کامیاب زندگی کا فن

7

منتشر خیالی اور مضطرب احوالی کے اس دور میں لوگوں کی اکثریت کامیاب زندگی کے حصول کی خاطر بہت سے ہاتھ پاؤں مار رہی ہے۔ کئی فکری و عملی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ بہت سی کتب سے استفادہ کیا جا رہا ہے۔ کئی موٹیویشنل سپیکرز کو سنا جارہا ہے۔ بہت سے سیمینارز اٹینڈ ہو رہے ہیں۔ کئی لوگوں سے فیض یابی کا سلسلہ جاری ہے۔بہت سی ویڈیوز اور پروگرامز دیکھنے کا سلسلہ بھی چل رہا ہے۔۔۔ مگر نتیجہ ایک وقتی بہلاوے اور منتشر خیالی کے سوا کچھ نہیں۔۔ایسے میں کچھ لوگ اپنی زندگی کو کچھ اس انداز سے ترتیب دیے چل رہے ہیں کہ اُن پر رشک آتا ہے۔۔۔راقم الحروف ایسے ہی ایک خاندان سے واقف ہے، جہاں دھنک کے بکھرے رنگوں کی طرح گھر بھر میں چاہت اور محبت کے دلکش رنگ ہروقت فروزاں رہتے ہیں۔ہر طرف ایک عید کا سا سماں ہوتاہے۔ بچوں کی اپنی ماں سے محبت ختم ہوتی ہے نہ ماں کا دل بچوں سے تنگ ہوتاہے اور نہ بیوی و خاوند کی یگانگت کے رنگ ماند پڑتے ہیں۔۔۔۔!
ہر کوئی بڑی خوبی اور سہولت سے اپنے اپنے مدار میں تیر رہاہے۔زندگی ہے کہ آگے کو رواں دواں ہے۔شوہر،بیوی اورچار بچو ں پر مشتمل گھر کیا ہے،گویا کہ ایک ”ماڈل ہاؤس“ ہے جس میں زندگی کے کامیاب تجربات کا سلسلہ بڑی عمدگی سے جاری ہے۔ گھر میں مرکزی حیثیت ماں کو حاصل ہے،جو ایسے کہ جیسے ایک”شمع“ ہے جس کے گرد پروانے طواف کررہے ہوں یا جیسے کہ کوئی ”ملکہ“ہو جس کے شہزادے اس کے آس پاس محبت کے رنگ بکھیر رہے ہوں یا کہ کوئی”پری“ ہو جس کے گرد کئی ”سیف الملوک“ عصر حاضر کی داستانِ وفا رقم کر رہے ہوں یا کہ کوئی ”گڈی“ ہو جس کے چھوٹے بڑے،پیارے پیارے ”گڈے“اس کا دل بہلانے کو فرش راہ بنے بیٹھے ہوں۔۔۔!
گھر کے کام کاج کے حوالہ سے ہر کسی نے اپنا اپنا کام اور محاذ سنبھالا ہوا ہے۔کوئی کسی کے کام میں
بے جا مداخلت نہیں کرتا اور دوسرے کے کیے ہوئے کام میں کیڑے نہیں نکالتا۔۔۔کہنے کو ان کا گھر بھی ایک عام سا گھر ہے جس میں ماں باپ کی محبت کے سائبان تلے چار بھائی پروان چڑھ رہے ہیں۔چاروں بھائی آپس میں سلوک و محبت اور اتفاق کا استعارہ ہیں۔خلوص اور چاہت کے اس سفر میں ان کی سات پھوپھیاں، ایک چچا، سوسال سے زائد عمرکے نانا اور اسی سال سے تجاوز شدہ عمر کے جارح مزاج دادا ابو بھی ان کے ہمقدم ہیں۔ان کے دادا ابو کی مثالی صحت اور عمربھر ڈاکٹر اور ادویات سے گریز پا رہنے کا اصول تا حال پوری شدومد سے کارفرما ہے۔خوش مزاج اور خوش شکل دادا جو اب پرناناکے عہدے پر بھی فائز ہیں، اپنی آل اولاد کے ساتھ نوک جھوک مسلسل جاری رکھنا فرض عین سمجھتے ہیں۔۔۔!
چاروں بھائی ایک سے بڑھ کر ایک ہیں، شرافت،نفاست،دیانت،متانت اور وضع داری انہیں ورثہ میں ملی ہے۔ایسی ہی اسلامی وراثت اور کردار سازی کے حوالے سے علامہ اقبال نے یورپ سے واپسی پر فرمایاتھا کہ یورپ کا کلچر اور اس کی چکا چوند روشنی ان کی آنکھوں میں یثرب کے ”سرمہ“ کے آگے ہیچ ہے۔۔۔!
اپنی بیوی بچوں کے ساتھ اچھے سلوک کے حوالہ سے آپ ﷺ کے احکامات پر کاربند،ایسی ہی منفرد زندگی اس گھرکے سربراہ کی ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے حج کی سعادت نصیب فرمانے کے ساتھ ساتھ اس کے بیوی بچوں کی اکثریت کو عمرہ کی سعادت حاصل کرنے کا شرف عطا کیا ہے۔۔۔! کون کہہ سکتا ہے کہ پولیس سروس میں ہونے کے باوجود اس کے اپنے بیوی اور بچوں سے محبت کے رنگ اس قدر گہرے،پائیدار، گلرنگ اور سدا بہار ہونگے۔۔! محبت کے ان رنگوں میں دیگر کاموں کے ساتھ اس نے اپنی باری پر کپڑے بھی دھونے ہیں، برتنوں کی صفائی میں معاونت بھی کرنا ہے اور بوقت ضرورت گھر بھر میں جھاڑو بھی لگانا ہے۔۔۔!
دونوں میاں بیوی کی محبت کے مثالی رنگوں کی جھلک ان کی اولاد کے اخلاق و کر دار میں نمایاں ہے۔۔۔آ ج کل کے گزرتے حالات و واقعات میں کون یقین کر سکتا ہے کہ چاروں بچے اپنی ماں کے گرد پروانوں کی طرح گردش کرتے رہتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔! ہر ایک نے اپنے کام کی ترتیب رکھی ہوئی ہے۔اپنی ”پیاری امی“ کی معاونت کے لیے ان کو اپنے ”نانا ابو“ کے محبت سے رکھے ہوئے نام”گُڈی“سے پکارتے ہوئے کام جاری رکھتے ہیں۔ایک بھائی نے ماں کے ساتھ کچن سنبھالا ہواہے، دوسرا کپڑوں کی دھلائی اور استری کرنے کا ساتھی ہے۔تیسرے کی ذمہ داری گھر کی صفائی ہے تو چوتھا باہرکے کاموں میں ان کا معاون ہے۔سب ایک سے بڑھ کر ایک۔۔۔۔ اللہ تعالیٰ نظر بد سے بچائے پورے گھرانے سے ہر فرد کی اپنی ایک شخصیت اور مثال ہے۔۔۔! کیسے بھائی ہیں کہ ٹک ٹاک سے بھی آشنائی رکھتے ہیں۔پڑھائی میں ان کا خوب دل لگتا ہے۔موبائل فون بھی ان کو پیارا ہے مگریہ سب کچھ ایک طرف ان کو جو سب سے پیارا ہے، وہ اپنے نانا، دادا اورماں باپ سے والہانہ محبت اور ان کی خدمت کا جذبہ ہے۔۔۔! تکلف اور بے تکلفی کے لازوال رنگوں میں ڈھلی فطرت کی اس خوبصورت داستان کا ورق در ورق سلسلہ آگے بڑھ رہاہے۔اب کے گھر کی دہلیز پر ”بہوؤں“ کی آمد آمد کی دستک بھی سنائی دے رہی ہے۔سو اب تک تو جو گزری کمال گزری ہے، آگے دیکھیے آنے والے شب وروز کیا منظر نامہ پیش کرتے ہیں۔۔۔! کامیاب زندگی گزارنے کے فن کے حوالے سے نہ وہاں کسی موٹیویشنل سپیکر کا گذر ہے نہ ایسی کسی اور سرگرمی کی کوئی گنجائش ہے۔۔۔احساس، خلوص اور بقائے باہمی کے سادہ سے اصولوں اور حکمت عملی کے ساتھ ان کی زندگی کا سفر بہت سہولت سے جاری ہے اور ہر طرف ایک ہی بات کی گونج سنائی دے رہی ہے:
وقت یوں بھی بیت جاتاہے ……عمریوں بھی گزر جاتی ہے……!

تبصرے بند ہیں.