19

ظلم کی صبح شام بدلو چہرے نہیں نظام بدلو آج میرا قلم جس موضوع پر اپنے جذبات و احساسات اور فکر مندی کو ظاہر کر رہا ہے وہ موضوع موجودہ وقت کی اہم ضرورت ہے ملکی تاریخ میں ہمیشہ سے یہی ہوتا چلا آ رہا ہے کہ چہرے بدلتے رہے لیکن نظام کو بدلنے کی جانب کسی نے توجہ نہ دی جس کا خمیازہ ہماری عوام برداشت کرتی چلی آ رہی ہے ہم نے مختصر مدت یعنی دو دو سال بھی چہرے بدل کر دیکھ لیا لیکن وطن عزیز کی حالت بد سے بدتر ہی رہی۔کیونکہ یہ حقیقت ہے کہ چہرے بدلنے سے تبدیلی نہیں آتی، حالات نہیں بدلتے عوام کی حالت میں بہتری نہیں لائی جا سکتی بلکہ ایک رات کے بعد دوسری رات آ جاتی ہے اندھیرے اسی طرح برقرار رہتے ہیں۔ جو بھی آیا اس نے اپنے آپ کو پچھلے سے پارسا اور نیک کہہ کر غریب عوام اور ملک کو لوٹتا رہا۔عوام کا استحصال کیا گیا انہیں بنا علاج ہی موت کی نیند سلایا جانے لگا تعلیم سے دور رکھا گیا۔ ہر نئے دن انہیں ایک نئی مہنگائی کے عذاب سے دوچار کیا گیا اپنی عوام کا استحصال اور ملک کو لوٹ کر ہمارے ان حکمرانوں نے ملک میں اور بیرون ملک اربوں کی جائیدادیں بنائیں۔ آج انہی چہروں کی وجہ سے ہمارا یہ حال ہے کہ جینا اور ایک وقت کی روٹی کو بھی مشکل بنا دیا گیا ہے۔حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی اور وہ مخملی بستر پر خواب خرگوش کے مزے لے رہے ہیں۔ وطن عزیز میں یہ کیسا نظام چل رہا ہے اب اس نظام سے چھٹکارا پانے کا وقت آ پہنچا ہے۔ ہر حکمران اقتدار میں آنے سے قبل کہتا ہے کہ ہم نظام کو بدلیں گے اداروں میں اصلاحات لائیں گے۔ انصاف کا بول بالا کریں گے قوانین میں بہتری لائیں گے۔ ہم پچھتر سال سے ہنگاموں اور احتجاج میں مصروف ہیں چناں چہ آپ ملک کی حالت دیکھ لیجیے۔ دنیا میں پولیس کا کام لاء اینڈ آرڈر ہوتا ہے۔ہم نے پچھترسال سے پولیس کو احتجاج روکنے اور ہنگامے کنٹرول کرنے پر لگا رکھا ہے چناں چہ ملک میں لاء اور آرڈر دونوں فوت ہو چکے ہیں۔عدالتوں کا کام مظلوموں کو انصاف دینا ہوتا ہے لیکن ہماری عدالتیں پچھتر سال سے سیاسی مقدمات بھگتا رہی ہیں لہٰذا انصاف بھی کورٹس اور کچہریوں میں دفن ہو چکا ہے۔ بیوروکریسی کا کام ملک چلانا ہوتا ہے مگر ہماری بیوروکریسی پچھتر سال سے حکومتوں کو بچانے میں مصروف ہے۔فوج کا کام ملک کی حفاظت ہوتا ہے لیکن یہ یہاں پچھتر سال سے حکومتیں بنانے اور بھگانے میں مصروف ہے چناں چہ آج حالت دیکھ لیں۔عمران خان جلسوں میں اداروں اور ان کے سربراہوں کے خلاف سخت زبان استعمال کر رہا ہے لیکن کوئی اس کو روک نہیں پا رہا۔ سیاسی جماعتوں کا کام ملک کی قیادت ہوتا ہے لیکن ہم پچھتر برسوں سے انھیں جیل اور وزیراعظم ہاؤس کے درمیان گھسیٹ رہے ہیں۔ملک میں آج تک ایک بھی ایسی حکومت نہیں آئی جسے یہ یقین ہو ہم کل بھی حکومت میں ہوں گے۔ بزنس کمیونٹی کا کام معاشرے میں روزگار پیدا کرنا اور دولت کی سرکولیشن بناناہوتا ہے۔ لیکن ہم نے اسے سرکاری دفتروں کی دہلیز پر قربان کر دیا۔ یہ لوگ فیکٹریوں اور منڈیوں میں کام کرنے کی بجائے پوری زندگی سرکاری دفتروں کے طواف میں گزار دیتے ہیں۔ لہٰذا ملک آپ کے سامنے ہے‘ کیا اس صورت حال میں کسی دوسرے ملک کو ہم پر حملہ کرنے کی ضرورت ہے؟۔
ملک کی اصل حالت کیا ہے؟ ہماری حالت یہ ہے ہم آج تک ایکسٹینشن اور نئے آرمی چیف کی تعیناتی کا سسٹم بھی نہیں بنا سکے۔ ملک میں اگر آج چیف جسٹس آف پاکستان یہ اعلان کر دیں ”میں ریٹائر نہیں ہو رہا“ تو ہمارے پاس انھیں اتارنے کا کوئی طریقہ کار موجود نہیں۔لہٰذا دل پر ہاتھ رکھ کر جواب دیجیے‘ کیا یہ ملک اس طرح چل سکے گا اوراگر یہ چل سکے گا تو کب تک؟ آج ایک بار پھر ملک میں صدارتی نظام کی ضرورت پر بات چیت ہونی چاہیئے۔ دنیا کے سوملکوں میں اس وقت صدارتی نظام چل رہا ہے اور یہ ملک باقاعدہ ترقی کر رہے ہیں۔ امریکہ، روس، چین، جرمنی، فرانس، ترکی سمیت دنیا کی بڑی سپر پاورز نے اسی نظام کے تحت ترقی کی ہے۔ لہٰذا ہمیں بھی اس طرف جانا چاہیے۔ یوں تو میرا یقین ہے کہ نظام خراب نہیں ہوتے۔ نظام کے چوکی دار خراب ہوتے ہیں۔ ہمارا ایشو اگر سسٹم ہوتا تو ہم پچاس سال پہلے ترقی کر چکے ہوتے کیوں کہ ہم دنیا کی واحد قوم ہیں جس نے پچھتر برسوں میں سارے سسٹم آزما کر دیکھ لیے ہیں۔ ہمارے ملک میں گورنر جنرل بھی رہے۔ہم نے صدارتی نظام بھی ٹیسٹ کر لیا۔ ہم نے و ن یونٹ بھی بھگتا لیا۔ ہم نے بنیادی جمہوریت کا ذائقہ بھی چکھ لیا۔ ہم نے سول مارشل لاء بھی لگا لیا۔ ہم نے اسلامی سوشلزم بھی چیک کر لیا۔ ہم نے شوریٰ نظام بھی دیکھ لیا۔ ہم نے چار مارشل لاء بھی بھگتا لیے۔ہم نے چیف ایگزیکٹو کے ذریعے ملک چلانے کا تجربہ بھی کر لیا۔ ہم نے چار ایسے صدور بھی دیکھ لیے جو صدر بھی تھے اور آرمی چیف بھی۔ ہم نے تین ریفرنڈم بھی کرا لیے اور ہم نے پارلیمانی نظام بھی چیک کر لیا۔ماشاء اللہ ہم پچھتر برسوں میں سارے نظام ٹیسٹ کر چکے ہیں۔ اب ریاست مدینہ کے بعد بادشاہت ٹیسٹ کرنا باقی ہے۔میرا سوال یہ ہے کہ یہ سارے سسٹم پاکستان میں فیل ہو گئے، کیوں؟ کیوں کہ غلطیاں نظاموں میں نہیں تھیں ہم میں تھیں۔انسان اگر کام نہ کرنا چاہے تو فرشتوں کا سسٹم بھی فیل ہو جاتا ہے۔ ہم اگر کچھ کرنا چاہیں تو دنیا کے ناکام ترین نظام سے بھی پھول اور پھل نکلنے لگتے ہیں۔ لیکن ہم اپنے اوپر توجہ دینے کی بجائے نظاموں کے پیچھے دوڑ رہے ہیں۔ ہمیں بحر حال کسی نہ کسی نظام کے ساتھ جانے کی ضرورت ہے۔ میری رائے میں صدارتی نظام سب سے بہتر ہے۔ ملک کا سربراہ پورے ملک کے ووٹوں سے سربراہ بنے تاکہ اسے کوئی ایم این اے بلیک میل نہ کر سکے۔ اس کے لئے ریفرنڈم کرا کر پورے ملک سے بھی رائے لی جا سکتی ہے۔ اس کے لئے دیگر تمام سیاسی جماعتوں، عدلیہ اور اداروں کو مل کر سوچنا ہو گا۔ پارلیمانی طرز نظام میں ذات برادری، لسانی اور مذہبی گروہیت کے ووٹ سے بننے والے ایم این اے اور ایم پی اے پورے سسٹم کو بلیک میل کرتے رہتے ہیں۔ جب بھی کوئی سربراہ ان ایم این ایز اور ایم پی ایز کے مفادات کیخلاف کسی قانون سازی یا مافیاز کے کارٹل توڑنے کی کوشش کرتا ہے تو یہ اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ گٹھ جوڑ کر لیتے ہیں۔ فارورڈ بلاک بنا لیتے ہیں۔ صدارتی نظام میں پورے ملک کے حلقے تبدیل کئے جا سکتے ہیں۔ پورے ملک کے ووٹروں کو کل حلقوں پر تقسیم کر کے سارے حلقے برابر کر دیئے جائیں۔ جس کے بعد تمام حلقوں کے ووٹ برابر ہو جائیں گے۔ یوں برادریوں کا زور بھی ٹوٹ جائے گا اور روایتی سیاست دانوں کی شطرنج بھی بکھر جائے گی۔ اس کافائدہ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کو ہوگا۔ حکومت کا دورانیہ پانچ کی بجائے چار برس کر دیا جائے۔ لیکن جو ایک بار حکومت بنا لے پھر اسے آرام سے حکومت کرنے دیں۔ میں بنیادی طور پر جمہوریت پسند ہوں۔ لیکن میں بھی حالات سے اتنا تنگ آ چکا ہوں کہ میں بھی اب ببانگ دہل کہتا ہوں۔ اگر اپ صدارتی نظام بھی نہیں لا سکتے تو پھر آپ ملک میں بے شک بیس سال کے لیے مارشل لاء لگا دیں، عمران خان، نواز شریف یا زرداری کو تاحیات خلیفہ بنا دیں۔ لیکن اس ملک کو کم از کم چلنے دیں۔اس میں استحکام آنے دیں ورنہ یہ ملک نظاموں کا قبرستان تو بن جائے گالیکن یہ ملک، ملک نہیں رہے گا۔

تبصرے بند ہیں.