کیا ہم دو ٹکے کے ہیں؟

17

ایک ایسا ملک جسے 1972 ءمیں اُس وقت کے امریکی صدر رچرڈ نکسن کو اُس کی قومی سلامتی کے مشیر ہنری کسنجر نے ” سوراخ والی ٹوکری “ کہا تھا۔ آج اُس کی کامیابیوںکی کہانی کو بطور حوالہ پیش کیا جا رہا ہے اوریہ ملک کئی حوالوں سے پاکستان سے بہتر ہے۔ ایک غریب بنگلہ دیش نے بہتر کارکردگی کیسے اور کیوں کر دکھائی ؟ یہ حیران کن ہی نہیں بلکہ قابل تقلید بھی ہے لیکن کیا ہم نے کچھ سیکھنے کا طے کیا ہے یا ابھی ذلت کے لا تعداد مناظر ہمارے منتظر ہیں۔ بس وقت نے ثابت کیا کہ بنگالی ریاست چلانا جانتے تھے اور اِس خطے کے جعلی دانشور اور غیر محب وطن رہنما اس ریاستی سائنس بارے کچھ نہیںجانتے تھے۔ اردو ادب میں ”دو ٹکے کا آدمی“ لاتعداد بار استعمال ہوا ہے جس کی وجہ سے یہ ہماری روز مرہ کی گفتگو کا حصہ بھی بن چکا ہے لیکن کیا آج ہم اس محاورے کو استعمال کر سکتے ہیں؟ آج بنگلہ دیش کا ایک ٹکہ پاکستانی دو روپے انیس پیسے کے برابر ہے یعنی ہم ایک ٹکے کے بھی نہیں رہے۔ ہم آزادی کی پون صدی پوری کر چکے اور بنگالیوںکو ہم سے الگ ہوئے ابھی صرف نصف صدی ہوئی ہے۔ جی وہی! ناکارہ اور چھوٹے سینوں والے ”بنگالی بابو“ حقیقی معنوں میں بنگال کے جادوگر ثابت ہوئے ہیں۔ اُن کو کسی ہمسائے سے کوئی خطرہ نہیں، اُن کی کرکٹ ٹیم دنیا میں پوری شان سے کھیل رہی ہے اور افغان بہادروں سے بہت بہتر ہے۔ آج اُن کی تینوں افواج اور انٹیلیجنس کے ادارے بھی موجود ہیں جنہیں ہم اُن کی جسامت کی وجہ سے دھتکارتے رہے ہیں۔ بھوک اور آفات میں گری اس قوم نے اپنے پاو¿ں پر کھڑے ہونے میں صرف پچاس سال کا وقت لیا اور انہوں نے اپنی خوراک اور آفات کے مسائل کو بخوبی نمٹا کر دنیا کو ورطہ حیرت میںمبتلا کر رکھا ہے ۔ اُن پر دہشتگردوں کو پناہ دینے کا بھی کوئی الزام نہیں، دنیا کا کوئی مطلوب دہشتگرد اُن سے برآمد ہوا ہے اور نہ ہی تاحال کسی ڈرون اٹیک میں مارا گیا ہے۔ گلف میں آج اُن کی لیبر چھائی ہوئی ہے اور ریڈیمیڈ میں بھی وہ روز بروز ترقی کر رہے ہیں۔ ادب اور میوزک میں وہ پہلے ہی باکمال تھے اور بالی ووڈ بھی اُن کے میوزک کا محتاج ہے۔ تعلیم کی شرح پاکستان سے کہیں زیادہ ہے اور اب وہ اپنی پٹ سن خود بیچتے ہیں، اُنہوں نے اپنی قوم سے غداری کرنے والوں کو طویل مدت تک جیل میں رکھا اور تمام اسلامی اخوت اور بھائی چارے کو بالائے طاق رکھتے ہوئے موت کی سزائیں دیں، آج میانمار سے بھاگے ہوئے مسلمانوں کی ایک کھیپ اُن کی پناہ میں بھی ہے لیکن وہ مہاجرکیمپوں میں کھانا اور ضروریات زندگی لے رہے ہیں انہیں بنگلہ دیش میں کاروبار تو دور داخل ہونے کی بھی اجازت نہیں۔ بنگلہ دیش جب معرض وجود میں آیا تو اُس کی آبادی سات کروڑ اور پاکستان کی تقریباً چھ کروڑ تھی لیکن آج ہماری آبادی کے آخری موصول شدہ نمبر بائیس کروڑ سے کہیں تجاوز کر چکے ہیں جبکہ بنگلہ دیش نے اپنی آبادی پرمکمل کنٹرول کر لیا ہے جس سے وہ آج آباد ی کے حوالے سے پاکستان سے پیچھے ہیں اور دوسری چند فوقیتوں کے علاوہ ایک فوقیت یہ بھی ہمیں بنگالیوں پر ہو چکی ہے ۔ دوہزار اکیس میں بنگلہ دیش کے اثاثے اکتالیس ارب ڈالر سے تجاوز کر رہے تھے جبکہ ہم بیس ارب ڈالر پر رقصاں تھے۔ مائیکرو کریڈٹ فنانسنگ، پاسپورٹ انڈیکس، خواندگی اور خواتین کو بااختیار بنانے کے حوالے سے وہ ہم
سے آگے نکل چکے ہیں اور موجودہ صورت حال میں وہ کہاں کھڑے ہیں ہمیں شرم سے ڈوب مرنا چاہیے۔ آج پاکستان کے معاشی اور سیاسی حالات دیکھ کر میں نے بنگلہ دیش اور پاکستان کے سیاسی اور معاشی حالات کا تقابل کیا تو وہ سوائے افواج، ایٹمی طاقت کی کلغی، میزائل ٹیکنالوجی اور انٹیلیجنس کے علاوہ زندگی کے ہر شعبے میں یا ہمارے مقابل ہیں یا ہم سے آگے۔ یہ ہمارے وہ مسلمان بھائی ہیں جنہوںنے دو قومی نظریے کی بنیاد پر ہمارے ساتھ مل کرآزادی میں اپنا مرکزی کردار ادا کیا تھا۔ مسلم لیگ انہوں نے ہی بنائی تھی اور قرارداد پاکستان بھی انہوں نے پیش کی۔ وہ مسلم لیگی ہی تھے (سوائے مولانا بھاشانی کے) جنہوں نے جگتو فرنٹ بنا کرمسلم لیگ کو وہاں سے چلتا کیا اور بعد ازاںعوامی لیگ بنا کر قومی رہنمائی کا فریضہ ادا کیا لیکن یہاں کا باوا آدم ہی نرالہ ہے عمران خان کو لوگوں نے آخری امید قرار دیا تو وہ بھی جرنیلوں کا لونڈا نکلا۔ انہوں نے پچیس سال تک ہر جبر اور زیادتی برداشت کی لیکن آخر میں انہوں نے وہی سب کچھ کیا جو انہیں بہت پہلے کر دینا چاہیے تھا لیکن شاید بڑے لیڈر وقت اور جگہ کی اہمیت کو زیادہ سمجھتے ہیں۔ ہم آج جگتو فرنٹ بنانے والوں کو آسانی سے غدار کہہ دیتے ہیں لیکن اُس میں شامل قائد اعظم کے ساتھیوں شیرِ بنگال اے ۔ کے فضل حق جنہوں نے قرارداد پاکستان پیش کی، حسین شہید سہروردی مشترکہ پاکستان کے وزیر اعظم اور قائد کے قریبی ساتھی اور شیخ مجیب الرحمان مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن مشرقی پاکستان کے صدر جن کی نامزدگی خود جناب ِقائد اعظم محمد علی جناح نے کی۔
بنگلہ دیش نے اپنے پچاس ویں یوم آزادی پر بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو بلایا اور اِس بات کا کوئی خیال نہیں رکھا کہ پاک بھارت تعلقات مودی کی وجہ سے زیادہ کشیدہ ہیں اور وہ یہ خیال کرتے بھی کیوں؟ بھارت نے اُن کی آزادی کیلئے مرکزی کردار ادا کیا وہ اُس کے شکر گزار ہیں اور بھارت کو بھی اُن سے کوئی تکلیف نہیں۔ ریاستوں کے درمیان مفاداتی رشتے ہوتے ہیں اور وہ ان مفاداتی رشتوں کو خوب نبھا رہے ہیں۔ بنگالی لیڈروں نے پرانی تلخیاں ختم کر کے آگے بڑھنے کے ایک نئے عہد کا اعلان کر رکھا ہے اور وہ اِس کے مطابق چل بھی رہے ہیں۔ جس سے اُن کے لوگ پہلے ذلت سے نکلے اور اب ایک بہتر زندگی کی طرف رواں دواں ہیں۔ پاکستان زرعی معاشرہ ہے اور صورت حال یہ ہے کہ لوگ آٹے کے حصول کی دھکم پیل میں زندگی کی بازی ہار رہے ہیں۔ پنجاب اور خیبر پختون خوا میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے، سندھ میں پیپلز پارٹی ہے جبکہ بلوچستان بارے نہیں معلوم کہ اُسے کون چلا رہا ہے جبکہ مرکز میں اتحادی حکومت ہے جس کے وزیر اعظم میاں شہباز شریف ہیں۔ آٹے اور چینی کا بحران ہم نے مشرف کے دور میں بھی جھیلا ہے اور اُس وقت بھی وزیر اعلیٰ چودھری پرویز الٰہی اور مرکزمیں وزیر خوراک جہانگیر ترین تھے۔ اُس وقت بھی ایسے ہی آٹے کے حصول کیلئے لوگ کراچی میں مارے گئے تھے۔ مہنگائی کا ایسا طوفان ہے کہ پنجاب میں تو کہیں بھی حکومت نام کی کوئی چیز نظر ہی نہیں آ رہی۔ ضروریات زندگی اور یوٹیلٹی بلز کی بھرمار نے عوام کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔ ان حالات میں عوام جب حکمرانوں کو عیاشیاں کرتے دیکھتے ہیں تو انہیں اپنے حکمرانوں سے نفرت ہو جاتی ہے اور یہی نفرت ریاست کے خلاف آتش فشاں بن جاتی ہے۔ دل تو اِس معاشرے میں روز ہی دکھتا ہے ہر طرف دلخراش مناظر ہیں جنہوں نے زندگی موت سے بدتر بنا رکھی ہے لیکن آپ پاکستان کے صاحب ِ اختیار کو داد دیں کہ اُن کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔ شاید ہم کسی بڑی سونامی کے منتظر ہیں یا پھر عذاب الٰہی کے۔ عام آدمی جس طرح زندگی بسر کر رہا ہے میرے تجزیے کے مطابق یہ حالات زیادہ دیر نہیں چلیں گے اور شاید پاکستان کی اپوزیشن شعوری طور پر پاکستان کو غیر مستحکم کرنے پر ادھار کھائے بیٹھی ہے۔ یہ وقت پاکستان میں بسنے والوں کو کسی بڑے انسانی المیے سے بچانے کا ہے۔ حماد اظہر روزانہ نت نئے اعداد و شمار لے کر عوام کے سامنے آ جاتا ہے حالانکہ جب وہ خود وزیر خزانہ تھا تو حالات اُس وقت بھی بدتر ہی تھے ہم نے تو اتنے وزیر خزانہ بدل لیے ہیں کہ اب خزانے کو بھی شرمندگی ہونا شروع ہو چکی ہے۔ حماد اظہر کے نزدیک موجودہ حالات کو سنبھالا دینے کا واحد حل الیکشن ہے جو قبل از وقت کرا دیئے جائیں تو سب ہنسی خوشی رہنا شروع ہو جائیں گے لیکن اُس نے بھی آج تک کبھی قوم کو یہ نہیں بتایا کہ اُس کے پاس جادو کی وہ کونسی چھڑی ہے جو اُس نے اپنے دورِ اقتدار میں نہیں نکالی اور اب نکال لیں گے۔ ہماری اس مٹی پر صرف خوشحالی کی وجہ سے حملے ہوتے رہے ہیں اور آج صورت حال یہ ہے کہ کبھی ہم بنگالیوں کو ”دو ٹکے“ کا انسان کہتے تھے اور اب ہم خود ایک ٹکے کے بھی نہیں رہے۔ پاکستان کے حکمرانوں تمہیں مبارک ہو۔

تبصرے بند ہیں.