حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا

12

اسلام ایک توحیدی مذہب ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آخری رسول و نبی حضرت محمدﷺ کے ذریعے انسانوں تک پہنچائی گئی آخری الہامی کتاب کی تعلیمات پر قائم ہے۔ اللہ رب العزت نے دنیا میں موجود ہر انسان کے ذمہ کچھ حقوق رکھے ہیں جن کی ادائیگی میں ہی انسان کی نجات اور فلاح کا راز مضمر ہے مگر تمام حقوق میں فائق تر حق اللہ تعالیٰ کا ہے، جو سب حقوق کی جڑ ہے۔ انسانوں پر سب سے پہلا حق ان کے خالق، مالک و رازق کا ہے جو زندہ و جاوید ہے، جو ہر امر پر قادر ہے، جس نے تمام کائنات کو پوری حکمت و دانائی کے ساتھ پیدا فرمایا۔ وہ پروردگار جو تمام مخلوق کا پالنہار ہے، جس نے عالم میں موجود تمام چیزوں کو عدم سے وجود بخشا اور پھر ان کی زندگیوں کی تمام ضروریات کا اہتمام فرماتا ہے۔ جس نے انسان کے لیے انواع و اقسام کے پھل اور میوے پیدا کیے۔ ہر طرح کا آرام و سکون عطا کیا، صحت و تندرستی عطا کی اس لیے انسان پر لازم ہے کہ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کا حق ادا کیا جائے بقول شاعر:
قیامت تک سجدے میں رہے سر میرا اے خدا!
کہ تیری نعمتوں کے شکر کےلئے یہ زندگی کافی نہیں
لیکن رب دو جہاں کا انسانوں پر حق ہے کیا؟ رسولِ خدا حضرت محمد مصطفیﷺ نے پوچھا: اے معاذ! کیا تمہیں معلوم ہے کہ اللہ کا اس کے بندوں پر کیا حق ہے؟ انہوں نے کہا، اللہ اور اس کا رسولﷺ ہی بہتر جانتے ہیں۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا، اللہ کا حق اس کے بندوں پر یہ ہے کہ وہ صرف اس کی ہی عبادت کریں اور اس کا کوئی شریک نا ٹھہرائیں۔ یعنی اپنی ہر مشکل، ہر ضرورت میں اللہ رب العزت سے ہی رجوع کریں۔ حدیث قدسی میں بھی اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق کے مقصد کو بیان فرمایا ہے۔ میں ایک چھپا ہوا خزانہ تھا میں
نے چاہا کہ میں پہچانا جاؤں اس کے لیے میں نے مخلوق کو پیدا کیا۔ یہ دنیا اللہ تعالیٰ کی ہے، اللہ رب العزت نے اس دنیا کو ایک خاص مقصد کے تحت بنایا ہے، اس کی ساخت، اس کا نظام دونوں ہی انسانوں کی آزمائش کے لیے وضع کیے گئے ہیں۔ اس لیے اس کے نظام اور ساخت میں ایسی چیزیں رکھ دی گئی ہیں جو ہمارے لیے امتحان کی صورت پیدا کرتی ہیں اس میں آسانیوں اور مشکلوں کا تسلسل رکھ دیا گیا ہے۔ جو دو طرف سے انسانوںکے عمل اور ردِعمل کا امتحان کرتا رہتا ہے۔ انسان کو نعمتیں اس لیے عطا کیں کہ وہ نعمتیں پا کر کیا عمل کرتا ہے اور محروم اس لیے رکھا کہ وہ محروم رہ کر ردِ عمل میں کیا کچھ کرتا ہے۔ مگر آج کا انسان اپنے مقصدِ حیات سے غافل ہو چکا ہے، اس دنیا کی رنگینیوں میں مست اپنی خواہشات کی پیروی میں مصروف ہے، یعنی ابھی تک انسان یہ نہیں سمجھ سکا کہ اسے دنیا میں کیوں بھیجا گیا ہے۔ انسان کے اس عالمِ ناسوت میں آنے کا مقصد معرفت اور قرب و دیدارِ حق تعالیٰ ہے۔ اللہ رب العزت نے قرآن کریم میں متعدد مقامات پر انسانوں کو اس کے مقصدِ حیات کی یاد دہانی کرائی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: اے لوگو اپنے رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں پیدا کیا اور ان لوگوں کو (بھی) جو تم سے بیشتر تھے تاکہ تم پرہیزگار بن جاو¿۔ جس نے تمہارے لیے زمین کو فرش اور آسمان کو چھت بنایا اور آسمانوں کی طرف سے پانی برسایا پھر اس کے ذریعے تمہارے کھانے کے لیے پھل پیدا کیے، پس تم اللہ کے لیے شریک نا ٹھہراو¿ حالانکہ تم (حقیقتِ حال) جانتے ہو۔ (سورة البقرہ۔21۔22) اس عالمِ فنا میں ہوش سنبھالنے سے لے کر عالمِ بقا کی جانب سفر کرنے تک اگر انسان کی زندگی پر کسی ذات کا سب سے زیادہ حق ہے تو وہ صرف اور صرف اللہ رب العزت کا ہے۔ دنیا کی محبت انسان کو اپنے پیدا کرنے والے رب کی ذات سے غافل کر دیتی ہے اور وہ اس کے حصول کے لیے جائز و نا جائز، حرام و حلال کی تمیز بھلا بیٹھتا ہے جس کے نتیجے میں چند روزہ آسودگی تو شاید اسے حاصل ہو جائے مگر آخرت کی ناکامی و نا مرادی اس کا مقدر بن سکتی ہے۔ حضرت کعب بن عیاض ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسولِ خدا حضرت محمد مصطفیﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ (اللہ تعالیٰ کی طرف سے) ہر امت کے لیے (کوئی نا کوئی) فتنہ و آزمائش ہے (جس میں اس امت کے لوگوں کو مبتلا کر کے ان کو آزمایا جاتا ہے) چنانچہ میری امت کے لیے جو چیز فتنہ و آزمائش ہے وہ ’مال و دولت‘ ہے۔ آج کے دور میںدنیا کی گہما گہمی اور چکا چوند میں مصروف انسانوں کی اکثریت اپنی موت سے پوری طرح غافل ہے۔ خوب سے خوب تر کی تلاش اور دوسرے انسانوں سے دنیا کی ترقی میں سبقت حاصل کرنے میں پیش پیش ہے جبکہ اس فانی دنیا کی حقیقت یہی ہے کہ یہ انسان کے جنت یا دوزخ میں لے جانے کے لیے ایک امتحان گاہ ہے۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے: بہت ہی فیض رساں ہے وہ ذات جس کے قبضے میں (اس ملک) کی بادشاہی ہے۔ وہ سب کچھ کر گزرنے پر قادر ہے۔ وہ ذات وہ ہے جس نے موت اور حیات کو بنایا تاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون عمل میں اچھا ہے (سورة الملک۔ ۶۷:۱۔۲) دنیا کی محبت میں مبتلا ہو کر اللہ تعالیٰ کے حقوق سے روح گردانی اور یادِ الٰہی سے غفلت نہایت خسارے کا باعث ہے۔ انسان کا ہر وہ سانس حرام ہے، جو اللہ تعالیٰ سے غفلت کی حالت میں لیا جائے۔
ہمارا المیہ ہے۔۔
رہ گئی رسم اذاں روح بلالی نا رہی
فلسفہ رہ گیا تلقینِ غزالی نا رہی

تبصرے بند ہیں.