سوچ بدلو۔۔نظام بدلو

16

پاکستان آج جن عفریت نما مسائل میں گھرا ہے ہم نے ان کی دہائیوں پرورش کی ہے۔ پی ڈی ایم کی حکومت کو ورثے میں ملنے والے مسائل اس قدر گمبھیر ہوںگے شاید اس کا ٹھیک طرح سے اندازہ نہیں لگایا جاسکا۔ پچھلے تیس برس کے دوران اگر پاکستان میں جمہوریت کو درست انداز میں پنپنے کا موقع فراہم کیا جاتا تو آج خطے میں ہماری معاشی اور سیاسی پوزیشن مختلف ہوتی۔اسوقت ملک جس معاشی صورتحال سے دوچار ہے اس میں تمام اہل اقتدار برابر کے شریک ہیں۔ وطن عزیز میں جمہوریت اور آمریت کے عنوان سے ہر طرح کے تجربے ہوئے ہیں۔ لیکن پراجیکٹ عمران خان جیسا ناکام اور مہنگا تجربہ ریاست کی جڑوں میں بیٹھ گیا ہے۔جتنا قرض عمران خان کے پونے چار برس کے دور میں لیا گیا۔ اتنا قرض پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی بالترتیب دوہزار آٹھ اور دوہزار تیرہ کی حکومتوں میں نہیں لیا گیا۔ عمران خان جب اپنی الیکشن مہم چلا رہے تھے تو ان کا دعویٰ تھا کہ وہ مر جائیں گے لیکن آئی ایم ایف کے آگے ہاتھ نہیں پھیلائیں گے۔ پھر دنیا نے وہ نظارہ بھی دیکھا جب عمران خان نے بطور وزیراعظم آئی ایم ایف کے سامنے خود دست سوال دراز کیا۔ عمران خان کے دور میں 17 ارب روزانہ کا قرض ریاست پر چڑھایا گیا۔ مسلم لیگ ن کی حکومت بیس ہزار ارب کا کل قرضہ چھوڑ کر گئی تھی۔ عمران خان کے دور حکومت کے بعد اب یہ قرض پچاس ہزار ارب روپے ہو چکا ہے۔ موصوف نے ریاست کو اس مقام پر لاکھڑا کیا ہے کہ ہم کوئی بھی قومی فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہے۔ ہمارے پاس بین الاقوامی ساہو کاروں کی شرائط ماننے کے سوا کوئی آپشن نظر نہیں آرہا۔ ہمیں مجبور کیا جا رہا ہے کہ سرکاری ملازمین سے میڈیکل الاؤنسز سمیت کئی سہولیات واپس لے لیں۔ اگر ریاست چلانی ہے تو ہر طرح کی سبسڈی ختم کرنا ہوگی۔ عمران خان کی معاشی پالیسیوں نے قومی معیشت کی گاڑی کو پہیوں سے اتار کر اینٹوں پر کھڑا کر دیاہے۔ جو لوگ یہ امید لگائے بیٹھے ہیں کہ عمران خان دوبارہ آکر معیشت درست کر دیں گے۔ تو وہ لوگ خوابوں کی دنیا میں رہتے ہیں۔ عمران خان نے اپنے دور میں چار وزائے خزانہ اور چھ سیکرٹری خزانہ بدلے۔ لیکن کوئی ایک معاشی دعویٰ سچ کرنے میں ناکام رہے۔ دراصل معیشت کی درستی عمران خان کا ایجنڈا ہی نہیں تھا۔ البتہ وہ جس ایجنڈے پر کام کر رہے تھے اس میں کامیاب رہے۔ اب تو عمران خان اقتدار
میں کو لانے والے خود بھی شرمندہ دکھائی دیتے ہیں۔ اس کا برملا اظہار کیا جا رہا ہے۔ اب تمام لوگوں کو وہ باتیں بھی یاد آرہی ہیں جو جہاندیدہ اور ملک کا درد رکھنے والے افراد نے عمران خان کے بارے میں پہلے ہی بتا دی تھیں۔ آپ کویہ الفاظ یاد ہوں گے کہ پاکستان کو یہودیت کی کالونی بنانے کے لئے کسی شخصیت کا انتخاب ہوچکا ہے ؟ جی ہاں چھبیس سال قبل پاکستان کے نامور و مستند حکیم و طبیب اور پاکستان کی تاریخ میں ایک بااعتماد نام سابق گورنر سندھ حکیم محمد سعید انیس سو چھیانوے میں اپنی تصنیف میں اس شخصیت کا ذکر کر گئے ہیں۔ حکیم محمد سعید جو اپنی طب و حکمت اور تقویٰ کی وجہ سے پاکستان کے ہر طبقہ فکر میں نہایت عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ بلند کردار اور وسیع نظر کے حامل حکیم محمد سعید نے انیس جولائی انیس سو ترانوے سے لے کر یکم جنوری انیس سو چورانوے تک صوبہ سندھ میں گورنر کے فرائض سرانجام دئیے۔ ہمدرد فاؤنڈیشن کے بانی کا اعزاز بھی انہی کے پاس ہے۔حکیم محمد سعید نے اپنی شہادت سے دو سال قبل انیس سو چھیانوے میں اپنی کتاب “جاپان کی کہانی” شائع کی۔ اس کتاب میں سابق گورنر سندھ حکیم محمد سعید نے “عمران خان کی یہودیت نوازی کا پردہ مکمل طور پر چاک کردیا تھا۔ حکیم محمد سعید اس یہودی سازش کو بے نقاب کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔
پاکستان کے ایک عمران خان کا انتخاب ہوا ہے۔ یہودی ٹیلی ویژن اور پریس نے عمران خان کو ہاتھوں ہاتھ لے لیا ہے، سی این این ، بی بی سی سب عمران خان کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملا رہے ہیں۔ برطانیہ جس نے فلسطین تقسیم کرکے یہودی حکومت قائم کرائی۔وہ ایک طرف عمران خان کو آگے بڑھا رہا ہے اور دوسری طرف آغا خان کو ہوائیں دے رہا ہے۔ برطانیہ الطاف حسین کا مربّی بنا ہوا ہے اور اب نکیل یہودیوں کے ہاتھ میں دے دی گئی ہے اور کانوں کان خبر نہیں ہورہی۔ اب عمران خان کی شادی یہودیوں میں کرا دی ہے۔ پاکستان کے ذرائع ابلاغ کو کروڑوں روپے دئیے جا رہے ہیں تاکہ عمران خان کو خاص انسان بنا دیا جائے۔ وزارت عظمیٰ پاکستان کے لئے عمران خان کو ابھارا جا رہا ہے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو پہلے تو عمران خان پر برسی تھیں۔ مگر اب انہوں نے عمران خان کے سسر کو دعوت پر مدعو کیا ہے۔ اسی عنوان پر امریکی نائب صدر نے عمران خان کو لنچ پر بلالیا۔ نوجوانو کیا اب پاکستان کی آئندہ حکومت یہودی الاصل ہوگی ؟ شاید حکیم سعید کا یہ موقف حق کا وہ اظہار تھا جس کے بعد انہیں نہایت بے دردی کے ساتھ کراچی میں شہید کردیا گیا۔ جس پر پورا پاکستان اور خصوصاً کراچی کئی دن تک آنسو بہاتا رہا۔ یہ سوال اب بھی اپنی جگہ باقی ہے کہ کیا کہیں حکیم محمد سعید کو اسی سچ بولنے کی سزا تو نہیں دی گئی ؟ اور پھر آپ اندازہ لگائیں کہ کس قدر واضح انداز میں وقت کے ایک دانشور اور درد دل رکھنے والی شخصیت نے انیس سو چھیانوے میں جس وقت عمران خان ایک پاپولر سیاستدان نہیں تھا۔ لیکن مستقبل میں عمران خان کی یہودیت نوازی اور بین الاقوامی قوتوں کی جانب سے عمران کی مبینہ تربیت کا پردہ چاک کردیا تھا۔ لیکن افسوس اس وقت کسی نے حکیم سعید کی بات پر کان نہیں دھرے۔ بالآخر اس عالمی سازش کے کرتا دھرتاؤں نے پاکستان کو اس مقام تک پہنچا دیا ہے۔ بات صرف حکیم سعید تک ہی محدود نہیں۔ انتہائی قابل اور مستند عالم دین جناب ڈاکٹر اسرار احمد بھی انیس سو چھیانوے میں عمران خان سے متعلق ایسے ہی خیالات کا اظہار کر چکے ہیں۔ معروف سکالر ڈاکٹر اسرار احمد نے عمران خان سے متعلق اپنے ایک بیان میں کہا تھا۔. جسے میں یہاں نقل کر رہا ہوں کہ گولڈ اسمتھ نے عمران خان کا شکار کرلیا ہے۔ عمران خان ایک ابھرتی ہوئی شے تھا جس سے امیدیں وابستہ تھیں۔ ڈاکٹر اسرار احمد نے اپنی گفتگو میں عمران خان کو گولڈ اسمتھ کی جانب سے پہلی سلامی کا بھی ذکر کیا تھا کہ عمران خان کو اب گولڈ اسمتھ کی جانب سے پانچ کروڑ پاو¿نڈز تو پہلے سلامی دی جائے گی یہ کس وجہ سے دی جارہی ہے؟ اگر یہود کا سارا سازشی کردار ہمارے سامنے ہو تو ہر شے واضح ہوجائے گی۔ آج بھی عمران خان کے ہر عمل کی حمایت کی تائید گولڈ اسمتھ فیملی کی جانب سے کی جاتی ہے۔عمران خان کی مبینہ صاحبزادی کو بھی ان کی سابقہ اہلیہ جمائما نے اپنے پاس رکھا ہوا ہے۔ عمران خان نے اس کے علاوہ دنیا بھر سے بے پناہ فنڈنگ حاصل کی۔ (ان پر ممنوعہ فنڈنگ کیس تاحال زیر سماعت ہے)۔ اسی سرمائے کی بنیاد پر میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے وہ اپنا ایسا بت بنانے میں کامیاب ہو گئے ہیں جسے توڑنا آسان نہیں۔ عمران خان خوابوں کا سوداگر ہے۔ اس نے مایوس عوام کو ایسے خواب بیچے ہیں جن کی کوئی تعبیر نہیں ہے۔ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی سے غلطیاں ہوئی ہیں۔ انھیں عوامی امنگوں پر پورا نہ اترنے کی سزا مل چکی ہے۔ انھیں عوام کی تقدیر بدلنے کا سسٹم بنانا چاہئے تھا۔ بے شک اس میں تاخیر ہو چکی ہے۔ لیکن اب بھی موقع ہے کرپشن، بے ایمانی اور طبقاتیت سے پاک نظام لے آئیں۔ اس ملک کو حقیقی جمہوری نظام چاہئے۔ حکمرانوں کو چاہئے کہ اپنی سوچ بدلیں اور نظام بدلیں۔ ایسا نظام جہاں عام آدمی بھی الیکشن لڑ کر نظام کا حصہ بن سکے۔

تبصرے بند ہیں.