تعلیم کی زبوں حالی!

8

اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے شعبہ تعلیم کو بہت سے مسائل درپیش ہیں۔اعلیٰ تعلیم کے ساتھ ساتھ پرائمری اور سیکنڈری ایجوکیشن کی صورتحال بھی اچھی نہیں ہے۔ اسکول ایجوکیشن کی حالت زار ، ہائیر ایجوکیشن سے زیادہ ابتر معلوم ہوتی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ نوجوانوں کی محدود تعداد کالج اور یونیورسٹی تک پہنچتی ہے۔ اس کے برعکس اسکول ایجوکیشن کا دائرہ کار بہت وسیع ہوتا ہے۔یہ کروڑوں بچوں کو درپیش مسئلہ ہے۔ اگرچہ دستور پاکستان کا آرٹیکل 25-A ریاست کو پابند کرتا ہے کہ پانچ سے سولہ سال تک کے بچوں کو مفت اور لازمی تعلیم فراہم کرنے کا اہتمام کیا جائے۔لیکن سات دہائیاں گزر جانے کے باوجود ریاست پاکستان اتنی استعداد کار کی حامل نہیں ہو سکی ہے کہ آئین کی اس شق پر عمل درآمد کو یقینی بنا سکے۔ مسئلے کی گہرائی کا اندازہ کیجئے کہ اسکول میں پڑھنے کی عمر کے کم وبیش تین کروڑ بچے اسکول میں داخلہ لینے سے محروم ہیں۔ ہمارے ساتھ اور بعد میں آزاد ہونے والے ممالک آگے ہی آگے بڑھتے جا رہے ہیں، جبکہ ہم آج بھی پرائمری تعلیم کا سو فیصد ہدف حاصل کرنے کیلئے ہاتھ پاوں مار رہے ہیں۔ بالکل اسی طرح ہماری جامعات بھی ترقی یافتہ ممالک کی جامعات کا مقابلہ کرنے کے قابل نہیں ہو سکی ہیں۔ یہی حال ہماری ڈگریوں کا بھی ہے۔
تعلیم کی زبوں حالی کا تذکرہ ہوتا ہے تو بہت سوں کی تان بجٹ پر آ کر ٹوٹتی ہے۔ اکثر یہ شکوہ کیا جاتا ہے کہ ہمارا تعلیمی بجٹ نہایت کم ہے۔ دلیل دی جاتی ہے کہ ا گر قومی ترقی مقصود ہے تو تعلیم کے لئے زیادہ سے زیادہ بجٹ مختص کرنا ہو گا۔ اس ضمن میں ملائشیا کے مہاتیر محمد کی مثال دی جاتی ہے۔تعلیمی بجٹ کی کمی کا معاملہ بلاشبہ نہایت اہم ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ حکومتوں کا فرض ہے کہ تعلیم کیلئے زیادہ سے زیادہ بجٹ مختص کریں۔ویسے بھی پاکستان خطے میں موجود تمام ممالک کی نسبت سب سے کم رقم تعلیم پر خرچ کرتا ہے۔ بلاشبہ بجٹ کی کمی شعبہ تعلیم کو در پیش ایک اہم مسئلہ ہے۔ لیکن یہ سب سے بڑا مسئلہ نہیں ہے۔شعبہ تعلیم کو درپیش بہت سے سنجیدہ مسائل ایسے ہیں جن کا بجٹ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ہمیں یہ حقیقت بھی تسلیم کرنی چاہیے کہ ان گنت مسائل اور محدود وسائل کے ساتھ ہماری وفاقی اور صوبائی حکومتیںتعلیم کے لئے مقدور بھر بجٹ مختص کرتی ہیں۔ میرا گمان تھا کہ اگرچہ یہ بجٹ بہت زیادہ نہیں ہوتا، لیکن اسے بہت کم بھی نہیں کہا جا سکتا۔ چند دن پہلے کچھ نہایت اہم اعداد وشمار میری نگاہ سے گزرے۔ سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے یہ اعدا و شمار بیان کئے ہیں، لہذا انہیں مستند کہا جا سکتا ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتیں تعلیم کے شعبہ کے لئے مجموعی طور پر ایک ہزار ارب روپے سالانہ مختص کرتی ہیں۔ یہ بہت بڑی رقم ہے۔ عمومی تاثر ہے کہ ہم دفاع کے لئے بھاری بھرکم بجٹ مختص کرتے ہیں۔ یقینا ااس کی وجہ ہماری دفاعی ضروریات ہیں۔ پتہ یہ چلا کہ دفاع اور قرض یا سود کی ادائیگیوں کے بعد جس شعبے کا بجٹ سب سے زہادہ ہے وہ تعلیم ہے۔ یہ ایک ہزار ارب روپے اگر ٹھوس منصوبہ بندی کے تحت خرچ کئے جائیں تو بہت سے مسائل کا حل نکل سکتا ہے۔
جیسا کہ عرض کیا ہے کہ بہت سے تعلیمی مسائل ایسے ہیں جن کا تعلق بجٹ سے نہیں ،ہماری ترجیحات اور رویے سے ہے۔ مثال کے طور پر ہمارے ہاں تعلیمی پالیسی نام کی کوئی شے موجود نہیں ہے۔ چند ایک پالیسیاں تشکیل پائیں، لیکن ان پر عملدرآمد نہیں ہو سکا۔ تمام صوبوں کی مشاورت سے ایک قابل قبول تعلیمی پالیسی وضع کرنے میں بجٹ تو مانع نہیں ہو سکتا۔ پالیسی بنانے کے لئے ضروری ہے کہ تعلیم حکومتی ترجیحات میں شامل ہو ۔ ایک مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں سرکاری سکولوں کا معیار تعلیم نہایت ناقص ہے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ بہت سے سرکاری اسکولوں کی عمارتیں بوسیدہ ہیں۔ بہت سوں میں ٹائیلٹ اور پینے کا صاف پانی میسر نہیں ہے۔یقینا یہ مسائل اپنی جگہ موجود ہیں، تاہم ان مسائل سے قطع نظر، سینکڑوں ہزاروں اسکول ایسے بھی ہیں جہاں بنیادی سہولیات میسر ہیں۔وہاں اساتذہ بھی تعینات ہوتے ہیں۔ وہ الگ بات کہ بیشتر اساتذہ ڈیوٹی پر حاضر نہیں ہوتے۔ بہت سے اسکول میں آتے ہیں مگر ڈھنگ سے پڑھانے سے گریزاں رہتے ہیں۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ ا سکولوں کی عمارتوں پر جس کا بس چلتا ہے وہ قابض ہو جاتا ہے۔ بہت سے اسکول گائے بھینسوں کے باڑے بنے رہتے ہیں۔ محکمہ تعلیم کی موجودگی کے باوجود یہ سب کچھ ہو ہاہے ۔ کیا زیادہ بجٹ مختص کرنے سے یہ مسائل حل ہو جائیں گے؟یقینا نہیں۔ان معاملات کی اصلاح احوال کے لئے بجٹ نہیں، نگرانی کا کڑا نظام درکار ہے۔
ذرا سرکاری اور نجی جامعات کا جائزہ لیں۔ اکثر ہم ناقص تحقیق کا نوحہ سنتے ہیں۔ جامعات میں تحقیق کا رجحان فروغ دینے کے لئے ہائیر ایجوکیشن کمیشن اور جامعات نے اچھا خاصا بجٹ مخصوص کر رکھا ہے۔ بھاری مشاہرے پر ٹی ٹی ایس اساتذہ ی بھرتی کرنے کا ایک اہم مقصد یہ تھا کہ معیاری تحقیق کا رجحان فروغ دیا جائے۔ بی۔پی۔ ایس اساتذہ کو تحقیق کی طرف مائل کرنے کے لئے جامعات میںe incentiv دئیے جاتے ہیں۔چند اچھی مثالوں سے قطع نظر، کیا بجٹ صرف کرنے کے بعد ہمارے ہاں معیاری تحقیق ہوئی ہے ؟ ہمارے نامور ماہرین تعلیم تواتر کے ساتھ یہ نوحہ کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ تحقیق کے نام پر جو کچھ لکھا جا رہا ہے، اسے کچھ بھی کہہ لیجیے، لیکن تحقیق کا نام مت دیجئے۔ تحقیقی مقالہ جات میںچربہ سازی کے قصے تو خیر اب عالمی پلیٹ فارمز تک پہنچ چکے ہیں۔ ہائیر ایجوکیشن کے کرتا دھرتا ٹی۔ٹی۔ایس کو بھی ناکام نظام قرار دے چکے ہیں۔ ڈگریوں کی اندھا دھند تقسیم کا بھی تعلیمی بجٹ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ تعلیم کی زبوں حالی کی وجہ ہمارے رویے ہیں۔ مندرجہ بالا معاملات کی اصلاح احوال درکار ہے تو اس کے لئے بجٹ کے بجائے مناسب حکمت عملی ، نگرانی کا کڑا نظام اور سب سے بڑھ کر خلوص نیت درکار ہے۔

تبصرے بند ہیں.