معیشت : عمران خان بمقابلہ شہبازشریف

20

کیا پاکستان فنانشل ایمرجنسی کی طرف بڑھ رہا ہے؟ یہ وہ سوال ہے جو آج ہر کوئی اٹھا رہا ہے۔ اور کیوں نہ اٹھایا جائے کہ کسی طرف سے خیر کی کوئی خبر نہیں آ رہی۔ مفتاح اسمعیل کو ہٹا کر نئے وزیر خزانہ کو لایا گیا اور یہ استدلال دیا گیا کہ ان کے پاس بہت تجربہ ہے اور وہ پاکستان کی بگڑتی ہوئی معیشت کو سنبھال لیں گے۔ ڈالرکی گرتی ہوئی قدر کو بہتر کریں گے۔ ملک میں سرمایہ کاری آئے گی۔ بجلی کے نرخ کم ہو جائیں گے اور تیل کی قیمت میں استحکام آئے گا۔ ابھی تک ایسا کچھ نہیں ہوا اور اب حالات یہ ہیں کہ ایک بار پھر ملک کے دیوالیہ ہونے کی خبریں گردش کر رہی ہیں۔ عمران خان کو یہ کہنے کا موقع مل گیا ہے کہ اچھی بھلی معیشت چل رہی تھی کہ ان کی حکومت کو ہٹا دیا گیا۔ ملکی معیشت اور ملکی سیاست ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں، ایک خراب ہوتی ہے تو اس کا براہ راست اثر دوسرے پر پڑتا ہے۔ اسحق ڈار نے آج یہ دعویٰ کیا ہے کہ ان کا 48 برس کا تجربہ ہے کہ ملک دیوالیہ نہیں ہو گا۔ ان سے صرف یہ عرض کرنا ہے کہ ملک کو آپ کے تجربوں کے لیے رہن پر نہیں رکھا جا سکتا۔ پہلے آپ ان دعوو¿ں کے بارے میں بتائیں جو آپ کر رہے تھے کہ ڈالر کو 200 سے کم پر لائیں گے۔ اس وقت ملک کا سب سے بڑا مسئلہ ہی ڈالر نہ ہونے کی وجہ سے ہے۔ ڈالر آپ سے کنٹرول نہیں ہو رہا۔ کارخانے بند ہو رہے ہیں۔ انڈس موٹرز اور سوزوکی نے بھی اپنے کارخانے چند روز کے لیے بند کر دیے ہیں، ایسے میں معیشت کی بہتری کے دعوے کیونکر ہو رہے ہیں۔ملک میں زر مبادلہ کے گِرتے ذخائر کے پیش نظر سٹیٹ بینک نے آٹو سیکٹر کو بھی درآمدات کے لیے قبل از وقت منظوری کا پابند بنایا تھا۔
یعنی بندرگاہ پر کھڑے درآمدی کنٹینروں کی کلیئرنس نہ ہونے اور بینکوں کی طرف سے ان کی ایل سی (لیٹر آف کریڈٹ) نہ کھلنے سے ان صنعتوں کو نقصان ہو رہا ہے جن کا انحصار درآمدات پر ہے۔ان پابندیوں کے بعد سے گاڑیوں کی کئی کمپنیوں نے رواں سال کے دوران کئی بار ’نان پروڈکشن ڈیز‘ بڑھائے ہیں۔ دوسری طرف اگر انھی کمپنیوں کی سیلز پر نظر دوڑائی جائے تو گذشتہ سال کے مقابلے رواں سال اس میں قابل ذکر کمی واقع ہوئی ہے۔مثلاً 2021 میں جولائی سے نومبر کے دوران ٹویوٹا کرولا اور یارس کے 23,975 خریدار تھے تو 2022 میں اسی عرصے میں یہ خریدار 10,186 ہو گئے۔اسی طرح 2021 کے دوران اس عرصے میں 13,105 لوگوں نے سوزوکی کلٹس خریدی تھی مگر 2022 میں اعداد و شمار 4,086 ہو گئے۔
اسحق ڈار نے اسٹاک ایکسچینج میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا "آج بھی سیاست ہورہی ہے کہ ملک دیوالیہ ہوجائے گا، پاکستان کی اپنی خامیاں اور کمزوریاں ہیں جس کی وجہ سے ملک نیچے چلا جا رہا ہے، لیکن اسے بحال کرنے کے لیے بزنس کمیونٹی کو مل کر کام کرنا ہوگا۔” ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر اسحق ڈار صاحب ماضی کو لے کر بیٹھ گئے ہیں وہ یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ اب تک معیشت میں بہتری کے لیے کیا کیا گیا ہے۔ ملک بوستان کی پریس کانفرنس کا جواب ان کے پاس نہیں ہے کہ ہر روز 2 بلین ڈالر افغانستان سمگل ہو رہے ہیں۔ بڑے شہروں کی منی ایکسچینجز پر چھاپے مارے جا رہے ہیں اور ہنڈی اور حوالہ کا کاروبار ہو رہا ہے۔
اس کاروبار کو بند کرانا حکومت کی پہلی ترجیح ہونا چاہیے تھا۔ ملک بوستان نے جس جانب اشارہ کیا ہے اس سلسلے کو روکنے کے لیے حکومت نے ابھی تک کوئی بڑا اقدام نہیں اٹھایا۔ افغانستان کی امپورٹ سمگل ہو کر پاکستان پہنچ رہی ہے اور ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ بہت سے کنٹینرز افغانستان پہنچتے ہی نہیں راستے میں ہی آف لوڈ ہو جاتے ہیں اور خالی کنٹینرز واپس چلے جاتے ہیں۔ افغانستان کے ساتھ ہونے والی تجارت کو ریگولیٹ کیا جائے گا تو پاکستان کے زرمبادلہ کو بہتر کرنے میں مدد ملے گی۔ وزیر خزانہ خود یہ فرما رہے ہیں کہ ہم ایک ارب ڈالر کے لیے لوگوں کے پاس جا رہے ہیں اور پاکستان سے خاموشی سے ڈالر افغانستان کے راستے باہر جا رہے ہیں۔ اسحق ڈار صاحب فرماتے ہیں کہ” آج ہم ایک ایک بلین ڈالر کے لیے بھاگ رہے ہیں میں سمجھتا ہوں کہ ماضی میں جو غلطیاں کی ہیں انہیں دوبارہ نہ دہرایا جائے جس کی وجہ سے پاکستان اس نہج پر پہنچ چکا ہے۔پاکستان کے 70 بلین ڈالر کے نقصان کا کون ذمہ دار ہے؟ پاکستان اس گمبھیر صورتحال میں کیسے پہنچا؟ جب میں نے آخری بار اپنا عہدہ چھوڑا تو گلوبل اتھارٹی کے مطابق پاکستان 2030 میں دنیا کی 18ویں معیشت ثابت ہونے جارہی تھی۔”
یہ باتیں اب کتابوں میں ملتی ہیں کہ پاکستان کا منصوبہ ملائیشیا نے اپلائی کیا اور آج ان کی معیشت کہاں سے کہاں جا پہنچی۔ پاکستانیوں میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں ہے اور اس بات کا لوہا انہوں نے مختلف ملکوں میں جا کر منوایا۔ دنیا کو بہترین ادارے بنا کر دیے جو آج بہترین کارکردگی دکھا رہے ہیں لیکن پاکستان کے اندر ان کی صلاحیتوں کو اس لیے زنگ لگ گیا کہ یہاں کا نظام انہیں سپورٹ نہیں کر رہا تھا۔ کیا وجہ ہے کہ دنیا بھر کے سرمایہ کار بنگلہ دیش چلے گئے۔ ہمارے ہاں کوئی نہ کوئی خرابی تو ہے۔ جب تک ہم مسائل کو سمجھیں گے نہیں اور انہیں تسلیم نہیں کریں گے اس کا علاج ممکن نہیں ہے۔
افغانستان پر پابندی موجود ہیں، سوچے سمجھے منصوبے کے تحت افغانستان پاکستان سے ڈالر خرید کر سمگل کر رہا ہے۔ افغانستان کے شہریوں نے پاکستانی روپے کو ڈالر میں تبدیل کر لیا۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان جو تجارت ہو رہی ہے اسے بھی مقامی کرنسی میں کرنے کی ضرورت ہے تاکہ دونوں ملک جو ڈالر کے بحران سے دوچار ہیں وہ اس سے نکل سکیں۔ اسی طرح دوسرے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تجارت کو بھی مقامی کرنسی میں کرنے سے اس خطے کی معیشت کو سہارا ملے گا۔ پاکستان کے قوانین کے مطابق بیرون ملک سفر کرنے والا اپنے ساتھ 6 ہزار امریکی ڈالر لے جا سکتا ہے مگر اس کا اطلاق عملی طور پر افغانستان کے ساتھ راہداری پر نہیں ہوا وہاں پر کچھ لو اور کچھ دو کا سلسلہ چلتا رہا اور ڈالر سمگل ہوتا رہا۔
ڈالر صرف افغانستان سمگل نہیں ہو رہا بلکہ خلیج کے ممالک میں بھی جاتا رہا۔ تین مسافروں سے 60 ہزار ڈالر برآمد ہوئے اور انہیں گرفتار کیا گیا مگر بہت سے ایسے ہیں جو ڈالر لے کر جانے میں کامیاب ہو گئے۔ ہمارا بارڈر اور کسٹم کنٹرول موثر کارکردگی نہیں دکھا سکا۔اسحٰق ڈار کا کہنا تھا کہ معیشت پر جو تجربے ہوئے اس کا جوابدہ میں نہیں ہوں، ڈالر کی ہمسایہ ملک کو سمگلنگ ایک بڑا مسئلہ ہے، ہمیں ڈالر، گندم اور کھاد کی سمگلنگ کو روکنا ہے، اگلے 6 سے 7 ماہ میں پاکستان کو 35 ارب ڈالرز کی ضرورت ہو گی۔
یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ اگر دوست ممالک پاکستان کی مدد کو نہ آئے تو پاکستان دیوالیہ ہو جائے گا۔ مدد حاصل ہو جانے کے بعد بھی ہماری معیشت وینٹی لیٹر پر لگی رہے گی۔ آخر ہم کب سی سی یو سے نکل کر صحت مند معیشت بنا سکیں گے۔ کیا یہ سارا کچھ اس لیے تو نہیں ہو رہا کہ ملک میں فنانشل ایمرجنسی ڈیکلئیر کرائی جائے تاکہ انتخابات کو مزید ایک دو سال کے لیے ملتوی کیا جا سکے۔ اپنے سیاسی فائدے کے لیے اس طرح کی کوئی کوشش ملک کے لیے انتہائی خوفناک ہو گی۔ پاکستان کی خراب معاشی صورتحال کا اثر عام آدمی پر بہت زیادہ پڑ رہا ہے۔ بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے اور اس کی ایک بڑی وجہ کارخانوں کی بندش ہے۔ میں نے پہلے سوزوکی اور انڈس موٹرز کے کارخانوں کی بندش کی بات کی ہے اسی طرح فارماسیوٹیکل سیکٹر پر بھی دباو¿ موجود ہے ان کی ایل سی بھی نہیں کھل رہی ان کا خام مال مہنگا ہو گیا ہے اور پروڈکشن کی لاگت زیادہ ہونے کے باعث پروڈکشن بند ہو رہی ہے۔ آلو، پیاز اور دوسری اشیائے خورونوش کی درآمد بھی بند پڑی ہے اور یہ بتایا جاتا ہے کہ پیسے نہ ہونے کی وجہ سے بہت سے جہاز بندر گاہ پر کھڑے ہیں۔
یہ صورتحال کسی بھی طور اطمینان بخش نہیں۔ تجربہ کار لوگوں نے بھی آ کر ملک کا بیڑا غرق کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی۔ حکومت کب تک عمران خان کی نالائقی کے پیچھے چھپ کر اپنے آپ کو بچائے گی۔ ملک دیوالیہ ہوا یا معاشی ایمرجنسی کی طرف بڑھا تو اس کا بوجھ اسی حکومت کو اٹھانا ہے۔

تبصرے بند ہیں.