پنجاب کا سیاسی کھیل

15

حکومت اور اپوزیشن میں بلی چوہے کا کھیل موجودہ اسمبلیوں کے قیام کے فوری بعد شروع ہو گیا تھا جس میں عمران خان کے خلاف بطور وزیر اعظم عدم اعتماد کی قرارداد کی کامیابی کے بعد تیزی آئی اورسنسنی تب پیدا ہوئی جب عمران خان نے موجودہ اسمبلیوں کو خیر باد کہنے اور پنجاب،کے پی کے اسمبلی تحلیل اور سندھ و بلوچستان اسمبلیوں سے پی ٹی آئی کے ارکان کے استعفوں کا اعلان کیا،اس اعلان کے بعد13جماعتی اتحاد اسمبلیاں بچانے اورتحریک انصاف توڑنے کیلئے جوڑ توڑ میں لگ گئے،اس کے بعد پنجاب میں سیاسی صورت حال نے کئی ڈرامائی موڑ لئے،ایک طرف گورنر پنجاب بلیغ الرحمان نے وزیراعلیٰ پرویز الٰہی کو اعتماد کا ووٹ لینے کا کہہ دیا ہے، جس کے تحت پنجاب اسمبلی کا اجلاس 21 دسمبر کو سہ پہر چار بجے طلب کیا گیا ہے مگر سپیکر پنجاب اسمبلی نے اسے غیر قانونی قرار دے کر اجلاس بلانے سے انکار کر دیا،دوسری طرف اپوزیشن نے وزیراعلیٰ، سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے خلاف عدم اعتماد کی تحاریک اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کروائیں اگر چہ بعد میں یہ تحاریک واپس لے لی گئیں،عدم اعتماد کی تحریک کا مقصد اسمبلی کی تحلیل کو روکنا تھا،اعتماد کا ووٹ نہ لینے پر گورنر پنجاب نے وزیر اعلیٰ کو ڈی نوٹیفائی کر دیا،جس کیخلاف اعلیٰ عدلیہ سے رجوع کیا گیا،عدالت نے ڈی نوٹیفائی کرنے کا حکم غیرآئینی قرار دے کر گورنر کی ایڈوائس کے مطابق وزیر اعلیٰ کو اعتماد کا ووٹ لینے کا حکم صادر کیا،11جنوری کو اس مقصد کیلئے اجلاس ہے۔
پنجاب اسمبلی میں ارکان کی حمایت کے حوالے سے پارٹی پوزیشن اگر چہ پرویز الٰہی کے حق میں ہے،مگر حکومتی جماعت خاص طور پرآصف زرداری جادوگری دکھانے کیلئے میدان میں اتر چکے ہیں،پارٹی پوزیشن کے مطابق پرویز الٰہی کو 190ارکان کی حمایت حاصل ہے،جن میں 180ارکان پی ٹی آئی اور10ق لیگ کے ہیں،جبکہ اعتماد کے ووٹ کیلئے انہیں 186ارکان کی حمایت کی ضرورت ہے،اپوزیشن کو180ارکان کی حمایت حاصل ہے،خبر ہے کہ چار خواتین سمیت جنوبی پنجاب کے6ارکان نے پرویز الٰہی کو ووٹ نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ ایک خاتون رکن مومنہ وحید واضح طور پر اعتماد کا ووٹ نہ دینے کا اقرار کر چکی ہیں،اگر ایسا ہی ہوتا ہے تو پرویز الٰہی کوکم ووٹ ملیں گے،جبکہ ضرورت186کی ہے،زرداری اور نواز شریف چودھری شجاعت سے مسلسل رابطے میں ہیں ،دوسری طرف کورٹ نے اپنے فیصلہ میں اسمبلی تحلیل نہ کرنے کی انڈر ٹیکنگ لی اور ساتھ ہی یہ حکم بھی صادر کیا کہ جو رکن پارٹی پالیسی کیخلاف ووٹ دے گا اسے ووٹ ڈالنے کی اجازت نہ ہو گی، تحریک انصاف کے جن سات ارکان نے ووٹ نہ دینے کا اعلان کیا ہے وہ شاید اس فیصلہ کی زد میں نہ آئیں کہ وہ پارٹی پالیسی کے خلاف رائے نہیں دیں گے بس ووٹ کاسٹ نہیں کریں گے،مگر ق لیگ کے ارکان نے اگر پرویز الٰہی کو ووٹ دیا تو چودھری شجاعت اعلیٰ عدلیہ سے رجوع کر سکتے ہیں کہ ق لیگ کے سربراہ چودھری شجاعت ہیں،مگرآئین میں اس حوالے سے پارلیمانی پارٹی کے سربراہ کا ذکر ہے پارٹی سربراہ کا نہیں یوں کھچڑی پکے گی اور ایک بار پھر حتمی فیصلہ کیلئے سپریم کورٹ سے ہی رجوع کرنا پڑے گا۔
یہ اقدامات ایسے وقت میں کیے گئے جب عمران خان نے جمعہ 23 دسمبر کو پنجاب اور خیبرپختونخوا کی اسمبلیاں تحلیل کرنے کا اعلان کیا،پی ڈی ایم نے کے پی کے حکومت کا تختہ الٹنے کیلئے چھوٹی پارٹیوں کو ساتھ ملایا مگر اسمبلی کی تحلیل روکنے کیلئے مطلوبہ تعداد میں ارکان اکٹھے نہ کر سکی جس کے بعد پنجاب کو ہدف بنا لیا گیا،آئینی ماہرین کے مطابق پنجاب کی اپوزیشن کے ان اقدامات نے پنجاب اسمبلی کی فوری تحلیل کے عمل کو روک دیا ہے اور وفاقی حکومت بھی کسی طرح کچھ وقت حاصل کرنا چاہتی تھی جو اسے مل گیا،اب جوڑ توڑ،تحریص و ترغیب کے جتن کئے جا رہے ہیں،اس کے باوجود پی ڈی ایم کی کامیابی مشکوک ہے مگر دوسری جانب پرویز الٰہی کیلئے بھی کامیابی کے آثار نمایاں نہیں ہیں،”پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر کافی دنوں سے یہ بات گردش کر رہی ہے کہ وزیراعلیٰ چوہدری پرویز الٰہی اپنے پارٹی صدر چوہدری شجاعت حسین اور اپنی پارٹی کے اراکین کا اعتماد کھو چکے ہیں“جبکہ گذشتہ کچھ ہفتوں سے یہ خبر بھی گردش میں ہے پنجاب میں اتحادی جماعتوں کے مابین سیاسی سٹریٹیجی، اسمبلی کی تحلیل، ترقیاتی سکیموں اور سرکاری افسروں کی ٹرانسفر کے حوالے سے سنجیدہ نوعیت کے اختلافات پیدا ہوان کی پارٹی کے صدر چوہدری شجاعت حسین اس حوالے سے وزیراعظم شہباز شریف اورآصف علی زرداری سے پچھلے دو روز میں ملاقاتیں کر چکے ہیں،اسی صورتحال کو بھانپتے ہوئے آصف زرداری نے ن لیگ کو مشورہ دیا تھا کہ عدم اعتماد کی تحریک واپس لے لی جائے اور پرویز الٰہی کو ووٹ پورے کرنے کیلئے دوڑنے بھاگنے دیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق بیک وقت دو محاذ شروع کرنے کی ایک بڑی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ ایک تو اسمبلی کو تحلیل ہونے سے روکا جائے کیونکہ قانونی طور پر وزیراعلیٰ کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش ہونے کے بعد وہ اسمبلی تحلیل نہیں کرسکیں گے جبکہ گورنر کی ہدایت پر اگر وہ اعتماد کا ووٹ نہیں لے پاتے تو اسمبلی موجود رہے گی لیکن پرویز الٰہی وزارت اعلیٰ سے ہٹ جائیں گے،آئینی ماہرین کے مطابق اعتماد کے ووٹ کی صورت میں پرویز الٰہی کے لیے مشکل ہو سکتی ہے،جبکہ تحریک عدم اعتماد کی صورت میں اپوزیشن کے لیے معاملہ پیچیدہ ہوگا، کیونکہ سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کے مطابق کوئی بھی رکن اسمبلی ووٹ کاسٹ ہی نہیں کر سکے گا اگر اس نے پارلیمانی لیڈر کی ہدایت کے برعکس ووٹ ڈالا، یعنی دوسرے لفظوں میں اپوزیشن کے پاس حکومتی اراکین کو اپنے ساتھ ملانے کا بھی کوئی خاص فائدہ نہیں ہوگا۔
تحریک انصاف کے ارکان انفرادی طور پر کیا سوچ رکھتے ہیں اس سے قطع نظر پارٹی سربراہ اور پارلیمانی لیڈر کے فیصلوں کوآئینی حیثیت حاصل ہے،سپریم کورٹ بھی ایوان میں پارلیمانی لیڈر کو ہی ارکان اسمبلی کا لیڈر تسلیم کرتی ہے،مگر ماضی قریب میں بھی ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری کی طرف سے چودھری شجاعت کے خط پر ق لیگ کے ووٹوں کو شمار نہ کرنے کیخلاف پرویز الٰہی نے عدالت عظمیٰ میں یہی موقف اپنایا تھا کہ پارلیمانی امور میں فیصلے پالیمانی لیڈر کے ہوتے ہیں اور اس مو¿قف کو عدالت نے تسلیم بھی کیا تھا،لہٰذا امکان ہے اس حوالے سے درخواست پہلی یا دوسری پیشی میں ہی خارج کر دی جائے،اب صورت یہی رہ جاتی ہے کہ وفاقی حکومت تحریک انصاف اور ق لیگ کے ارکان کو اعتماد کا ووٹ لینے کے روز اس سارے عمل سے دور رکھے اگر وہ چند ارکان کو بھی مائل کر پائی تو پرویز الٰہی کیلئے مشکلات کھڑی ہو سکتی ہیں،ویسے پرویز الٰہی بھی منجھے ہوئے کھلاڑی ہیں وہ روٹھوں کو منانے کے ہنر سے بخوبی آگاہ ہیں،لہٰذاوفاق میں حکمران اتحاد کو اگر اس مرحلے پر مناسب کارڈز مناسب وقت پر کھیلنے کی ضرورت ہے تو پرویز الٰہی کو بھی احتیاط کی ضرورت ہے اور بہت سوچ سمجھ کر پتے شو کرنا ہوں گے،بہرحال بدھ آنے کو ہے اور اس روز کس کا کام سدھ ہوتا ہے یہ وقت بتائے گا۔

تبصرے بند ہیں.