فائدہ عمران خان کا ،نقصان مونس الہٰی کا

20

عمران خان اپنی تقریروں میں کئی بار ذکر کرچکے ہیں کہ ان کی حکومت ہٹائے جانے کی رات وہ ایک بھاری ذمہ داری سے خود کو آزاد سمجھتے ہوئے گھر لوٹ چکے تو یونہی رواروی میں ٹی وی آن کرلیا اور دیکھا کہ پورا ملک احتجاج کرتا سڑکوں پہ نکل آیا ہے۔ یہ وہ وقت تھا جب قدرت نے عمران خان کو حقیقی معنوں میں لیڈر بنایا۔ اب آگے کا سفر عمران خان کی اپنی جد و جہد اور سیاسی حکمت عملی پر منحصر تھا۔ عمران خان جان چکا تھا کہ اس کے مدِ مقابل ملکی سیاسی پارٹیاں نہیں بلکہ قومی اور بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ ہے۔ خان ان کے مقابلے میں ڈٹ گیا۔ آج پاکستان کی سیاست کا مزاج یکسر بدل چکا ہے۔ پاکستان کی سیاسی حرکیات میں اتنی تیزی سے تبدیلی آئی ہے کہ طاقتور حلقوں کی طرف سے اختیار کی گئی ہر حکمت عملی الٹا خود ان کے گلے پڑی ہے۔ اسی فیصد عوام صرف پاکستان اور عمران خان کے ساتھ کھڑی نظر آتی ہے اور باقی آٹے میں نمک کے برابر لوگ صرف اپنے مفادات کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ایک تاریخ ساز سیاسی لیڈر بننے کا موقع عمران خان کے بعد مونس الٰہی کے حصے میں آیا جب اس نے پارلیمینٹ میں کھڑے ہو کر عمران خان کے قدم سے قدم ملا کر چلنے کا عہد کیا۔ چودھری خاندان نے پچھلے چالیس سال میں سیاست کے بہت اتار چڑھاﺅ دیکھے ہیں۔ متعدد دفعہ صوبائی و قومی وزارتوں کے علاوہ ایک کامیاب چیف منسٹرشپ اور باعزت ڈپٹی پرائم منسٹرشپ بھی حصے میں آئی لیکن نہ تو ان کی جماعت کبھی قومی جماعت بن سکی اور نہ سیاست کبھی عوامی رتبے پر فائز ہوئی۔ یہ خاندان ہمیشہ جوڑ توڑ کے پیچ و خم سے گزر کر یا پھر اسٹیبلشمنٹ کے لیے حسب ضرورت کارآمد ثابت ہوکر غیر عوامی سیاسی اثر و رسوخ کی حد تک محدود رہا۔ موجودہ بدلتے حالات میں چاہے کسی طاقتور کے کہنے پر ہی سہی تحریک انصاف کے پلڑے میں وزن ڈال کے پہلی دفعہ ق لیگ کا عوامی تاثر ابھرا جو ایک دفعہ پھر جتنی تیزی سے قائم ہوا تھا اتنی ہی تیزی سے لڑکھڑا بھی گیا۔ ایک طرف سیاسی خاندانوں میں بلاول بھٹو ، مریم نواز اور حمزہ شہباز اور دوسری طرف مونس الٰہی۔ عمران خان کے ساتھ کھڑے ہونے کے ذاتی
یا غیر ذاتی فیصلے نے مونس الٰہی کو دنوں میں بطور سیاسی لیڈر اس مقام پر پہنچا دیا جہاں بلاول بھٹو ، مریم نواز اور حمزہ شہباز سمیت خود ق لیگ کا بھی کوئی لیڈر نہیں پہنچ سکا تھا۔ پاکستان کی سیاسی شطرنج پر مہرے بھی وہی آگے پیچھے کیے جاتے ہیں جو مخالف کو شہ مات دینے کی پوزیشن میں ہوں۔ جن مہروں کی پوزیشن نہیں ہوتی وہ بعض اوقات بڑے مہروں کے لیے راستہ بنانے یا کام آجانے کے لیے استعمال ہونے کی حدتک ہی رہتے ہیں۔ چودھری پرویز الٰہی وزیراعلیٰ بن تو گئے لیکن نہ وہ اس دفعہ کی سیاسی صورتحال کو اچھی طرح سمجھ سکے نہ خوبی کے ساتھ کھیل سکے۔ اقتدار چیز ہی ایسی ہے جو آنکھوں پر پٹی باندھنے میں یدِ طولیٰ رکھتی ہے۔ ان سے پہلی غلطی یہ ہوئی کہ انہوں نے اعلان کردیا کہ ہم تو کسی کے کہنے پہ عمران خان کے ساتھ کھڑے ہوئے تھے۔ دوسری غلطی یہ ہوئی کہ بجائے اس کے کہ وہ اپنی موجودہ وزارت اعلیٰ میں تحریک انصاف کے وزراءاور ایم پی ایز کے دل جیتتے انہوں نے باقاعدہ ان کو ناراض کیا۔ معمولی سی پوسٹنگ ٹرانسفر پر ان کا اعتماد ہارتے رہے۔ یہی سیاستدان جو تحریک انصاف کے اندر بیٹھ کر ق لیگ سے الائنس پر مثبت رائے کو فروغ دے سکتے تھے یا کسی مشکل وقت میں چودھری پرویز الٰہی کے ساتھ کھڑے ہوسکتے تھے اب مل کے کہہ رہے کہ ہمیں تو پہلے ہی پتہ تھا کہ ق لیگ ہمارے ساتھ مخلص نہیں۔ اسی طرح عمران خان سے محبت کرنے والے کروڑوں عوام کے دلوں میں ق لیگ اور خصوصاً مونس الٰہی کے لیے جو احساس ِ ممنونیت پیدا ہوچکا تھا اب نہیں رہا۔ رہی سہی کسر پرویز الٰہی نے ہائی کورٹ کو اسمبلیاں تحلیل نہ کرنے کی یقین دہانی کرا کے پوری کردی۔ بعض اوقات انسان بالکل سامنے نظر آنے والے عارضی اور سرسری مفاد کے لیے بڑے ، مستقل اور حقیقی فائدے سے محروم ہوجاتا ہے۔ حالانکہ تحریک انصاف میں اب بھی عمران خان کے بعد نئی لیڈرشپ کی جگہ خالی نظر آتی ہے۔ تمام پی ٹی آئی میں ایک بھی سیاستدان ایسا نہیں جسے خان کے بعد عوام قبول کرلے گی۔ جبکہ مونس الٰہی میں بڑے لیڈر کے طور پر سامنے آنے کی تمام اوصاف موجود ہیں اور حالات بھی دن بہ دن فیور میں جا رہے تھے جو اب نہیں ہیں۔ ہوسکتا ہے مستقبل میں جوڑ توڑ کی سیاست کی سیڑھی پر چڑھ کے یا طاقتور حلقوں کی جی حضوری سے وزارتیں بھی ملتی رہیں لیکن عوام کے دلوں پر حکومت کرنے والی لیڈرشپ اب کم از کم ق لیگ کے حصے میں آنا بہت مشکل دکھائی دیتی ہے۔ مونس الٰہی نے وہ ٹرین مس کردی جو عوام کے دلوں کے ٹریک پر چل کر وزیر اعظم ہاﺅس تک جاتی ہے۔ عمران خان اور پی ٹی آئی والوں کو لگ رہا ہے کہ ق لیگ کی لیڈرشپ اگر اپنا آپ ظاہر نہ کرتی تو آگے چل کے ان کے لیے زیادہ خطرناک ہوسکتا تھا۔ مونس الٰہی نے تو خیر ٹرین مس کردی اور تحریک انصاف بھی مستقبل میں آنے والے کسی اندرونی دھچکے سے بچ گئی لیکن پاکستان اور عوام ایک نوجوان لیڈر سے محروم ہو گئے۔ 13 جماعتیں پہلے ہی ملک اور عوام کو چھوڑ کر طاقتور حلقوں کے ساتھ جا کھڑی ہوئی تھیں ایک اور بھی چلی گئی۔ عوام کا نام لے کر اقتدار کے مزے لوٹنے والے ایک طرف اور تکلیفیں سہنے ، لٹنے والے دوسری طرف۔
ممکن تھا جتنا ، حشر اٹھایا گیا ، سمجھ
جمہوریت کو کھیل بنایا گیا سمجھ
چاروں طرف سے مات لگائی گئی تری
شطرنج اس طرح سے بچھایا گیا سمجھ
اعلیٰ فریب کاری سیاست کہی گئی
مہروں کو آگے پیچھے بڑھایا گیا سمجھ
مرنے کو میں ہوں جینے کو ہیں چور چار لوگ
اور مجھ کو یہ نظام سکھایا گیا سمجھ
کیونکر چڑھائی کی گئی بلوے کی شکل میں
کیونکر مرے گھروں کو جلایا گیا سمجھ
غارت گری بھی حکمت عملی ہے آج کل
میرا دھیان مجھ سے ہٹایا گیا سمجھ
ہر روز ایک اور دھماکے کی آڑ میں
ہر روز اپنا کام چلایا گیا سمجھ
جکڑا گیا ہے قرضوں کے بے رحم جال میں
یہ کام کس سے کیسے کرایا گیا سمجھ
کب کس طرح سے کونسے مقصد کے واسطے
کس کس کو اقتدار میں لایا گیا سمجھ
جھوٹے کہانی کار معزز ہیں شہر میں
منظرتھا اور، اور دکھایا گیا سمجھ
ہے موت تیرے سر پہ کھڑی سر اٹھا کے دیکھ
اٹھ بیٹھ اور دنیا میں آیا گیا سمجھ
کوئی تو اہل حق بھی نظر آئے بولتا
فرحت تجھے اسی لیے لایا گیا سمجھ

تبصرے بند ہیں.