یہی صراط مستقیم ہے

58

یہ حافظ الاسد کا زمانہ تھا، دمشق کا معروف و مشہور تاجر رات کے پچھلے پہر سڑکوں پر ٹہل رہا تھا، موسم خوشگوار ہونے کے باوجود اس کا دم گھٹا جار ہا تھا، ڈاکٹروں کے مطابق اس کے پاس ہفتہ یا دس دن سے زیادہ ٹائم نہیں تھا، دنیا کی ہر آسائش کے ہوتے ہوئے بے بسی کا یہ عالم تھا کہ ٹائم سے پہلے ہی سب کچھ ختم ہوتا محسوس ہورہا تھا، ملک کے ڈاکٹروں نے جواب دے دیا تھا، ایک ننھی سی امید تھی کہ امریکا میں علاج ہو سکتا ہے وہ بھی دم توڑ گئی جب وہاں کئی مہینے ٹیسٹ وغیرہ کرانے کے بعد سینئر ترین ڈاکٹر نے آخر کار ایک دن آکر نرمی سے سمجھایا کہ آپ کے پاس زیادہ ٹائم نہیں ہے لہٰذا میرا مشورہ ہے اور عقل مندی یہی ہوگی کہ باقی کا قیمتی ٹائم آپ اپنے بیوی بچوں کے ساتھ گزاریں، رات کے اس پہر بے خبری کے عالم میں نہ جانے کتنی دیر ٹہلتا رہا اس کی سوچوں کا تسلسل تب ٹو ٹا جب ٹہلتے ٹہلتے وہ ایک تنگ سے بے رونق پل پر پہنچ چکا تھا۔ سڑک پار دوسری طرف سٹریٹ لائٹ کے نیچے ایک خاتون کھڑی کسی آدمی سے گفتگو کر رہی تھی، تیس سال کے لگ بھگ خاتون کا انداز منت سماجت والا تھا جبکہ بندہ کوئی او باش قسم کا تھا جو اس کی بات نہیں مان رہا تھا، اس کے چلنے کی رفتار خود بخود آہستہ ہوگئی، کانوں میں جب آواز پہنچنا شروع ہوئی تو خاتون کہہ رہی تھی خدا کے لیے مجھے اتنے پیسوں کی ضرورت ہے بچے بھوکے ہیں میں تمہارے ساتھ چلنے کے لیے تیار ہوں جبکہ وہ او باش قسم کا بندہ اس خاتون کی ( قیمت ) آدھی سے بھی کم دینا چاہ رہا تھا اور یہ کہ تمہاری اس سے بھی کم قیمت بنتی ہے بول رہا تھا، پھر وہ کندھے اچکا تا ہوا چل پڑا اور خاتون حسرت کی تصویر بنی کھڑی رہ گئی ، وہ تھوڑا آگے جا کر مڑا اور خاتون کی طرف چل دیا اسے نزدیک آتا دیکھ کر خاتون چوکنی ہو گئی امید بھری نظروں سے قریب آتے کو دیکھنے لگی، نزدیک پہنچنے سے پہلے خاتون آگے بڑھی اس کا انداز ایسا تھا کہ جیسے اپنے آپ سے زبردستی کر رہی ہو، اس نے قریب پہنچ کر سلام کیا، خاتون نے مصنوعی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا اور ٹٹولتی نظروں سے دیکھا اور تھوڑا قریب ہوتے ہوئے معنی خیز انداز بنا کر پوچھا کیا موڈ ہے؟ وہ پیچھے ہٹا اور نرمی سے کہا نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے دراصل میں نے ابھی گزرتے ہوئے تمہاری اس آدمی کے ساتھ تھوڑی سی گفتگوسنی ہے مجھے بتاؤ میری بہن تمہارا کیا مسئلہ ہے؟
اس طرح پوچھنا تھا کہ خاتون جو کہ مضبوط دکھائی دینے کی کوشش کر ہی تھی یکدم روہانسی ہو گئی بولی بھائی قسم ہے اس ذات کی جو ہماری گفتگو سن رہا ہے میں اس ٹائپ کی عورت نہیں ہوں جو اس وقت گھر سے نکل کر۔۔۔ سڑک پر کسی کا انتظار کرے مگر میں بہت مجبوری کے عالم میں اس وقت اس جگہ پہ ہوں، اسے لگا کسی نے اس کا دل مٹھی میں لے لیا ہو اس نے مزید نرمی سے کہا دلوں کا حال تو اللہ جانتاہی
ہے بہن، مجھے بتاؤ کیابات ہے؟ بولی میں ایک بیوہ عورت ہوں میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں شوہر کو فوت ہوئے سال ہونے کو ہے شروع میں تو پڑوسی رشتے دار کچھ مد دوغیرہ کر دیتے تھے پھر آہستہ آہستہ سب نے باتھ کھینچ لیا، گھر میں راشن نام کی کوئی چیز نہیں ہے مالک مکان کا صبر بھی ختم ہو گیا ہے اس نے کل شام تک کی آخری مہلت دی ہے اگر کرایہ نہ دیا تو سامان سمیت گھر سے نکال دے گا، میرے پاس اب اور کوئی چارہ نہیں رہا سوائے کہ اپنے آپ۔۔۔ یہ کہتے ہوئے اس کی آواز بیٹھ گئی، اس نے بھی جلدی سے دوسری طرف مڑکر بہانے سے اپنے آنسو صاف کیے پھر مڑ کر جلدی سے بولا بس بس ٹھیک ہے بہن کوئی بات نہیں اور اپنی جیبوں میں ہاتھ ڈالے تو پتہ چلا کہ جیبوں میں جو رقم ہے وہ نہ ہونے کے برابر ہے کیونکہ جس عالم میں وہ نکلا تھا اسے تو ہوش ہی نہیں تھا، اس نے خاتون سے کہا فی الحال یہ رکھو اور مجھے اپنا ایڈریس بتاو¿ فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے اپنے گھر جاؤ ان شاءاللہ سب ٹھیک ہو جائے گا، خاتون بے یقینی کے انداز میں اس کی طرف دیکھ رہی تھی۔ جیسے سوچ رہی ہو کہ اس پر بھروسہ کرے کہ نا کرے۔
اس نے پھر سے یقین دہانی کرائی کہ تم جاؤ اور ایڈریس بتا دوبس، اس نے آخر کار ایڈریس بتادیا اور پھر ایک طرف کو چل پڑی تھوڑی دیر تک خاتون کو جاتا دیکھنے کے بعد وہ مڑا اور واپسی کی طرف تیزی سے قدم اٹھانے لگا، گھر پہنچ کر اس نے کافی مقدار میں نقدی لی اور ڈرائیور کو بڑی وین نکالنے کو کہا پھر خود ڈرائیو کرتے ہوئے شہر کے چوبیس گھنٹے کھلے رہنے والے سٹور سے راشن کی بڑی مقداروین میں بھری اور خاتون کے بتائے ہوئے ایڈریس پہ پہنچ کر سارا راشن اس کے گھر اتارا باقی کی رقم خاتون کو دی اور کہا صبح مالک مکان سے وہ خود بات کرلے گا اور کرائے کا معاملہ نمٹادے گا اور ان شاءاللہ ہر مہینے مخصوص رقم آپ تک پہنچادی جائے گی، یہ کہ کر جلدی سے بنا کچھ کہے سنے واپس مڑ گیا ، خاتون بت بنی بے یقینی کے عالم میں کھڑی آنسوﺅں بھری نگاہوں سے دیکھتی رہ گئی اور وہ وین سمیت نظروں سے اوجھل ہو گیا۔
اس کی کیفیت اب کافی بلکہ بہت مختلف تھی اس کے انگ انگ سے خوشی پھوٹ رہی تھی کچھ گھنٹوں پہلے جو اس کی حالت تھی وہ اب یکسر بدل گئی تھی اب اسے ہفتہ دس دن گزارنے کی جوفکر تھی وہ تھوڑی کم ہوگئی تھی، ہفتہ دس دنوں کا خیال آتے ہی اس نے کاغذ قلم لے کر خاتون کا ایڈریس لکھ کر وصیت لکھی کہ ہر ماہ باقاعدگی سے چار لوگوں کے معقول سے بڑھ کر خرچے کی رقم اس ایڈریس پہ بھجوائی جائے اور کاغذ کو لفافے میں بند کر کے تجوری میں رکھ دیا، اب اسے لگ رہا تھا کہ اپنے آخری سفر کے لیے وہ تیار ہے یا تھوڑی بہت تیاری کرلی ہے پھر ہفتہ گزر گیا اور دس دن گزر گئے پھر مزید دس اور پورے پندرہ دن گزر گئے گھر والوں کے کہنے کے باوجود وہ ہسپتال نہیں گیا اور پھر پورا ایک مہینہ گزر گیا اور اگلے مہینے کی رقم بھی اس نے فوراً بھجوادی ، پھر ایسے ایک ایک مہینہ کرتے پورا سال گزر گیا اور وہ معمول کے مطابق رقم بھجوا تارہا، پھر پانچ سال پھر دس سال گزر گئے اور پھر پورے بیس سال گزر جانے کے بعد ایک رات وہ معمول کے مطابق تہجد کے لیے اٹھا وضو کر کے تہجد شروع کی اور سجدے میں دعا کرتے کرتے اس کی سانسیں ختم ہوگئیں، اس جہان فانی سے سجدے کی حالت میں رخصت ہو گیا۔
گھر والے جب صبح اٹھے تو اس کو سجدے کی حالت میں مردہ پایا، افسوس کے ساتھ ساتھ گھر والوں کو اس بات کی خوشی سی بھی تھی کہ اچھی اور مبارک موت ہوئی ہے، خیر تکفین و تدفین اور دیگر انتظامات کے بعد اولاد کا تجوری اور وصیت کھولنے کا وقت آیا تو وہ بند لفافہ بھی نکل آیا جو کم از کم بیس سال پہلے کی تاریخ کا ان کے والد کے ہاتھ کا لکھا ہوا تھا اور اس کا مطلب تھا اس لکھے گئے ایڈریس پر بیس سال سے رقم دی جاتی رہی ہے، لفافہ پڑھنے کے بعد ان کو پتہ چلا کہ والد صاحب کو فوت ہوئے سات دن ہو گئے ہیں جو کہ تکفین و تدفین اور رشتے دارلوگوں کے ملنے ملانے میں نکل گئے ہیں اور وصیت کے مطابق رقم کی ادائیگی سات دن لیٹ ہو گئی ہے، رقم لے کر وہ لوگ اس ایڈریس پر پہنچے تو دروازہ کھٹکھٹانے پر خاتون باہر آئی جو کہ اب پچاس سے اوپر کی ہو چکی تھی ، سلام دعا کے بعد تاجر کے بڑے لڑکے نے خاتون سے مو¿دب انداز میں کہا کہ ہم آپ کو والد صاحب کی طرف سے جو ماہانہ مخصوص رقم ہے وہ دینے آئے ہیں اور معذرت چاہتے ہیں کہ رقم کی ادائیگی سات دن لیٹ ہو گئی وہ اصل میں۔۔۔ خاتون جلدی سے بولی ارے نہیں نہیں کوئی بات نہیں آپ کے والد صاحب کے ہم پر بہت احسانات ہیں، آپ لوگ میری طرف سے والد صاحب کو بہت بہت شکر یہ بولیے گا اور انہیں بتائیے گا کہ ہم ہمیشہ انہیں دعاو¿ں میں یاد رکھتے ہیں اور رکھیں گے اور میری طرف سے آداب کے ساتھ انہیں بتائیے گا کہ اب انہیں رقم بھیجنے کی ضرورت نہیں ہے، بیٹا حیرانگی سے بولا کیوں؟ اب کیوں نہیں ہے ضرورت رقم کی؟ خاتون نے خوشی کے آنسوو¿ں میں ملی آواز میں جواب دیا اللہ کے فضل سے مہینہ پہلے میرے بڑے بیٹے کی ملازمت لگی تھی اور سات دن پہلے ہی بیٹے کو اس کی پہلی تنخواہ ملی ہے، خاتون روانی میں پتہ نہیں کیا کیا بولے چلے جارہی تھی جب کہ لڑکوں کے کانوں میں خاتون کا یہی جملہ اٹک کر رہ گیا کہ ”سات دن پہلے ہی میرے بیٹے کو اس کی پہلی تنخواہ ملی ہے سات دن پہلے ہی میرے بیٹے کو اس کی پہلی تنخواہ ملی ہے۔۔۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے : ”رازداری میں کیا گیا صدقہ اللہ پاک کے غصے کو بجھاتا ہے۔ میرے قارئین یہی زندگی کا مقصد ہے اور یہی زندگی کا نصب العین ہے۔ ایسے ہی عمل کو صراط المستقیم کہتے ہیں۔

تبصرے بند ہیں.