یہ مال و دولت دنیا۔۔یہ رشتہ پیوند

32

ربِ دو جہاں نے اس فانی دنیا کو وجود بخشا ، پھر اس میں حضرت ِ انساں کو بسایا ، اور ان کو راہ راست پر رکھنے کے لیے نبیوں ، پیغمبروں اور رسولوں کا سلسلہ جاری و ساری فرمایا تاکہ انسان صراطِ مستقیم پر گامزن رہے لیکن انسان اپنی نفسانی خواہشات اور اپنی مرضی کے مطابق زندگی بسر کرنے میں ہمہ تن مصروف ہو گیا ۔ ربِ کائنات کی چاہی زندگی کے بجائے انسان اپنی مرضی کی زندگی گزارنے لگتا ہے ۔ انسان کا مقصدِ حیا ت آخرت کی کامیابی ہے ، اسی کے لیے محنت اور جدوجہد کرنے کا حکم دیا گیاہے ۔ اسی لیے قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے مال و دولت اور رشتوں کوفتنہ قرار دیا ۔ مال اور دولت کی محبت انسان کے دل میں اس حد تک بیٹھ جاتی ہے کہ پھر انسان اسے عزت اور عظمت کا معیار سمجھنے لگتے ہیں ، مال انسان کی بڑائی کا پیمانہ بن جاتا ہے اور جو اس سے محروم ہو اسے ہمارے سماج میں کچھ اہمیت حاصل نہیں ہوتی ۔۔قرآن مجید میں قارون اور اس کی بے انتہا دولت ، اس کے تکبر اور عبرت انگیز انجام کا ذکر کئی مقامات پر آیا ہے ۔فرمانِ باری تعالیٰ ہے :۔ کوئی شک نہیں کہ قارون موسیٰ(علیہ السلام) کی قوم میں سے تھا ۔پھر اس نے ان کے خلاف سرکشی کی ۔اور ہم نے جو خزانے اس کو دیے تھے، وہ اتنے تھے کہ ان کی کنجیاں ایک طاقتور جماعت بھی مشکل سے ہی اٹھا سکتی تھی ۔ یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ اس کی قوم نے اس سے کہا کہ (اپنی بے انتہا دولت پر) اتراﺅ نہیں ، کیونکہ یقینا اللہ اترانے والوں کو پسند نہیں کرتا (سورةالقصص)۔ قارون حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم میں سے تھا، مگر اس نے اپنی قوم کو چھوڑ کر مال و زر اور جاہ و منصب کے لالچ میںحضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے کے فرعون رعمسیس کا ساتھ دیا تھا۔ فرعونِ وقت نے قارون کو بنی اسرائیل پر حاکم بنا دیا ، اور بنی اسرائیل کو قارون کے تابع
کرنے کے لیے اسے بے حساب دولت سے نواز دیا ، وہ اس خزانے کو ہر چیز سے عزیز رکھتا تھا اور یہ دولت صرف اپنی عیش و عشرت اور نمود و نمائش پر خرچ کرتا تھا اس نے بہت عمدہ اور شاندار محل بنا رکھا تھا جس کی دنیا بھر میں کوئی نظیر نہیں ملتی۔ اس محل کے درو دیوار سونے اور ہیروں سے منقش اور قیمتی جواہرات سے جڑوا رکھی تھیں، اس کے سیکڑوں غلام اور کنیزیں تھیں۔ اس بے انتہا دولت نے اس کو اتنا سر کش و خود غرض بنا دیا کہ وہ اپنی قوم کے خلاف ہو گیا ۔ ہزاروں سال پہلے تو صرف ایک قارون تھا ، لیکن آج اس دنیا میں لاکھوں قارون موجود ہیں جو دولت پر سانپ بن کر بیٹھے ہیں ۔اسی طرح سردارانِ قریش نبی کریمﷺ سے کہتے تھے کہ ہمیں اللہ تعالیٰ نے مال و دولت دی ہے، اگر تم اللہ تعالیٰ کے محبوب بندے ہوتے تو تمہارے پاس بھی کثیر مال و دولت ہوتی ۔ اس طرح کی باتیں کر کے کفارِ مکہ یہ سمجھتے تھے کہ آپﷺ جو اسلام کی دعوت دے رہے ہیں ، ان کے مقابلے میں اپنی ناداری کی وجہ سے کبھی کامیاب نہ ہو سکیں گے اور وہ خود اپنی دولت کی وجہ سے کبھی ناکام نہ ہو سکیں گے اور وہ خود اپنی دولت کی وجہ سے ہمیشہ سرخرو اور کامیاب رہیں گے ۔ دولت اور عہدے انسان کو عارضی طور پر بڑا کرتے ہیں مگر ’ انسانیت‘ اور اچھا ’ اخلاق ‘ انسان کو ہمیشہ بلند درجے پر رکھتے ہیں ۔فرمانِ باری تعالیٰ ہے :۔اور اگر یہ بات نا ہوتی کہ لوگ ایک ہی ڈگر پر چل پڑیں گے تو جو لوگ خدائے رحمان کے منکر ہیں، ہم ان کے گھروں کی چھتیں اور سیڑھیاں چاندی کی کر دیتے ،جن پر وہ چڑھتے ۔ یہ دنیا دار الامتحان ہے ، جہاں ربِ کریم نے ایک طرف رشد و ہدایت کے اسباب مہیا فرمائے ہیں تو دوسری طرف ابتلا و آزمائش کے لیے ذلالت و گمراہی کے اسباب پیدا کیے ہیں ۔لہٰذا جب تک انسان اپنے خالقِ حقیقی اور پروردگار کو یاد رکھتا ہے ، اس کے مقام ، اس کی صفات ، اور اس کے اختیارات کے بارے میں غور و فکر کرتا ہے تو گناہوں کی دلدل سے بچا رہتا ہے ۔یہ دنیا یہ زندگی سب کچھ درحقیقت ایک فریبِ نظر اور وہم و گمان ہے ۔بقول شاعر
کوئی اپنے زور حکومت پہ نازاں
کوئی مال و دولت کی کثرت پہ نازاں
اسی حقیقت کو رسولِ خدا حضرت محمد مصطفیﷺ نے اس طرح سے بیان کیا کہ ابنِ آدم کے پاس مال و دولت سے بھری دو وادیاں موجود ہوں تب بھی وہ تیسری کی خواہش کرے گا ۔ ابنِ آدم کا پیٹ قبر کی مٹی کے سوا کوئی اور چیز نہیں بھر سکتی ۔انسان کی فطرت ہے کہ ہر چیز کی کثرت اور فراوانی اس چیز کی کشش کو کم کر دیتی ہے اور انسان کا دل اس سے بھر جاتا ہے ، لیکن مال ایک ایسی چیز ہے کہ اس کی کثرت انسان کو مزید کا طالب بنا دیتی ہے ۔فرمانِ باری تعالیٰ ہے کہ سوف تعلمون تم عنقریب جان لو گے کہ جس مال کے پیچھے تم نے آخرت کو گنوایا ، جس مال کے پیچھے خدا کے غضب کو بڑھکایا ، جس مال کی خاطر ربِ ذوالجلال کے احکامات کو نظرانداز کیا ،آخرت کی حقیقی اور مستقل دنیا میں اس مال و دولت کی کوئی حیثیت نہیں ۔ موجودہ حالات میں کاروبار، رشتہ داری، دنیاوی معاملات حتیٰ کہ اسلامی رسوم و رواج بھی دولت کے محتاج ہو کر رہ گئے ہیں ۔ حضرت کعب بن عیاض ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسولِ کریم۰ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ( اللہ تعالیٰ کی طرف سے ) ہر امت کے لیے ( کوئی نا کوئی ) فتنہ اور آزمائش ہے جس میں اس امت کے لوگوں کو مبتلا کر کے ان کو آزمایا جاتا ہے ، چنانچہ میری امت کے لیے جو چیز فتنہ اور آزمائش ہے وہ مال و دولت ہے ۔اور آج کل یہ سب با آسانی دیکھا جا سکتا ہے ، مال و دولت کا فتنہ اس قدر ہمارے معاشرے میں پھیل چکا ہے کہ قیامت کا منظر با آسانی دیکھا جا سکتا ہے ۔

تبصرے بند ہیں.