معیشت و سیاست، تاثر اور حقیقت کے درمیان

4

تاثر اور حقیقت دو الگ الگ چیزیں مانی جاتی ہیں لیکن کبھی کبھی یہ آپس میں اس طرح گھل مل جاتی ہیں، گڈمڈ ہو جاتی تھیں کہ سب کچھ الٹ پلٹ جاتا ہے، خلط ملط ہو جاتا ہے اور تاثر حقیقت نظر آنے لگتا ہے اس طرح تاثر اور حقیقت ایک ہی سکے کے دو رخ بن جاتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ پاکستان کے معاشی حالات نازک ہی نہیں بلکہ بہت زیادہ نازک ہو چکے ہیں۔ درآمدات کی ادائیگیوں کے لئے ڈالر کی مطلوبہ مقدار دستیاب نہیں ہے ہمیں اپنی ضروری اشیا کی درآمد کے لئے درکار زرمبادلہ کافی نہیں ہے مرکزی بینک نے درآمد کنندگان کے لیٹر آف کریڈٹ کھولنے سے ہاتھ کھینچ لیا ہے تاجر پریشان نظر آ رہے ہیں اب تو صورت حال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ خال مال کی عدم دستیابی کے باعث بہت سی اشیا کی قیمتیں بھی بڑھ رہی ہیں اور کچھ اشیا ضروریہ کی سپلائی میں خلل پڑنا شروع ہو گیا ہے کئی ادویات مارکیٹ سے غائب ہونا شروع ہو گئی ہیں۔ درآمدات کے لئے زرمبادلہ کی عدم دستیابی کے باعث آٹو مینو فیکچرنگ سیکٹر بحران کا شکار ہو چکا ہے آٹو انڈسٹری کے سب سے بڑے کھلاڑی انڈس موٹرز نے تو اپنا پلانٹ بند کرنے کا باضابطہ اعلان بھی کر دیا ہے، دیگر کئی چھوٹی بڑی صنعتیں پہلے ہی بندش کا شکار ہو چکی ہیں۔ کووڈ 19 ہماری معیشت پر پہلے ہی کاری ضرب لگاچکا ہے۔ گزرے سال موسمیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں بارشیں سیلاب لا چکی ہیں، کروڑوں انسان اس کا شکار ہو چکے ہیں، اربوں نہیں کھربوں روپے کی املاک تباہ ہو چکی ہیں۔ اوپر تلے تباہی و بربادی نے قومی معیشت کو فی الحقیقت تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے گزشتہ مالی سال کے دوران معاشی نمو کی شرح 6 فیصد تھی جبکہ اس سال شاید 3 فیصد تک رہے گی۔ ٹیکس وصولیوں کے ٹارگٹ پورے نہیں ہو رہے ہیں اس لئے نئے ٹیکس لگانے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ آئی ایم ایف کی شرائط پر عمل درآمد ہماری معیشت کے لئے سوہانِ روح بن چکا ہے 10 لاکھ پرچون فروشوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی بھی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ ایک طرف گھٹتی معاشی شرح نمو ہے، سکڑتی معیشت ہے دوسری طرف ٹیکس بڑھایا جا رہا ہے، ٹیکسوں کا جال پھیلایا جا رہا ہے، عام شہری کو نچوڑنے اور نچوڑتے ہی چلے جانے کی پالیسی تباہ کن ثابت ہو رہی ہے۔ ٹیکس کسی پر لگایا جائے، اسے کچھ بھی نام دیا جائے بالآخر اس کا بوجھ صارف/ خریدار پر ہی پڑتا ہے جو ایک عام، غریب اور لٹا پٹا شہری ہوتا ہے حالات دو وقت کی روٹی سے آگے بڑھ چکے ہیں اب تو ایک وقت کی روٹی کے لالے پڑ چکے ہیں قدر زر میں گراوٹ اور ذرائع آمدن کی کمیابی نے عام شہری تو عام ہے درمیانے طبقے کے لئے بھی حالات پریشان کن بنا دیئے ہیں۔
ہم قرضوں کی ادائیگی کے لئے بھی قرضے لینے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ معاشی نمو گر چکی ہے، معیشت کا حجم سکڑ رہا ہے، بیرون ملک ترسیلات زر گھٹ رہی ہیں، برآمدی آمدن بھی کم ہو رہی ہیں۔ فارن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ گرتی چلی جا رہی ہے گویا معیشت کے حوالے سے پایا جانے والا منفی تاثر، حقیقت بن چکا ہے پہلے اپوزیشن معیشت کی بدحالی کا ذکر کرتی تھی اب حکمرانوں نے بھی معاشی بدحالی کا ذکر کرنا شروع کر دیا ہے۔ عمران خان حکومت کی نالائقیاں اور نااہلیاں اپنی طرح درست ہی سہی لیکن گزرے 8/9 مہینوں کے درمیان شہباز شریف حکومت بھی کچھ کر کے نہیں دکھا پا رہی ہے کہا جا رہا ہے کہ معیشت کو دیوالیہ ہونے سے بچا لیا ہے اور گراوٹ میں رکاوٹ پیدا کر دی گئی ہے۔ یہ بات کسی حد تک درست ہے کہ عمران خان کے 4 سالہ دور حکمرانی میں معاشی معاملات ہی نہیں دیگر سیاسی و انتظامی معاملات بھی دگرگوں ہوتے چلے گئے تھے پی ڈی ایم کی حکومت نے اپریل 2022 میں اقتدار سنبھال کر معیشت کو تباہ ہونے سے بچانے کی شعوری و منظم کاوشیں کی ہیں اور ہنوز ایسی کاوشیں جاری ہیں لیکن گراوٹ کی نوعیت اور حجم اس قدر زیادہ ہے کہ بہتری کے آثار ظاہر نہیں ہو پا رہے ہیں۔ اسحاق ڈار کا جادو نجانے کہاں چل رہا ہے عامتہ الناس کی جو امیدیں اسحاق ڈار کی آمد سے وابستہ تھیں وہ مایوسی کا شکار نظر آ رہے ہیں۔
دوسری طرف ہمارے سیاسی معاملات بھی بحرانی کیفیت کا شکار ہیں۔ سیاست اور سیاستدانوں کے بارے میں تاثر بنایا جاتا رہا ہے کہ وہ نااہل اور نالائق ہیں۔ سیاستدان، قومی مفادات کے بجائے ذاتی مفادات کے لئے کام کرتے ہیں، ذاتی، گروہی، لسانی، قومی مفادات کو پروان چڑھاتے ہیں ملکی و قومی مفادات کو پس پشت ڈالتے ہیں جس کی وجہ سے ہماری سیاست، ملک و قوم کو پروان نہیں چڑھا پاتی ہے اس تاثر کو پروان چڑھانے میں ہماری سول اور یونیفارم بیوروکریسی نے خوب کردار ادا کیا۔ ہماری اسٹیبلشمنٹ بذات خود ایک طاقتور سیاسی کھلاڑی بن چکی ہے۔ سیاست میں سول بیوروکریسی قیام پاکستان کے روزاول سے ہی دخیل ہو گئی تھی ملک غلام محمد اور سکندر مرزا جیسے بیوروکریٹوں کی سیاست میں دخل اندازی نے سیاسی جماعتوں کو منظم ہونے اور قومی سیاست میں کردار ادا کرنے سے باز رکھا۔ 1958 میں جنرل ایوب کے مارشل لا کے بعد یہ کردار فوج نے اپنا لیا اور پھر آج تک فوج ایمپائر بھی ہے اور کھلاڑی بھی۔ فوج کا کردار سیاست میں حرفِ آخر سمجھا جاتا ہے۔ پہلے یہ تاثر تھا کہ فوج کے بغیر کچھ بھی نہیں ہو سکتا ہے گزرے 4/5 سال کے سیاسی عدم استحکام بارے انکشافات نے اس تاثر کو حقیقت بنا دیا ہے کہ سیاست کو بنانے اور بگاڑنے میں فوج ہی حتمی کردار ادا کرتی رہی ہے۔ فوج کے بارے میں پایا جانے والا تاثر حقیقت بن کر ہمارے سامنے آ چکا ہے۔ دوسری طرف جاری سیاسی حالات بالخصوص گزرے 8 ماہ کے دوران عمران خان اور اپوزیشن کی سیاست نے ملک کی معیشت کو جس مقام پر لا کھڑا کیا ہے اس سے سیاستدانوں کے بارے میں پائے جانے والے تاثر کو تقویت مل رہی ہے کہ وہ نالائق ہیں، ذاتی مفادات کے لئے کام کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ سیاست جس طرح ہماری قومی معیشت پر اثرانداز ہو رہی ہے اور سیاستدان جس طرح ہوس اقتدار کا مظاہرہ کر رہے ہیں اس سے ان کے بارے میں پائے جانے والے منفی تاثر کو تقویت مل رہی ہے اور ایسے لگ رہا ہے کہ تاثر دراصل حقیقت ہے۔ معیشت بارے پائے جانے والا تاثر بھی حقیقت بن رہا ہے اور سیاست و سیاستدانوں کے بارے میں پایا جانے والا تاثر بھی حقیقت بن چکا ہے ایسے میں جب معیشت اور سیاست کے بارے میں پائے جانے والا تاثر حقیقت کا روپ دھار چکا ہے تو پھر معاملات کو تباہی و بربادی سے بچانا، ناممکن ہو گا۔ باقی اللہ خیر کرے گا۔

تبصرے بند ہیں.