گندی آڈیو ویڈیوز: نواز شہباز، زرداری بلاول، مولانا، پرویز و عمران

26

آج کل مختلف سیاستدانوں سے منسوب ان کی پرائیویٹ آڈیو ویڈیوز کا ہر طرف چرچا ہے۔ ہمارے معاشرے کا ِمن حیث القوم بشمول میڈیا ہو، اپوزیشن ہو، حکومت ہو، سول سوسائٹی ہو، نوجوان نسل ہو یا بزرگ، تاجر ہو یا بڑے بڑے صنعتکار، دیہاڑی دار ہو یا کروڑ پتی، ہر طرح کا مذہبی طبقہ یا معاشرے کا کوئی بھی گروہ ہر کوئی ان ویڈیو اور آڈیو تک رسائی چاہتا ہے۔ آخر ایسا کیوں ہے؟ اس کا تجزیہ وطن کی مٹی سے جڑے ٹوبہ ٹیک سنگھ سے تعلق رکھنے والے اور حساس دل کے مالک ماہر نفسیات قمراللہ چودھری نے خوب کیا ہے جس کا ذکر آگے چل کر آئے گا۔ کبھی کبھی قمراللہ چودھری منٹو کے افسانے ”ٹوبہ ٹیک سنگھ“ کا کردار بشن سنگھ المروف ٹوبہ ٹیک سنگھ لگتا ہے۔ اور دھچکا لگا رہتا ہے کہ وہ بھی حالات کی وجہ سے کسی دن منٹو کے کردار کی طرح ”اوپڑدی گڑگڑدی انیکس دی بے دھیانادی منگ دی دال اف دی لالٹین۔“ کا ورد نہ شروع کر دے۔
ضیا الحق دور میں فلم مولا جٹ نے کامیابی کے جھنڈے گاڑے تھے اور آج اس فلم کا سیکوئل بھی اتنا کامیاب ہے کہ دنیا بھر کے علاوہ بھارت میں بھی اس کی نمائش کے حقوق بھی بک چکے ہیں۔ آخر ایسا کیوں ہوا کہ مار دھاڑ اور قتل و غارت سے بھرپور پنجابی فلم کو اتنی پذیرائی ملی کہ دیہاڑی دار مزدور سے لے کر ایلیٹ کلاس طبقے تک کے لوگوں نے اسے دیکھا اور سالہا سال دیکھا۔ آج جب اس کا سیکوئل بنا تو سینماؤں پر ایلیٹ کلاس کے لوگوں کا اتنا ہی رش تھا جتنا کہ عام آدمی کا۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ سے تعلق رکھنے والے ماہر نفسیات قمراللہ چودھری جن کا میں اکثر حوالہ اس لیے دیتا ہوں کہ وہ انسانی نفسیات کا مطالعہ اور تجزیہ صرف تھیوری اور کتابوں سے نہیں کرتے بلکہ مٹی سے جڑے ہونے کے سبب وہ اس کا فرانزک پوسٹ مارٹم کرتے ہیں۔ مجھے یاد ہے دی نیوز میں مولا جٹ کی ایک سینما میں سالہا سال سے جاری نمائش پر میرے لکھے گئے ایک کالم میں قمر نے یہ تجزیہ پیش کیا کہ عام اور بے بس آدمی سینما اس لیے جاتا ہے کہ دو تین گھنٹوں کے لیے ہی سہی وہ خود کو معاشرتی تعفن اور اپنی بے چارگی و محرومی سے نجات چاہتا ہے اور اس مختصر وقت میں خود کو اس فلم کے کرداروں میں ڈھال کر خود کو محظوظ کرتا ہے۔ اس کے بقول ضیاالحق کے فسطائی دور میں بھی مولا جٹ اس لیے کامیاب ہوئی کہ عام آدمی فلم مولا جٹ کو
مارشل لا کے مظالم کے خلاف ایک تحریک کے طور پر لیتا تھا اور خود کو اس کے کرداروں میں ڈھال کر ظالم سے وقتی طور پر ہی سہی لڑتا تھا۔ قمر کے بقول فلم مولا جٹ اس وقت کے ظالمانہ نظام کے خلاف ایک وقتی مزاحمت کا نام تھا اور اس وقت اس کو دیکھنے والوں میں عام سیاسی کارکن اور ورکر کلاس تھی جو ظالم ضیاالحق سے لڑنے کی سکت نہیں رکھتی تھی لیکن اپنی فرسٹریشن نکال لیتی تھی۔ مجھے یاد ہے میں خود بھی ضیالحق کے بدنام زمانہ ٹارچر سیل شاہی قلعے کا اسیر رہا۔ بعد میں جب میں صحافت میں آیا تو محکمہ اطلاعات کے بابو نے بتایا تھا کہ اس وقت سنسر بورڈ نے ابتدائی طور پر اس فلم کو روک لیا تھا لیکن بعد میں ضیاالحق کو مشورہ دیا گیا کہ چلنے دیں عوام کی فرسٹریشن اس طرف نکل جائے گی اور یوں یہ فلم سینماؤں کی زینت بنی۔
اب جب مولا جٹ کے سیکوئل نے کامیابی کے جھنڈے گاڑھے تو عزیزم قمراللہ چودھری سے اس موضوع پر پھر بات ہوئی تو وہ خاصا پریشان نظر آیا کہ ہمارا معاشرہ کس طرف جا رہا ہے کیونکہ اس سیکوئل کے فلم بینوں میں ایلیٹ کلاس کی اکثریت تھی۔ یعنی جو فرسٹریشن عام طبقے میں تھی وہ اب نسبتاً خوشحال طبقے کی طرف بڑھ رہی ہے جو کہ الارمنگ ہے لیکن بدقسمتی سے اس طرف کوئی توجہ نہیں دے رہا۔ قمر کا کہنا تھا کہ آج کل کے سینماؤں میں اگر ایک پانچ ممبران پر مشتمل فیملی فلم دیکھنے جاتی ہے تو اس کا تمام لوازمات ملا کر خرچہ دس ہزار بنتا ہے اور فرد واحد بھی دیکھے تو فی کس ہزار روپیہ خرچ ہوتا ہے جو کہ موجودہ بد ترین معاشی حالات میں عام آدمی خرچ کرنا تو ایک طرف تصور ہی نہیں کر سکتا۔ اگر ایلیٹ کلاس اپنی فرسٹرشن نکالنے کے لیے اس حد تک آ گئی ہے تو سوچیے کہ عام آدمی کس حال میں ہو گا۔ یا تو یاسیت کی وجہ سے وہ اندر سے مر چکا ہے یا ہم فرانس کے 1789 جیسے خونی انقلاب کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ قمر کے بقول ان دونوں میں کوئی بھی صورت پاکستان کے لیے تباہ کن ہو سکتی ہے۔ کیونکہ انقلاب فرانس سے قبل فرانس کی شہزادی ”میری انطونیا“ یا ”میری انٹوانیٹ“ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اپنی پُرتعیش زندگی کی وجہ سے عوامی مسائل سے بالکل بے خبر تھیں۔ ایک بار کسان بادشاہ لوئی کے محل کے سامنے مظاہرہ کر رہے تھے۔ انہوں نے محافظوں سے پوچھا کہ لوگ کس وجہ سے احتجاج کر رہے ہیں۔ محافظوں نے ملکہ کو بتایا کہ لوگوں کے پاس کھانے کو روٹی نہیں۔
اس پر شہزادی نے جواب دیا کہ اگر ان کے پاس روٹی نہیں تو ”انہیں کیک کھانے دو“۔
فرانسیسی جملہ ”Qu’ils mangent de la brioche“ یا ”Let them eat cake“ یا ”انہیں کیک کھانے دو“ کا سب سے پہلا استعمال ژاں ژاک روسو کی 1765 میں لکھی اور 1782 میں شائع ہونے والی آپ بیتی کنفیشنز (Confessions) میں ملتا ہے۔ قمراللہ چودھری کا کہنا تھا کہ انقلاب اس وقت برپا ہوتا ہے جب کیک کھانے والا طبقہ بھی احتجاج میں شامل ہو جائے اور ہمارے ملک کا حال یہ ہے کہ آٹا بھی دستیاب نہیں۔
ہمارے معاشرے کے انحطاط کا یہ عالم ہے کہ میڈیا، سول و خاکی اشرافیہ اور عام آدمی تک سب کی تمام تر توجہ ایک ”طبقے“ کو چھوڑ کر Dirty Audio Videos تک ہر قیمت پر رسائی پر ہے۔ میں نے اس کی وجہ پوچھی تو قمر کا کہنا تھا کہ خواص نے ان آڈیوز ویڈیوز کا شوشہ چھوڑ کر عام و خاص کو اس طرف لگا دیا ہے۔ لیکن ہمارے معاشی اشاریے اتنے خوفناک ہیں کہ یہ ٹرینڈ بھی زیادہ نہیں چلے گا اور عوام ایک بار پھر حقیقی مسائل کا حل چاہیں گے جو کہ حکومت کے پاس نہیں اور اگر تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو ایسی صورتحال کا انجام خونی انقلاب ہوتا ہے۔ اشرافیہ کی گندی آڈیو ویڈیو میں عوام کی دلچسپی بارے قمراللہ کہتے ہیں کہ پاکستان کے اشرافیہ اور حکمران طبقہ کی معاشی پالیسیوں نے عوام کو ننگا کر دیا ہے اور وہ فلم مولا جٹ کی طرح اس طبقہ کو بھی ننگا دیکھ کر اپنی بے بسی اور فرسٹریشن سے وقتی چھٹکارا چاہتے ہیں۔ قمر کا کہنا تھا کہ ملکی خوشحالی کو تو چھوڑیں ہم نے مارچ 2023 تک 8 ارب امریکی ڈالر واپس کرنے ہیں اور ہمارے خزانے میں گندی ویڈیو اور آڈیو کے سوا کچھ نہیں۔
آخر میں کالم کے عنوان میں نام اس لیے دیے ہیں کہ ایک دوسرے کے کپڑے اتارنے سے ہٹ کر ممکنہ خونی انقلاب روکنے کی طرف شاید یہ سارے توجہ دیں۔ کیونکہ عوام کو درپیش مسائل کے حل کی کنجی ان کے پاس ہے۔ اگر خونی انقلاب نہ بھی آیا تو اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے یہ تب چلتی ہے جب غریب رو رو کر کسی ظالم بارے اللہ سے اپنی بے بسی کا شکوہ کرتا ہے اور عذاب آتا ہے جس میں سب خش و خاک کی طرح بہہ جاتے ہیں۔ اللہ ہمیں محفوظ رکھے اور ہمارے حکمرانوں کو عقل دے۔
انداز بیاں گرچہ بہت شوخ نہیں ہے
شاید کہ اتر جائے ترے دل میں مری بات
قارئین کالم بارے اپنی رائے 03004741474 پر وٹس ایپ کر سکتے ہیں۔

تبصرے بند ہیں.