ہم تو ڈوبیں ہیں صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے، پروجیکٹ عمران خان

25

عمران خان اپنے محسنوں کیساتھ کیا سلوک کرتے ہیں وہ اب ساری دنیا جانتی ہے بلکہ عمران خان کی سیاست پر جب کتابیں لکھی جائیں گی، سوانح حیات لکھی جائے گی تو اس میں یہ چیزیں ضرور درج ہونگی کہ عمران خان کا کوئی دوست، محسن ، مددگار یا پھر خیر خواہ ہمیشہ عمران خان کیساتھ نہ ر ہ سکا۔ یوں بھی کہاجاسکتا ہے کہ کوئی زیادہ دیر تک یا ہمیشہ ساتھ نہ رہ سکا۔ عمران خان کے کرکٹ کی دنیا کے تو کئی محسن کشی کے واقعات ہیں لیکن اگر سیاست سے شروع کریں تو پہلی محسن کشی تو عمران خان نے میاں نوازشریف کیساتھ ہی کردی، کیونکہ اس وقت جب کوئی نہیں جانتا تھا شوکت خانم ہسپتال کی حثیت کیا ہوگی ، میاں نوازشریف نے عمران خان پر بھروسہ کیا، پچاس کروڑ کی رقم دی، ہسپتال کے لئے زمین فراہم کی اور زمین فراہم نہ کی ہوتی تو آج شوکت خانم کہاں ہوتا؟ جس ہسپتال کی افتتاحی تختی پر میاں نوازشریف کا نام ہے عمران خان نے سب سے پہلے اپنے اسی محسن کو اپنی سیاست کا پہلا شکار بنایا اور نوازشریف کے خلاف اپنی تمام سیاست کا مینار کھڑا کردیا ۔اس کے بعد فوزیہ قصوری کی قربانی دی گئی۔
جب عمران خان نے جہانگیرترین اور علیم خان کو پارٹی میں شامل کیاتب پی ٹی آئی کے نظریاتی ورکرخاص طور پر نوجوان سپورٹرز نے بہت احتجاج کیا کہ ہم تو روایتی سیاستدانوں کے خلاف ہیں آپ نے دوسری جماعتوں سے کیوں لوگوں کو لینا شروع کردیا ہے تب عمران خان صاحب ایسے تمام لوگوں کے دفاع میں بڑھ چڑھ کر دلائل دیتے ہیں ۔جب ان سے عمران خان کی ضرورت پوری ہوگئی، اقتدار مل گیا تو پھر جہانگیرترین اور علیم خان بھی عمران خان کی روایتی محسن کشی کا شکار ہوگئے ۔بلکہ جہانگیرترین تو اُن دنوں سے ڈسے جارہے تھے جب وہ عمران خان کے لئے اقتدار کی سیج کو خود سجا رہے تھے لیکن بے خبر تھے کہ جسے میں وزیر اعظم بنارہا ہوں وہی میرا پتہ صاف کررہا ہے۔ شہبازگل نے عمران خان کی محبت میں فوج میں بغاوت کے لئے اکسانے کا مقدمہ بنوالیا، مار کھائی، جیل برداشت کی ، آکسیجن ماسک لگے شہباز گل کی حالت پر تب ترس آیا جب عمران خان نے رہائی کے بعد اس کو سائیڈ لائن کردیا۔ گرفتاری سے پہلے شہبازگل عمران خان کا چیف آف سٹاف تھا گرفتاری کے بعد عارضی طور پر وہ عہدہ شبلی فراز کو دیا گیا ۔رہائی کے بعد شہبازگل پر اتنا اعتماد نہیں کیا گیا کہ اسے پرانے عہدے پر ہی بحال کردیا جائے۔ اب تو یہ بھی کہا جاتا ہے کہ چونکہ مراد سعید کا نام ارشد شریف قتل کیس میں آتا ہے۔اس لئے عمران خان نے مراد سعید سے بھی دوری اختیار کرلی ہے۔ وہ دن دور نہیں جب اعظم سواتی بھی عمران خان کی اس روایتی محسن کشی کا شکار ہونگے تب انہیں احساس ہوگا کہ ایک شخص کی محبت میں عمر کے اس حصے میں سرخ لکیر تک عبور کرلی تھی ۔
یہ عمران خان کی محسن کشی کا ہی کمال ہے کہ اسٹبلشمنٹ کے سابق روح رواں پروجیکٹ عمران خان کو لانچ کرنے کا کھلے عام اعتراف کررہے ہیں۔ وہ اعتراف کررہے ہیں کہ کیسے عمران خان کو وزارت عظمیٰ کے مسند پر بٹھانے سے قبل صادق اور امین کا سرٹیفکیٹ دلوایا گیا۔ عمران خان کی محسن کشی کے ہاتھوں تنگ آکر یہاں تک بتایا جارہا ہے کہ کیسے کسی چیف جسٹس کو فون کرکے فیصلے تک تبدیل کرادیے جاتے تھے ۔ یہاں تک انکشاف کیے جارہے ہیں کہ اسکور تک برابر کیا جاتا رہا ۔جہانگیر ترین کو جان بوجھ کر نااہل کیاگیا۔ یہ بھی اعترافات ہورہے ہیں کہ ہائبرڈ رجیم میں عمران خان کی خوشنودی کی خاطر سیاستدانوں کو موت کی چکیوں میں رکھا جاتا تھا ۔ ان کی ضمانیں تک نہیں ہونے دی جاتی تھیں کیونکہ بادشاہ سلامت کو یہ پسند نہیں تھا ۔
یہ سب کچھ شاید نہ ہوتا اگر عمران خان اپنی محسن کشی کی روش ترک کردیتے ہیں کیونکہ انہوں نے روش برقرار رکھی ہوئی ہے یہی وجہ ہے کہ ڈوبنے والے بتاکر ڈو ب رہے ہیں کہ کن کے باعث نوبت یہاں تک پہنچ ہے ۔ صورتحال اس کے مصداق ہے کہ ہم تو ڈوبے ہیں صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے۔ خواجہ میر درد ، عمران خان کے محسنوں کا درد کچھ یوں بیان کرتے ہیں کہ :
نہیں شکوہ مجھے تیری بے وفائی کا ہرگز
گلا تب ہو اگر تو نے کسی سے بھی نبھائی ہو
لیکن اصل مدعا تو یہ ہے کہ جب تمام لوگ اپنے غیر آئینی کردار کا اعتراف بالواسطہ یا بلاواسطہ کررہے ہیں تو پھر پروجیکٹ عمران خان کے ان کرداروں کا احتساب کون کرے گا ؟ کیا عدلیہ اپنے سابق چیف جسٹس کو پوچھنے کی زحمت کرے گی کہ وہ کیوں استعمال ہوتے رہے ؟کیا اسٹبلشمنٹ اپنے سابق آرمی چیف سے سوال کرے گی کہ آپ نے اپنے حلف کے مطابق کام کیوں نہیں کیا ؟ اگر آج بھی ہمارے پرَ جلتے ہیں تو پھر پروجیکٹ عمران خان بند نہیں ہوا، ایسے کئی پروجیکٹ مستقبل میں پاکستان کی قسمت میں لکھے جاتے رہیں گے۔ یہ سلسلہ تب تک جاری رہے گا جب حقیقی احتساب کا آغاز نہیں ہوگا ۔

تبصرے بند ہیں.