عوام کی حالت زار اور سیاستدانوں کی بانسری

37

روم جل رہا تھا اور نیرو بانسری بجا رہا تھا کا عملی مشاہدہ کرنا ہو تو پاکستان کے سیاست دانوں کے رویے دیکھ لیجئے۔ پاکستان میں روزگار اور کاروبار کے مواقع دن بہ دن محدود اور پریشان کن ہوتے جارہے ہیں۔ روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر سنبھالے نہیں سنبھل رہی ہے۔ سیلاب کی تباہ کاریوں نے زراعت اور دیہی علاقوں کی آبادی کی جو نقصان پہنچائے ہیں ان کا ازالہ تاحال نہیںسکا ہے۔معیشت کی حالت یہ ہے کہ ایل سی جو کاروبار تجارت میں کلیدی حیثیت رکھتی ہے زرِ مبادلہ کے ذخائرکی صورتحال ایل سی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے، اور اشیا ضرورت کو تو جانے دیجئے ضروری ادویات کی درآمد متاثر ہورہی ہے۔بجلی اور پیڑولیم منصوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے مہنگائی کی شرح میں بے حد اضافہ کردیا ہے جس سے عام آدمی کی قوتِ خریدکو ختم ہو کر رہ گئی ہے۔ تازہ خبر کے مطابق آٹے جیسی بنیادی خوراک 150 روپے فی کلو کی نفسیاتی حد تک پہنچ گئی ہے۔ اسی سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مہنگائی کی نوعیت کیا ہوگی؟۔ برسبیلِ تذکرہ بتاتا چلوںکہ یہ بتایاجاتاہے کہ جواہر لعل نہرو بھارت کے وزیر اعظم بن چکے تو حلف لینے کے بعد مہاتما گاندھی کے پاس حاضری کے لیے پہنچے اور رہنمائی کی درخواست کی۔مہاتما گاندھی نے انہیں نے یہ مشورہ دیا کہ اگر وہ مقبول ترین وزیر اعظم بننا چاہتے ہیں تو ملک میں آٹا، سائیکل اور سینما کی ٹکٹ مہنگی نہ ہونے دینا۔ آٹا غریب کی بنیادی ضرورت ہے، آٹا مہنگا ہو گا تو غریب بھوکا ہوگا اور بھوکی عوام حکومت نہیں چلنے دے گی۔ سائیکل بھی غریب کی
سواری ہے، سائیکل مہنگی ہوئی تو غریب کا پہیہ رُک جائے گا اور غریب کا پہیہ رُک گیا تو حکومت کا پہیہ بھی رک جائے گا۔ سینما غریب کی تفریح ہے اور اگر سینما کا ٹکٹ مہنگا ہواتو غریب کی تفریح ختم ہوجائے گی اور وہ حکومت کے پیچھے لگ جائے گا۔جواہر لعل نہرو سے لے کر آج تک وزرائے اعظم نے یہ بات پلے سے باندھ لی اور بھارت میں آج بھی آٹا، سائیکل جس کی جگہ اب موٹر سائیکل نے لے لی ہے اور سینما کا ٹکٹ آج بھی غریب آدمی کی پہنچ میں ہے۔ مگر یہاں حال یہ ہے کہ ہماری سیاست میں سوائے عوام کی فلاح کے ہر چیز موجود ہے۔
پنجاب میں قومی مفاد کے مقدس نام پر ذاتی اور گروہی خواہشات کے اسیروں نے جو سیاسی بحران پیدا کررکھا ہے یہ اسی کے اثرات ہیں ملک کی معیشت عدم استحکام کا شکار ہے۔ یہ سامنے کی بات ہے کہ پی ڈی ایم کی حکومت میں آنے کے بعد قومی سیاست اور معیشت بحران کا شکار ہیں۔ اس صورتحال کی سب سے زیادہ ذمہ دار پاکستان تحریک انصاف ہے۔ تحریک انصاف اپنے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کو امریکی سازش قرار دیتی رہی ہے اور پاکستان میں یہ الزام سابق آرمی چیف کو دیتی آرہی ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ایک عام پارلیمانی روایت کو بیرونی سازش سے جوڑنے کے بجائے تحریک انصاف پارلیمنٹ میں موجود رہتی، حکومت پر تنقید کرتی اور اپنی کمزوریوں اور خامیوں کو دور کرنے کے ساتھ ساتھ عام انتخابات کی تیاری کرتی۔ مگر تحریک انصاف نے ابہام اور اضطراب کی سیاست کو مزید فروغ دیا ہے۔ قومی اسمبلی کے استعفوں سے لے کر پنجاب اور خیبر پختونخوا اسمبلیوں کی تحلیل تک جس طرح ہیجان اور تذبذب پیدا کیا جارہا ہے اورجس طرح بیانات اور حکمتِ عملی آئے دن بدلتی آرہی ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے گرجنے اور برسنے میں فرق بہرحال موجود ہے۔ یہ سیاسی عدم استحکام کا ہی نتیجہ ہے کہ دوست ممالک سے ملنے والے 9ارب ڈالر اسی وجہ سے تاخیر کا شکار ہیں کہ ان کی پہلی ترجیح پاکستان میں سیاسی استحکام ہے۔ چیئرمین ایکسچینج ایسوسی ایشن ملک محمد بوستان نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں بتایا کہ گزشتہ 27 برس میں 180 ارب ڈالر پاکستانی بنکوں سے غیر ملکی بنکوں اور غیر ممالک میں منتقل کیے گئے ہیں جب کہ پاکستان کے کُل قرضے 130ارب ڈالر کے ہیں۔ یعنی پاکستان کے وسائل پر قابض طبقات نے یہاں کے وسائل کو بے دردی سے لوٹا اور پاکستان اور عوام کا حق غیر ملکی بنکوں میںجاکر رکھ دیا ہے۔
صورتحال یہ ہے کہ تحریک انصاف فوری انتخابات کا مطالبہ کرتی ہے اور پی ڈی ایم وقت مقررہ پر انتخابات کرانا چاہتی ہے۔ اس وقت ملک کا بنیادی مسئلہ معیشت کی بحالی ہے۔ مگر تمام سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کے ساتھ دست و گریباں ہیں اور الزام تراشیوں کا سلسلہ غزل اور جواب غزل کے طور پر جاری ہے۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ کسی بھی سیاسی جماعت کے پاس واضح معاشی منشور اور پروگرام نہیں ہے اور اس کا کہیں امکان بھی موجود نہیں ہے کہ یہ کوئی ایسا معاشی پروگرام پیش کرسکیں جس کے ثمرات نچلی سطح تک پہنچ سکیں۔ مٹی اور نظریے سے محبت رکھنے والے عوام تو ہر قسم کی تلخی ایام کو بھی پینے پر تیار ہیں ، جیسا کہ شکیل اعظمی نے کہا تھا کہ:
زندہ رہنا ہے تو سانسوں کازیاں اور سہی
روشنی کے لیے تھوڑا سا دھواں اور سہی
صبح کی شرط پہ منظور ہیں راتیں ہم کو
پھول کھلتے ہوں تو کچھ روز خزاں اور سہی

تبصرے بند ہیں.