پاکستان میں خاندان غلاماں

19

ترقی یافتہ ممالک کی ایک ادا بھی خوب ہے۔ وہ جو چیز بھی تیار کرتے ہیں اس کے کئی ماڈل بناتے ہیں۔ مثلاً اگر کوئی کار مارکیٹ میں آئے تو اس کا یورپ اور امریکہ کے لیے ماڈل الگ ہو گا جبکہ ایشیا کے لیے ماڈل مختلف ہو گا۔ عوام پر حکمرانی کرنے کا موجودہ پسندیدہ طریقہ جمہوریت ہے۔ یہ بھی گوروں کی ہی ایجاد ہے۔ انہوں نے جمہوریت کے بھی الگ الگ ماڈل بنا کر اپنی اُس انوکھی ادا کو قائم رکھا۔ ان کے ہاں جمہوریت میں کسی ایک فرد یا مخصوص گروہ کو عوام پر نازل نہیں کیا جا سکتا۔ ان کی حکومتیں ہوں، سیاسی جماعتیں ہوں یا عوامی نمائندگی کے ادارے، سب میں اکثریت کی رائے اور مشورے کو اہمیت دی جاتی ہے۔ ترقی یافتہ ملکوں نے جمہوریت کا جو ماڈل اپنے لیے بنایا وہ غیر ترقی یافتہ ملکوں میں نہیں پہنچایا گیا۔ وہاں کاروں کی طرح ہی جمہوریت کا غیر معیاری ماڈل موجود ہے۔ جمہوریت کے اس غیر معیاری ماڈل میں اکثر اوقات بادشاہ اور مارشل لا ڈکٹیٹر بھی فِٹ ہو جاتے ہیں یا ایسی جمہوریت لائی جاتی ہے جو سراسر دھوکہ ہوتی ہے۔ یہاں عوام سے جمہوریت کا نعرہ لگوانے والے خود مزاجاً سنگین ڈکٹیٹر ہوتے ہیں۔ جمہوریت کے اس دھوکہ دہی والے ماڈل میں سب سے بڑا فراڈ یہ ہے کہ سیاسی جماعتوں اور جمہوری اداروں میں مخصوص لوگ یا مخصوص خاندان قابض ہوتے ہیں۔ جیسے بادشاہ کی اولاد بادشاہ بنتی ہے ویسے ہی جمہوریت کے اس ماڈل میں سیاسی لیڈر کی اولاد بھی ڈائریکٹ سیاسی لیڈر بنتی ہے۔ پاکستان میں لوگوں کو یہ بتایا جاتا ہے کہ جمہوریت ہی ملک کی بہترین دوست ہے مگر پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے کنٹرول رومز کو دیکھ کر اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جمہوریت کا کنٹرول عوام کے پاس ہے یا مزاجاً سیاسی ڈکٹیٹر اور خاندانی سیاسی وارثوں کے پاس ہے۔ مسلم لیگ نواز پاکستان کی دو بڑی سیاسی جماعتوں میں سے ایک ہے۔ اس کا نام رکھ کر ہی قیادت کا مسئلہ شاید سب پر واضح کر دیا گیا۔ یعنی مسلم لیگ نواز کی قیادت
صرف اور صرف نواز شریف یا ان کے خاندان کے افراد ہی کر سکتے ہیں۔ اس کے کسی کارکن یا لیڈر کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ خواب میں بھی پارٹی کی سربراہی کرنے کا سوچ سکے۔ نواز شریف اور شہباز شریف تین دہائیوں سے پارٹی کا کنٹرول روم چلا رہے ہیں۔ مستقبل کی منصوبہ بندی کر کے حمزہ شہباز اور مریم نواز کو آگے لایا گیا اور اب سلمان شہباز کو آگے لایا جا رہا ہے تاکہ پارٹی قیادت میں خاندانی برتری کو دھچکا نہ لگے۔ پاکستان پیپلز پارٹی وہ سیاسی جماعت ہے جو ملک میں جمہوریت کا فلسفہ لے کر آئی لیکن پہلے دن سے لے کر آج تک اس کے کنٹرول روم پر بھی ایک ہی خاندان کا قبضہ ہے۔ کیا بھٹو خاندان کے علاوہ پیپلز پارٹی میں کسی کے پاس اتنی عقل یا قائدانہ صلاحیتیں نہیں ہیں کہ وہ پارٹی کی سربراہی کر سکے؟ اگر بھٹو ایک نظریہ تھا تو اس نظریے کو خاندانی وراثت کیوں بنا دیا گیا؟ امریکہ کے ہر دلعزیز صدر کینیڈی کے قتل ہونے کے بعد کیا ان کا خاندان سیاسی جماعت پر قابض ہو گیا؟ کیا پیپلز پارٹی کے کسی مخلص اور باصلاحیت ورکر کو بلاول بھٹو کی جگہ پیپلز پارٹی کی قیادت کے بارے میں سوچنے کا حق نہیں ہے؟ عوامی نیشنل پارٹی میں بھی خاندانی قبضہ موجود ہے۔ سیاسی وراثت کی تقسیم پر اختلاف کے باعث ولی خان کا خاندان تقسیم ہو گیا لیکن اے این پی کا عام کارکن سربراہی کا اہل نہیں سمجھا گیا۔ مذہبی سیاسی جماعتیں بھی کسی سے کم نہیں ہیں۔ کیا کوئی سوچ سکتا ہے کہ جمعیت علمائے اسلام ف کا لیڈر مولانا فضل الرحمن یا ان کے خاندان کے علاوہ کوئی اور ہو؟ کیا جے یو آئی ف کے کارکنوں میں عالمانہ اور قائدانہ صلاحیتوں کا فقدان ہے؟ جماعت اسلامی وہ مذہبی سیاسی جماعت ہے جو جمہوریت میں قیادت کے فلسفے پر پورا اترتی ہے۔ ان کے ہاں انتخابات کے ذریعے جماعت کا سربراہ چنا جاتا ہے۔ جماعت اسلامی کے اندر شخصی قبضہ نہیں ہے لیکن اس جماعت نے عوام پر قبضے کا ایک نیا سٹائل متعارف کرا رکھا ہے یعنی جماعت اسلامی کے نزدیک پاکستانی سیاست صرف جماعت کے مذہبی نظریے کے تحت ہی ہو سکتی ہے۔ اس سیاسی مذہبی آمرانہ نظریے کے باعث ہی ووٹروں نے انہیں ہمیشہ مسترد کیا۔ اسی لیے جماعت اسلامی اب سُکڑ کر دوسری جماعتوں کی ماتحت جماعت بن کر رہ گئی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف تمام قبضہ گروپوں اور خاندانی سیاست کے خلاف آواز بن کر ابھری لیکن پی ٹی آئی کی قیادت میں بھی مکمل ڈکٹیٹرشپ کا مزاج موجود ہے۔ سب جانتے ہیں کہ عمران خان کسی کا مشورہ قبول نہیں کرتے اور ان کا کہا ہوا ہی آخری فیصلہ ہوتا ہے۔ عمران خان کی اسی ہٹ دھرمی نے پارٹی کے دانشوروں اور معزز شخصیات کو پارٹی سے علیحدہ ہونے پر مجبور کر دیا۔ عمران خان کی اولاد ابھی پیچھے ہے اس لیے فی الحال پی ٹی آئی میں عمران خان کی سیاسی خاندانی وراثت کی بات کرنا قبل از وقت ہو گا۔ تاہم پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں کے خاندان پارٹی کی مختلف سیٹوں پر موجود ہیں۔ اس لیے پی ٹی آئی بھی ڈکٹیٹرشپ کے مزاج اور خاندانی سیاست کے حمام میں ننگی ہی ہے۔ چودھری برادران کی ق لیگ، طاہر القادری کی پاکستان عوامی تحریک اور شیخ رشید کی عوامی مسلم لیگ سمیت تقریباً سب سیاسی جماعتیں بھی اسی فہرست میں شامل ہیں۔ قطب الدین ایبک نے ایک غلام کی حیثیت سے زندگی کا آغاز کیا اور اپنی قابلیت پر ہندوستان کا حکمران بنا۔ بعد ازاں اس کے خاندان کے افراد اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر تخت نشین ہوئے۔ برصغیر کی تاریخ میں اس عہد کو خاندانِ غلاماں کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں بھی خاندانِ غلاماں کی نئی شکل موجود ہے۔ ہمارے سیاسی ورکرز اور چھوٹے موٹے لیڈر بھی اپنی اپنی جماعتوں کی کنٹرولڈ خاندانی قیادتوں کے سیاسی غلام ہیں۔ اصل جمہوری سیاسی لوگ اپنی قیادت سے اختلاف نہیں کر سکتے اور نہ ہی صلاحیتیں ہونے کے باوجود پارٹی کی سربراہی کا سوچ سکتے ہیں۔ کیا ہمارے انتخابات خاندانِ غلاماں میں محض ایک اضافہ ہی ہیں؟

تبصرے بند ہیں.