عمران خان نے حکومت بچانے کیلئے جنرل باجوہ کو 3 بار ایکسٹیشن کی پیشکش کی, اسد عمر، پرویز خٹک اور صدر علوی پیغام لے کر گئے: ذرائع

32

 

اسلام آباد: سابق وزیر اعظم عمران خان ایک طرف جنرل باجوہ کو اپنا دشمن نمبر ایک قرار دے رہے ہیں جبکہ دوسری طرف انہوں نے سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو 3 بار مدت ملازمت میں توسیع کی پیش کش کی۔

 

سینئر صحافی جاوید چودھری نے اپنے کالم میں انکشاف کیا ہے کہ عمران خان نے جنرل باجوہ کو پیلی پیش کش اسد عمر، دوسری پرویز خٹک اور تیسری پیشکش حکومت جانے کے بعد صدر مملکت کے ذریعے کی گئی مگر جنرل باجوہ نے تینوں پیشکشوں کو ٹھکرادیا۔

 

سینئر صحافی جاوید چودھری کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کی طرف سے آرمی چیف کی سپورٹ حاصل کرنے کے لیے انھیں تین بار ایکسٹینشن کی آفر کی گئی ۔ مارچ2022 کے مہینے میں دو بار آفر کی گئی ۔ پہلی پیش کش اسد عمر آرمی چیف کے پاس لے کر آئے تھے۔ ان کا کہنا تھا آپ نئے قانون کے مطابق 65 سال کی عمر تک آرمی چیف رہ سکتے ہیں‘ ہم نوٹی فکیشن جاری کر دیتے ہیں‘آپ آرمی چیف رہیں اور ہمیں حکومت میں رہنے دیں۔

 

سینئر صحافی کے مطابق جنرل باجوہ نے اسد عمر کی پیش کش ٹال دی اس کے چند دن بعد پرویز خٹک ڈی جی آئی ایس آئی کے دفتر گئے۔ ڈی جی کے سامنے بیٹھ کر محفوظ فون کے ذریعے جنرل باجوہ سے بات کی اور انھیں غیر معینہ مدت تک (تاحیات) ایکسٹینشن کی آفر کر دی ۔ یہ آفر عدم اعتماد سے چند دن پہلے کی گئی تھی ۔

 

سینئر صحافی کا کہنا ہے کہ حکومت تبدیل ہو گئی اور عمران خان نے جنرل باجوہ کو غدار ، میر جعفر اور میر صادق بھی قرار دے دیا لیکن پھر عمران خان نے اسی میر جعفر اور میر صادق سے ایوان صدر میں دو ملاقاتیں کیں ۔ یہ دونوں ملاقاتیں عمران خان کی خواہش اور اصرار پر ہوئی تھیں۔  صدر عارف علوی عمران خان کا پیغام لے کر جنرل باجوہ کے پاس آئے تھے اور ان کا اصرار تھا ’’آپ ایک بار خان سے ضرور مل لیں۔

 

سینئر صحافی کے مطابق دونوں ملاقاتوں میں عمران خان کے ساتھ شبلی فراز جب کہ جنرل باجوہ کے ساتھ میجر جنرل محمد عرفان تھے تاہم یہ دونوں حضرات ملاقات کے کمرے میں داخل نہیں ہوئے  عمران خان اور جنرل باجوہ کے درمیان ون آن ون ملاقات ہوئی اور یہ دونوں پینتالیس پینتالیس منٹ کی ملاقاتیں تھیں ۔ملاقاتوں میں کیا ہوا یہ میں سردست نہیں بتا سکتا تاہم دو نقطے ضرور بیان کیے جا سکتے ہیں ۔عمران خان سے پوچھا گیا‘ سر کیا میں آپ کو واقعی میر جعفر اور میر صادق محسوس ہوتا ہوں۔

 

عمران خان کا جواب تھا یہ میں نے آپ کو نہیں کہا تھا‘ میں ہمیشہ میاں نواز شریف اور شہباز شریف کو میر جعفر اور میر صادق کہتا ہوں ۔ دوسرا نقطہ عمران خان نے فرمائش کی  جنرل صاحب آپ بس اس حکومت کو گرا دیں‘ انھیں فارغ کر دیں  جنرل باجوہ نے جواب دیا‘ سر میں یہ کیسے کر سکتا ہوں‘یہ الیکٹڈ گورنمنٹ ہے‘ میں یہ غیرآئینی کام کیسے کر سکتا ہوں؟ آپ صدر کا مشورہ مانیں‘ اسمبلی واپس جائیں‘ اتحادیوں کو دوبارہ اپنے ساتھ ملائیں اور اپنی حکومت بنا لیں‘ آپ کے پاس جمہوری راستہ موجود ہے‘ ہم آپ کی مدد نہیں کر سکیں گے اور یوںیہ دونوں ملاقاتیں کسی نتیجے کے بغیرختم ہو گئیں۔

 

عمران خان نے ان ملاقاتوں کے بعد 12 ستمبر کو  نجی ٹی وی کو انٹرویو میں عندیہ دیا  قمر جاوید باجوہ الیکشن تک ایکسٹینشن لے لیں‘ نئی حکومت آئے اور یہ نئے آرمی چیف کا تعین کر لے ۔ خان صاحب ملک کی بہتری کے لیے ایکسٹینشن کا راستہ نکالنے کے لیے بھی تیار تھے ۔ انٹرویو کے بعد پریشر آیا تو پی ٹی آئی نے اس بیانیے کو غلط اور سیاق وسباق سے ہٹ کر قرار دے دیا مگر چند دن بعد اس سے ملتی جلتی آفر صدر عارف علوی نے بھی جنرل باجوہ کو کر دی اور یہ ایکسٹینشن کی تیسری آفر تھی۔

 

جنرل باجوہ نے اس کے بعد ملک محمد احمد کے ذریعے نواز شریف اور کور کمانڈرز کی میٹنگ میں سینئر آفیسر کو بھی صاف کہہ دیا ’’میں کسی قسم کی ایکسٹینشن نہیں لے رہا‘‘ اورپانچ اکتوبر2022 کو واشنگٹن میں بھی ایکسٹینشن نہ لینے کا اعلان کر دیا‘ پی ڈی ایم اور پی ٹی آئی کو جب یقین آ گیا ایکسٹینشن نہیں ہو رہی تو دونوں طرف سے نیا مطالبہ سامنے آ گیا۔

 

حکومت جنرل فیض حمید اور پی ٹی آئی جنرل عاصم منیر کو آرمی چیف نہیں دیکھنا چاہتی تھی۔ جنرل باجوہ عاصم منیر کو پسند کرتے تھے ۔ یہ سمجھتے تھے ان کے ساتھ 2018 میں زیادتی ہوئی لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان کا خیال تھا اگر جنرل عاصم منیر آرمی چیف بن جاتے ہیں تو عمران خان کی نفرت اگلی قیادت تک چلی جائے گی ۔ ان کا خیال تھا جنرل عاصم منیر کو چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی بنا دیا جائے اور جنرل ساحر شمشاد مرزا کو آرمی چیف  ملک محمد احمد یہ پیغام لے کر میاں نواز شریف کے پاس لندن گئے۔

 

میاں نواز شریف نے جواب دیا آپ ناموں کی سمری بھجوا دیں  یہ فیصلہ وزیراعظم کریں گے تاہم اس دوران شاہد خاقان عباسی بھی آرمی چیف سے ملے  جنرل باجوہ نے انھیں بھی صورت حال سمجھائی اور انھیں جنرل ساحر شمشاد مرزا کا نام دیا لیکن چند دن بعد میاں نواز شریف نے اپنا ایک کاروباری دوست جنرل باجوہ کے پاس بھجوا دیا‘اس دوست کے دونوں کے ساتھ دیرینہ تعلقات تھے‘ اس نے آرمی چیف سے دو سوال کیے ایک ‘دونوں امیدواروں میں سے زیادہ دباؤ کون برداشت کر سکتا ہے؟ جنرل باجوہ کا جواب تھا‘ جنرل عاصم منیر۔

 

دوسرا سوال تھا‘ عربوں کے ساتھ کس کے تعلقات زیادہ اچھے ہیں؟ جنرل باجوہ کا جواب تھا‘ جنرل عاصم منیر اور یوں جنرل عاصم منیر کا فیصلہ ہو گیا میاں نواز شریف نے میاں شہباز شریف کو جنرل عاصم منیر کا نام دیا اور چھٹیوں پر یورپ چلے گئے‘ فائنل تقرری سے پہلے ملک محمد احمد لاہور سے خواجہ آصف کو لے کر اسلام آباد آئے۔

 

عمران خان کے دھرنے کی وجہ سے راولپنڈی اسلام آباد کے راستے بند تھے ۔ یہ دونوں وزیراعظم کے ہیلی کاپٹر کے ذریعے جی ایچ کیو پہنچے ۔ جنرل باجوہ سے آخری مشورہ کیا اور وزیراعظم نے اگلی صبح اپنی تجویز ایوان صدر بھجوا دی ۔ وزیراعظم نے اس کے بعد صدر عارف علوی کو اپنا طیارہ دیا‘ یہ لاہور گئے‘ عمران خان کو منایا‘ نئے آرمی چیف کا اعلان ہوا۔

تبصرے بند ہیں.