پرویز الہٰی کی ایک اور کامیابی

8

پنجاب کا تخت سنبھالنے کیلئے مرکز میں برسر اقتدار 13جماعتی اتحاد کی دوسری کوشش کو بھی ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا،ہائیکورٹ نے آئین کی روشنی میں فیصلہ سنایااور گورنر کی طرف سے جاری ڈی نوٹیفائی کرنے کے اقدام کو کالعدم قرار دیکر چودھری پرویز الٰہی کو بطور وزیراعلیٰ اور ان کی کابینہ کو بحال کر دیا،تا ہم عدالت نے اسمبلی تحلیل نہ کرنے کی انڈر ٹیکنگ بھی لے لی، جس کی ابھی تک سمجھ نہیں آ سکی ،اس دوران پنجاب میں چیف سیکرٹری اور انتظامی معاملات کے حوالے سے بھی مختلف قیاس آرائیاں چلتی رہیں،اور اسمبلیوں کو جاری رکھنے کے لئے کسی ڈیل کی سازشی تھیوری بھی سننے کو ملی۔ قبل ازیں جب عثمان بزدار کیخلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوئی تو تحریک انصاف نے وزارت اعلیٰ کا قلمدان اپنے اتحادی پرویز الٰہی کو سونپا،ان کے اراکین کی حمایت کے بغیر تحریک انصاف اپنے کسی امیدوار کو کامیاب نہیں کراسکتی تھی،اس موقع پر پی ٹی آئی کے دوست مزاری جو اس وقت ڈپٹی سپیکر تھے ، تحریک انصاف کو خیر باد کہہ کر ن لیگ سے آشنائی بڑھا رہے تھے ،انہوں نے چودھری شجاعت کے خط کی بنیاد پر پرویز الٰہی کی اکثریت کو اقلیت میں بدل کر حمزہ شہباز کو کامیاب قرار دیدیا، جس کے بعد پرویز الٰہی نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا جہاں سے ان کو ریلیف ملا اور انہوں نے وزارت اعلیٰ کا حلف اٹھا لیا،تحریک انصاف نے پنجاب اور کے پی کے اسمبلیاں تحلیل کرنے کیلئے 23دسمبر کی تاریخ طے کی،جس کے بعد ن لیگ نے پرویز الٰہی کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرائی تو ساتھ ہی گورنر پنجاب نے سپیکر کو چٹھی ارسال کی پرویز الٰہی سے اعتماد کا ووٹ لیا جائے،آئینی موشگافیوں کے باعث سپیکر نے گورنر کے خط کو غیر آئینی قرار دے کر گورنر کو جواب ارسال کیا کہ آپ کا خط آئینی تقاضے پورے نہیں کرتا،گورنر اور سپیکر کے درمیان اس ایشو پر بحث مباحثہ جاری تھا کہ گورنر نے وزیر اعلیٰ کو ڈی نوٹیفائی کر دیا،گورنر کے اس اقدام کو بھی اختیارات سے تجاوز قرار دیکر پرویز الٰہی نے ہائیکورٹ سے رجوع کیا، چیف سیکرٹری کی طرف سے وزیر اعلیٰ کو ڈی نوٹیفائی کر نے کے حکم نے بھی عجیب ماحول پیدا کیا ۔
اب شنید ہے کہ اعتماد کا ووٹ لینے کے بعد پنجاب اسمبلی تحلیل کر دی جائے گی،اس سیاسی یدھ میں پرویز الٰہی نے خود کو آزمودہ کار مضبوط اعصاب کا مالک سیاستدان ثابت کیا ، یہ بھی ایک کھلاراز ہے کہ آصف زرداری نے وزیر اعظم شہباز شریف کو پنجاب میں کسی اقدام سے روکا اور کہاکہ”دیکھو اور انتظار کرو“ کی پالیسی اپنائی جائے،اعتماد کا ووٹ پرویز الٰہی نہیں لیتے تو فیصلہ ہو جا ئے گا،مگر ن لیگ پنجاب کے رہنما 23 دسمبر کو اسمبلی کی تحلیل سے قبل ایڈونچر کا پلان بنائے بیٹھے تھے،سوال یہ کہ ن لیگ کو پنجاب کا حق اقتدار لینے کی اس قدر جلدی کیوں ہے؟اس کیلئے ہمیں دیکھنا ہو گا کہ پنجاب میں اقتدار کے بغیر مرکز میں کامیابی سے امور مملکت انجام دینا ممکن ہے یا نہیں؟اس سوال کے جواب سے قبل کہ ماضی میں کب کب ایسا ہواکہ مرکز اور پنجاب میں ایک کی بجائے دو جماعتیں اقتدار میں رہیں،اور اس کے کیا نتائج بر آمد ہوئے۔ضیاءالحق کی طیارہ حادثہ میں وفات کے بعد ملک میں ایک نئے جمہوری دور کا آغاز ہوتا ہے،1988میں ہونے والے الیکشن میں بینظیر سادہ اکثریت سے وزیر اعظم منتخب ہوئیں،ان انتخابات کے نتیجے میں مرکز میں پیپلز پارٹی اور پنجاب میں اسلامی جمہوری اتحاد نے حکومت بنائی،یہاں سے سیاسی کشمکش کے ایک نئے دور کا آغاز ہوتا ہے،اقتدار حاصل کرنے کے بعد نواز شریف کا رویہ اور حکمت عملی معاندانہ رہی،وہ خود مختاری حاصل کرنے کیلئے خاصے بے باک بھی تھے،یوں مرکز اور پنجاب میں تلخ نوائی کیساتھ محاذ آرائی بھی شروع ہو گئی،جس کے نتیجے میں سیاسی عدم استحکام آیا،نتیجے میں اسمبلیاں اور حکومت کو گھر بھجوا دیا گیا،90کے الیکشن میں نواز شریف اقتدار میں آئے مگر صدر غلام اسحٰق سے ان کے تعلقات میں کشیدگی رہی،یوں نواز شریف کو بھی گھر بھجوا دیا گیا،مگر وہ فوری عدالت پہنچ گئے،عدالت نے ان کی حکومت بحال کر دی۔
اسی دوران پنجاب میں ن لیگ کی حکومت گرا کر منظور وٹو نے عنان اقتدار سنبھال لی، وزیر اعلیٰ میاں منظور احمد وٹو کیخلاف تحریک عدم اعتماد آئی تو گورنر نے اسمبلی تحلیل کرنے کا فیصلہ کیا مگر یہ معاملہ بھی متنازع ہو گیا،نواز شریف نے پنجاب حکومت کا انتظام وفاق کے حوالے کرنے کی قرارداد منظور کرا لی،اس پر صدر کی توثیق کی ضرورت بھی محسوس نہ کی گئی،انتظامی امور چلانے کیلئے نمائندے بھی مقرر کر دئیے گئے،پنجاب میں اقتدار نہ ہونے سے نواز شریف کو مسائل کا سامنا رہا،ان کا اختیار اسلام آباد تک محدود ہو گیا،جیسے ماضی میں بینظیر کو محدود کیا گیا تھا،سیاسی محاذ آرائی کے باعث نواز شریف اپنی حکومت نہ بچاسکے،2008میں پیپلز پارٹی نے مرکز میں حکومت بنائی تو پنجاب میں ن لیگ کو حکومت سازی کا موقع ملا،شہباز شریف وزیر اعلیٰ کی کرسی پر بیٹھے،اس دوران وفاق اور صوبے میں کھینچا تانی نہ ہوئی تو مرکزی اور پنجاب حکومت نے اپنی آئینی مدت پوری کی،اس سے قبل وفاق کو پنجاب میں کسی غیر کا اقتدار گوارا ہی نہ تھا،2013میں خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف نے حکومت بنائی مگر اسے واضح اکثریت حاصل نہ تھی اسی بنیاد پر فضل الرحمٰن تحریک انصاف کی حکومت گرا کر حکومت سازی کیلئے زور دیتے رہے،مگر نواز شریف نے میثاق جمہوریت کی وجہ سے عمران خان کی حکومت کو چلنے دیا،اب پنجاب میں پرویز الٰہی کی حکومت سے مفاہمانہ رویہ اپنانے کا مرکز نے سوچا ہی نہیں،جبکہ عمران خان پنجاب کیساتھ کے پی کے،گلگت بلتستان اور کشمیر میں بھی حکمران ہیں،پنجاب میں ن لیگ کو اکثریت حاصل نہیں مگر وہ کمزور سیاسی جماعت بھی نہیں ہے،لیکن ضمنی الیکشن کے نتائج نے ن لیگ کی بالا دستی خطرے میں ڈال دیاہے،وفاق اور پنجاب میں میثاق جمہوریت کے تحت مفاہمت کا تو کوئی امکان نہیں خاص طور پر پرویز الٰہی کو اقتدار سے ہٹانے کی دو ناکام کوششوں کے بعد تو اس کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، چودھری شجاعت بھی اس حوالے سے کامیاب دکھائی نہیں دیئے،لیکن اگر صورتحال یہی رہی تو ملک میں حالات اچھے نظر نہیں آ رہے ، تاہم ملک کی معاشی صورتحال اب کسی محاذ آرائی کی اجازت نہیں دیتی ،یہ بات شہباز شریف کی سمجھ میں نہیں آرہی۔
چودھری پرویز الٰہی کے بارےض میں عام تاثر یہ ہے کہ وہ انتظامی مشینری کو استعمال کرنے کا ہنر جانتے ہیں،اگر محاذ آرائی کی کیفیت ہوئی تو وہ پنجاب میں بیٹھ کر مخالفین کو ناکوں چنے چبواسکتے ہیں،آصف زرداری نے بہت کوشش کی کہ نواز شریف اور چودھری برادران میں تناؤ کا خاتمہ ہو جائے اس کیلئے پرویز الٰہی کو وزارت اعلیٰ کی پیشکش بھی کی گئی مگر پرویز الٰہی آج بھی اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں،دیکھنے والوں نے دیکھ لیا کہاب عمران خان نے بھی ان کے ساتھ آئندہ اتحاد کا اعلان کر دیا ہے،آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔

تبصرے بند ہیں.