر بات ہو رہی تھی کہ کیا انسان کے ہاں مذہب کا تصور اس کی خوف کی جبلت کے سبب پیدا ہوا ہے؟ مثلاً جب وہ بادل کی گرج چمک سے خوفزدہ ہوا تو اس نے بادل اور بجلی کو دیوتا سمجھ لیا …… علیٰ ھٰذا القیاس! یہ بڑا گھسا پٹا سا نظریہ ہے، اس کا شافی جواب ڈاکٹر انجم جلال نے بڑے خوب صورت پیرائے میں دیا، خلاصہ کلام یہ تھا کہ انسان کے پاس صرف خوف ہی نہیں بلکہ محبت، ہمدردی، تلاش اور جستجو جیسے جذبات بھی موجود ہیں جو انسان کو کسی ماورا ہستی کی تلاش پر مجبور کرتے ہیں۔ دراصل مذہب سے خوف زدہ مستشرقین اسی فکر پر کاربند ہیں اور پھر اس فکر کو ہمارے ہاں کے متشکک دانشور ہاتھوں ہاتھ لیتے ہیں اور حسبِ منشا اپنے مقالات مکمل کرتے رہتے ہیں۔ انسان کا دل جس خیال کو قبول کر لے، دماغ اس کے تحفظ کے لیے دلائل کا انبار لگا دیتا ہے۔ عقل کا بنیادی وظیفہ ہی یہ ہے کہ دل جسے قبول کرے، اس کے حق میں کیس تیار کرے، ایک تھیسس مکمل کرے…… اور جہاں سے دل اکھڑ جائے وہاں رد و قدح کرے اور دلائل کے ترکش سے ایسے تیر چلائے کہ اپنے مخالف کے چھکے چھڑا دے۔ بہرطور Darwinian Thought سے نکل کا Divine Thought میں قیام پذیر ہونا کوئی آسان کام نہیں ہوتا۔ دین کا تعلق اگر خوف سے ہوتا تو دین کے بنیادی اصولوں میں ”لااکراہ فی الدین“ (دین میں کوئی جبر نہیں) کا کلیہ نہ ہوتا۔ دین میں کوئی جبر ہے، اور نہ یہ جبر سے پھیلتا ہے، بلکہ دین تو خوف اور حزن کو دور کرنے کی تدبیر کرتا ہے…… دین پر چلنے والوں کا منتہائے کمال یہ ہوتا ہے کہ وہ ”لاخوف علھیم ولا ھم یحزنون“ کی منزل پر پہنچ جائیں۔
عمر کے اس حصے میں ایسے ماورائی سوالوں کی طرف متوجہ ہونا ایک لازمی امر ہے۔ جب زندگی کی شام ہونے لگتی ہے تو اگلے دن، یعنی اگلی زندگی کی صبح، کے بارے میں متفکر ہونا ایک مفکر ذہن کے لیے عین قدرتی بات ہے۔ انسان کی شعوری زندگی میں جلد یا بدیر ایسا مرحلہ ضرور آتا ہے جب اسے شعوری طور پر بھی کلمہ پڑھنا ہوتا ہے…… اسے کسی کے ہاتھ پر کلمہ پڑھنا ہوتا ہے…… سوچ سمجھ کر شعوری طور اسے ایمان لانے یا نہ لانے کا فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔ یہ عمر رسیدگی جس قدر بھی جلد نازل ہو جائے بہتر ہے۔ درجوانی توبہ کردن شیوہ پیغمبری۔اسی دانشورانہ بحث میں کسی نے ایمان بالغیب کو اندھا یقین Blin Faith لکھا۔ دراصل ایمان بالغیب پر دانشورانہ خیال آرائی بالعموم اسی نتیجے تک پہنچتی ہے۔ غیب کے عالَم کے بارے کئی عالِم بھی خاموش ہیں۔ شہود اور غیب دو الگ الگ عالَم ہیں۔ یہ ایک دوسرے اس طرح الگ ہیں جیسے دن اور رات الگ الگ ہیں۔ جہاں یہ دونوں عالم ملتے ہیں وہاں جھٹپٹے کے عالم میں کچھ قیاس آرائیاں تو ہو سکتی ہیں، لیکن دن اور رات کی طرح ہر عالم کا منظر الگ ہے، قانون جدا ہیں، یہاں تک مقنین اور شاہدین بھی الگ ہیں۔ جس طرح کچھ لوگ دن کی دنیا کے مسافر ہوتے ہیں اور کچھ رات کے، اسی طرح یہ کچھ شعور عالَم شہود کے عالِم ہوتے ہیں اور کچھ غیب کے۔ عالمِ شہود میں پلنے بڑھنے والا عالِم عین ممکن ہے غیب کے عالَم کے متعلق بے خبر ہو۔ غیب اور شہود کے عالَم ایک دوسرے ہیئت اور تعریف کے اعتبار کے ایک دوسرے سے اس طرح جدا ہیں کہ شہود کی مثالیں بھی غیب پر صادق نہیں آ سکتیں۔ عام طور لوگ غیب کی مثال یوں دیتے ہیں کہ ایک شخص کے لیے کوئی واقعہ غیب ہے اور دوسرے کے لیے وہ واقعہ ظاہر…… جیسے مریض اور لواحقین کے لیے کسی مرض کا حتمی انجام غیب ہے لیکن ڈاکٹر کے لیے وہ انجام غیب میں نہیں ہوتا۔ یہ مثال اس لیے ناقص اور درجہ ثقاہت سے گر جاتی ہے کہ مریض، مرض اور مرض کے حتمی نتائج سب چیزوں کا تعلق عالمِ شہود سے ہے۔ کوئی بھی شخص اپنے مطالعے اور ذہنی استعداد میں اضافے کے ساتھ معالج کے ممکنہ ”علمِ غیب“ کا ہم پلہ ہو سکتا ہے، جبکہ عالمِ غیب کے متعلق ایسی بات نہیں کی جا سکتی۔ کوئی اُمتی اپنی عبادت، ریاضت اور عقلی صلاحیت کے ساتھ خدا اور فرشتوں سے ہمکلام نہیں ہو سکتا، کوئی امتی حاملِ وحی نہیں ہو سکتا۔ ذاتِ نبیؐ پر ایمان لانے کے بعد عالمِ غیب میں امتی کی رسائی فقط رویائے صادقہ، کشف، وجدان، القا اور الہام کی حد تک ہوتی ہے…… لیکن یہاں بھی وہ تعبیر اور معبر کا محتاج ہوتا ہے۔
عالم شہود میں کسی بھی قسم کی معلومات کے لیے بنیادی طور پر ہم اپنے حواسِ خمسہ کے محتاج ہوتے ہیں، اور ان حواس کی مدد سے ہم اسباب اور نتائج کی کڑیاں جوڑتے ہوئے کسی واقعے کی تہہ تک پہنچتے ہیں۔ یہاں ہمیں کسی شخص پر ایمان لانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اگر محسوسات، معلومات اور ذہنی استعداد مشترک ہوں تو اخذ شدہ نتائج بھی مشترک ہوتے ہیں۔ عالم شہود میں اسباب اور نتائج میں ربط پیدا کرنے اور سمجھنے کے لیے ایک اہم چیز وقت ہے۔ یہاں ”پہلے اور بعد“ اہم ہے، یہاں وقت فیصلہ کرتا ہے کہ کسی واقعے میں کیا چیز سبب ہے اور کیا نتیجہ …… اگر وقت کی ڈوری درمیان سے کھینچ لی جائے تو اسباب و نتائج کی بنیاد پر کھڑی کی گئی علم کی عمارت پل بھر میں زمین بوس ہو جاتی ہے۔
عالمِ شہود کے برعکس عالمِ غیب میں وقت نہیں ہوتا…… وہاں ماضی، حال اور مستقبل ایک ہی زمانہ ہے۔ اس لیے سبب اور نتیجے کی سائنس اچانک غیر اہم ہو جاتی ہے۔ غیب کا عالم وہ عالم (جہاں) ہے جہاں تک ہمیں ہمارے حواسِ خمسہ اور ان حواس کی صلاحیت اور رینج کو تیز کرنے والے تمام سائنسی گیجٹ (عام کیمرے سے لیکر کر انفراریڈ، مائیکرو سکوپ سے لے کر جیمز ویب کی ٹیلی سکوپ تک) رسائی نہیں دیتے۔ یہاں تک کہ ان حواس خمسہ اور ترقی یافتہ گیجٹ سے حاصل کی ہوئی معلومات کو ہمارے ذہن رسا کی مدد بھی کوئی فائدہ نہیں دیتی۔ اگر حواسِ خمسہ کی معلومات اور عقلی صلاحیت غیب تک رسائی کے لیے کافی ہوتی تو ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں کی بعثت عبث قرار پاتی۔ اللہ، فرشتے، جنت، دوزخ، پل صراط، میزان اور روز محشر کا تعلق عالم غیب سے ہے۔ ان تک معلومات کی حد تک رسائی پانے کے لیے بھی ہمیں ان ہستیوں کی ضرورت ہے جن کا تعارف نبی اور رسول کے نام سے ہے۔ غیب کے متعلق ہماری عقلی صلاحیت کی حیثیت سفید چھڑی پکڑے ہوئے ٹٹول ٹٹول کر راستہ لینے والے کسی مادر زاد اندھے سے زیادہ ہرگز نہیں۔ وہ آواز سن کر اپنا راستہ سیدھا تو کر سکتا ہے لیکن رنگ اور منظر دیکھنے سے محروم ہے۔ اپنے راہنما کی نصیحت پر اس طرح اندھے اور بہرے بن کر نہیں گزر جانا چاہیے۔
راہنما کون ہے؟ راہنما وہی ہے جو عالمِ غیب سے متعلق ہے۔ یہ انبیائے کرام ہیں، انہوں نے خود کو پیغام بر کہا، ان ہی کا دعویٰ ہے کہ ہمارے پاس تمہارے لیے غیب کی خبریں موجود ہیں۔ یہ بشارات اور انذار کی شکل میں دین کی بنیادی تعلیمات میں موجود ہیں۔ عالمِ غیب تک رسائی کے لیے جس ایمان بالغیب کی ضرورت ہے اسی کا دوسرا نام ”ایمان باالرسول“ ہے۔ رسالت کے اقرار کے بغیر توحید کا اقرار کچھ فائدہ نہیں دیتا۔ مجرد خیال کو ٹھوس حقیقی دنیا میں لانے اور پھر دائرہ علم و عمل میں نافذ کرنے کے لیے ہمیں ذاتِ رسولؐ پر یقین کی ضرورت ہوتی ہے…… اسی یقین کا نام ایمان ہے۔ یہ یقین علمی، عینی اور حقی بھی…… یعنی یہ یقین اپنی ابتدائی شکل میں عقلی ”ایمان“ یعنی اسلام ہے، اور اپنی اعلیٰ و ارفع شکل میں کشفی و وجدانی…… عینی یقین ہے…… عین ایمان ہے……!! صاحبانِ اسلام علم الیقین کے درجے پر ہیں، صاحبانِ ایمان و احسان عین الیقین کے درجے پر…… اور …… حق کے ساتھ متحقق ہو کر حق ہونے والے حق الیقین کے درجے پر!!
لفظ ”نبی“ کے لغوی معنی ہیں ”خبر دینے والا“ اور اصطلاحی معنی ہیں ”عالمِ غیب کی خبر دینے والا ……“ پس لغوی معنوں سے حقیقی معنوں تک رسائی مل جائے تو انسان فکری لغو سے بچ سکتا ہے…… نہیں تو نہیں!!

 

تبصرے بند ہیں.