کامیاب زندگی کا فن

31

انسانی فطرت کے بدلتے رنگوں میں موسموں کے مزاج پائے جاتے ہیں۔جس طرح ہر صبح ایک نئے رنگ میں طلوع ہوتی اور ہر شام ایک نئے رنگ میں ڈھلتی ہے ، اسی طرح سے انسانی مزاج بھی بدلتا رہتا ہے۔ بہت زیادہ یکسانیت کے ساتھ بھی کہیں نہ کہیں، کسی نہ کسی طور، کسی نہ کسی درجہ میں تبدیلی کا عمل جاری رہتا ہے۔دن رات کے چوبیس گھنٹے بظاہر ایک ہی رنگ میں رنگے اور یکساں نظر آتے ہیں مگر کائنات کی اس رنگا رنگی میں ہر پل دوسرے پل سے جدا ہے۔ہر دن دوسرے سے منفرد ہے۔ ہررات دوسری رات سے ہٹ کر ہے۔ہرگھڑی دوسری گھڑی سے الگ تاثر رکھتی ہے۔ اس کا کوئی ایک لمحہ بھی دوسرے لمحے جیسانہیں۔۔۔! جو گزرسو گزر گیا۔۔۔! جو بیت گیا سو بیت گیا۔۔۔! نہ وقت دوبارہ آتا ہے نہ احساسات وجذبات ۔۔۔۔! بظاہر انسان وہی رہتا ہے ۔۔۔ہر روز جاگتا ہے، سوتاہے،کھاتاہے، پیتا ہے،پہنتا ہے، کام پر جاتا ہے ،کچھ بھی تبدیل ہوتا نظر نہیں آتامگر عملاً ہر شے ،ہر لمحہ حالت تغیر میں ہے۔ ۔۔!
بقول غالب ”ثبات اک تغیرکو ہے زمانے میں “کی جانفزا حقیقت کے جلو میں، احساسات، جذبات اور کیفیات سب تغیر و تبدل کے مراحل میں ہیں۔۔۔!انہی تبدیلیوں میں انسانی شخصیت بھی شامل ہے۔ساتھ رہتے ہوئے ہزار اتفاقات کے باوجود کہیں نہ کہیں سے اختلاف کا رنگ سامنے آجاتا ہے۔۔۔! بقول شخصے برتن ہوں تو ٹکراتے ضرور ہیں اور آوازیں سنائی دیتی ہے۔ایسے میں کسی نقطہ نظر، پسند نا پسندکی صورت ایک دوسرے سے متضاد نقطہ ءنگاہ سامنے آتا ہے تو فریقین پر صبر و تحمل کی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔اپنے دوستوں فیض احمد بیلوی اور شبیر احمد سڈل صاحب کے بقول یہی وہ وقت ہوتا ہے جب گاڑی کے
ایک ٹائر کے پنکچر ہونے پر دوسرا اضافی بوجھ برداشت کرکے کچھ فاصلہ طے کرتا ہے۔کسی ایک طرف سے قربانی زیادہ ہوتی ہے، کوئی ایک اپنے ظرف کا دامن دراز کرتاہے ، کئی باتوں سے صرف نظر کرتاہے ،معاملات کو تھوڑی سی ڈھیل دیتا ہے اور یوں اس وقت کو ٹال جاتا ہے۔ بعد میں جلدہی سب کچھ نارمل ہو جاتا ہے اور اگر اس وقت دونوں فریقین اپنے اپنے موقف اور محاذ آرائی پر اڑ جائیں اور لچک کا مظاہرہ نہ کریں تو حالات کیا سے کیا ہو جاتے ہیں۔۔۔ قربتیں دوریوں کا رنگ اختیار کرلیتی ہیں، محبتیں بے گانگی کی طرف جانکلتی ہے اور مروتیں،بے مروتی کا روپ دھار لیتی ہیں۔۔۔!
تعلقات میں اتار چڑھاﺅ کا سلسلہ جاری رہتا ہے تاہم اگربر وقت اس کا تدارک نہ کیا جائے تو ایک وقت کے بعداختلاف رائے، افراق کے رنگ میں ڈھل کر فاصلے پیدا کردیتا ہے۔جس بات کو ایک مسکراہٹ سے ٹالا جا سکتا تھا وہ وجہ تنازع بن کر زندگی اجیرن کردیتی ہے۔ دوست احباب سے لیکر دفتری ساتھیوں تک، پاس پڑوس سے لیکر دورتک اور گھر سے لے کر بیوی بچوں حتیٰ کہ والدین تک ۔۔۔ہر جگہ یہ سلسلہ جاری رہتا ہے اور جھولتے ہوئے پنڈولم کی طرح انسانی زندگی میں یہ مرحلہ بار بار آتا ہے اور زندگی میں ہر کسی کا واسطہ ان کیفیات سے متعدد بار پڑتا ہے۔۔۔!
حتی ٰ کہ میاں بیوی کے تعلقات میں بھی بار ہاایسے لمحات آتے ہیں جب کبھی کبھی تو یوں لگتا ہے کہ جیسے سامنے ایک عمودی چٹان آگئی ہو اوردرد کے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں وہاں سے گزرنے کا کوئی راستہ سجائی نہیں دیتا۔۔۔! کئی بار گھٹن اس قدر بڑھ جاتی ہے کہ سانس تک لینا دشوار ہو جاتا ہے مگر قدرت کے نظام کے تحت تھوڑے صبر ، تحمل اور برداشت سے وہ وقت گزرجاتاہے، خزاں کا دور بیت جاتا ہے اور ہر طرف پھولوں کی گل رنگ بہارہویدا ہو جاتی ہے۔۔۔وہی تعلقات ہوتے ہیں، وہی گرم جوشیاں ہوتی ہیںاور زیست کی جاوداں سرگرمیاں پھر سے جوبن پر پہنچ کر اپنا رنگ جمانا شروع کر دیتی ہیں۔۔۔۔!
سورة البقرہ میں ارشادی باری ہے: ”کسی ناگوار بات پر ذرا سی چشم پوشی، اس صدقہ و زکوٰة سے بہتر ہے جس کے پیچھے دکھ چھپا ہو۔۔۔!“ ناگواریت کے رنگ جب جب زندگی میں آتے ہیں تب تب ان سے نپٹنے کے لیے ایک فریق کو جھکنا پڑتا ہے ، دوقدم پیچھے ہٹنا پڑتا ہے اور بظاہر پسپائی اختیار کرنا پڑتی ہے۔ ۔۔ در اصل یہی وہ وقت ہوتا ہے جب کچھ مدت کے لیے تعلق ایک طرف سے نبھایا جاتا ہے۔۔اور نبھانے کہ اس سلسلہ میں کوئی ایک فریق ایک معاملے میں لیڈ کر تا ہے ۔۔۔! وہ دوسرے سے زیادہ قربانی دیتا ہے ، زیادہ احساس کا مظاہرہ کرتاہے،زیادہ کشادہ رو ہوتاہے، زیادہ بہتر انداز میں آگے بڑھ کر دوسرے کا ہاتھ تھام لیتا ہے، اس کی خامیوں پر پردہ ڈال کر اُسے گلے لگا لیتا ہے اور کارخانہ قدرت میں معتبر ہو جاتا ہے۔۔۔! اعتبار،اختیار،وفا،قربانی،ایثار اور محبت کے ان سلسلوں میں خوش قسمت ہیں وہ لوگ جن کے حصے میں زیادہ بار قربانی دینا آتاہے اور اس کاسلسلہ آگے چل کر ان پر خوش اخلاقی کی وہ مہر ثبت کرتاہے ، جس کو نہ اس دنیا میں زوال ہے نہ اُس دنیا میں ۔۔۔! اس لیے مناسب ہے کہ جب خاموشی ابلاغ سے بہتر ، سکون حرکت پر بالا ، دوری قربت سے اچھی اور کچھ نہ کرنا کرنے سے افضل ہو تو اس وقت کامیاب زندگی کے لیے ایک قدم پیچھے ہٹ جانااور خون دل سے اپنے خانہ ءدل کی آبیاری کرتے رہنا ہی بہتر عمل ہے۔۔۔!

تبصرے بند ہیں.