اگر کوئی کسر رہ گئی ہے تو

10

دہشت گردی کی نئی لہر نے ہر محب وطن شہری کو تشویش میں مبتلا کر دیا ۔ روزانہ ہونے والی دہشت گردی کی وارداتوں نے اس امر کو واضح کر دیا ہے کہ دہشت گردوں کی کمر توڑنے کے ہمارے دعوے محض دعوے ہی تھے اور در حقیقت وہ اب بھی اتنی طاقت رکھتے ہیں کہ جہاں چاہے ہمیں نشانہ بنا سکتے ہیں ۔ ایک طرف دہشت گردی نے دوبارہ سر اٹھانا شروع کر دیا ہے اور دوسری جانب چین میں تین سال بعد کورونا کی نئی لہر انتہائی شدت کے ساتھ حملہ آور ہوئی ہے اور اگر خدا نخواستہ اس کا ہلکا سا سایہ بھی پاکستان پر پڑ گیا تو وینٹی لیٹر پر پڑی معیشت بستر مرگ سے اٹھ نہیں پائے گی اور جو کسر باقی رہ گئی ہے وہ تحریک انصاف کی قیادت اس کے قائد عمران خان اور ان کے چاہنے والے سب مل کر پوری کر رہے ہیں ۔ بات کسی کی حمایت یا مخالفت کی نہیں لیکن اگر مونس الٰہی اور ان کے والد محترم چوہدری پرویز الٰہی کی بات کو درست مان لیا جائے کہ عدم اعتماد کی تحریک کے وقت انھیں جنرل باجوہ نے عمران خان کی طرف جانے کا کہا تھا تو اس ایک عمل نے ملک کو جو نقصان پہنچایا ہے اس کا ازالہ کرنا ہی مشکل ہو رہا ہے ۔ سوچیں کہ اگر پنجاب میں تحریک انصاف کی حکومت نہ ہوتی تو ملک میں جو انارکی کی صورت حال ہے اور جو سیاسی بے یقینی کی کیفیت ہے کیا اس کا گراف بہت کم نہ ہوتا اور اس سے کیا معاشی صورت حال میں بہتری نہ آتی ۔ آج بھی حالت یہ ہے کہ عمران خان نے طے کر رکھا ہے کہ انھوں نے ملک میں افراتفری کا ماحول بنائے رکھنا ہے یہ وہی بات ہے کہ وہ اپنی بوٹی کی خاطر ملک کا بکرا ذبح کرنے پر تلے ہوئے ہیں ۔ کسے نہیں معلوم کہ ملک کی معاشی حالت بہتر نہیں ہے لیکن کیا اس کی کلی ذمہ داری موجودہ حکومت پر ڈالی جا سکتی ہے ۔ خان صاحب کو اس بات کا بخوبی ادراک ہے کہ جب موجودہ حکومت بر سر اقتدار آئی تو اس سے پہلے ہی معیشت کا بیڑا غرق ہو چکا تھا اور ملک اسی وقت دیوالیہ ہونے کے قریب تھا ۔ موجودہ حکومت نے آ کر جب انتہائی مشکل معاشی فیصلے کر لئے یا یہ کہہ لیں کہ جب اس حکومت سے انتہائی مشکل معاشی فیصلے کرا لئے گئے تو تین سا ل آٹھ ماہ کی حکومت میں ملک کی معیشت کی
جو تباہی ہوئی اس سے شوق پورا نہیں ہوا اور ایک مرتبہ پھر پورا ماحول بنا کر انھیں ہی دوبارہ حکومت میں لانے کی کوشش شروع ہو گئی تاکہ اگر کوئی کسر رہ گئی ہے تو وہ بھی پوری ہو جائے اور ملکی معیشت کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے ۔
پہلے بھی عرض کیا تھا کہ جس وقت آئی ایم ایف سے قسط ملنی تھی تو شوکت ترین کی پنجاب اور خیبر پختونخوا کے وزرائے خزانہ کو کال ملک کو معاشی مسائل کی دلدل میں دھکیلنے کے مترادف تھی اور اب بھی جھوٹ کی فیکٹریوں سے روزانہ کی بنیاد پر شدید منفی قسم کا پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے اور یہ اس سطح پر اور اس کا حجم اس قدر زیادہ ہے کہ صاف نظر آ رہا ہے کہ موجودہ حکومت اس کا توڑ نہیں کر پا رہی ۔ ہر روز خود خان صاحب اس بات کو کہنا اپنا فرض سمجھتے ہیں کہ وہ دنیا کو بتائیں کہ اگلے دس پندرہ دنوں میں ملک دیوالیہ ہونے جا رہا ہے ۔ جھوٹ اس قدر کہ کئی دن تک بلا ناغہ کہا گیا کہ بلاول بھٹو زرداری کے بیرون ملک دوروں پر دو ارب روپے خرچ ہو چکے ہیں یہ بیان خان صاحب اس وقت تک دیتے رہے کہ جب تک بلاول نے خود آ کر اس بات کی تردید نہیں کی کہ وہ اپنے بیرون ملک دوروں پر آنے جانے ٹکٹ کا خرچ اور ہوٹلز کے اخراجات خود ادا کرتے ہیں ۔ کیسی عجیب بات ہے کہ جو پروپیگنڈا کیا جاتا ہے اگر گوگل پر سرچ کریں تو گوگل سرچ بھی اس کی تصدیق کرتی ہے ۔ دو تین دن پہلے ایک واٹس ایپ دوست ہیں دوبئی میں رہتے ہیں انھوں نے کہا کہ جناب بلاول بھٹو اس قدر کامیاب وزیر خارجہ ہیں کہ متحدہ عرب امارات نے گذشتہ پندرہ دن میں مجموعی طور پر پاکستان کے 24شہروں کے شہریوں پر ویزے کی پابندی لگا دی ہے ۔ ان کی پوسٹ دیکھ کر انھیں کہا کہ یہ خبر فیک ہے لیکن انھوں نے کہا کہ میں خود دبئی میں مقیم ہوں لہٰذا مجھے پتا ہے کہ یہ خبر درست ہے جبکہ منگل کو جنگ کے پہلے صفحہ پر اماراتی سفیر نے اس خبر کی تردید کی کہ ایسی کوئی بات نہیں اور پاکستان کے تمام شہریوں کے لئے متحدہ عرب امارات کے ویزے کھلے ہیں ۔ہم نے جو حجم کا ذکر کیا تو اس سے مراد پروپیگنڈا کی کثرت بھی ہے اور اس کا ایک وسیع نیٹ ورک کے ساتھ لمحوں میں دنیا بھر میں پھیلاﺅ دونوں شامل ہیں ۔ایک عزیز نے اپنے موبائل پر میسج دکھایا جس میں بریکنگ نیوز کے طور پر خبر تھی کہ ایک ہفتہ بعد پاکستان کا ٹیکسٹائل سیکٹر مکمل طور پر بند ہو رہا ہے ۔ چھٹی کر کے جب گھر پہنچے تو کراچی سے ایک دوست کا واٹس ایپ میسج آیا اور تشویش کے عالم میں پوچھا کہ شاہ صاحب یہ کیا ہو رہا ہے ۔ پہلے اپنے عزیز اور پھر اس دوست سے بھی ایک ہی بات پوچھی کہ یہ جو بریکنگ نیوز والی تصویر ہے اس میں کسی ٹی وی چینل کا مونو گرام ہے کہ پتا چلے کہ یہ کس چینل نے خبر دی ہے ۔ دونوں صاحبان نے پہلے غور کیا اور پھر کہا کہ آپ کی باریک بینی نے ہماری پریشانی دور کر دی ہے اور ہمیں پتا چل گیا ہے کہ اس میں کوئی صداقت نہیں ہے۔
جس وقت یہ تحریر قلمبند کر رہا ہوں تو اسی وقت اسحق ڈار پاکستان اسٹاک ایکسچینج سے خطاب کرتے ہوئے دہائیاں دے رہے ہیں کہ حالات مشکل ضرور ہیں لیکن خدا نے چاہا تو پاکستان ڈیفالٹ نہیں کرے گا انھوں نے کہا اور سوفیصد درست کہا کہ سستی سیاست کے لئے ملک کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے اور جھوٹے پروپیگنڈا کی وجہ سے لوگ ڈالر اور سونا خرید کر گھروں میں رکھ رہے ہیں ۔قارئین ماضی میں پاکستان میں کچھ پرائیویٹ انویسٹمنٹ کمپنیوں کے متعلق پروپیگنڈا کیا گیا کہ وہ فراڈ ہیں اور عوام اپنا سرمایہ ان کمپنیوں سے نکال لیں ۔ وہ کمپنیاں ٹھیک چل رہی تھیں اور عوام کو ان سے کوئی شکایت نہیں تھی لیکن جیسے ہی یہ خبر اخبارات میں آئی تو اپنا سرمایہ واپس لینے کے لئے لائنیں لگ گئیں جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ کمپنیاں واقعی ڈیفالٹ کر گئیں اور اب اپنے محدود ذاتی اور سیاسی مفادات کی خاطر اسی طرح کا کھلواڑ پاکستان اور اس کی معیشت کے ساتھ کیا جا رہا ہے ۔ سوشل میڈیا پر جھوٹی خبریں دی جا رہی ہیں اور یہ سب کس کیمپ سے ہو رہا ہے وہ بھی واضح ہے کہ بڑی ڈھٹائی کے ساتھ عمران خان سمیت تحریک انصاف کی پوری قیادت ہر روز پاکستان کے دیوالیہ ہونے کا واویلا کر رہی ہے اور اسی کے تسلسل میں پھر سوشل میڈیا پر منفی پروپیگنڈا کا طوفان کھڑا کیا جاتا ہے جس سے پہلے سے خراب معیشت کو مزید جھٹکے لگنا شروع ہو جاتے ہیں۔ ہم ایک سوال پر اپنے کالم کا اختتام کریں گے کہ اگر چند بیانات اور چند ٹوئٹس پر شہباز گل اور اعظم سواتی پر کیس بنا کر انھیں گرفتار کیا جا سکتا ہے تو ملک اور ملکی معیشت کے ساتھ مسلسل کھلواڑ کرنے والوں کے خلاف اب تک کارروائی کیوں نہیں ہوئی؟۔

تبصرے بند ہیں.