وہ قوم کہ فیضانِ سماوی سے ہو محروم!

24

ہم شاندار تاریخی ورثے کے حامل ہیں۔ 1400 سال قبل وہ دور جب روحانی اعتبار سے دنیا خالق تک رسائی سے محروم، ناآشنا تھی۔ اتنی ہی پیاسی، دیوانی، مخبوط الحواس تھی تقریباً جتنی آج کی دنیا۔ صرف اتنا فرق تھا کہ وہ سونا چاندی ریشم مال ودولت تو رکھتی تھی (ایران روم کی سپر پاورز) مگر ہائی ٹیک چکا چوند نہ تھی۔ آج: یورپ میں بہت روشنیئ علم وہنر ہے، حق یہ ہے کہ بے چشمہئ حیواں ہے یہ ظلمات! (زندگی سے محروم)
یہی وہ غم تھا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بے قراری میں غار حرا لے کر جاتا۔ تنہائی میں غور وفکر وتدبر، معاشرے میں پھیلی آلائشوں شرکیہ عقائد، برہنگی، ظلم قتل وغارت گری سے کٹ کر تلاشِ حق۔ اللہ کی چنیدہ پاکیزہ روح، مصطفی مجتبیٰ، فساق وفجار، مشرکین سے الگ تھلگ رات کی خاموشی تنہائی میں جستجوئے حق! بصیرتِ نور قلبی سے منور الصادق الامین ہستی اب نور نبوت وصول کرنے کو تیار تھی۔ ساری دنیا کی تاریکیاں چھٹنے کا سامان ہوگیا سوائے ان کے جو خود ہی آنکھیں موندے رکھنے پر بضد ہو۔ آفتابِ ہدایت، سراج منیر، اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا، اوراک نسخہئ کیمیا ساتھ لایا۔ آج علوم کی چکاچوند سے چندھیائی دنیا سے لے کر قیامت تک کے لیے۔ خالق نے پکار کر کہا: اقرأ باسم ربک الذی خلق۔ علم کی دنیا کے دروازے وا ہونے کو ہیں۔ افتتاح محمد صلی اللہ علیہ وسلم کریں گے۔ ’پڑھو (اے نبیؐ) اپنے رب کے نام کے ساتھ جس نے پیدا کیا‘۔ (العلق۔ 1) یہ پہلی آیت، پوری تعلیم/ علوم کا قبلہ درست کرتی ہے۔ یہ دنیا تمہارے ہی لیے تخلیق کی گئی ہے۔ خالق کو جان کر پہچان کر مان کر دائرہئ تعلیم میں قدم رکھو۔ (تم بندر سے ارتقا کے نتیجے میں نہیں بنے۔ بلکہ) تمہیں جمے ہوئے خون کے ایک لوتھڑے سے اسی خالق نے پیدا کیا ہے جو اب قرآن، وحیئ الٰہی کے ذریعے تم سے مخاطب ہے۔ پڑھو! (تمہیں علم حاصل کرنے
سے کوئی منع نہیں کر رہا مگر روشنی (نور نبوت) میں پڑھو۔ جہالت کی تاریکی میں ٹامک ٹوئیاں مت مارو سائنس کے نام پر۔) ’پڑھو، اور تمہارا رب بڑا کریم ہے جس نے قلم کے ذریعے علم سکھایا، انسان کو وہ علم دیا جسے وہ نہ جانتا تھا۔‘ (العلق 1-5)
یہ ہے پہلا خطاب پوری انسانیت سے، قیامت تک کے لیے۔ ازل تاابد کی پوری انسانی تاریخ، کائنات کی حقیقت، اس کا آغاز، آنے والے مراحل، وہ علوم بھی جو دنیا برتنے میں سامنے آنے کو تھے اور وہ علوم (غیبی) بھی جن کے ادراک کا وقت ابھی نہیں آیا مگر انسان کو لازماً انہیں دیکھ کر رہنا ہے۔ ’تم دوزخ دیکھ کر رہو گے، پھر (سن لو کہ) تم بالکل یقین کے ساتھ اسے دیکھ لوگے۔ پھر اس روز تم سے ان نعمتوں کے بارے میں جواب طلبی کی جائے گی۔‘ (التکاثر۔ 6-8) ان حقائق کا مشاہدہ بچشم سر الصادق الامین نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کرا بھی دیا، شاہد، مبشر، نذیر نبیؐ نے پوری انسانیت پر اتمام حجت کردیا۔ پردہئ غیب سے، جبرئیل امین اللہ کے ہاں سے براہ راست وحی لے کر 23 سال مسلسل پورا نظامِ زندگی، قیامت تک کے لیے لے کر آتے رہے۔ صحابہؓ کی ایک مجلس میں شریک ہوکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سوالاً جواباً انہیں تعلیم بھی دی۔ نبی کریمؐ نے جبرئیل امین کو دن کی روشنی میں بیداری میں کھلی آنکھوں سے دیکھا۔ یہ پختہ حقیقت تھی جس پر اللہ نے جہالت برتنے والوں سے کہا: اب کیا تم اس چیز پر اس سے جھگڑتے ہو جسے وہ کھلی آنکھوں سے دیکھتا ہے؟ (النجم۔ 12) آج ہم اس مقام پر پہنچ چکے ہیں جہاں ڈنکے کی چوٹ یہ حق دنیا کے سامنے رکھنا ہر مسلمان پر فرض عین ہے۔ (اٰل عمران۔ 110، البقرہ۔ 143)۔ مغرب میں اخلاق وکردار، معیشت وسیاست، تعلیم، ہر دائرہ (قوم فرعون کے عذابوں کی مانند) سرسریوں، جوؤں مینڈکوں سے بھرا، اندر سے کھوکھلا ہوچکا۔ اب ان کے نصاب تعلیم بدلنے کی ضرورت ہے۔ خرد کی تنگ دامانی سے فریاد! قطر ورلڈ کپ کا (ادھورا) اسلام بھی ان کی اخلاقی مفلسی کو آئینہ دکھاتا رہا!
کمال ہے کہ تم اس سائنس دان، ڈاکٹر پر تو ایمان لے آؤ جو اگرچہ ذاتی زندگی میں شرابی، بدکردار ہے۔ مگر جب وہ الیکٹرون مائیکرو سکوپ سے دیکھ کر دنیا کے تقریباً 98 فیصد انسانوں کی نگاہوں سے اوجھل کورونا کی تفاصیل بتاتا ہے تو تم ایمان لے آتے ہو اور حرف حرف اس کے احکام کا اتباع کرتے ہو۔ ہاتھ دھو دھوکر اپنی کھال پتلی کر لیتے ہو! جس ’نقاب‘ پر جرمانے عائد کر رہے تھے پھر تمہارے مرد بھی ’ماسک‘ کے عنوان سے گھر کے اندر بھی محجوب ہو جاتے رہے! یہی ڈاکٹر تمہارے خون، تھوک، بول وبراز کا معائنہ کرکے رپورٹ تمہیں تھماتے ہیں، دونوں ہاتھوں سے پیسہ ڈاکٹروں اور لیبارٹریوں پر لٹاتے ہو۔ (زکوٰۃ نہ دینے والے بھی) وہ جو چاہیں تم پر حرام کر دیں (چینی، نمک)، شب وروز بدل دیں؟ واک پر جت جاؤگے، مسجد نہ جانے والے بھی!) تو اس فانی مٹی کے جسم (جسے سپرد خاک ہو جانا ہے) کی اتنی نازبرداری کرنے والا، اس ڈبے کے اندر موجود، وجود ِاصلی یعنی روح، جو اللہ سے ہے، اللہ کی ہے اور اسی کی طرف (حاضری کے لیے، انجام دیکھنے کے لیے) لوٹ جانی ہے، اسی سے غافل ہو؟ یہی روح ہمارے باپ آدم علیہ السلام کے خاکی بدن میں پھونکی گئی تھی: فرشتوں سے اللہ نے کہا…… ’اس میں اپنی روح سے کچھ پھونک دوں تو تم سب اس کے آگے سجدے میں گر جانا۔‘ (الحجر۔ 29) یہی ہمارے وجود (ہر انسان) کا وہ بیش قیمت جوہر ہے جسے اقبال ’خودی‘ کہتا ہے۔ خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے، خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے! یہ کامل واکمل ’خودی‘ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے۔ جن سے پوچھا گیا، فقیر نبی بنو گے یا بادشاہ نبی؟ آپؐ نے فقر اختیار کیا! اور پھر وقت رخصت آپؐ نے رفیق اعلیٰ کی طرف لوٹنے کا انتخاب کیا: ترک عالم اختیار کوئے دوست۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے مطابق: ’پیغمبر کی روح اس وقت تک قبض نہیں کی جاتی جب تک کہ اسے اختیار نہ دے دیا جائے کہ دنیا وآخرت میں سے جسے چاہے اختیار کرے۔‘ بتا تیری رضا کیا ہے! یہ ہے ہمارا ورثہ۔ پھر براہ راست 23 سال اللہ نگرانی، رہنمائی میں گھر، گھرہستی سے لے کر پوری انسانی زندگی، صلح وجنگ بین الاقوامی تعلقات تک جامع نظام عطا کیا۔ جو دنیا میں سقوطِ خلافت عثمانیہ تک رواں رہا۔ افغانستان کے روس سے جنگ زدہ معاشرے کو ملاعمر کے دور میں دوبارہ امن کا گہوارہ بناکر امریکی نیٹو حملے کے بعد یہ امارت اعتکاف میں چلی گئی۔ بلاجنگی ساز وسامان، دنیا میں یکا وتنہا ساری ایٹمی قوتوں کا مقابلہ کرکے 20 سال میں سارے مغربی لشکر غزوہئ احزاب کی مانند منہ کی کھاکر تتربتر ہوگئے۔ کورونا حملہ، موسمی تھپیڑے، یوکرین تنازع، پورا مغرب ’رولر کوسٹر‘ پر بیٹھا دھچکے کھا رہا ہے۔ یہی کافی نہ تھا، قطر ورلڈ کپ میں بھی نفسیاتی جھٹکے لگے۔ مسلمانوں، عربوں کو دنیا کے سامنے گنوار اجڈ دہشت گرد ثابت کر دکھانے والوں کے ہاتھ سے بازی نکل گئی۔ ان کے میڈیا نے دنیا کو ڈرا رکھا تھا کہ یہ ورلڈ کپ سنبھال نہ پائیں گے، نجانے کیا تباہی آئے گی بدنظمی اور نجانے کیا کچھ۔ ان کے توقعات کے برعکس (رنگین خرافات سے ہٹ کر) اسلام کے خوبصورت تعارف اور اسلامی تہذیب کی برتری، مغرب کی ابتری تقابل میں سامنے آتی رہی! یورپ صرف میچ نہیں ہارتا رہا، فلسطین سے یکجہتی کے جھنڈے بھی اس کا منہ چڑاتے رہے۔ (شاتمِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرانس کا منہ لٹکائے ہار کر ورلڈ کپ سے نکلنا نیک شگون ہے!) ایک حیران کن مہر ان کی اسفل تہذیب پر ثبت ہوئی۔ مہذب ترین ہونے کا پھریرا لہراتے مغربی، مسلم شاور کے ہاتھوں اضحوکہ بن کر رہ گئے۔ ان کے منہ پھٹ شہریوں نے پورے مغرب کو شرمسار کرکے رکھ دیا۔ منہ دکھانے کے قابل نہ چھوڑا۔ بات صرف اتنی سی نہ تھی کہ کورونا نے موت کی تلوار سر پر لٹکاکر انہیں ہاتھ دھونا سکھائے۔ (مسلمان 5 وقت وضو کے علاوہ، کھانے سے پہلے کھانے کے بعد، سو کر اٹھنے پر، بستر پر جانے سے قبل ہاتھ دھوتا ہے!) اب دنیا کے چوراہے میں ان کے شطونگڑوں نے مسلم شاور اور طہارت دریافت کی۔ نیٹ کی دنیا بھر دی کہ ہائے! ہم مغربیوں نے دھوئے دھلائے بغیر نری کاغذی (ٹشو پیپر) صفائی پر زندگی بِتا دی۔ (اور پھر ہاتھ بھی نہ دھوتے تھے! پناہ بخدا!) مسلم شاور کے ساتھ ناچتے گاتے رہے۔ اس کی دریافت پالیا۔ پا لیا (آر شمیدس والا) کیفیت چھا گئی گوروں پر۔ کہنے لگے: ’میں بدحواس اور سراسمیہ ہوں کہ ہم برطانوی، یورپی صرف کاغذ استعمال کرتے ہیں؟ یہ بہترین چیز ہے جناب!‘ …… ’لندن واپس جاکر خریدوں گا! میرا رؤاں رؤاں شکر گزار ہے۔ انسانیت کے لیے آج تک اس سے زیادہ شاندار ایجاد نہ ہوئی تھی۔‘ …… مسلمانوں نے بھی جی بھر کر گوروں پر تبصرے کیے۔ ’تہذیب یافتہ بننے پر خوش آمدید!‘۔ ’تاریخ کا نتیجہ خیز ترین ورلڈ کپ جس نے مغربی دنیا کو مسلم شاور استعمال کرنا سکھا دیا!‘ ’یورپ تاریک دور سے نکل آیا!‘ ’ایک ورلڈ کپ درکار تھا گورے کو طہارت سکھانے کو!‘ (یعنی 12 لاکھ لوگوں کا اکٹھ، اربوں ڈالر خرچ!) دنیا اب دعوتِ حق وصول کرنے کو تیار ہے۔ قطر میں طہارت سیکھ لی۔ ہاتھ دھونے پہلے سیکھے تھے۔ اذان، مسجد، مہذب لباس نماز باجماعت کا حسن، نظم وضبط، قرآن کا سحر! دل کی چٹانوں پر ضرب لگی ہے۔ آج کا مسلمان معذرت خواہی چھوڑکر پہلے خود اسلام میں پورا داخل ہو فخر کرنا سیکھے۔ دعوت کا عَلم اٹھاکر اپنا مقصدِ وجود پورا کرے!
وہ قوم کہ فیضانِ سماوی سے ہو محروم
حد اس کے کمالات کی ہے برق و بخارات

تبصرے بند ہیں.