سیاسی تماشہ

13

ملک میں جاری ”سیاسی تماشا“ کا ڈراپ سین ہونے جا رہا ہے اور گمان ہے یہ اختتام پنجاب میں ہو گا جہاں ”یہ جمہوری تماشا“ ہیجانی کیفیت سے دوچار ہے،اسمبلی سیشن جاری اور پنجاب اسمبلی کا اجلاس ملتوی تھا مگر گورنر پنجاب نے وزیراعلیٰ پرویز الٰہی کو اعتماد کا ووٹ لینے کا کہہ کر جاری اجلاس کے دوران اسمبلی کا اجلاس طلب کر لیا،سپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان نے اس اجلاس کو غیرآئینی قرار دیتے ہوئے اجلاس نہ بلانے کا کہا ہے،طرفہ تما شہ کہ گورنر نے وزیر اعلیٰ کو اعتماد کا ووٹ لینے کا کہا تو دوسری طرف ن لیگ نے وزیر اعلیٰ،سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کیخلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کر دی ہے۔یہ بھی آئینی سوال ہے کہ کیا ایک ہی وقت میں اعتماد اور عدم اعتماد کی تحریک پیش کی جا سکتی ہے؟اگر چہ سپیکر کے پاس عدم اعتماد کی تحریک بارے ہر قسم کے فیصلے کا اختیار حاصل ہے،جیسے قومی اسمبلی میں سپیکر نے اب تک پی ٹی آئی کے ارکان کے استعفوں کو قبول کر کے الیکشن کمیشن کوآگاہ نہیں کیا اور ارکان کو تصدیق کیلئے فرداً فرداً طلب کر رکھا ہے اور استعفوں کا معاملہ لٹکارکھا ہے، اسی طرح سپیکر پنجاب اسمبلی بھی عدم اعتماد کی تحریک کو لٹکا سکتے ہیں،اسمبلی قواعد میں اجلاس کے حوالے سے ضوابط طے کر دئیے گئے ہیں جن کے تحت اسمبلی اجلاس کی تاریخ،مقام اور وقت کا تعین سپیکر اسمبلی کریں گے،گورنر اجلاس وزیراعلیٰ کی ایڈوائس پر طلب کرنے کی ہدایت سپیکر کو دیں گے اجلاس بلانے کا حتمی اختیار سپیکر کو حاصل ہے،البتہ گورنر کو کسی خاص صورتحال جیسے وزیر اعلیٰ اسمبلی ارکان کی اکثریت کی حمایت کھو دیں تو اجلاس بلا سکتے ہیں،مگر اسمبلی رولز کے تحت جاری اجلاس میں دوسرا اجلاس طلب نہیں کیا جا سکتا،ویسے بھی یہ عجیب سا لگتا ہے کہ ہاؤس کا اجلاس جاری ہو اور اس اجلاس پر ایک اور اجلاس طلب کر لیا جائے۔
آئینی ماہرین کے مطابق اچنبھے کی بات ہے کہ گورنر نے آئین کے تحت وزیراعلیٰ سے بات کئے بغیر براہ راست اعتماد کا ووٹ لینے کی ایڈوائس جاری کر دی،جس کی کوئی آئینی حیثیت نہیں،سپیکر نے بھی اس حوالے سے جاری اجلاس کے دوران نیا اجلاس بلانے کو غیرآئینی قرار دیا ہے،البتہ جمعہ کوعدم اعتماد کی تحریک پر ووٹنگ کیلئے سپیکر نے عندیہ دے دیا ہے،اعتماد کی تحریک کیلئے گورنر کا وزیر اعلیٰ سے بات کئے بغیر عجلت میں اجلاس طلب کرنا غیر اخلاقی بھی ہے،ایسا اجلاس کم سے کم تین دن اور زیادہ سے زیادہ سات دن میں بلانے کا کہہ سکتے ہیں،مگر اس ایڈاوائس میں اس آئینی مہلت کا بھی خیال نہیں رکھا گیا،اگر چہ سپیشل اجلاس بلانا گورنر کاآئینی اختیار ہے مگر یہ اختیار مشروط ہے،یہ گورنر کاآئینی حق ہے مگر اسمبلی نے جو ضابطہ اخلاق مرتب کیا ہے اس کے تحت یہ درست نہیں،سپیکر نے آئینی تقاضا پر عدم اعتماد تحریک پر ووٹنگ کرانے کا کہا ہے اب اپوزیشن کو186ارکان کی حمایت ظاہر کرنا ہے ورنہ یہ تحریک بھی مسترد ہو جائیگی،اس تحریک کی ناکامی کے بعد وزیر اعلیٰ کو اعتماد کا ووٹ لینے کی تحریک کا جواز ہی نہیں رہتا۔
ملک آج ایسے سیاسی دور سے گزر رہا ہے جس کی نظیر ملکی سیاست میں بھی نہیں ملتی،جمہوری ایوان کے فیصلے عدالتی کٹہروں میں ہوتے رہے ہیں اور اب بھی واضح طور پر لگ رہا ہے کہ یہ اعتماد اور عدم اعتماد کا معاملہ بھی اعلیٰ عدلیہ ہی کے ذریعے حل کیا جائیگا،معاملہ کسی بھی طور سیاسی طور پر سلجھتا دکھائی نہیں دے رہا،سپیکر نے کہا ہے کہ گورنر کا طلب کردہ اجلاس غیرآئینی ہے،اجلاس ہی نہ ہواتو پرویزالٰہی اعتماد کا ووٹ کیسے لیں گے؟اب دو ہی صورتیں ہیں اپوزیشن 186ارکان کی حمایت پرویز الٰہی کی مخالفت میں ظاہر کرے یا گورنر گورنر راج لگا دیں،وزیر اعلیٰ کی برطرفی اگر اکثریت ظاہر کئے بغیر کی گئی تو معاملہ اعلیٰ عدلیہ میں جائیگا،جہاں شاید پہلی پیشی میں ہی پرویز الٰہی کو بطور وزیر اعلیٰ بحال کر دیا جائے۔
ملکی سیاست میں پنجاب کی اہمیت ہمیشہ مسلمہ رہی ہے،سیاست کے طالب علموں کو یاد ہو گا ماضی میں پنجاب ہی میں بیٹھ کر نواز شریف نے بینظیر کی حکومت کو نہ چلنے دیا،اور پنجاب کو ہی سیڑھی بنا کر اسلام آباد میں حکمرانی حاصل کی،اور پنجاب ہی کے سہارے وہ بار بار اقتدار میں آئے،عمران خان نے کس کے مشورہ پر صوبائی اسمبلیاں تحلیل کرنے کا سوچا،اتحادی حکومت پنجاب میں پاؤں جمانے کیلئے شروع سے ہی کوشش میں مصروف ہے،اور اس کی وجہ وہ جانتے ہیں کہ پنجاب پر ان کی سیاسی گرفت ہو گئی تو وہ الیکشن کرائے بغیر مزید کم از کم ایک سال کیلئے توسیع لے کر حکمرانی کر کے آئندہ الیکشن میں کامیابی کو یقینی بنایاجا سکتا ہے،جبکہ عمران خان پنجاب کا ہاتھ میں پکڑا پرندہ چھوڑ کر جھاڑیوں میں چھپے پرندوں کو پکڑنے کی جستجو میں لگے ہوئے ہیں،تحریک انصاف عثمان بزدارکیخلاف عدم اعتماد تحریک کی کامیابی کے بعدپرویز الٰہی کو بد ترین سیاسی حالات میں پنجاب میں وزیر اعلیٰ کے طور پرآگے لائی،اس سے پہلے پی ڈی ایم نے پرویز الٰہی کو وزارت عظمیٰ کی پیشکش کر کے ق لیگ کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی جسے کامیابی نہ ملی،پرویز الٰہی نے مختصر مدت میں ایسے اقدامات کئے اور عوامی بھلائی کیلئے ایسے منصوبوں کا اعلان کیا جس سے لگا کہ پرویزالٰہی انخابی مہم میں چلے گئے ہیں اور مشکل مالی حالات کے باوجود عوام کو ریلیف دینے کی بھرپور کوشش کی۔
13جماعتی مرکزی حکومت کی کارروائیوں کے مقابلہ میں تحریک انصاف کو ایسے سیاستدان کی ضرورت تھی جس کے نہ صرف ملک کے ہر سیاسی مذہبی طبقہ سے اچھے مراسم ہوں جس کی ساکھ ہو بات مانی جاتی ہو جو مفاہمت کرنا جانتا اور روٹھوں کو منانا جانتا ہو،مونس الٰہی کی وجہ سے چودھری پرویز الٰہی کی شکل میں ان کو ایسا سیاستدان میسرآگیا،پرویز الٰہی نے مختصر مدت میں خود کو عوامی وزیر اعلیٰ ثابت کیا،اب پھر پی ڈی ایم نے پرویز الٰہی کو ساتھ ملانے کیلئے چودھری شجاعت کو استعمال کرنے کی کوشش کی مگر یہ بھی ناکام ہوئی،تو اعتماد اور عدم اعتماد کی تحریکیں پیش کر دی گئیں۔
گورنر کا طلب کئے جانے والا پنجاب اسمبلی کا اجلاس نہیں ہوتا، وزیر اعلیٰ اعتماد کا ووٹ نہیں لیتے تو امکان ہے مرکزی حکومت طاقت کا استعمال کرے گی جیسے ماضی میں پنجاب میں ہی کیا گیا،تو تحریک انصاف اور پرویز الٰہی عدالت سے رجوع کر سکتے ہیں،گورنر خود بھی اپنی ایڈوائس پر عملدرآمد کیلئے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا سکتے ہیں،عدالت پہلے بھی ایسے مقدمات کے فیصلے آئین کی روشنی میں کر چکی ہے اور مختصر وقت میں،یہ کیس عدالت میں آیا تو فیصلہ آئین کے مطابق اور مختصر وقت میں ہو گا،مگر یہ طے ہے کہ آمریت نما جمہوریت،گھر کی لونڈی اسمبلیاں اور سیاستدان ناکام ہو جائیں گے، سوچنے کی بات ہے کہ جو لوگ سیاسی مسائل آئین کی روح کے مطابق حل نہ کر سکیں وہ کمزور ہوتی ملکی معیشت کو کیسے سنبھالا دے پائیں گے۔

تبصرے بند ہیں.